Loading...

Loading...
کتب
۱۴۳ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کی طرف چلے، قسم اللہ کی! نہ ہم نے انہیں باندھا، نہ ہم نے ان کے لیے گڑھا کھودا، لیکن وہ خود کھڑے ہو گئے، ہم نے انہیں ہڈیوں، ڈھیلوں اور مٹی کے برتن کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں سے مار ا، تو وہ ادھر ادھر دوڑنے لگے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ پتھریلی جگہ کی طرف آئے تو وہ کھڑے ہو گئے ہم نے انہیں حرہ کے بڑے بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہو گئے، تو نہ تو آپ نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی، اور نہ ہی انہیں برا کہا۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا يزيد، - يعني ابن زريع - ح وحدثنا احمد بن منيع، عن يحيى بن زكريا، - وهذا لفظه - عن داود، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال لما امر النبي صلى الله عليه وسلم برجم ماعز بن مالك خرجنا به الى البقيع فوالله ما اوثقناه ولا حفرنا له ولكنه قام لنا . - قال ابو كامل قال - فرميناه بالعظام والمدر والخزف فاشتد واشتددنا خلفه حتى اتى عرض الحرة فانتصب لنا فرميناه بجلاميد الحرة حتى سكت - قال - فما استغفر له ولا سبه
ابونضرہ سے روایت ہے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آگے اسی جیسی روایت ہے، اور پوری نہیں ہے اس میں ہے: لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے، تو آپ نے انہیں منع فرمایا، پھر لوگ اس کی مغفرت کی دعا کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا، اور فرمایا: وہ ایک شخص تھا جس نے گناہ کیا، اب اللہ اس سے سمجھ لے گا ( چاہے گا تو معاف کر دے ورنہ اسے سزا دے گا تم کیوں دخل دیتے ہو ) ۔
حدثنا مومل بن هشام، حدثنا اسماعيل، عن الجريري، عن ابي نضرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وليس بتمامه قال ذهبوا يسبونه فنهاهم قال ذهبوا يستغفرون له فنهاهم قال " هو رجل اصاب ذنبا حسيبه الله
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کا منہ سونگھا ( اس خیال سے کہ کہیں اس نے شراب نہ پی ہو ) ۔
حدثنا محمد بن ابي بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن يعلى بن الحارث، حدثنا ابي، عن غيلان، عن علقمة بن مرثد، عن ابن بريدة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم استنكه ماعزا
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا ذکر کیا کرتے تھے کہ غامدیہ ۱؎ اور ماعز بن مالک رضی اللہ عنہما دونوں اگر اقرار سے پھر جاتے، یا اقرار کے بعد پھر اقرار نہ کرتے تو آپ ان دونوں کو سزا نہ دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس وقت رجم کیا جب وہ چار چار بار اقرار کر چکے تھے ( اور ان کے اقرار میں کسی طرح کا کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا ) ۔
حدثنا احمد بن اسحاق الاهوازي، حدثنا ابو احمد، حدثنا بشير بن المهاجر، حدثني عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال كنا اصحاب رسول الله نتحدث ان الغامدية وماعز بن مالك لو رجعا بعد اعترافهما او قال لو لم يرجعا بعد اعترافهما لم يطلبهما وانما رجمهما عند الرابعة
خالد بن لجلاج کا بیان ہے کہ ان کے والد الجلاج نے انہیں بتایا کہ وہ بیٹھے بازار میں کام کر رہے تھے اتنے میں ایک عورت ایک لڑکے کو لیے گزری تو لوگ اس کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ان اٹھنے والوں میں میں بھی تھا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ اس سے پوچھ رہے تھے: اس بچہ کا باپ کون ہے؟ وہ عورت چپ تھی، ایک نوجوان جو اس کے برابر میں تھا بولا: اللہ کے رسول! میں اس کا باپ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: اس بچے کا باپ کون ہے؟ تو نوجوان نے پھر کہا: اللہ کے رسول! میں اس کا باپ ہوں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے کسی کی طرف دیکھا، آپ ان سے اس نوجوان کے متعلق دریافت فرما رہے تھے؟ تو لوگوں نے کہا: ہم تو اسے نیک ہی جانتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا، اس میں ہے کہ ہم اس کو لے کر نکلے اور ایک گڑھے میں اسے گاڑا پھر پتھروں سے اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا، اتنے میں ایک شخص آیا، اور اس رجم کئے گئے شخص کے متعلق پوچھنے لگا، تو اسے لے کر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ہم نے کہا: یہ اس خبیث کے متعلق پوچھ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے پھر پتا چلا کہ وہ اس کا باپ تھا ہم نے اس کے غسل اور کفن دفن میں اس کی مدد کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے اور اس پر نماز پڑھنے میں بھی ( مدد کی ) کہا یا نہیں یہ عبدہ کی روایت ہے، اور زیادہ کامل ہے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله، ومحمد بن داود بن صبيح، قال عبدة اخبرنا حرمي بن حفص، قال حدثنا محمد بن عبد الله بن علاثة، حدثنا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، ان خالد بن اللجلاج، حدثه ان اللجلاج اباه اخبره انه، كان قاعدا يعتمل في السوق فمرت امراة تحمل صبيا فثار الناس معها وثرت فيمن ثار فانتهيت الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقول " من ابو هذا معك " . فسكتت فقال شاب حذوها انا ابوه يا رسول الله . فاقبل عليها فقال " من ابو هذا معك " . قال الفتى انا ابوه يا رسول الله . فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى بعض من حوله يسالهم عنه فقالوا ما علمنا الا خيرا . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " احصنت " . قال نعم . فامر به فرجم . قال فخرجنا به فحفرنا له حتى امكنا ثم رميناه بالحجارة حتى هدا فجاء رجل يسال عن المرجوم فانطلقنا به الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلنا هذا جاء يسال عن الخبيث . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لهو اطيب عند الله من ريح المسك " . فاذا هو ابوه فاعناه على غسله وتكفينه ودفنه وما ادري قال والصلاة عليه ام لا . وهذا حديث عبدة وهو اتم
اس سند سے بھی الجلاج سے یہی روایت مرفوعاً آئی ہے اس میں اس حدیث کا کچھ حصہ ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة بن خالد، ح وحدثنا نصر بن عاصم الانطاكي، حدثنا الوليد، جميعا قالا حدثنا محمد، - قال هشام محمد بن عبد الله الشعيثي - عن مسلمة بن عبد الله الجهني، عن خالد بن اللجلاج، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم ببعض هذا الحديث
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے آپ سے نام لیا، زنا کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا، اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا تو اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو آپ نے اس مرد پر حد نافذ کی، اسے سو کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا طلق بن غنام، حدثنا عبد السلام بن حفص، حدثنا ابو حازم، عن سهل بن سعد، عن النبي صلى الله عليه وسلم ان رجلا اتاه فاقر عنده انه زنى بامراة سماها له فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم الى المراة فسالها عن ذلك فانكرت ان تكون زنت فجلده الحد وتركها
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے حد میں کوڑے لگائے گئے پھر آپ کو بتایا گیا کہ وہ تو شادی شدہ تھا تو آپ نے حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو محمد بن بکر برسانی نے ابن جریج سے جابر پر موقوفاً روایت کیا ہے، اور ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ابن وہب نے کیا ہے، اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے کہ ایک شخص نے زنا کیا، اس کے شادی شدہ ہونے کا علم نہیں تھا، تو اسے کوڑے مارے گئے، پھر پتہ چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا گیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ح، وحدثنا ابن السرح، - المعنى - قال اخبرنا عبد الله بن وهب، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رجلا، زنى بامراة فامر به النبي صلى الله عليه وسلم فجلد الحد ثم اخبر انه محصن فامر به فرجم . قال ابو داود روى هذا الحديث محمد بن بكر البرساني عن ابن جريج موقوفا على جابر . ورواه ابو عاصم عن ابن جريج بنحو ابن وهب لم يذكر النبي صلى الله عليه وسلم قال ان رجلا زنى فلم يعلم باحصانه فجلد ثم علم باحصانه فرجم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کیا لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے کوڑے لگائے گئے، پھر معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے تو اسے رجم کر دیا گیا۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم ابو يحيى البزاز، اخبرنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رجلا، زنى بامراة فلم يعلم باحصانه فجلد ثم علم باحصانه فرجم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، اور وہ حاملہ ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا، اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا، اور جب یہ حمل وضع کر چکے تو اسے لے کر آنا چنانچہ جب وہ حمل وضع کر چکی تو وہ اسے لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی، عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم اس کی نماز جنازہ پڑھیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دی جائے تو انہیں کافی ہو گی، کیا تم اس سے بہتر کوئی بات پاؤ گے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی؟ ۔ ابان کی روایت میں اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے کے الفاظ نہیں ہیں۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، ان هشاما الدستوايي، وابان بن يزيد، حدثاهم - المعنى، - عن يحيى، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، ان امراة، - قال في حديث ابان من جهينة - اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت انها زنت وهي حبلى . فدعا النبي صلى الله عليه وسلم وليا لها فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " احسن اليها فاذا وضعت فجي بها " . فلما ان وضعت جاء بها فامر بها النبي صلى الله عليه وسلم فشكت عليها ثيابها ثم امر بها فرجمت ثم امرهم فصلوا عليها فقال عمر يا رسول الله تصلي عليها وقد زنت قال " والذي نفسي بيده لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من اهل المدينة لوسعتهم وهل وجدت افضل من ان جادت بنفسها " . لم يقل عن ابان فشكت عليها ثيابها
اوزاعی سے مروی ہے اس میں ہے «فشكت عليها ثيابها» کے معنی یہ ہیں کہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے ( تاکہ پتھر مارنے میں وہ نہ کھلیں ) ۔
حدثنا محمد بن الوزير الدمشقي، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، قال فشكت عليها ثيابها . يعني فشدت
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ غامد کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا: میں نے زنا کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ ، چنانچہ وہ واپس چلی گئی، دوسرے دن وہ پھر آئی، اور کہنے لگی: شاید جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا، اسی طرح مجھے بھی لوٹا رہے ہیں، قسم اللہ کی میں تو حاملہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ چنانچہ وہ پھر واپس چلی گئی، پھر تیسرے دن آئی تو آپ نے اس سے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ بچہ پیدا ہو جائے پھر آنا چنانچہ وہ چلی گئی، جب اس نے بچہ جن دیا تو بچہ کو لے کر پھر آئی، اور کہا: اسے میں جن چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو دودھ چھڑا کر پھر وہ لڑکے کو لے کر آئی، اور بچہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا، تو بچہ کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ اسے مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دے دیا جائے، اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لیے گڈھا کھودا جائے، اور حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے، تو وہ رجم کر دی گئی۔ خالد رضی اللہ عنہ اسے رجم کرنے والوں میں سے تھے انہوں نے اسے ایک پتھر مارا تو اس کے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر آ کر گرا تو اسے برا بھلا کہنے لگے، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ ٹیکس اور چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی بھی بخشش ہو جاتی ، پھر آپ نے حکم دیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کیا گیا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى بن يونس، عن بشير بن المهاجر، حدثنا عبد الله بن بريدة، عن ابيه، ان امراة، - يعني من غامد - اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت اني قد فجرت . فقال " ارجعي " . فرجعت فلما كان الغد اتته فقالت لعلك ان تردني كما رددت ماعز بن مالك فوالله اني لحبلى . فقال لها " ارجعي " . فرجعت فلما كان الغد اتته فقال لها " ارجعي حتى تلدي " . فرجعت فلما ولدت اتته بالصبي فقالت هذا قد ولدته . فقال لها " ارجعي فارضعيه حتى تفطميه " . فجاءت به وقد فطمته وفي يده شىء ياكله فامر بالصبي فدفع الى رجل من المسلمين وامر بها فحفر لها وامر بها فرجمت وكان خالد فيمن يرجمها فرجمها بحجر فوقعت قطرة من دمها على وجنته فسبها فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " مهلا يا خالد فوالذي نفسي بيده لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له " . وامر بها فصلي عليها فدفنت
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کرنا چاہا تو اس کے لیے ایک گڈھا سینے تک کھودا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: غسانی کا کہنا ہے کہ جہینہ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلہ ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع بن الجراح، عن زكريا ابي عمران، قال سمعت شيخا، يحدث عن ابن ابي بكرة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم رجم امراة فحفر لها الى الثندوة . قال ابو داود افهمني رجل عن عثمان . قال ابو داود قال الغساني جهينة وغامد وبارق واحد
ابوداؤد کہتے ہیں مجھ سے یہ حدیث عبدالصمد بن عبدالوارث کے واسطہ سے بیان کی گئی ہے، زکریا بن سلیم نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چنے کے برابر ایک کنکری سے مارا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مارو لیکن چہرے کو بچا کر مارنا پھر جب وہ مر گئی تو آپ نے اسے نکالا، پھر اس پر نماز پڑھی، اور توبہ کے سلسلہ میں ویسے ہی فرمایا جیسے بریدہ کی روایت میں ہے۔
قال ابو داود حدثت عن عبد الصمد بن عبد الوارث، قال حدثنا زكريا بن سليم، باسناده نحوه زاد ثم رماها بحصاة مثل الحمصة ثم قال " ارموا واتقوا الوجه " . فلما طفيت اخرجها فصلى عليها وقال في التوبة نحو حديث بريدة
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے مابین اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ فرما دیجئیے، اور دوسرے نے جو ان دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ فرمائیے، لیکن پہلے مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا: اچھا کہو اس نے کہنا شروع کیا: میرا بیٹا اس کے یہاں «عسیف» یعنی مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اسے اپنی سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیئے میں دے دی، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا، تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور رجم اس کی بیوی پر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں ضرور بالضرور تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا، رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تو یہ تمہیں واپس ملیں گی اور اس کے بیٹے کو آپ نے سو کوڑے لگوائے، اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ اس دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں، اور اس سے پوچھیں اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کر دیں، چنانچہ اس نے اقرار کر لیا، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد الجهني، انهما اخبراه ان رجلين اختصما الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال احدهما يا رسول الله اقض بيننا بكتاب الله . وقال الاخر وكان افقههما اجل يا رسول الله فاقض بيننا بكتاب الله وايذن لي ان اتكلم . قال " تكلم " . قال ان ابني كان عسيفا على هذا - والعسيف الاجير - فزنى بامراته فاخبروني انما على ابني الرجم فافتديت منه بماية شاة وبجارية لي ثم اني سالت اهل العلم فاخبروني انما على ابني جلد ماية وتغريب عام وانما الرجم على امراته . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله اما غنمك وجاريتك فرد اليك " . وجلد ابنه ماية وغربه عاما وامر انيسا الاسلمي ان ياتي امراة الاخر فان اعترفت رجمها فاعترفت فرجمها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کر لیا ہے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم تورات میں زنا کے معاملہ میں کیا حکم پاتے ہو؟ تو ان لوگوں نے کہا: ہم انہیں رسوا کرتے اور کوڑے لگاتے ہیں، تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ جھوٹ کہتے ہو، اس میں تو رجم کا حکم ہے، چنانچہ وہ لوگ تورات لے کر آئے، اور اسے کھولا تو ان میں سے ایک نے آیت رجم پر اپنا ہاتھ رکھ لیا، پھر وہ اس کے پہلے اور بعد کی آیتیں پڑھنے لگا، تو عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا: اپنا ہاتھ اٹھاؤ، اس نے اٹھایا تو وہیں آیت رجم ملی، تو وہ کہنے لگے: صحیح ہے اے محمد! اس میں رجم کی آیت موجود ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ دونوں رجم کر دیے گئے۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک جایا کرتا تھا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، قال قرات على مالك بن انس عن نافع، عن ابن عمر، انه قال ان اليهود جاءوا الى النبي صلى الله عليه وسلم فذكروا له ان رجلا منهم وامراة زنيا فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تجدون في التوراة في شان الزنا " . فقالوا نفضحهم ويجلدون . فقال عبد الله بن سلام كذبتم ان فيها الرجم . فاتوا بالتوراة فنشروها فجعل احدهم يده على اية الرجم ثم جعل يقرا ما قبلها وما بعدها فقال له عبد الله بن سلام ارفع يدك . فرفعها فاذا فيها اية الرجم فقالوا صدق يا محمد فيها اية الرجم . فامر بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجما . قال عبد الله بن عمر فرايت الرجل يحني على المراة يقيها الحجارة
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوگ ایک یہودی کو لے کر گزرے جس کو ہاتھ منہ کالا کر کے گھمایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ ان کی کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ ان لوگوں نے آپ کو اپنے میں سے ایک شخص کی طرف اشارہ کر کے پوچھنے کے لیے کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ تمہاری کتاب میں زانی کی حد کیا ہے؟ تو اس نے کہا: رجم ہے، لیکن زنا کا جرم ہمارے معزز لوگوں میں عام ہو گیا، تو ہم نے یہ پسند نہیں کیا کہ معزز اور شریف آدمی کو چھوڑ دیا جائے اور جو ایسے نہ ہوں ان پر حد جاری کی جائے، تو ہم نے اس حکم ہی کو اپنے اوپر سے اٹھا لیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کا حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیری کتاب میں سے اس حکم کو زندہ کیا ہے جس پر لوگوں نے عمل چھوڑ دیا تھا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن البراء بن عازب، قال مروا على رسول الله صلى الله عليه وسلم بيهودي قد حمم وجهه وهو يطاف به فناشدهم ما حد الزاني في كتابهم قال فاحالوه على رجل منهم فنشده النبي صلى الله عليه وسلم " ما حد الزاني في كتابكم " . فقال الرجم ولكن ظهر الزنا في اشرافنا فكرهنا ان يترك الشريف ويقام على من دونه فوضعنا هذا عنا . فامر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجم ثم قال " اللهم اني اول من احيا ما اماتوا من كتابك
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک یہودی گزارا گیا جس کے منہ پر سیاہی ملی گئی تھی، اسے کوڑے مارے گئے تھے تو آپ نے انہیں بلایا اور پوچھا: کیا تورات میں تم زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ نے ان کے علماء میں سے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: ہم تم سے اس اللہ کا جس نے تورات نازل کی ہے واسطہ دے کر پوچھتے ہیں، بتاؤ کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی حد پاتے ہو؟ اس نے اللہ کا نام لے کر کہا: نہیں، اور اگر آپ مجھے اتنی بڑی قسم نہ دیتے تو میں آپ کو ہرگز نہ بتاتا، ہماری کتاب میں زانی کی حد رجم ہے، لیکن جب ہمارے معزز اور شریف لوگوں میں اس کا کثرت سے رواج ہو گیا تو جب ہم کسی معزز شخص کو اس جرم میں پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کرتے تھے، پھر ہم نے کہا: آؤ ہم تم اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اسے شریف اور کم حیثیت دونوں پر جاری کریں گے، تو ہم نے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے پر اتفاق کر لیا، اور رجم کو چھوڑ دیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا ہے، جبکہ ان لوگوں نے اسے ختم کر دیا تھا پھر آپ نے اسے رجم کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا، اس پر اللہ نے یہ آیت «يا أيها الرسول لا يحزنك الذين يسارعون في الكفر» سے «يقولون إن أوتيتم هذا فخذوه وإن لم تؤتوه فاحذروا» اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھئیے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں، خواہ وہ ان ( منافقوں ) میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن حقیقتاً ان کے دل میں ایمان نہیں، اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو غلط باتیں سننے کے عادی ہیں، اور ان لوگوں کے جاسوس ہیں جو اب تک آپ کے پاس نہیں آئے، وہ کلمات کے اصلی موقع کو چھوڑ کر انہیں متغیر کر دیا کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر تم یہی حکم دیئے جاؤ تو قبول کرنا، اور یہ حکم دیئے جاؤ تو الگ تھلگ رہنا ( سورۃ المائدہ: ۴۱ ) تک، اور «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون» ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت و نور ہے، یہودیوں میں اس تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ماننے والے انبیاء ( علیہم السلام ) اور اہل اللہ، اور علماء فیصلہ کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا۔ اور اس پر اقراری گواہ تھے اب چاہیئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو، اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو، جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وہ ( پورے اور پختہ ) کافر ہیں ( سورۃ المائدہ: ۴۴ ) تک، اور «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون» اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان، اور آنکھ کے بدلے آنکھ، اور ناک کے بدلے ناک، اور کان کے بدلے کان، اور دانت کے بدلے دانت، اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے، پھر جو شخص اس کو معاف کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے، اور جو اللہ کے نازل کئے ہوئے مطابق حکم نہ کریں، وہی لوگ ظالم ہیں ( سورۃ المائدہ: ۴۵ ) تک یہود کے متعلق اتاری، نیز «ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الفاسقون» اور انجیل والوں کو بھی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق حکم کریں، اور جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ سے ہی حکم نہ کریں وہ ( بدکار ) فاسق ہیں ( سورۃ المائدہ: ۴۷ ) تک اتاری۔ یہ ساری آیتیں کافروں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کے کچھ لوگ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر قف ۱؎ لے گئے آپ ان کے پاس بیت المدارس ( مدرسہ ) میں آئے تو وہ کہنے لگے: ابوالقاسم! ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے زنا کر لیا ہے، آپ ان کا فیصلہ کر دیجئیے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک گاؤ تکیہ لگایا، آپ اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے، پھر آپ نے فرمایا: میرے پاس تورات لاؤ چنانچہ وہ لائی گئی، آپ نے اپنے نیچے سے گاؤ تکیہ نکالا، اور تورات کو اس پر رکھا اور فرمایا: میں تجھ پر ایمان لایا اور اس نبی پر جس پر اللہ نے تجھے نازل کیا ہے پھر آپ نے فرمایا: جو تم میں سب سے بڑا عالم ہو اسے بلاؤ چنانچہ ایک نوجوان کو بلا کر لایا گیا آگے واقعہ رجم کا اسی طرح ذکر ہے جیسے مالک کی روایت میں ہے جسے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، حدثنا ابن وهب، حدثني هشام بن سعد، ان زيد بن اسلم، حدثه عن ابن عمر، قال اتى نفر من يهود فدعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم الى القف فاتاهم في بيت المدراس فقالوا يا ابا القاسم ان رجلا منا زنى بامراة فاحكم بينهم فوضعوا لرسول الله صلى الله عليه وسلم وسادة فجلس عليها ثم قال " ايتوني بالتوراة " . فاتي بها فنزع الوسادة من تحته فوضع التوراة عليها ثم قال " امنت بك وبمن انزلك " . ثم قال " ايتوني باعلمكم " . فاتي بفتى شاب ثم ذكر قصة الرجم نحو حديث مالك عن نافع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا تو ان میں سے بعض بعض سے کہنے لگے: ہم سب اس نبی کے پاس چلیں کیونکہ وہ تخفیف و آسانی کے لیے بھیجا گیا ہے، اگر اس نے رجم کے علاوہ کوئی اور فتویٰ دیا تو ہم اسے مان لیں گے، اور اسے اللہ کے سامنے دلیل بنائیں گے، ہم کہیں گے کہ یہ تیرے نبیوں میں سے ایک نبی کا فتویٰ ہے، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ مسجد نبوی میں اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اور پوچھنے لگے: آپ اس مرد اور عورت کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے زنا کیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا جب تک کہ آپ ان کے مدرسہ میں نہیں آ گئے، پھر مدرسہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی ہے بتاؤ تم تورات میں اس شخص کا کیا حکم پاتے ہو جو شادی شدہ ہو کر زنا کرے؟ لوگوں نے کہا: اس کا منہ کالا کیا جائے گا، اسے گدھے پر بٹھا کر پھرایا جائے گا، اور کوڑے لگائے جائیں گے ( «تَجبیہ» یہ ہے کہ مرد اور عورت کو گدھے پر اس طرح سوار کیا جائے کہ ان کی گدی ایک دوسرے کے مقابل میں ہو، اور انہیں پھرایا جائے ) ان میں کا ایک نوجوان چپ رہا، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خاموش دیکھا تو اس سے سخت قسم دلا کر پوچھا، تو اس نے اللہ کا نام لے کر کہا: جب آپ نے ہمیں قسم دلائی ہے تو صحیح یہی ہے کہ تورات میں ایسے شخص کا حکم رجم ہے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کب سے تم لوگوں نے اللہ کے اس حکم کو چھوڑ رکھا ہے؟ تو اس نے بتایا: ہمارے بادشاہوں میں ایک بادشاہ کے کسی رشتہ دار نے زنا کیا تو اس نے اسے رجم نہیں کیا، پھر ایک عام شخص نے زنا کیا، تو بادشاہ نے اسے رجم کرنا چاہا تو اس کی قوم کے لوگ آڑے آ گئے، اور کہنے لگے: ہمارے آدمی کو اس وقت تک رجم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ آپ اپنے آدمی کو لا کر رجم نہ کر دیں، چنانچہ اس سزا پر لوگوں نے آپس میں مصالحت کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو وہی فیصلہ کروں گا جو تورات میں ہے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا۔ زہری کہتے ہیں: ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آیت کریمہ «إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا» ہم نے تورات نازل کیا جس میں ہدایت اور نور ہے اللہ کے ماننے والے انبیاء کرام اسی سے فیصلہ کرتے تھے ( المائدہ: ۴۴ ) انہیں کے بارے میں اتری ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں میں سے تھے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال حدثنا رجل، من مزينة ح وحدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، قال قال محمد بن مسلم سمعت رجلا، من مزينة ممن يتبع العلم ويعيه - ثم اتفقا - ونحن عند سعيد بن المسيب فحدثنا عن ابي هريرة - وهذا حديث معمر وهو اتم - قال زنى رجل من اليهود وامراة فقال بعضهم لبعض اذهبوا بنا الى هذا النبي فانه نبي بعث بالتخفيف فان افتانا بفتيا دون الرجم قبلناها واحتججنا بها عند الله قلنا فتيا نبي من انبيايك - قال - فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس في المسجد في اصحابه فقالوا يا ابا القاسم ما ترى في رجل وامراة زنيا فلم يكلمهم كلمة حتى اتى بيت مدراسهم فقام على الباب فقال " انشدكم بالله الذي انزل التوراة على موسى ما تجدون في التوراة على من زنى اذا احصن " . قالوا يحمم ويجبه ويجلد - والتجبية ان يحمل الزانيان على حمار وتقابل اقفيتهما ويطاف بهما - قال وسكت شاب منهم فلما راه النبي صلى الله عليه وسلم سكت الظ به النشدة فقال اللهم اذ نشدتنا فانا نجد في التوراة الرجم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فما اول ما ارتخصتم امر الله " . قال زنى ذو قرابة مع ملك من ملوكنا فاخر عنه الرجم ثم زنى رجل في اسرة من الناس فاراد رجمه فحال قومه دونه وقالوا لا يرجم صاحبنا حتى تجيء بصاحبك فترجمه فاصطلحوا على هذه العقوبة بينهم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فاني احكم بما في التوراة " . فامر بهما فرجما . قال الزهري فبلغنا ان هذه الاية نزلت فيهم { انا انزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين اسلموا } كان النبي صلى الله عليه وسلم منهم
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن البراء بن عازب، قال مر على رسول الله صلى الله عليه وسلم بيهودي محمم مجلود فدعاهم فقال " هكذا تجدون حد الزاني " . فقالوا نعم . فدعا رجلا من علمايهم قال له " نشدتك بالله الذي انزل التوراة على موسى هكذا تجدون حد الزاني في كتابكم " . فقال اللهم لا ولولا انك نشدتني بهذا لم اخبرك نجد حد الزاني في كتابنا الرجم ولكنه كثر في اشرافنا فكنا اذا اخذنا الرجل الشريف تركناه واذا اخذنا الرجل الضعيف اقمنا عليه الحد فقلنا تعالوا فنجتمع على شىء نقيمه على الشريف والوضيع فاجتمعنا على التحميم والجلد وتركنا الرجم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم اني اول من احيا امرك اذ اماتوه " . فامر به فرجم فانزل الله عز وجل { يا ايها الرسول لا يحزنك الذين يسارعون في الكفر } الى قوله { يقولون ان اوتيتم هذا فخذوه وان لم توتوه فاحذروا } الى قوله { ومن لم يحكم بما انزل الله فاوليك هم الكافرون } في اليهود الى قوله { ومن لم يحكم بما انزل الله فاوليك هم الظالمون } في اليهود الى قوله { ومن لم يحكم بما انزل الله فاوليك هم الفاسقون } قال هي في الكفار كلها يعني هذه الاية