Loading...

Loading...
کتب
۱۷۷ احادیث
یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے تو ہم نے آپ سے تقدیر کے بارے میں جو کچھ لوگ کہتے ہیں اس کا ذکر کیا۔ پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ سے مزینہ یا جہینہ ۱؎ کے ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم کیا جان کر عمل کریں؟ کیا یہ جان کر کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ سب پہلے ہی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے، یا یہ جان کر کہ ( پہلے سے نہیں لکھا گیا ہے ) نئے سرے سے ہونا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جان کر کہ جو کچھ ہونا ہے سب تقدیر میں لکھا جا چکا ہے پھر اس شخص نے یا کسی دوسرے نے کہا: تو آخر یہ عمل کس لیے ہے؟ ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت کے لیے اہل جنت والے اعمال آسان کر دئیے جاتے ہیں اور اہل جہنم کو اہل جہنم کے اعمال آسان کر دیئے جاتے ہیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عثمان بن غياث، قال حدثني عبد الله بن بريدة، عن يحيى بن يعمر، وحميد بن عبد الرحمن، قال لقينا عبد الله بن عمر فذكرنا له القدر وما يقولون فيه فذكر نحوه زاد قال وساله رجل من مزينة او جهينة فقال يا رسول الله فيما نعمل افي شىء قد خلا او مضى او شىء يستانف الان قال " في شىء قد خلا ومضى " . فقال الرجل او بعض القوم ففيم العمل قال " ان اهل الجنة ييسرون لعمل اهل الجنة وان اهل النار ييسرون لعمل اهل النار
یحییٰ بن یعمر سے یہی حدیث کچھ الفاظ کی کمی اور بیشی کے ساتھ مروی ہے اس نے پوچھا: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، بیت اللہ کا حج، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت لاحق ہونے پر غسل کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: علقمہ مرجئی ہیں۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الفريابي، عن سفيان، قال حدثنا علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابن يعمر، بهذا الحديث يزيد وينقص قال فما الاسلام قال " اقام الصلاة وايتاء الزكاة وحج البيت وصوم شهر رمضان والاغتسال من الجنابة " . قال ابو داود علقمة مرجي
ابوذر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے بیچ میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ جب کوئی اجنبی شخص آتا تو وہ بغیر پوچھے آپ کو پہچان نہیں پاتا تھا، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم آپ کے لیے ایک ایسی جائے نشست بنا دیں کہ جب بھی کوئی اجنبی آئے تو وہ آپ کو پہچان لے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم نے آپ کے لیے ایک مٹی کا چبوترا بنا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے، آگے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی جیسی روایت ذکر کی، اس میں ہے کہ ایک شخص آیا، پھر انہوں نے اس کی ہیئت ذکر کی، یہاں تک کہ اس نے بیٹھے ہوئے لوگوں کے کنارے سے ہی آپ کو یوں سلام کیا: السلام علیک یا محمد! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن ابي فروة الهمداني، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي ذر، وابي، هريرة قالا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجلس بين ظهرى اصحابه فيجيء الغريب فلا يدري ايهم هو حتى يسال فطلبنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نجعل له مجلسا يعرفه الغريب اذا اتاه - قال - فبنينا له دكانا من طين فجلس عليه وكنا نجلس بجنبتيه وذكر نحو هذا الخبر فاقبل رجل فذكر هييته حتى سلم من طرف السماط فقال السلام عليك يا محمد . قال فرد عليه النبي صلى الله عليه وسلم
ابن دیلمی ۱؎ کہتے ہیں کہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے یہ امید ہو کہ اللہ اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا، فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور عذاب دینے میں وہ ظالم نہیں ہو گا، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہت بہتر ہے، اگر تم احد کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ نہ پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا، اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گئے تو ضرور جہنم میں داخل ہو گے۔ ابن دیلمی کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرفوع روایت بیان کی۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي سنان، عن وهب بن خالد الحمصي، عن ابن الديلمي، قال اتيت ابى بن كعب فقلت له وقع في نفسي شىء من القدر فحدثني بشىء لعل الله ان يذهبه من قلبي . فقال لو ان الله عذب اهل سمواته واهل ارضه عذبهم وهو غير ظالم لهم ولو رحمهم كانت رحمته خيرا لهم من اعمالهم ولو انفقت مثل احد ذهبا في سبيل الله ما قبله الله منك حتى تومن بالقدر وتعلم ان ما اصابك لم يكن ليخطيك وان ما اخطاك لم يكن ليصيبك ولو مت على غير هذا لدخلت النار . قال ثم اتيت عبد الله بن مسعود فقال مثل ذلك - قال - ثم اتيت حذيفة بن اليمان فقال مثل ذلك - قال - ثم اتيت زيد بن ثابت فحدثني عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك
ابوحفصہ کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! تم ایمان کی حقیقت کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، قلم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: لکھ، قلم نے کہا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو اس کے علاوہ ( کسی اور عقیدے ) پر مرا تو وہ مجھ سے نہیں ۔
حدثنا جعفر بن مسافر الهذلي، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا الوليد بن رباح، عن ابراهيم بن ابي عبلة، عن ابي حفصة، قال قال عبادة بن الصامت لابنه يا بنى انك لن تجد طعم حقيقة الايمان حتى تعلم ان ما اصابك لم يكن ليخطيك وما اخطاك لم يكن ليصيبك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان اول ما خلق الله القلم فقال له اكتب . قال رب وماذا اكتب قال اكتب مقادير كل شىء حتى تقوم الساعة " . يا بنى اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من مات على غير هذا فليس مني
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم اور موسیٰ نے بحث کی تو موسیٰ نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ ہی نے ہمیں محرومی سے دو چار کیا، اور ہمیں جنت سے نکلوایا، آدم نے کہا: تم موسیٰ ہو تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گفتگو کے لیے چن لیا، اور تمہارے لیے تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا، تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اس نے میرے لیے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی لکھ دیا تھا، پس آدم موسیٰ پر غالب آ گئے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، ح وحدثنا احمد بن صالح، - المعنى - قال حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، سمع طاوسا، يقول سمعت ابا هريرة، يخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " احتج ادم وموسى فقال موسى يا ادم انت ابونا خيبتنا واخرجتنا من الجنة . فقال ادم انت موسى اصطفاك الله بكلامه وخط لك التوراة بيده تلومني على امر قدره على قبل ان يخلقني باربعين سنة فحج ادم موسى " . قال احمد بن صالح عن عمرو عن طاوس سمع ابا هريرة
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا: اے میرے رب! ہمیں آدم علیہ السلام کو دکھا جنہوں نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوایا، تو اللہ نے انہیں آدم علیہ السلام کو دکھایا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ ہمارے باپ آدم ہیں؟ تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: آپ ہی ہیں جس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی، جسے تمام نام سکھائے اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا؟ انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: تو پھر کس چیز نے آپ کو اس پر آمادہ کیا کہ آپ نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوا دیا؟ تو آدم نے ان سے کہا: اور تم کون ہو؟ وہ بولے: میں موسیٰ ہوں، انہوں نے کہا: تم بنی اسرائیل کے وہی نبی ہو جس سے اللہ نے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی اور تمہارے اور اپنے درمیان اپنی مخلوق میں سے کوئی قاصد مقرر نہیں کیا؟ کہا: ہاں، آدم علیہ السلام نے کہا: تو کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ وہ ( جنت سے نکالا جانا ) میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی کتاب میں لکھا ہوا تھا؟ کہا: ہاں معلوم ہے، انہوں نے کہا: پھر ایک چیز کے بارے میں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا کیوں مجھے ملامت کرتے ہو؟ یہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو آدم، موسیٰ پر غالب آ گئے، تو آدم موسیٰ پر غالب آ گئے ۔
حدثنا احمد بن صالح، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، ان عمر بن الخطاب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان موسى قال يا رب ارنا ادم الذي اخرجنا ونفسه من الجنة فاراه الله ادم فقال انت ابونا ادم فقال له ادم نعم . قال انت الذي نفخ الله فيك من روحه وعلمك الاسماء كلها وامر الملايكة فسجدوا لك قال نعم . قال فما حملك على ان اخرجتنا ونفسك من الجنة فقال له ادم ومن انت قال انا موسى . قال انت نبي بني اسراييل الذي كلمك الله من وراء الحجاب لم يجعل بينك وبينه رسولا من خلقه قال نعم . قال افما وجدت ان ذلك كان في كتاب الله قبل ان اخلق قال نعم . قال ففيم تلومني في شىء سبق من الله تعالى فيه القضاء قبلي " . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك " فحج ادم موسى فحج ادم موسى
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت «وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم» کے متعلق پوچھا گیا ۱؎۔ ( حدیث بیان کرتے وقت ) قعنبی نے آیت پڑھی تو آپ نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا، اس سے اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے، اور یہ جنتیوں کے کام کریں گے، پھر ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے بھی اولاد نکالی اور کہا: میں نے انہیں جہنمیوں کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جہنم کے کام کریں گے تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! پھر عمل سے کیا فائدہ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جنتیوں کے کام کراتا ہے، یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے، تو اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے، اور جب کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنمیوں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے ۔
حدثنا عبد الله القعنبي، عن مالك، عن زيد بن ابي انيسة، ان عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، اخبره عن مسلم بن يسار الجهني، ان عمر بن الخطاب، سيل عن هذه الاية، { واذ اخذ ربك من بني ادم من ظهورهم } قال قرا القعنبي الاية . فقال عمر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عنها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل خلق ادم ثم مسح ظهره بيمينه فاستخرج منه ذرية فقال خلقت هولاء للجنة وبعمل اهل الجنة يعملون ثم مسح ظهره فاستخرج منه ذرية فقال خلقت هولاء للنار وبعمل اهل النار يعملون " . فقال رجل يا رسول الله ففيم العمل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل اذا خلق العبد للجنة استعمله بعمل اهل الجنة حتى يموت على عمل من اعمال اهل الجنة فيدخله به الجنة واذا خلق العبد للنار استعمله بعمل اهل النار حتى يموت على عمل من اعمال اهل النار فيدخله به النار
نعیم بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، پھر انہوں نے یہی حدیث روایت کی، مالک کی روایت زیادہ کامل ہے۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا بقية، قال حدثني عمر بن جعثم القرشي، قال حدثني زيد بن ابي انيسة، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن، عن مسلم بن يسار، عن نعيم بن ربيعة، قال كنت عند عمر بن الخطاب بهذا الحديث وحديث مالك اتم
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لڑکا جسے خضر ( علیہ السلام ) نے قتل کر دیا تھا طبعی طور پر کافر تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دیتا ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا المعتمر، عن ابيه، عن رقبة بن مصقلة، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن ابى بن كعب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الغلام الذي قتله الخضر طبع كافرا ولو عاش لارهق ابويه طغيانا وكفرا
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے فرمان «وأما الغلام فكان أبواه مؤمنين» اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے ( سورۃ الکہف: ۸۰ ) کے بارے میں فرماتے سنا کہ وہ پیدائش کے دن ہی کافر پیدا ہوا تھا۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الفريابي، عن اسراييل، حدثنا ابو اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال حدثنا ابى بن كعب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في قوله { واما الغلام فكان ابواه مومنين } " وكان طبع يوم طبع كافرا
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خضر ( علیہ السلام ) نے ایک لڑکے کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو اس کا سر پکڑا، اور اسے اکھاڑ لیا، تو موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا: کیا تم نے بےگناہ نفس کو مار ڈالا؟ ۔
حدثنا محمد بن مهران الرازي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو، عن سعيد بن جبير، قال قال ابن عباس حدثني ابى بن كعب، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ابصر الخضر غلاما يلعب مع الصبيان فتناول راسه فقلعه فقال موسى { اقتلت نفسا زكية } " . الاية
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آپ صادق اور آپ کی صداقت مسلم ہے ) بیان فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا تخلیقی نطفہ چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ خون کا جما ہوا ٹکڑا رہتا ہے، پھر وہ اتنے ہی دن گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے: تو وہ اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل لکھتا ہے، پھر لکھتا ہے: آیا وہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر وہ اس میں روح پھونکتا ہے، اب اگر تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا ہے، یہاں تک کہ اس ( شخص ) کے اور اس ( جنت ) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب ( تقدیر ) اس پر سبقت کر جاتی ہے اور وہ جہنمیوں کے کام کر بیٹھتا ہے تو وہ داخل جہنم ہو جاتا ہے، اور تم میں سے کوئی شخص جہنمیوں کے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس ( شخص ) کے اور اس ( جہنم ) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب ( تقدیر ) اس پر سبقت کر جاتی ہے، اب وہ جنتیوں کے کام کرنے لگتا ہے تو داخل جنت ہو جاتا ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، ح وحدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، - المعنى واحد والاخبار في حديث سفيان - عن الاعمش قال حدثنا زيد بن وهب حدثنا عبد الله بن مسعود قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق " ان خلق احدكم يجمع في بطن امه اربعين يوما ثم يكون علقة مثل ذلك ثم يكون مضغة مثل ذلك ثم يبعث اليه ملك فيومر باربع كلمات فيكتب رزقه واجله وعمله ثم يكتب شقي او سعيد ثم ينفخ فيه الروح فان احدكم ليعمل بعمل اهل الجنة حتى ما يكون بينه وبينها الا ذراع او قيد ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل اهل النار فيدخلها وان احدكم ليعمل بعمل اهل النار حتى ما يكون بينه وبينها الا ذراع او قيد ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل اهل الجنة فيدخلها
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہو چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اس نے کہا: پھر عمل کرنے والے کس بنا پر عمل کریں؟ آپ نے فرمایا: ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن يزيد الرشك، قال حدثنا مطرف، عن عمران بن حصين، قال قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله اعلم اهل الجنة من اهل النار قال " نعم " . قال ففيم يعمل العاملون قال " كل ميسر لما خلق له
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم منکرین تقدیر کے پاس نہ بیٹھو اور نہ ہی ان سے سلام و کلام کی ابتداء کرو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري ابو عبد الرحمن، قال حدثني سعيد بن ابي ايوب، قال حدثني عطاء بن دينار، عن حكيم بن شريك الهذلي، عن يحيى بن ميمون الحضرمي، عن ربيعة الجرشي، عن ابي هريرة، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تجالسوا اهل القدر ولا تفاتحوهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ زندہ رہتے تو کیا عمل کرتے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن اولاد المشركين فقال " الله اعلم بما كانوا عاملين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مومنوں کے بچوں کا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بغیر کسی عمل کے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور مشرکین کے بچے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے میں نے عرض یا بغیر کسی عمل کے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ۱؎۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا بقية، ح وحدثنا موسى بن مروان الرقي، وكثير بن عبيد المذحجي، قالا حدثنا محمد بن حرب، - المعنى - عن محمد بن زياد، عن عبد الله بن ابي قيس، عن عايشة، قالت قلت يا رسول الله ذراري المومنين فقال " هم من ابايهم " . فقلت يا رسول الله بلا عمل قال " الله اعلم بما كانوا عاملين " . قلت يا رسول الله فذراري المشركين قال " من ابايهم " . قلت بلا عمل قال " الله اعلم بما كانوا عاملين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک بچہ نماز پڑھنے کے لیے لایا گیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! زندگی کے مزے تو اس بچے کے لیے ہیں، اس نے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ ہی وہ اسے ( گناہ کو ) سمجھتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا تم ایسا سمجھتی ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے لیے لوگ بھی پیدا کئے اور جنت کو ان لوگوں کے لیے جب بنایا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اور جہنم کو پیدا کیا اور اس کے لیے لوگ بھی پیدا کئے گئے اور جہنم کو ان لوگوں کے لیے پیدا کیا جب کہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن طلحة بن يحيى، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين، قالت اتي النبي صلى الله عليه وسلم بصبي من الانصار يصلي عليه قالت قلت يا رسول الله طوبى لهذا لم يعمل شرا ولم يدر به . فقال " اوغير ذلك يا عايشة ان الله خلق الجنة وخلق لها اهلا وخلقها لهم وهم في اصلاب ابايهم وخلق النار وخلق لها اهلا وخلقها لهم وهم في اصلاب ابايهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا ڈالتے ہیں، جیسے اونٹ صحیح و سالم جانور سے پیدا ہوتا ہے تو کیا تمہیں اس میں کوئی کنکٹا نظر آتا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے جو بچپنے میں مر جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل مولود يولد على الفطرة فابواه يهودانه وينصرانه كما تناتج الابل من بهيمة جمعاء هل تحس من جدعاء " . قالوا يا رسول الله افرايت من يموت وهو صغير قال " الله اعلم بما كانوا عاملين
ابن وہب کہتے ہیں کہ میں نے مالک کو کہتے سنا، ان سے پوچھا گیا: اہل بدعت ( قدریہ ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں؟ مالک نے کہا: تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو، اس لیے کہ اس میں ہے: صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ۔
قال ابو داود قري على الحارث بن مسكين وانا اسمع، اخبرك يوسف بن عمرو، اخبرنا ابن وهب، قال سمعت مالكا، قيل له ان اهل الاهواء يحتجون علينا بهذا الحديث . قال مالك احتج عليهم باخره . قالوا ارايت من يموت وهو صغير قال " الله اعلم بما كانوا عاملين