Loading...

Loading...
کتب
۱۷۷ احادیث
ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: نوح کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کی اور فرمایا: شاید اسے وہ شخص پائے جس نے مجھے دیکھا اور میری بات سنی لوگوں نے عرض کیا: اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ کیا اسی طرح جیسے آج ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے بھی بہتر ( کیونکہ فتنہ و فساد کے باوجود ایمان پر قائم رہنا زیادہ مشکل ہے ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن خالد الحذاء، عن عبد الله بن شقيق، عن عبد الله بن سراقة، عن ابي عبيدة بن الجراح، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : " انه لم يكن نبي بعد نوح الا وقد انذر الدجال قومه، واني انذركموه " . فوصفه لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال : " لعله سيدركه من قد راني وسمع كلامي " . قالوا : يا رسول الله كيف قلوبنا يوميذ امثلها اليوم قال : " او خير
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی لائق شان حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا نہ ہو، نوح ( علیہ السلام ) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتا رہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی: وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے ۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال : قام النبي صلى الله عليه وسلم في الناس فاثنى على الله بما هو اهله، فذكر الدجال فقال : " اني لانذركموه، وما من نبي الا قد انذره قومه، لقد انذره نوح قومه، ولكني ساقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه : انه اعور وان الله ليس باعور
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جماعت ۲؎ سے ایک بالشت بھی علیحدگی اختیار کی تو اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، وابو بكر بن عياش ومندل عن مطرف، عن ابي جهم، عن خالد بن وهبان، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من فارق الجماعة شبرا فقد خلع ربقة الاسلام من عنقه
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہو گا ۱؎ جب میرے بعد حکمراں اس مال فے کو اپنے لیے مخصوص کر لیں گے میں نے عرض کیا: تب تو اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا، پھر اس سے ان کے ساتھ لڑوں گا یہاں تک کہ میں آپ سے ملاقات کروں یا آ ملوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا مطرف بن طريف، عن ابي الجهم، عن خالد بن وهبان، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " كيف انتم وايمة من بعدي يستاثرون بهذا الفىء " . قلت : اذا والذي بعثك بالحق اضع سيفي على عاتقي، ثم اضرب به حتى القاك او الحقك . قال : " اولا ادلك على خير من ذلك تصبر حتى تلقاني
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حاکم ہوں گے جن سے تم معروف ( نیک اعمال ) ہوتے بھی دیکھو گے اور منکر ( خلاف شرع امور ) بھی دیکھو گے، تو جس نے منکر کا انکار کیا، ( ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی روایت میں «بلسانہ» کا لفظ بھی ہے ( جس نے منکر کا ) اپنی زبان سے انکار کیا ) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں؟ ( سلیمان ابن داود طیالسی ) کی روایت میں ہے: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، وسليمان بن داود، - المعنى - قالا حدثنا حماد بن زيد، عن المعلى بن زياد، وهشام بن حسان، عن الحسن، عن ضبة بن محصن، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ستكون عليكم ايمة تعرفون منهم وتنكرون فمن انكر " . قال ابو داود قال هشام : " بلسانه فقد بري، ومن كره بقلبه فقد سلم ولكن من رضي وتابع " . فقيل : يا رسول الله افلا نقتلهم قال ابن داود : " افلا نقاتلهم " . قال : " لا ما صلوا
اس سند سے بھی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، البتہ اس میں یہ ہے کہآ ہآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ناپسند کیا تو وہ بری ہو گیا اور جس نے کھل کر انکار کر دیا تو وہ محفوظ ہو گیا قتادہ کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جس نے دل سے اس کا انکار کیا اور جس نے دل سے اسے ناپسند کیا۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، قال حدثنا الحسن، عن ضبة بن محصن العنزي، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال : " فمن كره فقد بري، ومن انكر فقد سلم " . قال قتادة : يعني من انكر بقلبه، ومن كره بقلبه
عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت میں کئی بار شر و فساد ہوں گے، تو متحد مسلمانوں کے شرازہ کو منتشر کرنے والے کی گردن تلوار سے اڑا دو خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن زياد بن علاقة، عن عرفجة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " ستكون في امتي هنات وهنات وهنات، فمن اراد ان يفرق امر المسلمين وهم جميع فاضربوه بالسيف كاينا من كان
عبیدہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان ۱؎ کا ذکر کیا اور کہا: ان میں چھوٹے ہاتھ کا ایک آدمی ہے، اگر مجھے تمہارے اترانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کس چیز کا وعدہ کیا ہے ان لوگوں کے لیے جو ان سے جنگ کریں گے، راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا آپ نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں رب کعبہ کی قسم۔
حدثنا محمد بن عبيد، ومحمد بن عيسى، - المعنى - قالا حدثنا حماد، عن ايوب، عن محمد، عن عبيدة، : ان عليا، ذكر اهل النهروان فقال : فيهم رجل مودن اليد او مخدج اليد، او مثدون اليد لولا ان تبطروا لنباتكم ما وعد الله الذين يقتلونهم على لسان محمد صلى الله عليه وسلم . قال قلت : انت سمعت هذا منه قال : اي ورب الكعبة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی سے آلودہ سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار لوگوں: اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید الخیل طائی جو بنی نبہان کے ایک فرد ہیں اور علقمہ بن علاثہ عامری جو بنی کلاب سے ہیں کے درمیان تقسیم کر دیا، اس پر قریش اور انصار کے لوگ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: آپ اہل نجد کے رئیسوں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں اتنے میں ایک شخص آیا ( جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی بلند، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا ) اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں ہی اس کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو کون اس کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ تو زمین والوں میں مجھے امانت دار سمجھتا ہے اور تم مجھے امانت دار نہیں سمجھتے؟ تو ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، اور جب وہ لوٹ گیا تو آپ نے فرمایا: اس کی نسل میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اس شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے جسے تیر مارا جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پوجنے والوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پایا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا ۲؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابيه، عن ابن ابي نعم، عن ابي سعيد الخدري، قال : بعث علي عليه السلام الى النبي صلى الله عليه وسلم بذهيبة في تربتها، فقسمها بين اربعة بين : الاقرع بن حابس الحنظلي ثم المجاشعي، وبين عيينة بن بدر الفزاري وبين زيد الخيل الطايي ثم احد بني نبهان وبين علقمة بن علاثة العامري ثم احد بني كلاب قال فغضبت قريش والانصار وقالت : يعطي صناديد اهل نجد ويدعنا . فقال : " انما اتالفهم " . قال : فاقبل رجل غاير العينين مشرف الوجنتين ناتي الجبين كث اللحية محلوق قال : اتق الله يا محمد . فقال : " من يطع الله اذا عصيته ايامنني الله على اهل الارض ولا تامنوني " . قال : فسال رجل قتله احسبه خالد بن الوليد - قال - فمنعه . قال : فلما ولى قال : " ان من ضيضي هذا او في عقب هذا قوما يقرءون القران لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الاسلام مروق السهم من الرمية، يقتلون اهل الاسلام ويدعون اهل الاوثان لين انا ادركتهم قتلتهم قتل عاد
ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا، کچھ ایسے لوگ ہوں گے، جو باتیں اچھی کریں گے لیکن کام برے کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ ( اپنی روش سے ) باز نہیں آئیں گے جب تک تیر سوفار ( اپنی ابتدائی جگہ ) پر الٹا نہ آ جائے، وہ سب لوگوں اور مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں، بشارت ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا جسے وہ قتل کریں، وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے، حالانکہ وہ اس کی کسی چیز سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے، جو ان سے قتال کرے گا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہو گا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کی نشانی کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈانا ۔
حدثنا نصر بن عاصم الانطاكي، حدثنا الوليد، ومبشر، - يعني ابن اسماعيل الحلبي عن ابي عمرو، قال - يعني الوليد - حدثنا ابو عمرو، قال حدثني قتادة، عن ابي سعيد الخدري، وانس بن مالك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " سيكون في امتي اختلاف وفرقة، قوم يحسنون القيل ويسييون الفعل ويقرءون القران لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية لا يرجعون حتى يرتد على فوقه هم شر الخلق والخليقة طوبى لمن قتلهم وقتلوه، يدعون الى كتاب الله وليسوا منه في شىء، من قاتلهم كان اولى بالله منهم " . قالوا : يا رسول الله ما سيماهم قال : " التحليق
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: ان کی علامت سر منڈانا اور بالوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے، لہٰذا جب تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تسبید» : بال کو جڑ سے ختم کرنے کو کہتے ہیں۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نحوه قال : " سيماهم التحليق والتسبيد، فاذا رايتموهم فانيموهم " . قال ابو داود : التسبيد استيصال الشعر
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم سے بیان کروں تو آسمان سے میرا گر جانا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ پر جھوٹ بولوں، اور جب میں تم سے اس کے متعلق کوئی بات کروں جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہے تو جنگ چالاکی و فریب دہی ہوتی ہی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو کم عمر اور کم عقل ہوں گے، جو تمام مخلوقات میں بہتر شخص کی طرح باتیں کریں گے، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کا ایمان ان کی گردنوں سے نیچے نہ اترے گا، لہٰذا جہاں کہیں تم ان سے ملو تم انہیں قتل کر دو، اس لیے کہ ان کا قتل کرنا، قیامت کے روز اس شخص کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہو گا جو انہیں قتل کرے گا ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا الاعمش، عن خيثمة، عن سويد بن غفلة، قال قال علي : اذا حدثتكم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا فلان اخر من السماء احب الى من ان اكذب عليه واذا حدثتكم فيما بيني وبينكم فانما الحرب خدعة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " ياتي في اخر الزمان قوم حدثاء الاسنان سفهاء الاحلام، يقولون من قول خير البرية يمرقون من الاسلام كما يمرق السهم من الرمية، لا يجاوز ايمانهم حناجرهم، فاينما لقيتموهم فاقتلوهم، فان قتلهم اجر لمن قتلهم يوم القيامة
زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس فوج میں شامل تھے جو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی، اور جو خوارج کی طرف گئی تھی، علی نے کہا: اے لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے، تمہارا پڑھنا ان کے پڑھنے کے مقابلے کچھ نہ ہو گا، نہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے کچھ ہو گی، اور نہ ہی تمہارا روزہ ان کے روزے کے مقابلے کچھ ہو گا، وہ قرآن پڑھیں گے، اور سمجھیں گے کہ وہ ان کے لیے ( ثواب ) ہے حالانکہ وہ ان پر ( عذاب ) ہو گا، ان کی صلاۃ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی، وہ اسلام سے نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر ان لوگوں کو جو انہیں قتل کریں گے، یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے لیے ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کس چیز کا فیصلہ کیا گیا ہے، تو وہ ضرور اسی عمل پر بھروسہ کر لیں گے ( اور دوسرے نیک اعمال چھوڑ بیٹھیں گے ) ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہو گا جس کے بازو ہو گا، لیکن ہاتھ نہ ہو گا، اس کے بازو پر پستان کی گھنڈی کی طرح ایک گھنڈی ہو گی، اس کے اوپر کچھ سفید بال ہوں گے تو کیا تم لوگ معاویہ اور اہل شام سے لڑنے جاؤ گے، اور انہیں اپنی اولاد اور اسباب پر چھوڑ دو گے ( کہ وہ ان پر قبضہ کریں اور انہیں برباد کریں ) اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں ( جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ) اس لیے کہ انہوں نے ناحق خون بہایا ہے، لوگوں کی چراگاہوں پر شب خون مارا ہے، چلو اللہ کے نام پر۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں: پھر زید بن وہب نے مجھے ایک ایک مقام بتایا ( جہاں سے ہو کر وہ خارجیوں سے لڑنے گئے تھے ) یہاں تک کہ وہ ہمیں لے کر ایک پل سے گزرے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو خارجیوں کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواروں کو میان سے کھینچ لو، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تم سے اسی طرح صلح کا مطالبہ نہ کریں جس طرح انہوں نے تم سے حروراء کے دن کیا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے نیز ے پھینک دئیے، تلواریں کھینچ لیں، لوگوں ( مسلمانوں ) نے انہیں اپنے نیزوں سے روکا اور انہوں نے انہیں ایک پر ایک کر کے قتل کیا اور ( مسلمانوں میں سے ) اس دن صرف دو آدمی شہید ہوئے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں «مخدج» یعنی لنجے کو تلاش کرو، لیکن وہ نہ پا سکے، تو آپ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو ایک پر ایک کر کے مارے گئے تھے، آپ نے کہا: انہیں نکالو، تو انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ سب سے نیچے زمین پر پڑا ہے، آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور بولے: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے ساری باتیں پہنچا دیں۔ پھر عبیدہ سلمانی آپ کی طرف اٹھ کر آئے کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ وہ بولے: ہاں، اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، یہاں تک کہ انہوں نے انہیں تین بار قسم دلائی اور وہ ( تینوں بار ) قسم کھاتے رہے۔
ابوالوضی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «مخدج» ( لنجے ) کو تلاش کرو، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: لوگوں نے اسے مٹی میں پڑے ہوئے مقتولین کے نیچے سے ڈھونڈ نکالا، گویا میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ ایک حبشی ہے چھوٹا سا کرتا پہنے ہوئے ہے، اس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہے، جس پر ایسے چھوٹے چھوٹے بال ہیں، جیسے جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، عن جميل بن مرة، قال حدثنا ابو الوضيء، قال قال علي عليه السلام : اطلبوا المخدج . فذكر الحديث فاستخرجوه من تحت القتلى في طين، قال ابو الوضيء : فكاني انظر اليه حبشي عليه قريطق له احدى يدين مثل ثدى المراة عليها شعيرات مثل شعيرات التي تكون على ذنب اليربوع
ابومریم کہتے ہیں کہ یہ «مخدج» ( لنجا ) مسجد میں اس دن ہمارے ساتھ تھا ہم اس کے ساتھ رات دن بیٹھا کرتے تھے، وہ فقیر تھا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مسکینوں کے ساتھ آ کر علی رضی اللہ عنہ کے کھانے پر لوگوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور میں نے اسے اپنا ایک کپڑا دیا تھا۔ ابومریم کہتے ہیں: لوگ «مخدج» ( لنجے ) کو «نافعا ذا الثدية» ( پستان والا ) کا نام دیتے تھے، اس کے ہاتھ میں عورت کے پستان کی طرح گوشت ابھرا ہوا تھا، اس کے سرے پر ایک گھنڈی تھی جیسے پستان میں ہوتی ہے اس پر بلی کی مونچھوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بال تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لوگوں کے نزدیک اس کا نام حرقوس تھا۔
حدثنا بشر بن خالد، حدثنا شبابة بن سوار، عن نعيم بن حكيم، عن ابي مريم، قال : ان كان ذلك المخدج لمعنا يوميذ في المسجد نجالسه بالليل والنهار، وكان فقيرا ورايته مع المساكين يشهد طعام علي عليه السلام مع الناس وقد كسوته برنسا لي . قال ابو مريم : وكان المخدج يسمى نافعا ذا الثدية، وكان في يده مثل ثدى المراة على راسه حلمة مثل حلمة الثدى عليه شعيرات مثل سبالة السنور . قال ابو داود : وهو عند الناس اسمه حرقوس
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا مال لینے کا ناحق ارادہ کیا جائے اور وہ ( اپنے مال کے بچانے کے لیے ) لڑے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني عبد الله بن حسن، قال حدثني عمي، ابراهيم بن محمد بن طلحة عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " من اريد ماله بغير حق فقاتل فقتل فهو شهيد
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے بال بچوں کو بچانے یا اپنی جان بچانے یا اپنے دین کو بچانے میں مارا جائے وہ بھی شہید ہے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو داود الطيالسي، وسليمان بن داود، - يعني ابا ايوب الهاشمي - عن ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن ابي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر، عن طلحة بن عبد الله بن عوف، عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " من قتل دون ماله فهو شهيد، ومن قتل دون اهله او دون دمه او دون دينه فهو شهيد
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن سلمة بن كهيل، قال اخبرني زيد بن وهب الجهني، : انه كان في الجيش الذين كانوا مع علي عليه السلام الذين ساروا الى الخوارج فقال علي عليه السلام : ايها الناس اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " يخرج قوم من امتي يقرءون القران ليست قراءتكم الى قراءتهم شييا ولا صلاتكم الى صلاتهم شييا ولا صيامكم الى صيامهم شييا، يقرءون القران يحسبون انه لهم وهو عليهم، لا تجاوز صلاتهم تراقيهم يمرقون من الاسلام كما يمرق السهم من الرمية، لو يعلم الجيش الذين يصيبونهم ما قضي لهم على لسان نبيهم صلى الله عليه وسلم لنكلوا على العمل، واية ذلك ان فيهم رجلا له عضد وليست له ذراع، على عضده مثل حلمة الثدى عليه شعرات بيض " . افتذهبون الى معاوية واهل الشام وتتركون هولاء يخلفونكم في ذراريكم واموالكم والله اني لارجو ان يكونوا هولاء القوم، فانهم قد سفكوا الدم الحرام، واغاروا في سرح الناس فسيروا على اسم الله . قال : سلمة بن كهيل : فنزلني زيد بن وهب منزلا منزلا حتى مر بنا على قنطرة قال فلما التقينا وعلى الخوارج عبد الله بن وهب الراسبي فقال لهم : القوا الرماح وسلوا السيوف من جفونها، فاني اخاف ان يناشدوكم كما ناشدوكم يوم حروراء قال : فوحشوا برماحهم واستلوا السيوف وشجرهم الناس برماحهم - قال - وقتلوا بعضهم على بعضهم . قال : وما اصيب من الناس يوميذ الا رجلان فقال علي عليه السلام : التمسوا فيهم المخدج فلم يجدوا قال : فقام علي رضى الله عنه بنفسه حتى اتى ناسا قد قتل بعضهم على بعض فقال : اخرجوهم فوجدوه مما يلي الارض فكبر وقال : صدق الله وبلغ رسوله . فقام اليه عبيدة السلماني فقال : يا امير المومنين والله الذي لا اله الا هو لقد سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : اي والله الذي لا اله الا هو حتى استحلفه ثلاثا وهو يحلف