Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو، یا دم کٹا ہو ( یہ دونوں بہت خطرناک ہیں ) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو ( بچہ ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن ابي لبابة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن قتل الجنان التي تكون في البيوت الا ان يكون ذا الطفيتين والابتر فانهما يخطفان البصر ويطرحان ما في بطون النساء
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لبابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سننے کے بعد ایک سانپ اپنے گھر میں پایا، تو اسے ( باہر کرنے کا ) حکم دیا تو وہ بقیع کی طرف بھگا دیا گیا۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، ان ابن عمر، وجد بعد ذلك - يعني بعد ما حدثه ابو لبابة - حية في داره فامر بها فاخرجت يعني الى البقيع
اسامہ نے نافع سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے نافع نے کہا: پھر اس کے بعد میں نے اسے ان کے گھر میں دیکھا۔
حدثنا ابن السرح، واحمد بن سعيد الهمداني، قالا اخبرنا ابن وهب، قال اخبرني اسامة، عن نافع، في هذا الحديث قال نافع ثم رايتها بعد في بيته
محمد بن ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے پھر وہاں سے واپس ہوئے تو اپنے ایک اور ساتھی سے ملے، وہ بھی ان کے پاس جانا چاہتے تھے ( وہ ان کے پاس چلے گئے ) اور ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے پھر وہ ہمارے پاس ( مسجد ) میں آ گئے اور ہمیں بتایا کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بعض سانپ جن ہوتے ہیں جو اپنے گھر میں بعض زہریلے کیڑے ( سانپ وغیرہ ) دیکھے تو اسے تین مرتبہ تنبیہ کرے ( کہ دیکھ تو پھر نظر نہ آ، ورنہ تنگی و پریشانی سے دو چار ہو گا، اس تنبیہ کے بعد بھی ) پھر نظر آئے تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان ہے ( جیسے شیطان شرارت سے باز نہیں آتا، ایسے ہی یہ بھی سمجھانے کا اثر نہیں لیتا، ایسی صورت میں اسے مار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن محمد بن ابي يحيى، قال حدثني ابي انه، انطلق هو وصاحب له الى ابي سعيد يعودانه فخرجنا من عنده فلقينا صاحبا لنا وهو يريد ان يدخل عليه فاقبلنا نحن فجلسنا في المسجد فجاء فاخبرنا انه سمع ابا سعيد الخدري يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الهوام من الجن فمن راى في بيته شييا فليحرج عليه ثلاث مرات فان عاد فليقتله فانه شيطان
ابوسائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے ( جھانک کر ) دیکھا تو ( وہاں ) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ ( کیوں کھڑے ہو گئے ) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا ( چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو ) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟ ( گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا، یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا ) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی ( ساتھی ) کو لوٹا دے، ( زندہ کر دے ) آپ نے فرمایا: اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ( اب زندگی ملنے سے رہی ) پھر آپ نے فرمایا: مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو ( سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں ) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو ۔
حدثنا يزيد بن موهب الرملي، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن صيفي ابي سعيد، مولى الانصار عن ابي السايب، قال اتيت ابا سعيد الخدري فبينا انا جالس، عنده سمعت تحت، سريره تحريك شىء فنظرت فاذا حية فقمت فقال ابو سعيد ما لك فقلت حية ها هنا . قال فتريد ماذا قلت اقتلها . فاشار الى بيت في داره تلقاء بيته فقال ان ابن عم لي كان في هذا البيت فلما كان يوم الاحزاب استاذن الى اهله وكان حديث عهد بعرس فاذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم وامره ان يذهب بسلاحه فاتى داره فوجد امراته قايمة على باب البيت فاشار اليها بالرمح فقالت لا تعجل حتى تنظر ما اخرجني . فدخل البيت فاذا حية منكرة فطعنها بالرمح ثم خرج بها في الرمح ترتكض قال فلا ادري ايهما كان اسرع موتا الرجل او الحية فاتى قومه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا ادع الله ان يرد صاحبنا . فقال " استغفروا لصاحبكم " . ثم قال " ان نفرا من الجن اسلموا بالمدينة فاذا رايتم احدا منهم فحذروه ثلاث مرات ثم ان بدا لكم بعد ان تقتلوه فاقتلوه بعد الثلاث
اس سند سے ابن عجلان سے یہی حدیث مختصراً مروی ہے، اس میں ہے کہ اسے ( سانپ کو ) تین بار آگاہ کر دو، ( اگر جن وغیرہ ہو تو چلے جاؤ ) پھر اس کے بعد اگر وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، بهذا الحديث مختصرا قال " فليوذنه ثلاثا فان بدا له بعد فليقتله فانه شيطان
ہشام بن زہرہ کے غلام ابوسائب نے خبر دی ہے کہ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی جیسی اور اس سے زیادہ کامل حدیث ذکر کی اس میں ہے: اسے تین دن تک آگاہ کرو اگر اس کے بعد بھی وہ تمہیں نظر آئے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے ۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، اخبرنا ابن وهب، قال اخبرنا مالك، عن صيفي، مولى ابن افلح قال اخبرني ابو السايب، مولى هشام بن زهرة انه دخل على ابي سعيد الخدري فذكر نحوه واتم منه قال " فاذنوه ثلاثة ايام فان بدا لكم بعد ذلك فاقتلوه فانما هو شيطان
ابولیلیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: جب تم ان میں سے کسی کو اپنے گھر میں دیکھو تو کہو: میں تمہیں وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے نوح علیہ السلام نے لیا تھا، وہ عہد یاد دلاتا ہوں جو تم سے سلیمان علیہ السلام نے لیا تھا کہ تم ہمیں تکلیف نہیں پہنچاؤ گے اس یاددہانی کے باوجود اگر وہ دوبارہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالو ۔
حدثنا سعيد بن سليمان، عن علي بن هاشم، حدثنا ابن ابي ليلى، عن ثابت البناني، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن حيات البيوت فقال " اذا رايتم منهن شييا في مساكنكم فقولوا انشدكن العهد الذي اخذ عليكن نوح انشدكن العهد الذي اخذ عليكن سليمان ان لا توذونا فان عدن فاقتلوهن
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سبھی سانپوں کو مارو سوائے اس سانپ کے جو سفید ہوتا ہے چاندی کی چھڑی کی طرح ( یعنی سفید سانپ کو نہ مارو ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تو ایک آدمی نے مجھ سے کہا: جن اپنی چال میں مڑتا نہیں اگر وہ سیدھا چل رہا ہو تو یہی اس کی پہچان ہے، إن شاء اللہ۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا ابو عوانة، عن مغيرة، عن ابراهيم، عن ابن مسعود، انه قال اقتلوا الحيات كلها الا الجان الابيض الذي كانه قضيب فضة . قال ابو داود فقال لي انسان الجان لا ينعرج في مشيته فاذا كان هذا صحيحا كانت علامة فيه ان شاء الله
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے، اور اسے «فويسق» ( چھوٹا فاسق ) کہا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عامر بن سعد، عن ابيه، قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتل الوزغ وسماه فويسقا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے چھپکلی کو پہلے ہی وار میں قتل کر دیا اس کو اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، اور جس نے دوسرے وار میں اسے قتل کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی، پہلے سے کم، اور جس نے تیسرے وار میں اسے ہلاک کیا اسے اتنی اتنی نیکیاں ملیں گی دوسرے وار سے کم ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا اسماعيل بن زكريا، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتل وزغة في اول ضربة فله كذا وكذا حسنة ومن قتلها في الضربة الثانية فله كذا وكذا حسنة ادنى من الاول ومن قتلها في الضربة الثالثة فله كذا وكذا حسنة ادنى من الثانية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے وار میں ستر نیکیاں ہیں ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا اسماعيل بن زكريا، عن سهيل، قال حدثني اخي، او اختي عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " في اول ضربة سبعين حسنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے اترے تو انہیں ایک چھوٹی چیونٹی نے کاٹ لیا، انہوں نے ( غصے میں آ کر ) سامان ہٹا لینے کا حکم دیا تو وہ اس کے نیچے سے ہٹا لیا گیا، پھر اس درخت میں آگ لگوا دی ( جس سے سب چیونٹیاں جل گئیں ) تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعہ تنبیہ فرمائی: تم نے ایک ہی چیونٹی کو ( جس نے تمہیں کاٹا تھا ) کیوں نہ سزا دی ( سب کو کیوں مار ڈالا؟ ) ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن المغيرة، - يعني ابن عبد الرحمن - عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " نزل نبي من الانبياء تحت شجرة فلدغته نملة فامر بجهازه فاخرج من تحتها ثم امر بها فاحرقت فاوحى الله اليه فهلا نملة واحدة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلا ڈالنے کا حکم دے دیا، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انہیں تنبیہ فرمائی کہ ایک چیونٹی کے تجھے کاٹ لینے کے بدلے میں تو نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی پوری ایک جماعت کو ہلاک کر ڈالا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، وسعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان نملة قرصت نبيا من الانبياء فامر بقرية النمل فاحرقت فاوحى الله اليه في ان قرصتك نملة اهلكت امة من الامم تسبح
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کے قتل سے روکا ہے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد، لٹورا چڑیا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن قتل اربع من الدواب النملة والنحلة والهدهد والصرد
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے، تو وہ چڑیا آئی اور ( انہیں حاصل کرنے کے لیے ) تڑپنے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا: کس نے اس کے بچے لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے، اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو ، آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا ڈالا تھا، آپ نے پوچھا: کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے، آپ نے فرمایا: آگ کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے آگ کی سزا دینا مناسب نہیں ہے ۔
حدثنا ابو صالح، محبوب بن موسى اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن ابي اسحاق الشيباني، عن ابن سعد، - قال ابو داود وهو الحسن بن سعد - عن عبد الرحمن بن عبد الله، عن ابيه، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فانطلق لحاجته فراينا حمرة معها فرخان فاخذنا فرخيها فجاءت الحمرة فجعلت تعرش فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من فجع هذه بولدها ردوا ولدها اليها " . وراى قرية نمل قد حرقناها فقال " من حرق هذه " . قلنا نحن . قال " انه لا ينبغي ان يعذب بالنار الا رب النار
عبدالرحمٰن بن عثمان سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مینڈک کو دوا میں استعمال کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے سے منع فرمایا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابن ابي ذيب، عن سعيد بن خالد، عن سعيد بن المسيب، عن عبد الرحمن بن عثمان، ان طبيبا، سال النبي صلى الله عليه وسلم عن ضفدع يجعلها في دواء فنهاه النبي صلى الله عليه وسلم عن قتلها
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کھیل کود اور ہنسی مذاق میں ) ایک دوسرے کو کنکریاں مارنے سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا: نہ تو یہ کسی شکار کا شکار کرتی ہے، نہ کسی دشمن کو گھائل کرتی ہے۔ یہ تو صرف آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عقبة بن صهبان، عن عبد الله بن مغفل، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخذف قال " انه لا يصيد صيدا ولا ينكا عدوا وانما يفقا العين ويكسر السن
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مدینہ میں ایک عورت عورتوں کا ختنہ کیا کرتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: نیچا کر ختنہ مت کرو بہت نیچے سے مت کاٹو کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ لطف و لذت کی چیز ہے اور شوہر کے لیے زیادہ پسندیدہ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبیداللہ بن عمرو سے مروی ہے انہوں نے عبدالملک سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے، وہ مرسلاً بھی روایت کی گئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن حسان مجہول ہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے۔
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، وعبد الوهاب بن عبد الرحيم الاشجعي، قالا حدثنا مروان، حدثنا محمد بن حسان، - قال عبد الوهاب الكوفي - عن عبد الملك بن عمير، عن ام عطية الانصارية، ان امراة، كانت تختن بالمدينة فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " لا تنهكي فان ذلك احظى للمراة واحب الى البعل " . قال ابو داود روي عن عبيد الله بن عمرو عن عبد الملك بمعناه واسناده . قال ابو داود ليس هو بالقوي وقد روي مرسلا . قال ابو داود ومحمد بن حسان مجهول وهذا الحديث ضعيف
ابواسید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ مسجد سے باہر نکل رہے تھے اور لوگ راستے میں عورتوں میں مل جل گئے تھے، تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: تم پیچھے ہٹ جاؤ، تمہارے لیے راستے کے درمیان سے چلنا ٹھیک نہیں، تمہارے لیے راستے کے کنارے کنارے چلنا مناسب ہے پھر تو ایسا ہو گیا کہ عورتیں دیوار سے چپک کر چلنے لگیں، یہاں تک کہ ان کے کپڑے ( دوپٹے وغیرہ ) دیوار میں پھنس جاتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد عن ابي اليمان، عن شداد بن ابي عمرو بن حماس، عن ابيه، عن حمزة بن ابي اسيد الانصاري، عن ابيه، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء في الطريق فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للنساء " استاخرن فانه ليس لكن ان تحققن الطريق عليكن بحافات الطريق " . فكانت المراة تلتصق بالجدار حتى ان ثوبها ليتعلق بالجدار من لصوقها به