Loading...

Loading...
کتب
۱۷۷ احادیث
خالد الخداء کہتے ہیں کہ میں نے حسن بصری سے کہا «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» تو انہوں نے کہا: «إلا من هو صال الجحيم» کا مطلب ہے: سوائے اس کے جس کے لیے اللہ نے واجب کر دیا ہے کہ وہ جہنم میں جائے۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا اسماعيل، حدثنا خالد الحذاء، قال قلت للحسن { ما انتم عليه بفاتنين * الا من هو صال الجحيم } قال الا من اوجب الله تعالى عليه انه يصلى الجحيم
حمید کہتے ہیں کہ حسن بصری کہتے تھے: آسمان سے زمین پر گر پڑنا اس بات سے مجھے زیادہ عزیز ہے کہ میں کہوں: معاملہ تو میرے ہاتھ میں ہے ۱؎۔
حدثنا هلال بن بشر، قال حدثنا حماد، قال اخبرني حميد، قال كان الحسن يقول لان يسقط من السماء الى الارض احب اليه من ان يقول الامر بيدي
حمید کہتے ہیں کہ حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا: اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا حماد، حدثنا حميد، قال قدم علينا الحسن مكة فكلمني فقهاء اهل مكة ان اكلمه في ان يجلس لهم يوما يعظهم فيه . فقال نعم . فاجتمعوا فخطبهم فما رايت اخطب منه فقال رجل يا ابا سعيد من خلق الشيطان فقال سبحان الله هل من خالق غير الله خلق الله الشيطان وخلق الخير وخلق الشر . قال الرجل قاتلهم الله كيف يكذبون على هذا الشيخ
حسن بصری آیت کریمہ: «كذلك نسلكه في قلوب المجرمين» اسی طرح سے ہم اسے مجرموں کے دل میں ڈالتے ہیں ( سورۃ الحجر: ۱۱۲ ) کے سلسلہ میں کہتے ہیں: اس سے مراد شرک ہے۔
حدثنا ابن كثير، قال اخبرنا سفيان، عن حميد الطويل، عن الحسن، { كذلك نسلكه في قلوب المجرمين } قال الشرك
حسن بصری آیت کریمہ: «وحيل بينهم وبين ما يشتهون» ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان حائل ہو گئی ( سورۃ سبا: ۵۴ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں: اس کا مطلب ہے ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہو گئی۔
حدثنا محمد بن كثير، قال اخبرنا سفيان، عن رجل، قد سماه غير ابن كثير عن سفيان، عن عبيد الصيد، عن الحسن، في قول الله عز وجل { وحيل بينهم وبين ما يشتهون } قال بينهم وبين الايمان
ابن عون کہتے ہیں کہ میں ملک شام میں چل رہا تھا تو ایک شخص نے پیچھے سے مجھے پکارا جب میں مڑا تو دیکھا رجاء بن حیوہ ہیں، انہوں نے کہا: اے ابوعون! یہ کیا ہے جو لوگ حسن کے بارے میں ذکر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: لوگ حسن پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں۱؎۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا سليم، عن ابن عون، قال كنت اسير بالشام فناداني رجل من خلفي فالتفت فاذا رجاء بن حيوة فقال يا ابا عون ما هذا الذي يذكرون عن الحسن قال قلت انهم يكذبون على الحسن كثيرا
ایوب کہتے ہیں حسن پر جھوٹ دو قسم کے لوگ باندھتے ہیں: ایک تو قدریہ، جو چاہتے ہیں کہ اس طرح سے ان کے خیال و نظریہ کا لوگ اعتبار کریں گے، اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں میں ان کے خلاف عداوت اور بغض ہے، وہ کہتے ہیں: کیا یہ ان کا قول نہیں؟ کیا یہ ان کا قول نہیں؟ ۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد، قال سمعت ايوب، يقول كذب على الحسن ضربان من الناس قوم القدر رايهم وهم يريدون ان ينفقوا بذلك رايهم وقوم له في قلوبهم شنان وبغض يقولون اليس من قوله كذا اليس من قوله كذا
یحییٰ بن کثیر بن عنبری کہتے ہیں کہ قرہ بن خالد ہم سے کہا کرتے تھے: اے نوجوانو! حسن کو قدریہ مت سمجھو، ان کی رائے سنت اور صواب تھی۔
حدثنا ابن المثنى، ان يحيى بن كثير العنبري، حدثهم قال كان قرة بن خالد يقول لنا يا فتيان لا تغلبوا على الحسن فانه كان رايه السنة والصواب
ابن عون کہتے ہیں کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ حسن کی بات ( غلط معنی کے ساتھ شہرت کے ) اس مقام کو پہنچ جائے گی جہاں وہ پہنچ گئی تو ہم لوگ ان کے اس قول کے بارے میں ان کے رجوع کی بابت ایک کتاب لکھتے اور اس پر لوگوں کو گواہ بناتے، لیکن ہم نے سوچا کہ ایک بات ہے جو نکل گئی ہے اور اس کے خلاف معنی پر محمول نہیں کی جائے گی ۱؎۔
حدثنا ابن المثنى، وابن، بشار قالا حدثنا مومل بن اسماعيل، حدثنا حماد بن زيد، عن ابن عون، قال لو علمنا ان كلمة، الحسن تبلغ ما بلغت لكتبنا برجوعه كتابا واشهدنا عليه شهودا ولكنا قلنا كلمة خرجت لا تحمل
ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے حسن بصری نے کہا: میں اب دوبارہ کبھی اس میں سے کوئی بات نہیں کہوں گا، ( جس سے تقدیر کی نفی کا گمان ہوتا ) ۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، قال قال لي الحسن ما انا بعايد، الى شىء منه ابدا
عثمان کہتے ہیں کہ حسن نے جب بھی کسی آیت کی تفسیر کی تو تقدیر کا اثبات کیا۔
حدثنا هلال بن بشر، قال حدثنا عثمان بن عثمان، عن عثمان البتي، قال ما فسر الحسن اية قط الا على الاثبات
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے، ان میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسود بن عامر، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كنا نقول في زمن النبي صلى الله عليه وسلم لا نعدل بابي بكر احدا ثم عمر ثم عثمان ثم نترك اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم لا تفاضل بينهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان ہیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، قال قال سالم بن عبد الله ان ابن عمر قال كنا نقول ورسول الله صلى الله عليه وسلم حى افضل امة النبي صلى الله عليه وسلم بعده ابو بكر ثم عمر ثم عثمان رضى الله عنهم اجمعين
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون تھا؟ انہوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ، میں نے کہا: پھر کون؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ، پھر مجھے اس بات سے ڈر ہوا کہ میں کہوں پھر کون؟ اور وہ کہیں عثمان رضی اللہ عنہ، چنانچہ میں نے کہا: پھر آپ؟ اے ابا جان! وہ بولے: میں تو مسلمانوں میں کا صرف ایک فرد ہوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، حدثنا جامع بن ابي راشد، حدثنا ابو يعلى، عن محمد ابن الحنفية، قال قلت لابي اى الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ابو بكر . قال قلت ثم من قال ثم عمر . قال ثم خشيت ان اقول ثم من فيقول عثمان فقلت ثم انت يا ابة قال ما انا الا رجل من المسلمين
سفیان کہتے تھے: جو یہ کہے کہ علی رضی اللہ عنہ ان دونوں ( ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ ) سے خلافت کے زیادہ حقدار تھے تو اس نے ابوبکر، عمر، مہاجرین اور انصار کو خطاکار ٹھہرایا، اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے اس عقیدے کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی عمل آسمان کو اٹھ کر جائے گا۔
حدثنا محمد بن مسكين، حدثنا محمد، - يعني الفريابي - قال سمعت سفيان، يقول من زعم ان عليا، عليه السلام كان احق بالولاية منهما فقد خطا ابا بكر وعمر والمهاجرين والانصار وما اراه يرتفع له مع هذا عمل الى السماء
سفیان ثوری کہا کرتے تھے خلفاء پانچ ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، علی رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ۔
حدثنا محمد بن فارس، حدثنا قبيصة، حدثنا عباد السماك، قال سمعت سفيان الثوري، يقول الخلفاء خمسة ابو بكر وعمر وعثمان وعلي وعمر بن عبد العزيز رضى الله عنهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور شخص نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر اسے جوڑا گیا، تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تعبیر بیان کرو وہ بولے: بادل کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے، اور ٹپکنے والے گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت ( شیرینی ) اور نرمی مراد ہے، کم اور زیادہ لینے والوں سے مراد قرآن کو کم یا زیادہ حاصل کرنے والے لوگ ہیں، آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ ہیں، آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں، اللہ آپ کو اٹھا لے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا، پھر ایک اور شخص پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا، پھر اسے ایک اور شخص پکڑے گا، تو وہ ٹوٹ جائے گی تو اسے جوڑا جائے گا، پھر وہ بھی اٹھ جائے گا، اللہ کے رسول! آپ مجھے بتائیے کہ میں نے صحیح کہا یا غلط، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ صحیح کہا اور کچھ غلط کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ دلاؤ ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الرزاق، - قال محمد كتبته من كتابه - قال اخبرنا معمر عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس قال كان ابو هريرة يحدث ان رجلا اتى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اني ارى الليلة ظلة ينطف منها السمن والعسل فارى الناس يتكففون بايديهم فالمستكثر والمستقل وارى سببا واصلا من السماء الى الارض فاراك يا رسول الله اخذت به فعلوت به ثم اخذ به رجل اخر فعلا به ثم اخذ به رجل اخر فعلا به ثم اخذ به رجل اخر فانقطع ثم وصل فعلا به . قال ابو بكر بابي وامي لتدعني فلاعبرنها . فقال " اعبرها " . قال اما الظلة فظلة الاسلام واما ما ينطف من السمن والعسل فهو القران لينه وحلاوته واما المستكثر والمستقل فهو المستكثر من القران والمستقل منه واما السبب الواصل من السماء الى الارض فهو الحق الذي انت عليه تاخذ به فيعليك الله ثم ياخذ به بعدك رجل فيعلو به ثم ياخذ به رجل اخر فيعلو به ثم ياخذ به رجل اخر فينقطع ثم يوصل له فيعلو به اى رسول الله لتحدثني اصبت ام اخطات . فقال " اصبت بعضا واخطات بعضا " . فقال اقسمت يا رسول الله لتحدثني ما الذي اخطات . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تقسم
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ آپ نے ان کو بتانے سے انکار کر دیا، ( کہ انہوں نے کیا غلطی کی ہے ) ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سليمان بن كثير، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذه القصة قال فابى ان يخبره
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ایک شخص بولا: میں نے دیکھا: گویا ایک ترازو آسمان سے اترا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر کو تولا گیا، تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، پھر عمر اور ابوبکر کو تولا گیا تو ابوبکر بھاری نکلے، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر بھاری نکلے، پھر ترازو اٹھا لیا گیا، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں ناپسندیدگی دیکھی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثنا الاشعث، عن الحسن، عن ابي بكرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال ذات يوم " من راى منكم رويا " . فقال رجل انا رايت كان ميزانا نزل من السماء فوزنت انت وابو بكر فرجحت انت بابي بكر ووزن عمر وابو بكر فرجح ابو بكر ووزن عمر وعثمان فرجح عمر ثم رفع الميزان فراينا الكراهية في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اور چہرے پر ناگواری دیکھنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ یوں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ( خواب ) برا لگا، اور فرمایا: وہ نبوت کی خلافت ہے، پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا سلطنت عطا کرے گا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن علي بن زيد، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال ذات يوم " ايكم راى رويا " . فذكر معناه ولم يذكر الكراهية . قال فاستاء لها رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني فساءه ذلك فقال " خلافة نبوة ثم يوتي الله الملك من يشاء