Loading...

Loading...
کتب
۱۷۷ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل لا إله إلا الله کہنا، اور سب سے کم تر راستے سے ہڈی ہٹانا ہے ۲؎، اور حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے ۳؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا سهيل بن ابي صالح، عن عبد الله بن دينار، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الايمان بضع وسبعون افضلها قول لا اله الا الله وادناها اماطة العظم عن الطريق والحياء شعبة من الايمان
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو: ایمان باللہ کیا ہے؟ وہ بولے: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا، اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثني يحيى بن سعيد، عن شعبة، حدثني ابو جمرة، قال سمعت ابن عباس، قال ان وفد عبد القيس لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم امرهم بالايمان بالله قال " اتدرون ما الايمان بالله " . قالوا الله ورسوله اعلم قال " شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله واقام الصلاة وايتاء الزكاة وصوم رمضان وان تعطوا الخمس من المغنم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا ترک کرنا ہے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بين العبد وبين الكفر ترك الصلاة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقل اور دین میں ناقص ہوتے ہوئے عقل والے پر غلبہ پانے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا ( ایک عورت ) نے کہا: عقل اور دین میں کیا نقص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقل کا نقص تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے، اور دین کا نقص یہ ہے کہ ( حیض و نفاس میں ) تم میں کوئی نہ روزے رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، عن بكر بن مضر، عن ابن الهاد، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما رايت من ناقصات عقل ولا دين اغلب لذي لب منكن " . قالت وما نقصان العقل والدين قال " اما نقصان العقل فشهادة امراتين شهادة رجل واما نقصان الدين فان احداكن تفطر رمضان وتقيم اياما لا تصلي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ( نماز میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف رخ کرنا شروع کیا تو لوگ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا کیا ہو گا جو مر گئے، اور وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ایسا نہیں ہے کہ اللہ تمہارے ایمان یعنی نماز ضائع فرما دے ( البقرہ: ۱۴۳ ) ۱؎۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، وعثمان بن ابي شيبة، - المعنى - قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لما توجه النبي صلى الله عليه وسلم الى الكعبة قالوا يا رسول الله فكيف الذين ماتوا وهم يصلون الى بيت المقدس فانزل الله تعالى { وما كان الله ليضيع ايمانكم}
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ ہی کے رضا کے لیے محبت کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دشمنی کی، اللہ ہی کے رضا کے لیے دیا، اللہ ہی کے رضا کے لیے منع کر دیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا ۱؎ ۔
حدثنا مومل بن الفضل، حدثنا محمد بن شعيب بن شابور، عن يحيى بن الحارث، عن القاسم، عن ابي امامة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " من احب لله وابغض لله واعطى لله ومنع لله فقد استكمل الايمان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والا ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكمل المومنين ايمانا احسنهم خلقا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا تو سعد نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا لیکن فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا مسلم ہے سعد نے تین بار یہی عرض کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے: یا مسلم ہے پھر آپ نے فرمایا: میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور ان میں تجھے جو زیادہ محبوب ہے اسے چھوڑ دیتا ہوں، میں اسے کچھ بھی نہیں دیتا، ایسا اس اندیشے سے کہ کہیں وہ جہنم میں اوندھے منہ نہ ڈال دیئے جائیں ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا محمد بن ثور، عن معمر، قال واخبرني الزهري، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، قال اعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجالا ولم يعط رجلا منهم شييا فقال سعد يا رسول الله اعطيت فلانا وفلانا ولم تعط فلانا شييا وهو مومن . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " او مسلم " . حتى اعادها سعد ثلاثا والنبي صلى الله عليه وسلم يقول " او مسلم " . ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " اني اعطي رجالا وادع من هو احب الى منهم لا اعطيه شييا مخافة ان يكبوا في النار على وجوههم
ابن شہاب زہری آیت کریمہ «قل لم تؤمنوا ولكن قولوا أسلمنا» آپ کہہ دیجئیے تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ مسلمان ہوئے ( سورۃ الحجرات: ۱۴ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں: ہم سمجھتے ہیں کہ ( اس آیت میں ) اسلام سے مراد زبان سے کلمے کی ادائیگی اور ایمان سے مراد عمل ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا ابن ثور، عن معمر، قال وقال الزهري { قل لم تومنوا ولكن قولوا اسلمنا } قال نرى ان الاسلام الكلمة والايمان العمل
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں کچھ تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا: فلاں کو بھی دیجئیے، وہ بھی مومن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا مسلم ہے، میں ایک شخص کو کچھ عطا کرتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے ( جس کو نہیں دیتا ) اس اندیشے سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کو نہ دوں تو وہ اوندھے منہ ( جہنم میں ) ڈال دیا جائے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، ح وحدثنا ابراهيم بن بشار، حدثنا سفيان، - المعنى - قالا حدثنا معمر، عن الزهري، عن عامر بن سعد، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قسم بين الناس قسما فقلت اعط فلانا فانه مومن . قال " او مسلم اني لاعطي الرجل العطاء وغيره احب الى منه مخافة ان يكب على وجهه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۱؎ ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، قال واقد بن عبد الله اخبرني عن ابيه، انه سمع ابن عمر، يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کسی مسلمان کو کافر قرار دے تو اگر وہ کافر ہے ( تو کوئی بات نہیں ) ورنہ وہ ( قائل ) خود کافر ہو جائے گا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن فضيل بن غزوان، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما رجل مسلم اكفر رجلا مسلما فان كان كافرا والا كان هو الكافر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار خصلتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، معاہدہ کرے تو اس کو نہ نبھائے، اگر کسی سے جھگڑا کرے تو گالی گلوچ دے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اربع من كن فيه فهو منافق خالص ومن كانت فيه خلة منهن كان فيه خلة من نفاق حتى يدعها اذا حدث كذب واذا وعد اخلف واذا عاهد غدر واذا خاصم فجر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زانی زنا کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا ( یعنی ایمان اس سے جدا ہو جاتا ہے پھر بعد میں واپس آ جاتا ہے ) توبہ کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا ہوا ہے ( یعنی اگر توبہ کر لے تو توبہ قبول ہو جائے گی اللہ بخشنے والا ہے ) ۔
حدثنا ابو صالح الانطاكي، اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزني الزاني حين يزني وهو مومن ولا يسرق حين يسرق وهو مومن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مومن والتوبة معروضة بعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس کے اوپر لٹکا رہتا ہے، پھر جب زنا سے الگ ہوتا ہے تو دوبارہ ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے ۔
حدثنا اسحاق بن سويد الرملي، حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا نافع، - يعني ابن يزيد - قال حدثني ابن الهاد، ان سعيد بن ابي سعيد المقبري، حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا زنى الرجل خرج منه الايمان كان عليه كالظلة فاذا انقطع رجع اليه الايمان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قدریہ ( منکرین تقدیر ) اس امت ( محمدیہ ) کے مجوس ہیں، اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک مت ہو ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، قال حدثني بمنى، عن ابيه، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " القدرية مجوس هذه الامة ان مرضوا فلا تعودوهم وان ماتوا فلا تشهدوهم
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں، اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہیں، ان میں کوئی مر جائے تو تم اس کے جنازے میں شرکت نہ کرو، اور اگر کوئی بیمار پڑے، تو اس کی عیادت نہ کرو، یہ دجال کی جماعت کے لوگ ہیں، اللہ ان کو دجال کے زمانے تک باقی رکھے گا ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن عمر بن محمد، عن عمر، مولى غفرة عن رجل، من الانصار عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لكل امة مجوس ومجوس هذه الامة الذين يقولون لا قدر من مات منهم فلا تشهدوا جنازته ومن مرض منهم فلا تعودوهم وهم شيعة الدجال وحق على الله ان يلحقهم بالدجال
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جس کو اس نے ساری زمین سے لیا تھا، چنانچہ آدم کی اولاد اپنی مٹی کی مناسبت سے مختلف رنگ کی ہے، کوئی سفید، کوئی سرخ، کوئی کالا اور کوئی ان کے درمیان، کوئی نرم خو، تو کوئی درشت خو، سخت گیر، کوئی خبیث تو کوئی پاک باز ۔
حدثنا مسدد، ان يزيد بن زريع، ويحيى بن سعيد، حدثاهم قالا، حدثنا عوف، قال حدثنا قسامة بن زهير، قال حدثنا ابو موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله خلق ادم من قبضة قبضها من جميع الارض فجاء بنو ادم على قدر الارض جاء منهم الاحمر والابيض والاسود وبين ذلك والسهل والحزن والخبيث والطيب " . زاد في حديث يحيى " وبين ذلك " . والاخبار في حديث يزيد
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ کے قبرستان بقیع غرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے، آپ آئے اور بیٹھ گئے، آپ کے پاس ایک چھڑی تھی، چھڑی سے زمین کریدنے لگے، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک متنفس کا ٹھکانہ جنت یا دوزخ میں لکھ دیا ہے، اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہو گا یا بدبخت لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے نبی! پھر ہم کیوں نہ اپنے لکھے پر اعتماد کر کے بیٹھ رہیں اور عمل ترک کر دیں کیونکہ جو نیک بختوں میں سے ہو گا وہ لازماً نیک بختی کی طرف جائے گا اور جو بدبختوں میں سے ہو گا وہ ضرور بدبختی کی طرف جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو، ہر ایک کے لیے اس کا عمل آسان ہے، اہل سعادت کے لیے سعادت کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں اور بدبختوں کے لیے بدبختی کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا: جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرے، اللہ سے ڈرے، اور کلمہ توحید کی تصدیق کرے تو ہم اس کے لیے آسانی اور خوشی کی راہ آسان کر دیں گے، اور جو شخص بخل کرے، دنیوی شہوات میں پڑ کر جنت کی نعمتوں سے بے پروائی برتے اور کلمہ توحید کو جھٹلائے تو ہم اس کے لیے سختی اور بدبختی کی راہ آسان کر دیں گے ۱؎۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا المعتمر، قال سمعت منصور بن المعتمر، يحدث عن سعد بن عبيدة، عن عبد الله بن حبيب ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي، عليه السلام قال كنا في جنازة فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم ببقيع الغرقد فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس ومعه مخصرة فجعل ينكت بالمخصرة في الارض ثم رفع راسه فقال " ما منكم من احد ما من نفس منفوسة الا قد كتب الله مكانها من النار او من الجنة الا قد كتبت شقية او سعيدة " . قال فقال رجل من القوم يا نبي الله افلا نمكث على كتابنا وندع العمل فمن كان من اهل السعادة ليكونن الى السعادة ومن كان من اهل الشقوة ليكونن الى الشقوة قال " اعملوا فكل ميسر اما اهل السعادة فييسرون للسعادة واما اهل الشقوة فييسرون للشقوة " . ثم قال نبي الله " { فاما من اعطى واتقى * وصدق بالحسنى * فسنيسره لليسرى * واما من بخل واستغنى * وكذب بالحسنى * . فسنيسره للعسرى}
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ بصرہ میں سب سے پہلے معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا، ہم اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرے کے لیے چلے، تو ہم نے دل میں کہا: اگر ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق لوگ جو باتیں کہتے ہیں اس کے بارے میں دریافت کریں گے، تو اللہ نے ہماری ملاقات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کرا دی، وہ ہمیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا، میرا خیال تھا کہ میرے ساتھی گفتگو کا موقع مجھے ہی دیں گے اس لیے میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور اس میں علمی باریکیاں نکالتے ہیں، کہتے ہیں: تقدیر کوئی چیز نہیں ۱؎، سارے کام یوں ہی ہوتے ہیں، تو آپ نے عرض کیا: جب تم ان سے ملنا تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں، اور وہ مجھ سے بری ہیں ( میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ) ، اس ہستی کی قسم، جس کی قسم عبداللہ بن عمر کھایا کرتا ہے، اگر ان میں ایک شخص کے پاس احد کے برابر سونا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو بھی اللہ اس کے کسی عمل کو قبول نہ فرمائے گا، جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے، پھر آپ نے کہا: مجھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اچانک ایک شخص ہمارے سامنے نمودار ہوا جس کا لباس نہایت سفید اور بال انتہائی کالے تھے، اس پر نہ تو سفر کے آثار دکھائی دے رہے تھے، اور نہ ہی ہم اسے پہچانتے تھے، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بیٹھ گیا، اس نے اپنے گھٹنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دئیے، اور اپنی ہتھیلیوں کو آپ کی رانوں پر رکھ لیا اور عرض کیا: محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روز ے رکھو، اور اگر پہنچنے کی قدرت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو وہ بولا: آپ نے سچ کہا، عمر بن خطاب کہتے ہیں: ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ اس نے کہا: مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور تقدیر ۲؎ کے بھلے یا برے ہونے پر ایمان لاؤ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ پھر پوچھا: مجھے احسان کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو ( یہ تصور رکھو کہ ) وہ تو تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے اس نے کہا: مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے پوچھا جا رہا ہے، وہ اس بارے میں پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۳؎۔ اس نے کہا: تو مجھے اس کی علامتیں ہی بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی۴؎، اور یہ کہ تم ننگے پیر اور ننگے بدن، محتاج، بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں فخر و مباہات کریں گے پھر وہ چلا گیا، پھر میں تین ۵؎ ( ساعت ) تک ٹھہرا رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل تھے، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا كهمس، عن ابن بريدة، عن يحيى بن يعمر، قال كان اول من تكلم في القدر بالبصرة معبد الجهني فانطلقت انا وحميد بن عبد الرحمن الحميري حاجين او معتمرين فقلنا لو لقينا احدا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالناه عما يقول هولاء في القدر . فوفق الله لنا عبد الله بن عمر داخلا في المسجد فاكتنفته انا وصاحبي فظننت ان صاحبي سيكل الكلام الى فقلت ابا عبد الرحمن انه قد ظهر قبلنا ناس يقرءون القران ويتفقرون العلم يزعمون ان لا قدر والامر انف . فقال اذا لقيت اوليك فاخبرهم اني بريء منهم وهم براء مني والذي يحلف به عبد الله بن عمر لو ان لاحدهم مثل احد ذهبا فانفقه ما قبله الله منه حتى يومن بالقدر ثم قال حدثني عمر بن الخطاب قال بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه اثر السفر ولا نعرفه حتى جلس الى النبي صلى الله عليه وسلم فاسند ركبتيه الى ركبتيه ووضع كفيه على فخذيه وقال يا محمد اخبرني عن الاسلام . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الاسلام ان تشهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتوتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت ان استطعت اليه سبيلا " . قال صدقت . قال فعجبنا له يساله ويصدقه . قال فاخبرني عن الايمان . قال " ان تومن بالله وملايكته وكتبه ورسله واليوم الاخر وتومن بالقدر خيره وشره " . قال صدقت . قال فاخبرني عن الاحسان قال " ان تعبد الله كانك تراه فان لم تكن تراه فانه يراك " . قال فاخبرني عن الساعة . قال " ما المسيول عنها باعلم من السايل " . قال فاخبرني عن اماراتها . قال " ان تلد الامة ربتها وان ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان " . قال ثم انطلق فلبثت ثلاثا ثم قال " يا عمر هل تدري من السايل " . قلت الله ورسوله اعلم . قال " فانه جبريل اتاكم يعلمكم دينكم