احادیث
#4612
سنن ابی داؤد - Model Behavior of the Prophet
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ ایک شخص نے خط لکھ کر عمر بن عبدالعزیز سے تقدیر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ( جواب میں ) لکھا: امابعد! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کے دین کے سلسلہ میں میانہ روی اختیار کرنے، اس کے نبی کی سنت کی پیروی کرنے کی اور بدعتیوں نے جو بدعتیں سنت کے جاری اور ضروریات کے لیے کافی ہو جانے کے بعد ایجاد کی ہیں ان کے چھوڑ دینے کی وصیت کرتا ہوں، لہٰذا تم پر سنت کا دامن تھامے رہنا لازم ہے، اللہ کے حکم سے یہی چیز تمہارے لیے گمراہی سے بچنے کا ذریعہ ہو گی۔ پھر یہ بھی جان لو کہ لوگوں نے کوئی بدعت ایسی نہیں نکالی ہے جس کے خلاف پہلے سے کوئی دلیل موجود نہ رہی ہو یا اس کے بدعت ہونے کے سلسلہ میں کوئی نصیحت آمیز بات نہ ہو، اس لیے کہ سنت کو جس نے جاری کیا ہے، ( اللہ تعالیٰ یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ جانتا تھا کہ اس کی مخالفت میں کیا وبال ہے، کیا کیا غلطیاں، لغزشیں، حماقتیں اور انتہا پسندیاں ہیں ( ابن کثیر کی روایت میں «من قد علم» کا لفظ نہیں ہے ) لہٰذا تم اپنے آپ کو اسی چیز سے خوش رکھو جس سے قوم ( سلف ) نے اپنے آپ کو خوش رکھا ہے، اس لیے کہ وہ دین کے بڑے واقف کار تھے، جس بات سے انہوں نے روکا ہے گہری بصیرت سے روکا ہے، انہیں معاملات کے سمجھنے پر ہم سے زیادہ دسترس تھی، اور تمام خوبیوں میں وہ ہم سے فائق تھے، لہٰذا اگر ہدایت وہ ہوتی جس پر تم ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ان سے آگے بڑھ گئے، اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ جن لوگوں نے بدعتیں نکالی ہیں وہ اگلے لوگوں کی راہ پر نہیں چلے اور ان سے اعراض کیا تو واقعہ بھی یہی ہے کہ اگلے لوگ ہی فائق و برتر تھے انہوں نے جتنا کچھ بیان کر دیا ہے اور جو کچھ کہہ دیا ہے شافی و کافی ہے، لہٰذا اب دین میں نہ اس سے کم کی گنجائش ہے نہ زیادہ کی، اور حال یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس میں کمی کر ڈالی تو وہ جفا کار ٹھہرے اور کچھ لوگوں نے زیادتی کی تو وہ غلو کا شکار ہو گئے، اور اگلے لوگ ان دونوں انتہاؤں کے بیچ سیدھی راہ پر رہے، اور تم نے ایمان بالقدر کے اقرار کے بارے میں بھی پوچھا ہے تو باذن اللہ تم نے یہ سوال ایک ایسے شخص سے کیا ہے جو اس کو خوب جانتا ہے، ان لوگوں نے جتنی بھی بدعتیں ایجاد کی ہیں ان میں اثر کے اعتبار سے ایمان بالقدر کے اقرار سے زیادہ واضح اور ٹھوس کوئی نہیں ہے، اس کا تذکرہ تو جاہلیت میں جہلاء نے بھی کیا ہے، وہ اپنی گفتگو اور اپنے شعر میں اس کا تذکرہ کرتے تھے، اس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو کسی فوت ہو جانے والے کے غم میں تسلی دیتے ہیں۔ پھر اسلام نے اس خیال کو مزید پختگی بخشی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر ایک یا دو حدیثوں میں نہیں بلکہ کئی حدیثوں میں کیا، اور اس کو مسلمانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر آپ کی زندگی میں بھی اسے بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی، اس پر یقین کر کے، اس کو تسلیم کر کے اور اپنے کو اس سے کمزور سمجھ کے، کوئی چیز ایسی نہیں جس کو اللہ کا علم محیط نہ ہو، اور جو اس کے نوشتہ میں نہ آ چکی ہو، اور اس میں اس کی تقدیر جاری نہ ہو چکی ہو، اس کے باوجود اس کا ذکر اس کی کتاب محکم میں ہے، اسی سے لوگوں نے اسے حاصل کیا، اسی سے اسے سیکھا۔ اور اگر تم یہ کہو: اللہ نے ایسی آیت کیوں نازل فرمائی؟ اور ایسا کیوں کہا ( جو آیات تقدیر کے خلاف ہیں ) ؟ تو ( جان لو ) ان لوگوں نے بھی اس میں سے وہ سب پڑھا تھا جو تم نے پڑھا ہے لیکن انہیں اس کی تاویل و تفسیر کا علم تھا جس سے تم ناواقف ہو، اس کے بعد بھی وہ اسی بات کے قائل تھے: ہر بات اللہ کی تقدیر اور اس کے لکھے ہوئے کے مطابق ہے جو مقدر میں لکھا ہے وہ ہو گا، جو اللہ نے چاہا، وہی ہوا، جو نہیں چاہا، نہیں ہوا۔ اور ہم تو اپنے لیے نہ کسی ضرر کے مالک ہیں اور نہ ہی کسی نفع کے پھر اس اعتقاد کے بعد بھی اگلے لوگ اچھے کام کرتے رہے اور بر ے کاموں سے ڈرتے رہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، قال حدثنا سفيان، قال كتب رجل الى عمر بن عبد العزيز يساله عن القدر، ح وحدثنا الربيع بن سليمان الموذن، قال حدثنا اسد بن موسى، قال حدثنا حماد بن دليل، قال سمعت سفيان الثوري، يحدثنا عن النضر، ح وحدثنا هناد بن السري، عن قبيصة، قال حدثنا ابو رجاء، عن ابي الصلت، - وهذا لفظ حديث ابن كثير ومعناهم - قال كتب رجل الى عمر بن عبد العزيز يساله عن القدر فكتب اما بعد اوصيك بتقوى الله والاقتصاد في امره واتباع سنة نبيه صلى الله عليه وسلم وترك ما احدث المحدثون بعد ما جرت به سنته وكفوا مونته فعليك بلزوم السنة فانها لك باذن الله عصمة ثم اعلم انه لم يبتدع الناس بدعة الا قد مضى قبلها ما هو دليل عليها او عبرة فيها فان السنة انما سنها من قد علم ما في خلافها ولم يقل ابن كثير من قد علم . من الخطا والزلل والحمق والتعمق فارض لنفسك ما رضي به القوم لانفسهم فانهم على علم وقفوا وببصر نافذ كفوا ولهم على كشف الامور كانوا اقوى وبفضل ما كانوا فيه اولى فان كان الهدى ما انتم عليه لقد سبقتموهم اليه ولين قلتم انما حدث بعدهم . ما احدثه الا من اتبع غير سبيلهم ورغب بنفسه عنهم فانهم هم السابقون فقد تكلموا فيه بما يكفي ووصفوا منه ما يشفي فما دونهم من مقصر وما فوقهم من محسر وقد قصر قوم دونهم فجفوا وطمح عنهم اقوام فغلوا وانهم بين ذلك لعلى هدى مستقيم كتبت تسال عن الاقرار بالقدر فعلى الخبير باذن الله وقعت ما اعلم ما احدث الناس من محدثة ولا ابتدعوا من بدعة هي ابين اثرا ولا اثبت امرا من الاقرار بالقدر لقد كان ذكره في الجاهلية الجهلاء يتكلمون به في كلامهم وفي شعرهم يعزون به انفسهم على ما فاتهم ثم لم يزده الاسلام بعد الا شدة ولقد ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم في غير حديث ولا حديثين وقد سمعه منه المسلمون فتكلموا به في حياته وبعد وفاته يقينا وتسليما لربهم وتضعيفا لانفسهم ان يكون شىء لم يحط به علمه ولم يحصه كتابه ولم يمض فيه قدره وانه مع ذلك لفي محكم كتابه منه اقتبسوه ومنه تعلموه ولين قلتم لم انزل الله اية كذا ولم قال كذا . لقد قرءوا منه ما قراتم وعلموا من تاويله ما جهلتم وقالوا بعد ذلك كله بكتاب وقدر وكتبت الشقاوة وما يقدر يكن وما شاء الله كان وما لم يشا لم يكن ولا نملك لانفسنا ضرا ولا نفعا ثم رغبوا بعد ذلك ورهبوا
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Model Behavior of the Prophet
- Hadith Index
- #4612
- Book Index
- 17
Grades
- Al-AlbaniSahih Maqtu
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih Maqtu
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiDaif
