Loading...

Loading...
کتب
۱۷۷ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کی رات ایک صالح شخص کو خواب میں دکھایا گیا کہ ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ دیا گیا ہے، اور عمر کو ابوبکر سے اور عثمان کو عمر سے ۔ جابر کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر آئے تو ہم نے کہا: مرد صالح سے مراد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور بعض کا بعض سے جوڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہی لوگ اس امر ( دین ) کے والی ہوں گے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس اور شعیب نے بھی روایت کیا ہے، لیکن ان دونوں نے عمرو بن ابان کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن ابن شهاب، عن عمرو بن ابان بن عثمان، عن جابر بن عبد الله، انه كان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اري الليلة رجل صالح ان ابا بكر نيط برسول الله صلى الله عليه وسلم ونيط عمر بابي بكر ونيط عثمان بعمر " . قال جابر فلما قمنا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قلنا اما الرجل الصالح فرسول الله صلى الله عليه وسلم واما تنوط بعضهم ببعض فهم ولاة هذا الامر الذي بعث الله به نبيه صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود ورواه يونس وشعيب لم يذكرا عمرا
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے دیکھا گویا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا پہلے ابوبکر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑ کر اس میں سے تھوڑا سا پیا، پھر عمر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا، پھر عثمان آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور خوب سیر ہو کر پیا، پھر علی آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں، تو وہ چھلک گیا اور اس میں سے کچھ ان کے اوپر بھی پڑ گیا۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثني عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سلمة، عن اشعث بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن سمرة بن جندب، ان رجلا، قال يا رسول الله اني رايت كان دلوا دلي من السماء فجاء ابو بكر فاخذ بعراقيها فشرب شربا ضعيفا ثم جاء عمر فاخذ بعراقيها فشرب حتى تضلع ثم جاء عثمان فاخذ بعراقيها فشرب حتى تضلع ثم جاء علي فاخذ بعراقيها فانتشطت وانتضح عليه منها شىء
مکحول نے کہا رومی شام میں چالیس دن تک لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں گے اور سوائے دمشق اور عمان کے کوئی شہر بھی ان سے نہ بچے گا۔
حدثنا علي بن سهل الرملي، حدثنا الوليد، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن مكحول، قال لتمخرن الروم الشام اربعين صباحا لا يمتنع منها الا دمشق وعمان
عبدالعزیز بن علاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو الأ عیس عبدالرحمٰن بن سلمان کو کہتے سنا کہ عجم کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تمام شہروں پر غالب آ جائے گا سوائے دمشق کے۔
حدثنا موسى بن عامر المري، حدثنا الوليد، حدثنا عبد الله بن العلاء، انه سمع ابا الاعيس عبد الرحمن بن سلمان، يقول سياتي ملك من ملوك العجم يظهر على المداين كلها الا دمشق
مکحول کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کا خیمہ لڑائیوں کے وقت ایک ایسی سر زمین میں ہو گا جسے غوطہٰ ۱؎کہا جاتا ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا برد ابو العلاء، عن مكحول، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " موضع فسطاط المسلمين في الملاحم ارض يقال لها الغوطة
عوف الا عرابی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا: عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» جب اللہ نے کہا کہ: اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں ( سورۃ آل عمران: ۵۵ ) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔
حدثنا ابو ظفر عبد السلام، حدثنا جعفر، عن عوف، قال سمعت الحجاج، يخطب وهو يقول ان مثل عثمان عند الله كمثل عيسى ابن مريم ثم قرا هذه الاية يقروها ويفسرها { اذ قال الله يا عيسى اني متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا } يشير الينا بيده والى اهل الشام
ربیع بن خالد ضبی کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو خطبہ دیتے سنا، اس نے اپنے خطبے میں کہا: تم میں سے کسی کا پیغام بر جو اس کی ضرورت سے ( پیغام لے جا رہا ) ہو زیادہ درجے والا ہے، یا وہ جو اس کے گھربار میں اس کا قائم مقام اور خلیفہ ہو؟ تو میں نے اپنے دل میں کہا: اللہ کا میرے اوپر حق ہے کہ میں تیرے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھوں، اور اگر مجھے ایسے لوگ ملے جو تجھ سے جہاد کریں تو میں ضرور ان کے ساتھ تجھ سے جہاد کروں گا۔ اسحاق نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: چنانچہ انہوں نے جماجم میں جنگ کی یہاں تک کہ مارے گئے۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل الطالقاني، حدثنا جرير، ح وحدثنا زهير بن حرب، حدثنا جرير، عن المغيرة، عن الربيع بن خالد الضبي، قال سمعت الحجاج، يخطب فقال في خطبته رسول احدكم في حاجته اكرم عليه ام خليفته في اهله فقلت في نفسي لله على الا اصلي خلفك صلاة ابدا وان وجدت قوما يجاهدونك لاجاهدنك معهم . زاد اسحاق في حديثه قال فقاتل في الجماجم حتى قتل
عاصم کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو، اس میں کوئی شرط یا استثناء نہیں ہے، امیر المؤمنین عبدالملک کی بات سنو اور مانو، اس میں بھی کوئی شرط اور استثناء نہیں ہے، اللہ کی قسم، اگر میں نے لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دیا پھر وہ لوگ کسی دوسرے دروازے سے نکلے تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے، اللہ کی قسم! اگر مضر کے قصور پر میں ربیعہ کو پکڑ لوں، تو یہ میرے لیے اللہ کی جانب سے حلال ہے، اور کون مجھے عبدہذیل ( عبداللہ بن مسعود ہذلی ) کے سلسلہ میں معذور سمجھے گا جو کہتے ہیں کہ ان کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے قسم اللہ کی، وہ سوائے اعرابیوں کے رجز کے کچھ نہیں، اللہ نے اس قرآت کو اپنے نبی علیہ السلام پر نہیں نازل فرمایا، اور کون ان عجمیوں کے سلسلہ میں مجھے معذور سمجھے گا جن میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہا ہے، پھر کہتا ہے، دیکھو پتھر کہاں گرتا ہے؟ ( فساد کی بات کہہ کر دیکھتا ہے کہ دیکھوں اس کا کہاں اثر ہوتا ہے ) اور کچھ نئی بات پیش آئی ہے، اللہ کی قسم، میں انہیں اسی طرح نیست و نابود کر دوں گا، جیسے گزشتہ کل ختم ہو گیا ( جو اب کبھی نہیں آنے والا ) ۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ اعمش سے کیا تو وہ بولے: اللہ کی قسم میں نے بھی اسے، اس سے سنا ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو بكر، عن عاصم، قال سمعت الحجاج، وهو على المنبر يقول اتقوا الله ما استطعتم ليس فيها مثنوية واسمعوا واطيعوا ليس فيها مثنوية لامير المومنين عبد الملك والله لو امرت الناس ان يخرجوا من باب من ابواب المسجد فخرجوا من باب اخر لحلت لي دماوهم واموالهم والله لو اخذت ربيعة بمضر لكان ذلك لي من الله حلالا ويا عذيري من عبد هذيل يزعم ان قراءته من عند الله والله ما هي الا رجز من رجز الاعراب ما انزلها الله على نبيه عليه السلام وعذيري من هذه الحمراء يزعم احدهم انه يرمي بالحجر فيقول الى ان يقع الحجر قد حدث امر فوالله لادعنهم كالامس الدابر . قال فذكرته للاعمش فقال انا والله سمعته منه
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: یہ گورے ( عجمی ) قیمہ بنائے جانے کے قابل ہیں قیمہ، موالی ( غلامو ) سنو، اللہ کی قسم، اگر میں لکڑی پر لکڑی ماروں تو انہیں اسی طرح برباد کر کے رکھ دوں جس طرح گزرا ہوا کل ختم ہو گیا، یعنی عجمیوں کو۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن ادريس، عن الاعمش، قال سمعت الحجاج، يقول على المنبر هذه الحمراء هبر هبر اما والله لقد قرعت عصا بعصا لاذرنهم كالامس الذاهب يعني الموالي
سلیمان الاعمش کہتے ہیں میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، اس نے خطبہ دیا، پھر راوی ابوبکر بن عیاش والی روایت ( ۴۶۴۳ ) ذکر کی، اس میں ہے کہ اس نے کہا: سنو اور اللہ کے خلیفہ اور اس کے منتخب عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرو، اس کے بعد آگے کی حدیث بیان کی اور کہا: اگر میں مضر کے جرم میں ربیعہ کو پکڑوں ( تو یہ غلط نہ ہو گا ) اور عجمیوں والی بات کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا قطن بن نسير، حدثنا جعفر يعني ابن سليمان، ح حدثنا سليمان بن داود، عن شريك، عن سليمان الاعمش، قال جمعت مع الحجاج فخطب فذكر حديث ابي بكر بن عياش قال فيها فاسمعوا واطيعوا لخليفة الله وصفيه عبد الملك بن مروان . وساق الحديث قال ولو اخذت ربيعة بمضر ولم يذكر قصة الحمراء
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلافت علی منہاج النبوۃ ( نبوت کی خلافت ) تیس سال رہے گی۱؎، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا دے گا سعید کہتے ہیں: سفینہ نے مجھ سے کہا: اب تم شمار کر لو: ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال، عمر رضی اللہ عنہ دس سال، عثمان رضی اللہ عنہ بارہ سال، اور علی رضی اللہ عنہ اتنے سال۔ سعید کہتے ہیں: میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ لوگ ( مروانی ) کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں تھے، انہوں نے کہا: بنی زرقاء یعنی بنی مروان کے ۲؎ چوتڑ جھوٹ بولتے ہیں۔
حدثنا سوار بن عبد الله، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن سعيد بن جمهان، عن سفينة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خلافة النبوة ثلاثون سنة ثم يوتي الله الملك - او ملكه - من يشاء " . قال سعيد قال لي سفينة امسك عليك ابا بكر سنتين وعمر عشرا وعثمان اثنتى عشرة وعلي كذا . قال سعيد قلت لسفينة ان هولاء يزعمون ان عليا عليه السلام لم يكن بخليفة . قال كذبت استاه بني الزرقاء يعني بني مروان
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلافت علی منہاج النبوۃ ( نبوت کی خلافت ) تیس سال ہے، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت جسے چاہے گا یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا، دے گا ۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا هشيم، عن العوام بن حوشب، عن سعيد بن جمهان، عن سفينة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خلافة النبوة ثلاثون سنة ثم يوتي الله الملك من يشاء - او ملكه من يشاء
عبداللہ بن ظالم مازنی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: جب فلاں شخص کوفہ میں آیا تو فلاں شخص خطبہ کے لیے کھڑا ہوا ۱؎، سعید بن زید نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ۲؎ کیا تم اس ظالم ۳؎ کو نہیں دیکھتے ۴؎ پھر انہوں نے نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دی کہ وہ جنت میں ہیں، اور کہا: اگر میں دسویں شخص ( کے جنت میں داخل ہونے ) کی گواہی دوں تو گنہگار نہ ہوں گا، ( ابن ادریس کہتے ہیں: عرب لوگ ( «إیثم» کے بجائے ) «آثم» کہتے ہیں ) ، میں نے پوچھا: اور وہ نو کون ہیں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس وقت آپ حراء ( پہاڑی ) پر تھے: حراء ٹھہر جا ( مت ہل ) اس لیے کہ تیرے اوپر نبی ہے یا صدیق ہے یا پھر شہید میں نے عرض کیا: اور نو کون ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم، میں نے عرض کیا: اور دسواں آدمی کون ہے؟ تو تھوڑا ہچکچائے پھر کہا: میں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے منصور سے، منصور نے ہلال بن یساف سے، ہلال نے ابن حیان سے اور ابن حیان نے عبداللہ بن ظالم سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، عن ابن ادريس، اخبرنا حصين، عن هلال بن يساف، عن عبد الله بن ظالم، وسفيان، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن عبد الله بن ظالم المازني، قال ذكر سفيان رجلا فيما بينه وبين عبد الله بن ظالم المازني قال سمعت سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل قال لما قدم فلان الكوفة اقام فلان خطيبا فاخذ بيدي سعيد بن زيد فقال الا ترى الى هذا الظالم فاشهد على التسعة انهم في الجنة ولو شهدت على العاشر لم ايثم - قال ابن ادريس والعرب تقول اثم - قلت ومن التسعة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على حراء " اثبت حراء انه ليس عليك الا نبي او صديق او شهيد " . قلت ومن التسعة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير وسعد بن ابي وقاص وعبد الرحمن بن عوف . قلت ومن العاشر فتلكا هنية ثم قال انا . قال ابو داود رواه الاشجعي عن سفيان عن منصور عن هلال بن يساف عن ابن حيان عن عبد الله بن ظالم باسناده
عبدالرحمٰن بن اخنس سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں تھے، ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کا ( برائی کے ساتھ ) تذکرہ کیا، تو سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا: دس لوگ جنتی ہیں: ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر بن عوام جنتی ہیں، سعد بن مالک جنتی ہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں اور اگر میں چاہتا تو دسویں کا نام لیتا، وہ کہتے ہیں: لوگوں نے عرض کیا: وہ کون ہیں؟ تو وہ خاموش رہے، لوگوں نے پھر پوچھا: وہ کون ہیں؟ تو کہا: وہ سعید بن زید ہیں۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن الحر بن الصياح، عن عبد الرحمن بن الاخنس، انه كان في المسجد فذكر رجل عليا عليه السلام فقام سعيد بن زيد فقال اشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم اني سمعته وهو يقول " عشرة في الجنة النبي في الجنة وابو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير بن العوام في الجنة وسعد بن مالك في الجنة وعبد الرحمن بن عوف في الجنة " . ولو شيت لسميت العاشر . قال فقالوا من هو فسكت قال فقالوا من هو فقال هو سعيد بن زيد
ریاح بن حارث کہتے ہیں میں کوفہ کی مسجد میں فلاں شخص ۱؎ کے پاس بیٹھا تھا، ان کے پاس کوفہ کے لوگ جمع تھے، اتنے میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ آئے، تو انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا، اور دعا دی، اور اپنے پاؤں کے پاس انہیں تخت پر بٹھایا، پھر اہل کوفہ میں سے قیس بن علقمہ نامی ایک شخص آیا، تو انہوں نے اس کا استقبال کیا، لیکن اس نے برا بھلا کہا اور سب وشتم کیا، سعید بولے: یہ شخص کسے برا بھلا کہہ رہا ہے؟ انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کو کہہ رہا ہے، وہ بولے: کیا میں دیکھ نہیں رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو تمہارے پاس برا بھلا کہا جا رہا ہے لیکن تم نہ منع کرتے ہو نہ اس سے روکتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اور مجھے کیا پڑی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی بات کہوں جو آپ نے نہ فرمائی ہو کہ کل جب میں آپ سے ملوں تو آپ مجھ سے اس کے بارے میں سوال کریں: ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں پھر اوپر جیسی حدیث بیان فرمایا، پھر ان ( صحابہ ) میں سے کسی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت جس میں اس چہرہ غبار آلود ہو جائے یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم میں کا کوئی شخص اپنی عمر بھر عمل کرے اگرچہ اس کی عمر نوح کی عمر ہو ۲؎۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا صدقة بن المثنى النخعي، حدثني جدي، رياح بن الحارث قال كنت قاعدا عند فلان في مسجد الكوفة وعنده اهل الكوفة فجاء سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل فرحب به وحياه واقعده عند رجله على السرير فجاء رجل من اهل الكوفة يقال له قيس بن علقمة فاستقبله فسب وسب فقال سعيد من يسب هذا الرجل قال يسب عليا . قال الا ارى اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يسبون عندك ثم لا تنكر ولا تغير انا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول واني لغني ان اقول عليه ما لم يقل فيسالني عنه غدا اذا لقيته " ابو بكر في الجنة وعمر في الجنة " . وساق معناه ثم قال لمشهد رجل منهم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يغبر فيه وجهه خير من عمل احدكم عمره ولو عمر عمر نوح
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے پھر آپ کے پیچھے ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھے، تو وہ ان کے ساتھ ہلنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا اور فرمایا: ٹھہر جا اے احد! ( تیرے اوپر ) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، - المعنى - قالا حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، ان انس بن مالك، حدثهم ان نبي الله صلى الله عليه وسلم صعد احدا فتبعه ابو بكر وعمر وعثمان فرجف بهم فضربه نبي الله صلى الله عليه وسلم برجله وقال " اثبت احد نبي وصديق وشهيدان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا، اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میری خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ میں بھی ہوتا تاکہ میں اسے دیکھتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اے ابوبکر! میری امت میں سے تم ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گے ۔
حدثنا هناد بن السري، عن عبد الرحمن بن محمد المحاربي، عن عبد السلام بن حرب، عن ابي خالد الدالاني، عن ابي خالد، مولى ال جعدة عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتاني جبريل فاخذ بيدي فاراني باب الجنة الذي تدخل منه امتي " . فقال ابو بكر يا رسول الله وددت اني كنت معك حتى انظر اليه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انك يا ابا بكر اول من يدخل الجنة من امتي
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہو گا، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی صلح حدیبیہ کے وقت بیعت رضوان میں شریک رہے ) ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد الرملي، ان الليث، حدثهم عن ابي الزبير، عن جابر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يدخل النار احد ممن بايع تحت الشجرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( موسیٰ کی روایت میں «فلعل الله» کا لفظ ہے، اور ابن سنان کی روایت میں «اطلع الله» ہے ) اللہ تعالیٰ بدر والوں کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں نظر رحمت و مغفرت سے دیکھا تو فرمایا: جو عمل چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، ح وحدثنا احمد بن سنان، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، عن عاصم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال موسى " فلعل الله " . وقال ابن سنان " اطلع الله على اهل بدر فقال اعملوا ما شيتم فقد غفرت لكم
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے، پھر راوی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس وہ یعنی عروہ بن مسعود آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا، جب وہ آپ سے بات کرتا، تو آپ کی ڈاڑھی پر ہاتھ لگاتا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود، انہوں نے تلوار کے پر تلے کے نچلے حصہ سے اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا: اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی سے دور رکھ، عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں۔
حدثنا محمد بن عبيد، ان محمد بن ثور، حدثهم عن معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية فذكر الحديث . قال فاتاه - يعني عروة بن مسعود - فجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم فكلما كلمه اخذ بلحيته والمغيرة بن شعبة قايم على راس النبي صلى الله عليه وسلم ومعه السيف وعليه المغفر فضرب يده بنعل السيف وقال اخر يدك عن لحيته . فرفع عروة راسه فقال من هذا قالوا المغيرة بن شعبة