Loading...

Loading...
کتب
۱۷۷ احادیث
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مؤذن اقرع کہتے ہیں مجھے عمر نے ایک پادری کے پاس بلانے کے لیے بھیجا، میں اسے بلا لایا، تو عمر نے اس سے کہا: کیا تم کتاب میں مجھے ( میرا حال ) پاتے ہو؟ وہ بولا: ہاں، انہوں نے کہا: کیسا پاتے ہو؟ وہ بولا: میں آپ کو قرن پاتا ہوں، تو انہوں نے اس پر درہ اٹھایا اور کہا: قرن کیا ہے؟ وہ بولا: لوہے کی طرح مضبوط اور سخت امانت دار، انہوں نے کہا: جو میرے بعد آئے گا تم اسے کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: میں اسے نیک خلیفہ پاتا ہوں، سوائے اس کے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دے گا، عمر نے کہا: اللہ عثمان پر رحم کرے، ( تین مرتبہ ) پھر کہا: ان کے بعد والے کو تم کیسے پاتے ہو؟ وہ بولا: وہ تو لوہے کا میل ہے ( یعنی برابر تلوار سے کام رہنے کی وجہ سے ان کا بدن اور ہاتھ گویا دونوں ہی زنگ آلود ہو جائیں گے ) عمر نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، اور فرمایا: اے گندے! بدبودار ( تو یہ کیا کہتا ہے ) اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ ایک نیک خلیفہ ہو گا لیکن جب وہ خلیفہ بنایا جائے گا تو حال یہ ہو گا کہ تلوار بے نیام ہو گی، خون بہہ رہا ہو گا، ( یعنی اس کی خلافت فتنہ کے وقت ہو گی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «الدفر» کے معنی «نتن» یعنی بدبو کے ہیں۔
حدثنا حفص بن عمر ابو عمر الضرير، حدثنا حماد بن سلمة، ان سعيد بن اياس الجريري، اخبرهم عن عبد الله بن شقيق العقيلي، عن الاقرع، موذن عمر بن الخطاب قال بعثني عمر الى الاسقف فدعوته فقال له عمر وهل تجدني في الكتاب قال نعم . قال كيف تجدني قال اجدك قرنا . فرفع عليه الدرة فقال قرن مه فقال قرن حديد امين شديد . قال كيف تجد الذي يجيء من بعدي فقال اجده خليفة صالحا غير انه يوثر قرابته . قال عمر يرحم الله عثمان ثلاثا فقال كيف تجد الذي بعده قال اجده صدا حديد فوضع عمر يده على راسه فقال يا دفراه يا دفراه . فقال يا امير المومنين انه خليفة صالح ولكنه يستخلف حين يستخلف والسيف مسلول والدم مهراق . قال ابو داود الدفر النتن
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں، پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا، اور ان میں موٹاپا عام ہو گا ۱؎ ۔
حدثنا عمرو بن عون، قال انبانا ح، وحدثنا مسدد، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير امتي القرن الذين بعثت فيهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم " . والله اعلم اذكر الثالث ام لا " ثم يظهر قوم يشهدون ولا يستشهدون وينذرون ولا يوفون ويخونون ولا يوتمنون ويفشو فيهم السمن
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسبوا اصحابي فوالذي نفسي بيده لو انفق احدكم مثل احد ذهبا ما بلغ مد احدهم ولا نصيفه
عمرو بن ابی قرہ کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور وہ ان باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے بعض لوگوں سے غصہ کی حالت میں فرمائی تھیں، پھر ان میں سے کچھ لوگ جو حذیفہ سے باتیں سنتے چل کر سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی باتوں کا تذکرہ کرتے تو سلمان رضی اللہ عنہ کہتے: حذیفہ ہی اپنی کہی باتوں کو بہتر جانتے ہیں، تو وہ لوگ حذیفہ کے پاس لوٹ کر آتے اور ان سے کہتے: ہم نے آپ کی باتوں کا تذکرہ سلمان سے کیا تو انہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی اور نہ تکذیب، یہ سن کر حذیفہ سلمان کے پاس آئے، وہ اپنی ترکاری کے کھیت میں تھے کہنے لگے: اے سلمان! ان باتوں میں میری تصدیق کرنے سے آپ کو کون سی چیز روک رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں؟ تو سلمان نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ کبھی غصے میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے اور کبھی خوش ہوتے تو خوشی میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے، تو کیا آپ اس وقت تک باز نہ آئیں گے جب تک کہ بعض لوگوں کے دلوں میں بعض لوگوں کی محبت اور بعض دوسروں کے دلوں میں بعض کی دشمنی نہ ڈال دیں اور ان کو اختلاف میں مبتلا نہ کر دیں، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے تو ( اے اللہ ) میرے برا بھلا کہنے اور لعن طعن کو ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز رحمت بنا دے اللہ کی قسم یا تو آپ اپنی اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ میں عمر بن الخطاب ( امیر المؤمنین ) کو لکھ بھیجوں گا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زايدة بن قدامة الثقفي، حدثنا عمر بن قيس الماصر، عن عمرو بن ابي قرة، قال كان حذيفة بالمداين فكان يذكر اشياء قالها رسول الله صلى الله عليه وسلم لاناس من اصحابه في الغضب فينطلق ناس ممن سمع ذلك من حذيفة فياتون سلمان فيذكرون له قول حذيفة فيقول سلمان حذيفة اعلم بما يقول فيرجعون الى حذيفة فيقولون له قد ذكرنا قولك لسلمان فما صدقك ولا كذبك . فاتى حذيفة سلمان وهو في مبقلة فقال يا سلمان ما يمنعك ان تصدقني بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سلمان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغضب فيقول في الغضب لناس من اصحابه ويرضى فيقول في الرضا لناس من اصحابه اما تنتهي حتى تورث رجالا حب رجال ورجالا بغض رجال وحتى توقع اختلافا وفرقة ولقد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب فقال " ايما رجل من امتي سببته سبة او لعنته لعنة في غضبي - فانما انا من ولد ادم اغضب كما يغضبون وانما بعثني رحمة للعالمين - فاجعلها عليهم صلاة يوم القيامة " . والله لتنتهين او لاكتبن الى عمر
حارث بن ہشام عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی سے کہو جو لوگوں کو نماز پڑھائے عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں عمر رضی اللہ عنہ موجود ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع پر موجود نہ تھے، میں نے کہا: اے عمر! اٹھیے نماز پڑھائیے، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا، وہ بلند آواز شخص تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا: ابوبکر کہاں ہیں؟ اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی، اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ عمر کے نماز پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو ( پھر سے ) نماز پڑھائی۱؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، قال حدثني الزهري، حدثني عبد الملك بن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابيه، عن عبد الله بن زمعة، قال لما استعز برسول الله صلى الله عليه وسلم وانا عنده في نفر من المسلمين دعاه بلال الى الصلاة فقال مروا من يصلي للناس . فخرج عبد الله بن زمعة فاذا عمر في الناس وكان ابو بكر غايبا فقلت يا عمر قم فصل بالناس فتقدم فكبر فلما سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم صوته وكان عمر رجلا مجهرا قال " فاين ابو بكر يابى الله ذلك والمسلمون يابى الله ذلك والمسلمون " . فبعث الى ابي بكر فجاء بعد ان صلى عمر تلك الصلاة فصلى بالناس
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہی بات بتائی اور کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو آپ نکلے یہاں تک کہ حجرے سے اپنا سر نکالا، پھر فرمایا: نہیں، نہیں، نہیں، ابن ابی قحافہ ( یعنی ابوبکر ) کو چاہیئے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ غصے میں فرما رہے تھے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن ابي فديك، قال حدثني موسى بن يعقوب، عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عبد الله بن زمعة، اخبره بهذا الخبر، قال لما سمع النبي صلى الله عليه وسلم صوت عمر قال ابن زمعة خرج النبي صلى الله عليه وسلم حتى اطلع راسه من حجرته ثم قال " لا لا لا ليصل للناس ابن ابي قحافة " . يقول ذلك مغضبا
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا ۔ حماد کی روایت میں ہے: شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، ومسلم بن ابراهيم، قالا حدثنا حماد، عن علي بن زيد، عن الحسن، عن ابي بكرة، ح وحدثنا محمد بن المثنى، عن محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثني الاشعث، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للحسن بن علي " ان ابني هذا سيد واني ارجو ان يصلح الله به بين فيتين من امتي " . وقال في حديث حماد " ولعل الله ان يصلح به بين فيتين من المسلمين عظيمتين
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد، اخبرنا هشام، عن محمد، قال قال حذيفة ما احد من الناس تدركه الفتنة الا انا اخافها عليه الا محمد بن مسلمة فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تضرك الفتنة
ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا: میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے، ہم اندر گئے تو اس میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ملے، ہم نے ان سے پوچھا ( کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں؟ ) تو فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے، اس لیے جب تک فتنہ فرو نہ ہو جائے اور معاملہ واضح اور صاف نہ ہو جائے شہر کو نہیں جاؤں گا۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن الاشعث بن سليم، عن ابي بردة، عن ثعلبة بن ضبيعة، قال دخلنا على حذيفة فقال اني لاعرف رجلا لا تضره الفتن شييا . قال فخرجنا فاذا فسطاط مضروب فدخلنا فاذا فيه محمد بن مسلمة فسالناه عن ذلك فقال ما اريد ان يشتمل على شىء من امصاركم حتى تنجلي عما انجلت
ضبیعہ بن حصین ثعلبی سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن اشعث بن سليم، عن ابي بردة، عن ضبيعة بن حصين الثعلبي، بمعناه
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں آپ ( معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لیے ) اپنی اس روانگی کے متعلق بتائیے کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم ہے جو انہوں نے آپ کو دیا ہے یا آپ کا اپنا خیال ہے جسے آپ درست سمجھتے ہیں، وہ بولے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ میری رائے ہے۔
حدثنا اسماعيل بن ابراهيم الهذلي، حدثنا ابن علية، عن يونس، عن الحسن، عن قيس بن عباد، قال قلت لعلي رضى الله عنه اخبرنا عن مسيرك هذا اعهد عهده اليك رسول الله صلى الله عليه وسلم ام راى رايته فقال ما عهد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بشىء ولكنه راى رايته
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں اختلاف کے وقت ایک فرقہ نکلے گا جسے دونوں گروہوں میں سے جو حق سے قریب تر ہو گا قتل کرے گا ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا القاسم بن الفضل، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تمرق مارقة عند فرقة من المسلمين يقتلها اولى الطايفتين بالحق
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو، - يعني ابن يحيى - عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تخيروا بين الانبياء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بندے کے لیے درست نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۱؎ ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما ينبغي لعبد ان يقول اني خير من يونس بن متى
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: کسی نبی کے لیے یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني، قال حدثني محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن اسماعيل بن ابي حكيم، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن جعفر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما ينبغي لنبي ان يقول اني خير من يونس بن متى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک شخص نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو چن لیا، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کر دیا، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، ( پہلا صور پھونکنے سے ) سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا، اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہو گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
حدثنا حجاج بن ابي يعقوب، ومحمد بن يحيى بن فارس، قالا حدثنا يعقوب، قال حدثنا ابي، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، وعبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رجل من اليهود والذي اصطفى موسى . فرفع المسلم يده فلطم وجه اليهودي فذهب اليهودي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تخيروني على موسى فان الناس يصعقون فاكون اول من يفيق فاذا موسى باطش في جانب العرش فلا ادري اكان ممن صعق فافاق قبلي او كان ممن استثنى الله عز وجل " . قال ابو داود وحديث ابن يحيى اتم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: اے مخلوق میں سے سب سے بہتر! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شان تو ابراہیم علیہ السلام کی ہے ۱؎ ۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن مختار بن فلفل، يذكر عن انس، قال قال رجل لرسول الله صلى الله عليه وسلم يا خير البرية . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ذاك ابراهيم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہو گی ۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، عن ابي عمار، عن عبد الله بن فروخ، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا سيد ولد ادم واول من تنشق عنه الارض واول شافع واول مشفع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم کہ تبع قابل ملامت ہے یا نہیں، اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ عزیر نبی ہیں یا نہیں ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، ومخلد بن خالد الشعيري، - المعنى - قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ابن ابي ذيب، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ادري اتبع لعين هو ام لا وما ادري اعزير نبي هو ام لا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، ان ابا سلمة بن عبد الرحمن، اخبره ان ابا هريرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انا اولى الناس بابن مريم الانبياء اولاد علات وليس بيني وبينه نبي