Loading...

Loading...
کتب
۱۷۷ احادیث
حجاج بن منہال کہتے کہ میں نے حماد بن سلمہ کو «كل مولود يولد على الفطرة» ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ۱؎ کی تفسیر کرتے سنا، آپ نے کہا: ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے، اللہ نے ان سے پوچھا تھا: «ألست بربكم قالوا بلى» کیا میں تمہارا رب ( معبود ) نہیں ہوں؟ تو انہوں نے کہا تھا: کیوں نہیں، ضرور ہیں۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا حجاج بن المنهال، قال سمعت حماد بن سلمة، يفسر حديث " كل مولود يولد على الفطرة " . قال هذا عندنا حيث اخذ الله عليهم العهد في اصلاب ابايهم حيث قال { الست بربكم قالوا بلى}
عامر شعبی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وائدہ» ( زندہ درگور کرنے والی ) اور «مؤودہ» ( زندہ درگور کی گئی دونوں ) جہنم میں ہیں ۱؎۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں: میرے والد نے کہا: مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے، وہ علقمہ سے اور علقمہ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، حدثنا ابن ابي زايدة، قال حدثني ابي، عن عامر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الوايدة والموءودة في النار " . قال يحيى بن زكريا قال ابي فحدثني ابو اسحاق ان عامرا حدثه بذلك عن علقمة عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے والد جہنم میں ہیں جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، ان رجلا، قال يا رسول الله اين ابي قال " ابوك في النار " . فلما قفى قال " ان ابي واباك في النار
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان ابن آدم ( انسان ) کے بدن میں اسی طرح دوڑتا ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کرتا ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الشيطان يجري من ابن ادم مجرى الدم
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منکرین تقدیر کے پاس نہ بیٹھو اور نہ ہی ان سے بات چیت میں پہل کرو ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، اخبرنا ابن وهب، قال اخبرني ابن لهيعة، وعمرو بن الحارث، وسعيد بن ابي ايوب، عن عطاء بن دينار، عن حكيم بن شريك الهذلي، عن يحيى بن ميمون، عن ربيعة الجرشي، عن ابي هريرة، عن عمر بن الخطاب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تجالسوا اهل القدر ولا تفاتحوهم الحديث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے: میں اللہ پر ایمان لایا ۱؎۔
حدثنا هارون بن معروف، حدثنا سفيان، عن هشام، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزال الناس يتساءلون حتى يقال هذا خلق الله الخلق فمن خلق الله فمن وجد من ذلك شييا فليقل امنت بالله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، پھر اس جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے، آپ نے فرمایا: جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے ۔
حدثنا محمد بن عمرو، حدثنا سلمة، - يعني ابن الفضل - قال حدثني محمد، - يعني ابن اسحاق - قال حدثني عتبة بن مسلم، مولى بني تيم عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فذكر نحوه قال " فاذا قالوا ذلك فقولوا { الله احد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا احد } ثم ليتفل عن يساره ثلاثا وليستعذ من الشيطان
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا: تم اسے کیا نام دیتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: «سحاب» ( بادل ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور «مزن» بھی لوگوں نے کہا: ہاں «مزن» بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور «عنان» بھی لوگوں نے عرض کیا: اور «عنان» بھی، ( ابوداؤد کہتے ہیں: «عنان» کو میں اچھی طرح ضبط نہ کر سکا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: ہمیں نہیں معلوم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنائے پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کی سطح اور تہہ میں اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے، جس کے نچلے حصہ اور اوپری حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا الوليد بن ابي ثور، عن سماك، عن عبد الله بن عميرة، عن الاحنف بن قيس، عن العباس بن عبد المطلب، قال كنت في البطحاء في عصابة فيهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فمرت بهم سحابة فنظر اليها فقال " ما تسمون هذه " . قالوا السحاب . قال " والمزن " . قالوا والمزن . قال " والعنان " . قالوا والعنان . قال ابو داود لم اتقن العنان جيدا قال " هل تدرون ما بعد ما بين السماء والارض " . قالوا لا ندري . قال " ان بعد ما بينهما اما واحدة او اثنتان او ثلاث وسبعون سنة ثم السماء فوقها كذلك " . حتى عد سبع سموات " ثم فوق السابعة بحر بين اسفله واعلاه مثل ما بين سماء الى سماء ثم فوق ذلك ثمانية اوعال بين اظلافهم وركبهم مثل ما بين سماء الى سماء ثم على ظهورهم العرش بين اسفله واعلاه مثل ما بين سماء الى سماء ثم الله تبارك وتعالى فوق ذلك
اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدثنا احمد بن ابي سريج، اخبرنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، ومحمد بن سعيد، قالا اخبرنا عمرو بن ابي قيس، عن سماك، باسناده ومعناه
اس سند سے بھی سماک سے اسی لمبی حدیث کا مفہوم مروی ہے۔
حدثنا احمد بن حفص، قال حدثني ابي، حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن سماك، باسناده ومعنى هذا الحديث الطويل
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! لوگ مصیبت میں پڑ گئے، گھربار تباہ ہو گئے، مال گھٹ گئے، جانور ہلاک ہو گئے، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں، اور اللہ کو سفارشی بناتے ہیں آپ کے دربار میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا برا ہو، سمجھتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبحان اللہ کہنے لگے، اور برابر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا، پھر فرمایا: تمہارا برا ہو اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے دربار میں سفارشی نہیں بنایا جا سکتا، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے، تمہارا برا ہو! کیا تم جانتے ہو اللہ کیا ہے، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے ( آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طور پر اشارہ کیا ) اور وہ چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے، ( ابن بشار کی حدیث میں ہے ) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے اور پھر پوری حدیث ذکر کی۔ عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار تینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمد بن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے۔ البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے، اس پر ان کی موافقت ایک جماعت نے کی ہے، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے، اور عبدالاعلی، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے، ایک ہی نسخے سے ہے۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، ومحمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، واحمد بن سعيد الرباطي، قالوا حدثنا وهب بن جرير، - قال احمد كتبناه من نسخته وهذا لفظه - قال حدثنا ابي قال سمعت محمد بن اسحاق يحدث عن يعقوب بن عتبة عن جبير بن محمد بن جبير بن مطعم عن ابيه عن جده قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم اعرابي فقال يا رسول الله جهدت الانفس وضاعت العيال ونهكت الاموال وهلكت الانعام فاستسق الله لنا فانا نستشفع بك على الله ونستشفع بالله عليك . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ويحك اتدري ما تقول " وسبح رسول الله صلى الله عليه وسلم فما زال يسبح حتى عرف ذلك في وجوه اصحابه ثم قال " ويحك انه لا يستشفع بالله على احد من خلقه شان الله اعظم من ذلك ويحك اتدري ما الله ان عرشه على سمواته لهكذا " . وقال باصابعه مثل القبة عليه " وانه لييط به اطيط الرحل بالراكب " . قال ابن بشار في حديثه " ان الله فوق عرشه وعرشه فوق سمواته " . وساق الحديث وقال عبد الاعلى وابن المثنى وابن بشار عن يعقوب بن عتبة وجبير بن محمد بن جبير عن ابيه عن جده قال ابو داود والحديث باسناد احمد بن سعيد هو الصحيح وافقه عليه جماعة منهم يحيى بن معين وعلي بن المديني ورواه جماعة عن ابن اسحاق كما قال احمد ايضا وكان سماع عبد الاعلى وابن المثنى وابن بشار من نسخة واحدة فيما بلغني
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن حفص بن عبد الله، قال حدثني ابي قال، حدثني ابراهيم بن طهمان، عن موسى بن عقبة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذن لي ان احدث عن ملك من ملايكة الله من حملة العرش ان ما بين شحمة اذنه الى عاتقه مسيرة سبعماية عام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا» اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو۔ ۔ ۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے ( سورۃ النساء: ۵۸ ) تک پڑھتے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے، ( یعنی شہادت کی انگلی کو ) ، ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا۔ ابن یونس کہتے ہیں: عبداللہ بن یزید مقری نے کہا: یعنی«إن الله سميع بصير» پر انگلی رکھتے تھے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جہمیہ کا رد ہے ۱؎۔
حدثنا علي بن نصر، ومحمد بن يونس النسايي، - المعنى - قالا حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا حرملة، - يعني ابن عمران - حدثني ابو يونس، سليم بن جبير مولى ابي هريرة قال سمعت ابا هريرة، يقرا هذه الاية { ان الله يامركم ان تودوا الامانات الى اهلها } الى قوله تعالى { سميعا بصيرا } قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع ابهامه على اذنه والتي تليها على عينه قال ابو هريرة . رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقروها ويضع اصبعيه قال ابن يونس قال المقري يعني { ان الله سميع بصير } يعني ان لله سمعا وبصرا . قال ابو داود وهذا رد على الجهمية
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں شب کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا: تم لوگ عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے، جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی زحمت نہ ہو گی، لہٰذا اگر تم قدرت رکھتے ہو کہ تم فجر اور عصر کی نماز میں مغلوب نہ ہو تو ایسا کرو پھر آپ نے یہ آیت «فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها» اور اپنے رب کی تسبیح کرو، سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے ( سورۃ طہٰ: ۱۳۰ ) پڑھی ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، ووكيع، وابو اسامة عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوسا فنظر الى القمر ليلة البدر ليلة اربع عشرة فقال " انكم سترون ربكم كما ترون هذا لا تضامون في رويته فان استطعتم ان لا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس وقبل غروبها فافعلوا " . ثم قرا هذه الاية { فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہو گی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے ۱؎ ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، انه سمعه يحدث، عن ابي هريرة، قال قال ناس يا رسول الله انرى ربنا يوم القيامة قال " هل تضارون في روية الشمس في الظهيرة ليست في سحابة " . قالوا لا . قال " هل تضارون في روية القمر ليلة البدر ليس في سحابة " . قالوا لا . قال " والذي نفسي بيده لا تضارون في رويته الا كما تضارون في روية احدهما
ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو ( قیامت کے دن ) بلا رکاوٹ دیکھے گا؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی مثال کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابورزین! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تو اور بھی بڑا ہے ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے، اللہ تو اس سے بہت بڑا اور عظیم ہے ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، - المعنى - عن يعلى بن عطاء، عن وكيع، - قال موسى - ابن عدس عن ابي رزين، - قال موسى العقيلي - قال قلت يا رسول الله اكلنا يرى ربه قال ابن معاذ مخليا به يوم القيامة وما اية ذلك في خلقه قال " يا ابا رزين اليس كلكم يرى القمر " . قال ابن معاذ " ليلة البدر مخليا به " . ثم اتفقا قلت بلى . قال " فالله اعظم " . قال ابن معاذ قال " فانما هو خلق من خلق الله فالله اجل واعظم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا، اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں اترانے والے؟ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن العلاء، ان ابا اسامة، اخبرهم عن عمر بن حمزة، قال قال سالم اخبرني عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يطوي الله السموات يوم القيامة ثم ياخذهن بيده اليمنى ثم يقول انا الملك اين الجبارون اين المتكبرون ثم يطوي الارضين ثم ياخذهن " . قال ابن العلاء " بيده الاخرى ثم يقول انا الملك اين الجبارون اين المتكبرون
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے، میں اس کی پکار کو قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کر دوں ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، وعن ابي عبد الله الاغر، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ينزل ربنا كل ليلة الى سماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الاخر فيقول من يدعوني فاستجيب له من يسالني فاعطيه من يستغفرني فاغفر له
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو موقف ( عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ ) میں لوگوں پر پیش کرتے تھے اور فرماتے: کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے چلے، قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا اسراييل، حدثنا عثمان بن المغيرة، عن سالم، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرض نفسه على الناس في الموقف فقال " الا رجل يحملني الى قومه فان قريشا قد منعوني ان ابلغ كلام ربي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرے جی میں میرا معاملہ اس سے کمتر تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی گفتگو فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے گی ۱؎۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وعلقمة بن وقاص، وعبيد الله بن عبد الله، عن حديث، عايشة وكل حدثني طايفة، من الحديث قالت ولشاني في نفسي كان احقر من ان يتكلم الله في بامر يتلى