Loading...

Loading...
کتب
۱۷۷ احادیث
عامر بن شہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نجاشی کے پاس تھا کہ ان کے ایک لڑکے نے انجیل کی ایک آیت پڑھی، تو میں ہنس پڑا انہوں نے کہا: کیا تم اللہ کے کلام پر ہنستے ہو؟
حدثنا اسماعيل بن عمر، اخبرنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا ابن ابي زايدة، عن مجالد، عن عامر، - يعني الشعبي - عن عامر بن شهر، قال : كنت عند النجاشي فقرا ابن له اية من الانجيل فضحكت فقال : اتضحك من كلام الله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے ( ان الفاظ میں ) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے پھر فرماتے: تمہارے باپ ( ابراہیم ) اسماعیل و اسحاق کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يعوذ الحسن والحسين : " اعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة " . ثم يقول : " كان ابوكم يعوذ بهما اسماعيل واسحاق " . قال ابو داود : هذا دليل على ان القران ليس بمخلوق
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ وحی کے لیے کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو، پھر وہ بیہوش کر دئیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں، جب جبرائیل ان کے پاس آتے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے، پھر وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل! تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: حق ( فرمایا ) تو وہ سب کہتے ہیں حق ( فرمایا ) حق ( فرمایا ) ۔
حدثنا احمد بن ابي سريج الرازي، وعلي بن الحسين بن ابراهيم، وعلي بن مسلم، قالوا حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اذا تكلم الله بالوحى سمع اهل السماء للسماء صلصلة كجر السلسلة على الصفا فيصعقون، فلا يزالون كذلك حتى ياتيهم جبريل حتى اذا جاءهم جبريل فزع عن قلوبهم " . قال : " فيقولون : يا جبريل ماذا قال ربك فيقول : الحق فيقولون : الحق الحق
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری شفاعت ۱؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۲؎ ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا بسطام بن حريث، عن اشعث الحداني، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " شفاعتي لاهل الكباير من امتي
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ جہنم سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سفارش پر نکالے جائیں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور وہ «جهنميين» جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن الحسن بن ذكوان، حدثنا ابو رجاء، قال حدثني عمران بن حصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " يخرج قوم من النار بشفاعة محمد فيدخلون الجنة ويسمون الجهنميين
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جنت والے اس میں کھائیں گے پیئیں گے ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : " ان اهل الجنة ياكلون فيها ويشربون
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صور» ایک سنکھ ہے، جس میں پھونک ماری جائے گی ۔
حدثنا مسدد، حدثنا معتمر، قال سمعت ابي قال، حدثنا اسلم، عن بشر بن شغاف، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " الصور قرن ينفخ فيه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین ابن آدم ( انسان ) کے تمام اعضاء ( جسم ) کو بجز ریڑھ کی نچلی ہڈی کے کھا جاتی ہے اس لیے کہ وہ اسی سے پیدا ہوا ہے ۱؎، اور اسی سے اسے دوبارہ جوڑ کر اٹھایا جائے گا ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " كل ابن ادم تاكل الارض الا عجب الذنب، منه خلق وفيه يركب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو گا، پھر ( اللہ نے ) اسے مکروہات ( ناپسندیدہ ) ( چیزوں ) سے گھیر دیا، پھر فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل نہ ہو گا، تو اللہ نے اسے مرغوب اور پسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا، پھر فرمایا: جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے، جہنم کو دیکھا پھر واپس آئے اور عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " لما خلق الله الجنة قال لجبريل : اذهب فانظر اليها . فذهب فنظر اليها ثم جاء فقال : اى رب وعزتك لا يسمع بها احد الا دخلها ثم حفها بالمكاره ثم قال : يا جبريل اذهب فانظر اليها فذهب فنظر اليها ثم جاء فقال : اى رب وعزتك لقد خشيت ان لا يدخلها احد " . قال : " فلما خلق الله النار قال : يا جبريل اذهب فانظر اليها . فذهب فنظر اليها ثم جاء فقال : اى رب وعزتك لا يسمع بها احد فيدخلها فحفها بالشهوات ثم قال : يا جبريل اذهب فانظر اليها . فذهب فنظر اليها ثم جاء فقال : اى رب وعزتك لقد خشيت ان لا يبقى احد الا دخلها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سامنے ( قیامت کے دن ) ایک حوض ہو گا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا «جرباء» اور «اذرح» ۱؎ کے درمیان ہے ۲؎ ۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ان امامكم حوضا ما بين ناحيتيه كما بين جرباء واذرح
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ نے فرمایا: تم لوگ ان لوگوں کے ایک لاکھ حصوں میں کا ایک حصہ بھی نہیں ہو جو لوگ حشر میں حوض کوثر پر آئیں گے ۔ راوی ( ابوحمزہ ) کہتے ہیں: میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: سات سویا آٹھ سو۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابي حمزة، عن زيد بن ارقم، قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فنزلنا منزلا فقال : " ما انتم جزء من ماية الف جزء ممن يرد على الحوض " . قال قلت : كم كنتم يوميذ قال : سبعماية او ثمانماية
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہلکی اونگھ طاری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، تو یا تو آپ نے لوگوں سے کہا، یا لوگوں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہنسی کیوں آئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناك الكوثر» یہاں تک کہ سورت ختم کر لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا وعدہ مجھ سے میرے رب نے کیا ہے اور اس پر بڑا خیر ہے، اس پر ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت ( پینے ) آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا محمد بن فضيل، عن المختار بن فلفل، قال سمعت انس بن مالك، يقول : اغفى رسول الله صلى الله عليه وسلم اغفاءة فرفع راسه متبسما، فاما قال لهم واما قالوا له : يا رسول الله لم ضحكت فقال : " انه انزلت على انفا سورة " . فقرا بسم الله الرحمن الرحيم {انا اعطيناك الكوثر} حتى ختمها فلما قراها قال : " هل تدرون ما الكوثر " . قالوا : الله ورسوله اعلم . قال : " فانه نهر وعدنيه ربي عز وجل في الجنة، وعليه خير كثير عليه حوض ترد عليه امتي يوم القيامة انيته عدد الكواكب
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں جنت میں لے جایا گیا تو آپ کے سامنے ایک نہر لائی گئی، جس کے دونوں کنارے «مجیّب» یا کہا «مجوّف» ( خول دار ) یاقوت کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو فرشتہ تھا اس نے اپنا ہاتھ مارا اور اندر سے مشک نکالی، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے فرشتے سے پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہی کوثر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔
حدثنا عاصم بن النضر، حدثنا المعتمر، قال سمعت ابي قال، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك، قال : لما عرج بنبي الله صلى الله عليه وسلم في الجنة - او كما قال - عرض له نهر حافتاه الياقوت المجيب او قال المجوف، فضرب الملك الذي معه يده فاستخرج مسكا فقال محمد صلى الله عليه وسلم للملك الذي معه : " ما هذا " . قال : هذا الكوثر الذي اعطاك الله عز وجل
عبدالسلام بن ابی حازم ابوطالوت بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ عبیداللہ بن زیاد کے ہاں گئے، پھر مجھ سے فلاں شخص نے بیان کیا جو ان کی جماعت میں شریک تھا، ( مسلم نے اس کا نام ذکر کیا ہے ) جب انہیں عبیداللہ نے دیکھا تو بولا: دیکھو تمہارا یہ محمدی موٹا ٹھگنا ہے، تو شیخ ( ابوبرزہ ) اس کے اس طعنہ اور توہین کو سمجھ گئے اور بولے: مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میں ایسے لوگوں میں باقی رہ جاؤں گا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا مجھے طعنہ دیں گے، تو عبیداللہ نے ان سے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تو آپ کے لیے فخر کی بات ہے، نہ کہ عیب کی، پھر کہنے لگا: میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ میں آپ سے حوض کوثر کے بارے میں معلوم کروں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ ذکر فرماتے سنا ہے؟ تو ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ایک بار نہیں، دو بار نہیں، تین بار نہیں، چار بار نہیں، پانچ بار نہیں ( یعنی بہت بار سنا ہے ) تو جو شخص اسے جھٹلائے اللہ اسے اس حوض میں سے نہ پلائے، پھر غصے میں وہ نکل کر چلے گئے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا عبد السلام بن ابي حازم ابو طالوت، قال شهدت ابا برزة دخل على عبيد الله بن زياد فحدثني فلان، سماه مسلم وكان في السماط فلما راه عبيد الله قال : ان محمديكم هذا الدحداح، ففهمها الشيخ فقال ما كنت احسب اني ابقى في قوم يعيروني بصحبة محمد صلى الله عليه وسلم فقال له عبيد الله ان صحبة محمد صلى الله عليه وسلم لك زين غير شين ثم قال : انما بعثت اليك لاسالك عن الحوض سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر فيه شييا فقال ابو برزة : نعم لا مرة ولا ثنتين ولا ثلاثا ولا اربعا ولا خمسا، فمن كذب به فلا سقاه الله منه ثم خرج مغضبا
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوتا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ تو یہی مراد ہے اللہ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» اللہ ایمان والوں کو پکی بات کے ساتھ مضبوط کرتا ہے ( سورۃ ابراہیم: ۲۷ ) سے۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن علقمة بن مرثد، عن سعد بن عبيدة، عن البراء بن عازب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " ان المسلم اذا سيل في القبر فشهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذلك قول الله عز وجل { يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت}
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے کھجور کے ایک باغ میں داخل ہوئے، تو ایک آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا اٹھے، فرمایا: یہ قبریں کس کی ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: زمانہ جاہلیت میں مرنے والوں کی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو لوگوں نے عرض کیا: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ تو اگر اللہ اسے ہدایت دیئے ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ کی عبادت کرتا تھا؟ پھر اس سے کہا جاتا ہے، تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ ۱؎ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا جاتا، پھر اسے ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے، جو اس کے لیے جہنم میں تھا اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا گھر ہے جو تمہارے لیے جہنم میں تھا، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، تم پر رحم کیا اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک گھر دیا، تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑ دو کہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو بشارت دے دوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے، ٹھہرا رہ، اور جب کافر قبر میں رکھا جاتا ہے، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے ڈانٹ کر کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، تو اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے جانا اور نہ کتاب پڑھی ( یعنی قرآن ) ، پھر اس سے کہا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو وہ اسے لوہے کے ایک گرز سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان مارتا ہے، تو وہ اس طرح چلاتا ہے کہ اس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء الخفاف ابو نصر، عن سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال : ان نبي الله صلى الله عليه وسلم دخل نخلا لبني النجار فسمع صوتا ففزع فقال : " من اصحاب هذه القبور " . قالوا : يا رسول الله ناس ماتوا في الجاهلية . فقال : " تعوذوا بالله من عذاب النار ومن فتنة الدجال " . قالوا : ومم ذاك يا رسول الله قال : " ان المومن اذا وضع في قبره اتاه ملك فيقول له : ما كنت تعبد فان الله هداه قال : كنت اعبد الله . فيقال له : ما كنت تقول في هذا الرجل فيقول : هو عبد الله ورسوله فما يسال عن شىء غيرها فينطلق به الى بيت كان له في النار، فيقال له : هذا بيتك كان لك في النار ولكن الله عصمك ورحمك فابدلك به بيتا في الجنة فيقول : دعوني حتى اذهب فابشر اهلي . فيقال له : اسكن . وان الكافر اذا وضع في قبره اتاه ملك فينتهره فيقول له : ما كنت تعبد فيقول : لا ادري . فيقال له : لا دريت ولا تليت . فيقال له : فما كنت تقول في هذا الرجل فيقول : كنت اقول ما يقول الناس . فيضربه بمطراق من حديد بين اذنيه فيصيح صيحة يسمعها الخلق غير الثقلين
عبدالوہاب سے اسی جیسی سند سے اس طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا، اور اس میں اس طرح ہے: رہے کافر اور منافق تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں راوی نے منافق کا اضافہ کیا ہے اور اس میں ہے: اسے ہر وہ شخص سنتا ہے جو اس کے قریب ہوتا ہے، سوائے آدمی اور جن کے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن سليمان، حدثنا عبد الوهاب، بمثل هذا الاسناد نحوه قال : " ان العبد اذا وضع في قبره وتولى عنه اصحابه انه ليسمع قرع نعالهم، فياتيه ملكان فيقولان له " . فذكر قريبا من حديث الاول قال فيه : " واما الكافر والمنافق فيقولان له " . زاد : " المنافق " . وقال : " يسمعها من يليه غير الثقلين
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو اسے دو بار یا تین بار فرمایا، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: اور فرمایا: اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے، اے جی! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب ( معبود ) کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے، میرا رب ( معبود ) اللہ ہے، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: اللہ تعالیٰ کے قول«يثبت الله الذين آمنوا» سے یہی مراد ہے ( پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے ۔ اور رہا کافر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا ( لو ) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: پھر اس پر ایک اندھا گونگا ( فرشتہ ) مقرر کر دیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے ۔
ابوعمر زاذان کہتے ہیں کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا الاعمش، حدثنا المنهال، عن ابي عمر، : زاذان قال سمعت البراء، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال فذكر نحوه
حسن بصری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جہنم کا ذکر کیا تو رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں روتی ہو؟ ، وہ بولیں: مجھے جہنم یاد آ گئی تو رونے لگی، کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین جگہوں پر تو وہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: ایک میزان کے پاس یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا میزان ہلکا ہے یا بھاری ہے، دوسرے کتاب کے وقت جب کہا جائے گا: آؤ پڑھو اپنی اپنی کتاب یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کی کتاب کس میں دی جائے گی آیا دائیں ہاتھ میں یا بائیں ہاتھ میں، یا پھر پیٹھ کے پیچھے سے اور تیسرے پل صراط کے پاس جب وہ جہنم پر رکھا جائے گا ۔ یعقوب نے «عن يونس» کے الفاظ سے روایت کی اور یہ حدیث اسی کے الفاظ میں ہے۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، وحميد بن مسعدة، ان اسماعيل بن ابراهيم، حدثهم قال اخبرنا يونس، عن الحسن، عن عايشة، : انها ذكرت النار فبكت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ما يبكيك " . قالت : ذكرت النار فبكيت، فهل تذكرون اهليكم يوم القيامة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اما في ثلاثة مواطن فلا يذكر احد احدا : عند الميزان حتى يعلم ايخف ميزانه او يثقل، وعند الكتاب حين يقال { هاوم اقرءوا كتابيه } حتى يعلم اين يقع كتابه افي يمينه ام في شماله ام من وراء ظهره، وعند الصراط اذا وضع بين ظهرى جهنم " . قال يعقوب : عن يونس وهذا لفظ حديثه
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، ح وحدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو معاوية، - وهذا لفظ هناد - عن الاعمش، عن المنهال، عن زاذان، عن البراء بن عازب، قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة رجل من الانصار، فانتهينا الى القبر ولما يلحد، فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وجلسنا حوله كانما على رءوسنا الطير، وفي يده عود ينكت به في الارض، فرفع راسه فقال : " استعيذوا بالله من عذاب القبر " . مرتين او ثلاثا - زاد في حديث جرير ها هنا - وقال : " وانه ليسمع خفق نعالهم اذا ولوا مدبرين حين يقال له : يا هذا من ربك وما دينك ومن نبيك " . قال هناد قال : " وياتيه ملكان فيجلسانه فيقولان له : من ربك فيقول : ربي الله . فيقولان له : ما دينك فيقول : ديني الاسلام . فيقولان له : ما هذا الرجل الذي بعث فيكم قال فيقول : هو رسول الله صلى الله عليه وسلم . فيقولان : وما يدريك فيقول : قرات كتاب الله فامنت به وصدقت " . زاد في حديث جرير : " فذلك قول الله عز وجل { يثبت الله الذين امنوا } " . الاية . ثم اتفقا قال : " فينادي مناد من السماء : ان قد صدق عبدي فافرشوه من الجنة، وافتحوا له بابا الى الجنة والبسوه من الجنة " . قال : " فياتيه من روحها وطيبها " . قال : " ويفتح له فيها مد بصره " . قال : " وان الكافر " . فذكر موته قال : " وتعاد روحه في جسده وياتيه ملكان فيجلسانه فيقولان : من ربك فيقول : هاه هاه هاه لا ادري . فيقولان له : ما دينك فيقول : هاه هاه لا ادري . فيقولان : ما هذا الرجل الذي بعث فيكم فيقول : هاه هاه لا ادري . فينادي مناد من السماء : ان كذب فافرشوه من النار والبسوه من النار، وافتحوا له بابا الى النار " . قال : " فياتيه من حرها وسمومها " . قال : " ويضيق عليه قبره حتى تختلف فيه اضلاعه " . زاد في حديث جرير قال : " ثم يقيض له اعمى ابكم معه مرزبة من حديد، لو ضرب بها جبل لصار ترابا " . قال : " فيضربه بها ضربة يسمعها ما بين المشرق والمغرب الا الثقلين فيصير ترابا " . قال : " ثم تعاد فيه الروح