Loading...

Loading...
کتب
۱۷۷ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے، نصاریٰ اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ۱؎ ۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افترقت اليهود على احدى او ثنتين وسبعين فرقة وتفرقت النصارى على احدى او ثنتين وسبعين فرقة وتفترق امتي على ثلاث وسبعين فرقة
ابوعامر عبداللہ بن لحی حمصی ہوزنی کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر کہا: سنو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: سنو! تم سے پہلے جو اہل کتاب تھے، بہتر ( ۷۲ ) فرقوں میں بٹ گئے، اور یہ امت تہتر ( ۷۳ ) فرقوں میں بٹ جائے گی، بہتر فرقے جہنم میں ہوں گے اور ایک جنت میں اور یہی «الجماعة» ہے ۔ ابن یحییٰ اور عمرو نے اپنی روایت میں اتنا مزید بیان کیا: اور عنقریب میری امت میں ایسے لوگ نکلیں گے جن میں گمراہیاں اسی طرح سمائی ہوں گی، جس طرح کتے کا اثر اس شخص پر چھا جاتا ہے جسے اس نے کاٹ لیا ہو ۱؎ ۔ اور عمرو کی روایت میں «لصاحبه» کے بجائے «بصاحبه» ہے اس میں یہ بھی ہے: کوئی رگ اور کوئی جوڑ ایسا باقی نہیں رہتا جس میں اس کا اثر داخل نہ ہوا ہو۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا ابو المغيرة، حدثنا صفوان، ح وحدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا بقية، قال حدثني صفوان، نحوه قال حدثني ازهر بن عبد الله الحرازي، عن ابي عامر الهوزني، عن معاوية بن ابي سفيان، انه قام فينا فقال الا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام فينا فقال " الا ان من قبلكم من اهل الكتاب افترقوا على ثنتين وسبعين ملة وان هذه الملة ستفترق على ثلاث وسبعين ثنتان وسبعون في النار وواحدة في الجنة وهي الجماعة " . زاد ابن يحيى وعمرو في حديثيهما " وانه سيخرج من امتي اقوام تجارى بهم تلك الاهواء كما يتجارى الكلب لصاحبه " . وقال عمرو " الكلب بصاحبه لا يبقى منه عرق ولا مفصل الا دخله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات» سے لے کر «أولو الألباب» ۱؎ تک تلاوت کی اور فرمایا: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات کے پیچھے پڑتے ہوں تو جان لو کہ یہی لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے تو ان سے بچو ۲؎ ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا يزيد بن ابراهيم التستري، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الاية { هو الذي انزل عليك الكتاب منه ايات محكمات } الى { اولو الالباب } قالت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فاذا رايتم الذين يتبعون ما تشابه منه فاوليك الذين سمى الله فاحذروهم
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل عمل اللہ کے واسطے محبت کرنا اور اللہ ہی کے واسطے دشمنی رکھنا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا يزيد بن ابي زياد، عن مجاهد، عن رجل، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الاعمال الحب في الله والبغض في الله
عبداللہ بن کعب سے روایت ہے ( جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں عبداللہ آپ کے قائد تھے ) وہ کہتے ہیں: میں نے کعب بن مالک سے سنا ( ابن السرح ان کے غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ ذکر کر کے کہتے ہیں کہ کعب نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے گفتگو کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ جب لمبا عرصہ ہو گیا تو میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار کود کر ان کے پاس گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو قسم اللہ کی! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر راوی نے ان کی توبہ کے نازل ہونے کا قصہ بیان کیا ۱؎۔
حدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، قال اخبرنا يونس، عن ابن شهاب، قال فاخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب، - وكان قايد كعب من بنيه حين عمي - قال سمعت كعب بن مالك، - وذكر ابن السرح قصة تخلفه عن النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك - قال ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلمين عن كلامنا ايها الثلاثة حتى اذا طال على تسورت جدار حايط ابي قتادة وهو ابن عمي فسلمت عليه فوالله ما رد على السلام . ثم ساق خبر تنزيل توبته
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، میرے دونوں ہاتھ پھٹ گئے تھے، تو انہوں نے میرے ( ہاتھوں پر ) زعفران مل دیا، صبح کو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا اور فرمایا: جاؤ اسے دھو ڈالو ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عطاء الخراساني، عن يحيى بن يعمر، عن عمار بن ياسر، قال قدمت على اهلي وقد تشققت يداى فخلقوني بزعفران فغدوت على النبي صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه فلم يرد على وقال " اذهب فاغسل هذا عنك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کا ایک اونٹ بیمار ہو گیا اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ایک فاضل سواری تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے فرمایا: تم اسے ایک اونٹ دے دو وہ بولیں: میں اس یہودن کو دے دوں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور ذی الحجہ، محرم اور صفر کے چند دنوں تک ان سے بات چیت ترک رکھی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت البناني، عن سمية، عن عايشة، رضى الله عنها انه اعتل بعير لصفية بنت حيى وعند زينب فضل ظهر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لزينب " اعطيها بعيرا " . فقالت انا اعطي تلك اليهودية فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فهجرها ذا الحجة والمحرم وبعض صفر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کے بارے میں جھگڑنا کفر ہے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يزيد، - يعني ابن هارون - اخبرنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المراء في القران كفر
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو، مجھے کتاب ( قرآن ) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی ( یعنی سنت ) ، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے ۱؎: اس قرآن کو لازم پکڑو، جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام پاؤ، اسی کو حرام سمجھو، سنو! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ کسی نوکیلے دانت والے درندے کا، اور نہ تمہارے لیے کسی ذمی کی پڑی ہوئی چیز حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے دستبردار ہو جائے، اور اگر کوئی کسی قوم میں قیام کرے تو ان پر اس کی ضیافت لازم ہے، اور اگر وہ اس کی ضیافت نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے مہمانی کے بقدر لے لے ۲؎ ۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا ابو عمرو بن كثير بن دينار، عن حريز بن عثمان، عن عبد الرحمن بن ابي عوف، عن المقدام بن معديكرب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " الا اني اوتيت الكتاب ومثله معه الا يوشك رجل شبعان على اريكته يقول عليكم بهذا القران فما وجدتم فيه من حلال فاحلوه وما وجدتم فيه من حرام فحرموه الا لا يحل لكم لحم الحمار الاهلي ولا كل ذي ناب من السبع ولا لقطة معاهد الا ان يستغني عنها صاحبها ومن نزل بقوم فعليهم ان يقروه فان لم يقروه فله ان يعقبهم بمثل قراه
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ اس کے پاس میرے احکام اور فیصلوں میں سے کوئی حکم آئے جن کا میں نے حکم دیا ہے یا جن سے روکا ہے اور وہ یہ کہے: یہ ہم نہیں جانتے، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو کچھ پایا بس اسی کی پیروی کی ہے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، وعبد الله بن محمد النفيلي، قالا حدثنا سفيان، عن ابي النضر، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا الفين احدكم متكيا على اريكته ياتيه الامر من امري مما امرت به او نهيت عنه فيقول لا ندري ما وجدنا في كتاب الله اتبعناه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کرے جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی ایسا کام کرے جو ہمارے طریقے کے خلاف ہو تو وہ مردود ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا ابراهيم بن سعد، ح وحدثنا محمد بن عيسى، حدثنا عبد الله بن جعفر المخرمي، وابراهيم بن سعد، عن سعد بن ابراهيم، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احدث في امرنا هذا ما ليس فيه فهو رد " . قال ابن عيسى قال النبي صلى الله عليه وسلم " من صنع امرا على غير امرنا فهو رد
عبدالرحمٰن بن عمرو سلمی اور حجر بن حجر کہتے ہیں کہ ہم عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں آیت کریمہ «ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه» ۱؎ نازل ہوئی، تو ہم نے سلام کیا اور عرض کیا: ہم آپ کے پاس آپ سے ملنے، آپ کی عیادت کرنے، اور آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں، اس پر عرباض رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں دل موہ لینے والی نصیحت کی جس سے آنکھیں اشک بار ہو گئیں، اور دل کانپ گئے، پھر ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی سی نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا وصیت فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے، امیر کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ جو میرے بعد تم میں سے زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کے طریقہ کار کو لازم پکڑنا، تم اس سے چمٹ جانا، اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا، اور دین میں نکالی گئی نئی باتوں سے بچتے رہنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے ۲؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا ثور بن يزيد، قال حدثني خالد بن معدان، قال حدثني عبد الرحمن بن عمرو السلمي، وحجر بن حجر، قالا اتينا العرباض بن سارية وهو ممن نزل فيه { ولا على الذين اذا ما اتوك لتحملهم قلت لا اجد ما احملكم عليه } فسلمنا وقلنا اتيناك زايرين وعايدين ومقتبسين . فقال العرباض صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم ثم اقبل علينا فوعظنا موعظة بليغة ذرفت منها العيون ووجلت منها القلوب فقال قايل يا رسول الله كان هذه موعظة مودع فماذا تعهد الينا فقال " اوصيكم بتقوى الله والسمع والطاعة وان عبدا حبشيا فانه من يعش منكم بعدي فسيرى اختلافا كثيرا فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء المهديين الراشدين تمسكوا بها وعضوا عليها بالنواجذ واياكم ومحدثات الامور فان كل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: سنو، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہو گئے ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، قال حدثني سليمان، - يعني ابن عتيق - عن طلق بن حبيب، عن الاحنف بن قيس، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الا هلك المتنطعون " . ثلاث مرات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دوسروں کو نیک عمل کی دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت سے جتنے لوگ ان نیک باتوں پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس دعوت دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جاتی، اور جو کسی گمراہی و ضلالت کی طرف بلاتا ہے تو جتنے لوگ اس کے بلانے سے اس پر عمل کرتے ہیں ان سب کے برابر اس کو گناہ ہوتا ہے اور ان کے گناہوں میں ( بھی ) کوئی کمی نہیں ہوتی ۔
حدثنا يحيى بن ايوب، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن جعفر - قال اخبرني العلاء، - يعني ابن عبد الرحمن - عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من دعا الى هدى كان له من الاجر مثل اجور من تبعه لا ينقص ذلك من اجورهم شييا ومن دعا الى ضلالة كان عليه من الاثم مثل اثام من تبعه لا ينقص ذلك من اثامهم شييا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جو ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تھی لیکن اس کے سوال کرنے کی وجہ سے مسلمانوں پر حرام کر دی گئی۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عامر بن سعد، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اعظم المسلمين في المسلمين جرما من سال عن امر لم يحرم فحرم على الناس من اجل مسالته
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ یزید بن عمیرہ ( جو معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے ) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ جب بھی کسی مجلس میں وعظ کہنے کو بیٹھتے تو کہتے: اللہ بڑا حاکم اور عادل ہے، شک کرنے والے تباہ ہو گئے تو ایک روز معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تمہارے بعد بڑے بڑے فتنے ہوں گے، ان ( دنوں ) میں مال کثرت سے ہو گا، قرآن آسان ہو جائے گا، یہاں تک کہ اسے مومن و منافق، مرد و عورت، چھوٹے بڑے، غلام اور آزاد سبھی حاصل کر لیں گے، تو قریب ہے کہ کہنے والا کہے: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میری پیروی نہیں کرتے، حالانکہ میں نے قرآن پڑھا ہے، وہ میری پیروی اس وقت تک نہیں کریں گے جب تک کہ میں ان کے لیے اس کے علاوہ کوئی نئی چیز نہ نکالوں، لہٰذا جو نئی چیز نکالی جائے تم اس سے بچو ۱؎ اس لیے کہ ہر وہ نئی چیز جو نکالی جائے گمراہی ہے، اور میں تمہیں حکیم و دانا کی گمراہی سے ڈراتا ہوں، اس لیے کہ بسا اوقات شیطان، حکیم و دانا شخص کی زبانی گمراہی کی بات کہتا ہے اور کبھی کبھی منافق بھی حق بات کہتا ہے۔ میں نے معاذ سے کہا: ( اللہ آپ پر رحم کرے ) مجھے کیسے معلوم ہو گا کہ حکیم و دانا گمراہی کی بات کہتا ہے، اور منافق حق بات؟ وہ بولے: کیوں نہیں، حکیم و عالم کی ان مشہور باتوں سے بچو، جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہو کہ وہ یوں نہیں ہے، لیکن یہ چیز تمہیں خود اس حکیم سے نہ پھیر دے، اس لیے کہ امکان ہے کہ وہ ( اپنی پہلی بات سے ) پھر جائے اور حق پر آ جائے، اور جب تم حق بات سنو تو اسے لے لو، اس لیے کہ حق میں ایک نور ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قصے میں معمر نے زہری سے «ولا يثنينك ذلك عنه» کے بجائے «ولا ينئينك ذلك عنه» روایت کی ہے اور صالح بن کیسان نے زہری سے اس میں«المشتهرات» کے بجائے «المشبهات» روایت کی ہے اور «ولا يثنينك» ہی روایت کی ہے جیسا کہ عقیل کی روایت میں ہے۔ ابن اسحاق نے زہری سے روایت کی ہے: کیوں نہیں، جب کسی حکیم و عالم کا قول تم پر مشتبہ ہو جائے یہاں تک کہ تم کہنے لگو کہ اس بات سے اس کا کیا مقصد ہے؟ ( تو سمجھ لو کہ یہ حکیم و عالم کی زبانی گمراہی کی بات ہے ) ۲؎۔
حدثنا يزيد بن خالد بن عبد الله بن موهب الهمداني، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، ان ابا ادريس الخولاني، عايذ الله اخبره ان يزيد بن عميرة وكان من اصحاب معاذ بن جبل اخبره قال كان لا يجلس مجلسا للذكر حين يجلس الا قال الله حكم قسط هلك المرتابون فقال معاذ بن جبل يوما ان من ورايكم فتنا يكثر فيها المال ويفتح فيها القران حتى ياخذه المومن والمنافق والرجل والمراة والصغير والكبير والعبد والحر فيوشك قايل ان يقول ما للناس لا يتبعوني وقد قرات القران ما هم بمتبعي حتى ابتدع لهم غيره فاياكم وما ابتدع فان ما ابتدع ضلالة واحذركم زيغة الحكيم فان الشيطان قد يقول كلمة الضلالة على لسان الحكيم وقد يقول المنافق كلمة الحق . قال قلت لمعاذ ما يدريني رحمك الله ان الحكيم قد يقول كلمة الضلالة وان المنافق قد يقول كلمة الحق قال بلى اجتنب من كلام الحكيم المشتهرات التي يقال لها ما هذه ولا يثنينك ذلك عنه فانه لعله ان يراجع وتلق الحق اذا سمعته فان على الحق نورا . قال ابو داود قال معمر عن الزهري في هذا ولا ينيينك ذلك عنه مكان يثنينك . وقال صالح بن كيسان عن الزهري في هذا المشبهات مكان المشتهرات وقال لا يثنينك كما قال عقيل . وقال ابن اسحاق عن الزهري قال بلى ما تشابه عليك من قول الحكيم حتى تقول ما اراد بهذه الكلمة
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ ایک شخص نے خط لکھ کر عمر بن عبدالعزیز سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ( جواب میں ) لکھا: امابعد! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے دین کے سلسلہ میں میانہ روی اختیار کرنے، اس کے نبی کی سنت کی پیروی کرنے کی اور بدعتیوں نے جو بدعتیں سنت کے جاری اور ضروریات کے لیے کافی ہو جانے کے بعد ایجاد کی ہیں ان کے چھوڑ دینے کی وصیت کرتا ہوں، لہٰذا تم پر سنت کا دامن تھامے رہنا لازم ہے، اللہ کے حکم سے یہی چیز تمہارے لیے گمراہی سے بچنے کا ذریعہ ہو گی۔ پھر یہ بھی جان لو کہ لوگوں نے کوئی بدعت ایسی نہیں نکالی ہے جس کے خلاف پہلے سے کوئی دلیل موجود نہ رہی ہو یا اس کے بدعت ہونے کے سلسلہ میں کوئی نصیحت آمیز بات نہ ہو، اس لیے کہ سنت کو جس نے جاری کیا ہے، ( اللہ تعالیٰ یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ جانتا تھا کہ اس کی مخالفت میں کیا وبال ہے، کیا کیا غلطیاں، لغزشیں، حماقتیں اور انتہا پسندیاں ہیں ( ابن کثیر کی روایت میں «من قد علم» کا لفظ نہیں ہے ) لہٰذا تم اپنے آپ کو اسی چیز سے خوش رکھو جس سے قوم ( سلف ) نے اپنے آپ کو خوش رکھا ہے، اس لیے کہ وہ دین کے بڑے واقف کار تھے، جس بات سے انہوں نے روکا ہے گہری بصیرت سے روکا ہے، انہیں معاملات کے سمجھنے پر ہم سے زیادہ دسترس تھی، اور تمام خوبیوں میں وہ ہم سے فائق تھے، لہٰذا اگر ہدایت وہ ہوتی جس پر تم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ان سے آگے بڑھ گئے، اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ جن لوگوں نے بدعتیں نکالی ہیں وہ اگلے لوگوں کی راہ پر نہیں چلے اور ان سے اعراض کیا تو واقعہ بھی یہی ہے کہ اگلے لوگ ہی فائق و برتر تھے انہوں نے جتنا کچھ بیان کر دیا ہے اور جو کچھ کہہ دیا ہے شافی و کافی ہے، لہٰذا اب دین میں نہ اس سے کم کی گنجائش ہے نہ زیادہ کی، اور حال یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس میں کمی کر ڈالی تو وہ جفا کار ٹھہرے اور کچھ لوگوں نے زیادتی کی تو وہ غلو کا شکار ہو گئے، اور اگلے لوگ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ سیدھی راہ پر رہے، اور تم نے ایمان بالقدر کے اقرار کے بارے میں بھی پوچھا ہے تو باذن اللہ تم نے یہ سوال ایک ایسے شخص سے کیا ہے جو اس کو خوب جانتا ہے، ان لوگوں نے جتنی بھی بدعتیں ایجاد کی ہیں ان میں اثر کے اعتبار سے ایمان بالقدر کے اقرار سے زیادہ واضح اور ٹھوس کوئی نہیں ہے، اس کا تذکرہ تو جاہلیت میں جہلاء نے بھی کیا ہے، وہ اپنی گفتگو اور اپنے شعر میں اس کا تذکرہ کرتے تھے، اس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو کسی فوت ہو جانے والے کے غم میں تسلی دیتے ہیں۔ پھر اسلام نے اس خیال کو مزید پختگی بخشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر ایک یا دو حدیثوں میں نہیں بلکہ کئی حدیثوں میں کیا، اور اس کو مسلمانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر آپ کی زندگی میں بھی اسے بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی، اس پر یقین کر کے، اس کو تسلیم کر کے اور اپنے کو اس سے کمزور سمجھ کے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کو اللہ کا علم محیط نہ ہو، اور جو اس کے نوشتہ میں نہ آ چکی ہو، اور اس میں اس کی تقدیر جاری نہ ہو چکی ہو، اس کے باوجود اس کا ذکر اس کی کتاب محکم میں ہے، اسی سے لوگوں نے اسے حاصل کیا، اسی سے اسے سیکھا۔ اور اگر تم یہ کہو: اللہ نے ایسی آیت کیوں نازل فرمائی؟ اور ایسا کیوں کہا ( جو آیات تقدیر کے خلاف ہیں ) ؟ تو ( جان لو ) ان لوگوں نے بھی اس میں سے وہ سب پڑھا تھا جو تم نے پڑھا ہے لیکن انہیں اس کی تاویل و تفسیر کا علم تھا جس سے تم ناواقف ہو، اس کے بعد بھی وہ اسی بات کے قائل تھے: ہر بات اللہ کی تقدیر اور اس کے لکھے ہوئے کے مطابق ہے جو مقدر میں لکھا ہے وہ ہو گا، جو اللہ نے چاہا، وہی ہوا، جو نہیں چاہا، نہیں ہوا۔ اور ہم تو اپنے لیے نہ کسی ضرر کے مالک ہیں اور نہ ہی کسی نفع کے پھر اس اعتقاد کے بعد بھی اگلے لوگ اچھے کام کرتے رہے اور بر ے کاموں سے ڈرتے رہے ۱؎۔
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک شامی دوست تھا جو ان سے خط و کتابت رکھتا تھا، تو عبداللہ بن عمر نے اسے لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے تقدیر کے سلسلے میں ( سلف کے قول کے خلاف ) کوئی بات کہی ہے، لہٰذا اب تم مجھ سے خط و کتابت نہ رکھنا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، قال حدثنا عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سعيد، - يعني ابن ابي ايوب - قال اخبرني ابو صخر، عن نافع، قال كان لابن عمر صديق من اهل الشام يكاتبه فكتب اليه عبد الله بن عمر انه بلغني انك تكلمت في شىء من القدر فاياك ان تكتب الى فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انه سيكون في امتي اقوام يكذبون بالقدر
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن ( حسن بصری ) سے کہا: اے ابوسعید! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ ان کے بس میں نہ تھا، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو ( الصافات: ۱۶۳ ) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا: شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے ۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، قال حدثنا حماد بن زيد، عن خالد الحذاء، قال قلت للحسن يا ابا سعيد اخبرني عن ادم، للسماء خلق ام للارض قال لا بل للارض . قلت ارايت لو اعتصم فلم ياكل من الشجرة قال لم يكن له منه بد . قلت اخبرني عن قوله تعالى { ما انتم عليه بفاتنين * الا من هو صال الجحيم } قال ان الشياطين لا يفتنون بضلالتهم الا من اوجب الله عليه الجحيم
حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے قول «ولذلك خلقهم» اور اسی کے لیے انہیں پیدا کیا ( سورۃ ھود: ۱۱۹ ) کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے کہا: انہیں پیدا کیا اس ( جنت ) کے لیے اور انہیں پیدا کیا اس ( جہنم ) کے لیے ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا خالد الحذاء، عن الحسن، في قوله تعالى { ولذلك خلقهم } قال خلق هولاء لهذه وهولاء لهذه
حدثنا محمد بن كثير، قال حدثنا سفيان، قال كتب رجل الى عمر بن عبد العزيز يساله عن القدر، ح وحدثنا الربيع بن سليمان الموذن، قال حدثنا اسد بن موسى، قال حدثنا حماد بن دليل، قال سمعت سفيان الثوري، يحدثنا عن النضر، ح وحدثنا هناد بن السري، عن قبيصة، قال حدثنا ابو رجاء، عن ابي الصلت، - وهذا لفظ حديث ابن كثير ومعناهم - قال كتب رجل الى عمر بن عبد العزيز يساله عن القدر فكتب اما بعد اوصيك بتقوى الله والاقتصاد في امره واتباع سنة نبيه صلى الله عليه وسلم وترك ما احدث المحدثون بعد ما جرت به سنته وكفوا مونته فعليك بلزوم السنة فانها لك باذن الله عصمة ثم اعلم انه لم يبتدع الناس بدعة الا قد مضى قبلها ما هو دليل عليها او عبرة فيها فان السنة انما سنها من قد علم ما في خلافها ولم يقل ابن كثير من قد علم . من الخطا والزلل والحمق والتعمق فارض لنفسك ما رضي به القوم لانفسهم فانهم على علم وقفوا وببصر نافذ كفوا ولهم على كشف الامور كانوا اقوى وبفضل ما كانوا فيه اولى فان كان الهدى ما انتم عليه لقد سبقتموهم اليه ولين قلتم انما حدث بعدهم . ما احدثه الا من اتبع غير سبيلهم ورغب بنفسه عنهم فانهم هم السابقون فقد تكلموا فيه بما يكفي ووصفوا منه ما يشفي فما دونهم من مقصر وما فوقهم من محسر وقد قصر قوم دونهم فجفوا وطمح عنهم اقوام فغلوا وانهم بين ذلك لعلى هدى مستقيم كتبت تسال عن الاقرار بالقدر فعلى الخبير باذن الله وقعت ما اعلم ما احدث الناس من محدثة ولا ابتدعوا من بدعة هي ابين اثرا ولا اثبت امرا من الاقرار بالقدر لقد كان ذكره في الجاهلية الجهلاء يتكلمون به في كلامهم وفي شعرهم يعزون به انفسهم على ما فاتهم ثم لم يزده الاسلام بعد الا شدة ولقد ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم في غير حديث ولا حديثين وقد سمعه منه المسلمون فتكلموا به في حياته وبعد وفاته يقينا وتسليما لربهم وتضعيفا لانفسهم ان يكون شىء لم يحط به علمه ولم يحصه كتابه ولم يمض فيه قدره وانه مع ذلك لفي محكم كتابه منه اقتبسوه ومنه تعلموه ولين قلتم لم انزل الله اية كذا ولم قال كذا . لقد قرءوا منه ما قراتم وعلموا من تاويله ما جهلتم وقالوا بعد ذلك كله بكتاب وقدر وكتبت الشقاوة وما يقدر يكن وما شاء الله كان وما لم يشا لم يكن ولا نملك لانفسنا ضرا ولا نفعا ثم رغبوا بعد ذلك ورهبوا