Loading...

Loading...
کتب
۱۴۳ احادیث
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکانے کے متعلق پوچھا کہ کیا یہ مسنون ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا گیا پھر آپ نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے اس کے گلے میں لٹکا دیا گیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عمر بن علي، حدثنا الحجاج، عن مكحول، عن عبد الرحمن بن محيريز، قال سالنا فضالة بن عبيد عن تعليق اليد، في العنق للسارق امن السنة هو قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بسارق فقطعت يده ثم امر بها فعلقت في عنقه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ ڈالو اگرچہ ایک نش ۱؎ میں ہو ۔
حدثنا موسى، - يعني ابن اسماعيل - حدثنا ابو عوانة، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سرق المملوك فبعه ولو بنش
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «واللاتي يأتين الفاحشة من نسائكم فاستشهدوا عليهن أربعة منكم فإن شهدوا فأمسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت أو يجعل الله لهن سبيلا» تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے ( سورۃ النساء: ۱۵ ) اور مرد کا ذکر عورت کے بعد کیا، پھر ان دونوں کا ایک ساتھ ذکر کیا فرمایا: «واللذان يأتيانها منكم فآذوهما فإن تابا وأصلحا فأعرضوا عنهما» تم میں دونوں جو ایسا کر لیں انہیں ایذا دو اور اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو ( سورۃ النساء: ۱۶ ) ، پھر یہ «جَلْد» والی آیت «الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة» زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والے مرد دونوں کو سو سو کوڑے مارو ( سورۃ النور: ۲ ) منسوخ کر دی گئی۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت المروزي، حدثني علي بن الحسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { واللاتي ياتين الفاحشة من نسايكم فاستشهدوا عليهن اربعة منكم فان شهدوا فامسكوهن في البيوت حتى يتوفاهن الموت او يجعل الله لهن سبيلا } وذكر الرجل بعد المراة ثم جمعهما فقال { واللذان ياتيانها منكم فاذوهما فان تابا واصلحا فاعرضوا عنهما } فنسخ ذلك باية الجلد فقال { الزانية والزاني فاجلدوا كل واحد منهما ماية جلدة}
مجاہد کہتے ہیں کہ «سبیل» سے مراد حد ہے۔ سفیان کہتے ہیں: «فآذوهما» سے مراد کنوارا مرد اور کنواری عورت ہے، اور «فأمسكوهن في البيوت» سے مراد غیر کنواری عورتیں ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت، حدثنا موسى، - يعني ابن مسعود - عن شبل، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، قال السبيل الحد قال سفيان { فاذوهما } البكران { فامسكوهن في البيوت } الثيبات
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سیکھ لو، مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے راہ نکال دی ہے غیر کنوارہ مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور رجم ہے اور کنوارا مرد کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن حطان بن عبد الله الرقاشي، عن عبادة بن الصامت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذوا عني خذوا عني قد جعل الله لهن سبيلا الثيب بالثيب جلد ماية ورمى بالحجارة والبكر بالبكر جلد ماية ونفى سنة
اس طریق سے بھی حسن سے یحییٰ والی سند ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے ( جب غیر کنوارا مرد غیر کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو ) سو کوڑے اور رجم ہے۔
حدثنا وهب بن بقية، ومحمد بن الصباح بن سفيان، قالا حدثنا هشيم، عن منصور، عن الحسن، باسناد يحيى ومعناه قالا " جلد ماية والرجم
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ کچھ لوگوں نے سعد بن عبادہ سے کہا: اے ابوثابت! حدود نازل ہو چکے ہیں اگر آپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو کیا کریں، انہوں نے کہا: ان دونوں کا کام تلوار سے تمام کر دوں گا، کیا میں چار گواہ جمع کرنے جاؤں گا تب تک تو وہ اپنا کام پورا کر چکے گا، چنانچہ وہ چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور ان لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ابوثابت کو نہیں سنا وہ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ازروئے گواہ تلوار ہی کافی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، اسے قتل مت کرنا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ غصہ ور، اور غیرت مند پیچھے پڑ کر ( بغیر اس کی تحقیق کئے کہ اس سے زنا سرزد ہوا ہے یا نہیں محض گمان ہی پر ) اسے قتل نہ کر ڈالیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کا ابتدائی حصہ وکیع نے فضل بن دلہم سے، فضل نے حسن سے، حسن نے قبیصہ بن حریث سے، قبیصہ نے سلمہ بن محبق سے سلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، یہ سند جس کا ذکر وکیع نے کیا ہے ابن محبق والی روایت کی سند ہے جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مجامعت کر لی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فضل بن دلہم حافظ حدیث نہیں تھے، وہ واسط میں ایک قصاب تھے۔
حدثنا محمد بن عوف الطايي، حدثنا الربيع بن روح بن خليد، حدثنا محمد بن خالد، - يعني الوهبي - حدثنا الفضل بن دلهم، عن الحسن، عن سلمة بن المحبق، عن عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث فقال ناس لسعد بن عبادة يا ابا ثابت قد نزلت الحدود لو انك وجدت مع امراتك رجلا كيف كنت صانعا قال كنت ضاربهما بالسيف حتى يسكتا افانا اذهب فاجمع اربعة شهداء فالى ذلك قد قضى الحاجة . فانطلقوا فاجتمعوا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله الم تر الى ابي ثابت قال كذا وكذا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كفى بالسيف شاهدا " . ثم قال " لا لا اخاف ان يتتايع فيها السكران والغيران " . قال ابو داود روى وكيع اول هذا الحديث عن الفضل بن دلهم عن الحسن عن قبيصة بن حريث عن سلمة بن المحبق عن النبي صلى الله عليه وسلم . وانما هذا اسناد حديث ابن المحبق ان رجلا وقع على جارية امراته . قال ابو داود الفضل بن دلهم ليس بالحافظ كان قصابا بواسط
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اس میں آپ نے کہا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، تو جو آیتیں آپ پر نازل ہوئیں ان میں آیت رجم بھی ہے، ہم نے اسے پڑھا، اور یاد رکھا، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر زیادہ عرصہ گزر جائے تو کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ ہم اللہ کی کتاب میں آیت رجم نہیں پاتے، تو وہ اس فریضہ کو جسے اللہ نے نازل فرمایا ہے چھوڑ کر گمراہ ہو جائے، لہٰذا مردوں اور عورتوں میں سے جو زنا کرے اسے رجم ( سنگسار ) کرنا برحق ہے، جب وہ شادی شدہ ہو اور دلیل قائم ہو چکی ہو، یا حمل ہو جائے یا اعتراف کرے، اور قسم اللہ کی اگر لوگ یہ نہ کہتے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں زیادتی کی ہے تو میں اسے یعنی آیت رجم کو مصحف میں لکھ دیتا۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا هشيم، حدثنا الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عبد الله بن عباس، ان عمر، - يعني ابن الخطاب - رضى الله عنه خطب فقال ان الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وانزل عليه الكتاب فكان فيما انزل عليه اية الرجم فقراناها ووعيناها ورجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا من بعده واني خشيت - ان طال بالناس الزمان - ان يقول قايل ما نجد اية الرجم في كتاب الله فيضلوا بترك فريضة انزلها الله تعالى فالرجم حق على من زنى من الرجال والنساء اذا كان محصنا اذا قامت البينة او كان حمل او اعتراف وايم الله لولا ان يقول الناس زاد عمر في كتاب الله عز وجل لكتبتها
نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا، ان سے میرے والد نے کہا: جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کر لیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں عورت سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے؟ ماعز نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس سے چمٹے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم ( سنگسار ) کئے جانے کا حکم دیا، انہیں حرہ ۱؎ میں لے جایا گیا، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آ گئے، ان کے ساتھی تھک چکے تھے، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ان سے اسے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ۲؎، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا وكيع، عن هشام بن سعد، قال حدثني يزيد بن نعيم بن هزال، عن ابيه، قال كان ماعز بن مالك يتيما في حجر ابي . فاصاب جارية من الحى فقال له ابي ايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره بما صنعت لعله يستغفر لك وانما يريد بذلك رجاء ان يكون له مخرجا فاتاه فقال يا رسول الله اني زنيت فاقم على كتاب الله . فاعرض عنه فعاد فقال يا رسول الله اني زنيت فاقم على كتاب الله . حتى قالها اربع مرار . قال صلى الله عليه وسلم " انك قد قلتها اربع مرات فبمن " . قال بفلانة . قال " هل ضاجعتها " . قال نعم . قال " هل باشرتها " . قال نعم . قال " هل جامعتها " . قال نعم . قال فامر به ان يرجم فاخرج به الى الحرة . فلما رجم فوجد مس الحجارة جزع فخرج يشتد فلقيه عبد الله بن انيس وقد عجز اصحابه فنزع له بوظيف بعير فرماه به فقتله ثم اتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " هلا تركتموه لعله ان يتوب فيتوب الله عليه
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھ سے حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں: مجھے قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں نے جو تمہیں محبوب ہیں اور جنہیں میں متہم نہیں قرار دیتا بتایا ہے کہ «فهلا تركتموه» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، حسن کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث سمجھی نہ تھی، تو میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اور ان سے کہا کہ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے پتھر پڑنے سے ماعز کی گھبراہٹ کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے ان سے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا یہ بات میرے سمجھ میں نہیں آئی، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! میں اس حدیث کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا جب ہم انہیں لے کر نکلے اور رجم کرنے لگے اور پتھر ان پر پڑنے لگا تو وہ چلائے اور کہنے لگے: لوگو! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لے چلو، میری قوم نے مجھے مار ڈالا، ان لوگوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، انہوں نے مجھے یہ بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مار نہیں ڈالیں گے، لیکن ہم لوگوں نے انہیں جب تک مار نہیں ڈالا چھوڑا نہیں، پھر جب ہم لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، میرے پاس لے آتے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا تاکہ آپ ان سے مزید تحقیق کر لیتے، نہ اس لیے کہ آپ انہیں چھوڑ دیتے، اور حد قائم نہ کرتے، وہ کہتے ہیں: تو میں اس وقت حدیث کا مطلب سمجھ سکا۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا يزيد بن زريع، عن محمد بن اسحاق، قال ذكرت لعاصم بن عمر بن قتادة قصة ماعز بن مالك فقال لي حدثني حسن بن محمد بن علي بن ابي طالب، قال حدثني ذلك، من قول رسول الله صلى الله عليه وسلم " فهلا تركتموه " . من شيتم من رجال اسلم ممن لا اتهم . قال ولم اعرف هذا الحديث قال فجيت جابر بن عبد الله فقلت ان رجالا من اسلم يحدثون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لهم حين ذكروا له جزع ماعز من الحجارة حين اصابته " الا تركتموه " . وما اعرف الحديث قال يا ابن اخي انا اعلم الناس بهذا الحديث كنت فيمن رجم الرجل انا لما خرجنا به فرجمناه فوجد مس الحجارة صرخ بنا يا قوم ردوني الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فان قومي قتلوني وغروني من نفسي واخبروني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غير قاتلي فلم ننزع عنه حتى قتلناه فلما رجعنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم واخبرناه قال " فهلا تركتموه وجيتموني به " . ليستثبت رسول الله صلى الله عليه وسلم منه فاما لترك حد فلا قال فعرفت وجه الحديث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور انہوں نے عرض کیا کہ میں نے زنا کر لیا ہے، آپ نے ان سے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے کئی بار یہی بات دہرائی، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ پھیر لیتے تھے، پھر آپ نے ان کی قوم کے لوگوں سے پوچھا: کیا یہ دیوانہ تو نہیں؟ لوگوں نے کہا: نہیں ایسی کوئی بات نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں واقعی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سنگسار کئے جانے کا حکم دیا، تو انہیں لا کر سنگسار کر دیا گیا، اور آپ نے ان پر جنازہ کی نماز نہیں پڑھی۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد، - يعني الحذاء - عن عكرمة، عن ابن عباس، ان ماعز بن مالك، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال انه زنى . فاعرض عنه فاعاد عليه مرارا فاعرض عنه فسال قومه " امجنون هو " . قالوا ليس به باس . قال " افعلت بها " . قال نعم . فامر به ان يرجم فانطلق به فرجم ولم يصل عليه
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک کو جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، میں نے انہیں دیکھا کہ وہ ایک پست قد فربہ آدمی تھے، ان کے جسم پر چادر نہ تھی، انہوں نے اپنے خلاف خود ہی چار مرتبہ گواہیاں دیں کہ انہوں نے زنا کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے تم نے بوسہ لیا ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، قسم اللہ کی اس رذیل ترین نے زنا کیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کیا، پھر خطبہ دیا، اور فرمایا: آگاہ رہو جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے چلے جاتے ہیں، اور ان میں سے کوئی ان خاندانوں باقی رہ جاتا ہے تو وہ ویسے ہی پھنکارتا ہے جیسے بکرا جفتی کے وقت بکری پر پھنکارتا ہے، پھر وہ ان عورتوں میں سے کسی کو تھوڑا سامان ( جیسے دودھ اور کھجور وغیرہ دے کر اس سے زنا کر بیٹھتا ہے ) تو سن لو! اگر اللہ ایسے کسی آدمی پر ہمیں قدرت بخشے گا تو میں اسے ان سے روکوں گا ( یعنی سزا دوں گا رجم کی یا کوڑے کی ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال رايت ماعز بن مالك حين جيء به الى النبي صلى الله عليه وسلم رجلا قصيرا اعضل ليس عليه رداء فشهد على نفسه اربع مرات انه قد زنى . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلعلك قبلتها " . قال لا والله انه قد زنى الاخر . قال فرجمه ثم خطب فقال " الا كلما نفرنا في سبيل الله عز وجل خلف احدهم له نبيب كنبيب التيس يمنح احداهن الكثبة اما ان الله ان يمكني من احد منهم الا نكلته عنهن
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث سنی ہے، اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز کے اقرار کو دوبار رد کیا، سماک کہتے ہیں: میں نے اسے سعید بن جبیر سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: آپ نے ان کے اقرار کو چار بار رد کیا تھا ۔
حدثنا محمد بن المثنى، عن محمد بن جعفر، عن شعبة، عن سماك، قال سمعت جابر بن سمرة، بهذا الحديث والاول اتم قال فرده مرتين . قال سماك فحدثت به سعيد بن جبير فقال انه رده اربع مرات
شعبہ کہتے ہیں میں نے سماک سے «کثبہ» کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیا ہے تو انہوں نے کہا: «کثبہ» تھوڑے دودھ کو کہتے ہیں۔
حدثنا عبد الغني بن ابي عقيل المصري، حدثنا خالد، - يعني ابن عبد الرحمن - قال قال شعبة فسالت سماكا عن الكثبة فقال اللبن القليل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تمہارے متعلق جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے صحیح ہے؟ وہ بولے: میرے متعلق آپ کو کون سی بات معلوم ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے بنی فلاں کی باندی سے زنا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر چار بار اس کی گواہی دی، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیئے گئے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن سماك بن حرب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لماعز بن مالك " احق ما بلغني عنك " . قال وما بلغك عني قال " بلغني عنك انك وقعت على جارية بني فلان " . قال نعم . فشهد اربع شهادات فامر به فرجم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، اور انہوں نے زنا کا دو بار اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھگا دیا، وہ پھر آئے اور انہوں نے پھر دو بار زنا کا اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اپنے خلاف چار بار گواہی دے دی، لے جاؤ اسے سنگسار کر دو ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا ابو احمد، اخبرنا اسراييل، عن سماك بن حرب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال جاء ماعز بن مالك الى النبي صلى الله عليه وسلم فاعترف بالزنا مرتين فطرده ثم جاء فاعترف بالزنا مرتين فقال " شهدت على نفسك اربع مرات اذهبوا به فارجموه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا: شاید تو نے بوسہ لیا ہو گا، یا ہاتھ سے چھوا ہو گا، یا دیکھا ہو گا؟ انہوں نے کہا: نہیں، ایسا نہیں ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، تو اس اقرار کے بعد آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جرير، حدثني يعلى، عن عكرمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا زهير بن حرب وعقبة بن مكرم قالا حدثنا وهب بن جرير حدثنا ابي قال سمعت يعلى بن حكيم يحدث عن عكرمة عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لماعز بن مالك " لعلك قبلت او غمزت او نظرت " . قال لا . قال " افنكتها " . قال نعم . قال فعند ذلك امر برجمه . ولم يذكر موسى عن ابن عباس وهذا لفظ وهب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی زنا کر لیا ہے، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے، پانچویں بار آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا عضو اس کے عضو میں غائب ہو گیا بولا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی جیسے سلائی سرمہ دانی میں، اور رسی کنویں میں داخل ہو جاتی ہے اس نے کہا: ہاں ایسے ہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے معلوم ہے زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میں نے اس سے حرام طور پر وہ کام کیا ہے، جو آدمی اپنی بیوی سے حلال طور پر کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اچھا، اب تیرا اس سے کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا: میں چاہتا ہوں آپ مجھے گناہ سے پاک کر دیجئیے، پھر آپ نے حکم دیا تو وہ رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کے ساتھیوں میں سے دو شخصوں کو یہ کہتے سنا کہ اس شخص کو دیکھو، اللہ نے اس کی ستر پوشی کی، لیکن یہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکا یہاں تک کہ پتھروں سے اسی طرح مارا گیا جیسے کتا مارا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش رہے، اور تھوڑی دیر چلتے رہے، یہاں تک کہ ایک مرے ہوئے گدھے کی لاش پر سے گزرے جس کے پاؤں اٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں اور فلاں کہاں ہیں؟ وہ دونوں بولے: ہم حاضر ہیں اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اترو اور اس گدھے کا گوشت کھاؤ ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کا گوشت کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عیب جوئی کی ہے وہ اس کے کھانے سے زیادہ سخت ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے کھا رہا ہے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، ان عبد الرحمن بن الصامت ابن عم ابي هريرة، اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول جاء الاسلمي الى نبي الله صلى الله عليه وسلم فشهد على نفسه انه اصاب امراة حراما اربع مرات كل ذلك يعرض عنه النبي صلى الله عليه وسلم فاقبل في الخامسة فقال " انكتها " . قال نعم . قال " حتى غاب ذلك منك في ذلك منها " . قال نعم . قال " كما يغيب المرود في المكحلة والرشاء في البير " . قال نعم . قال " فهل تدري ما الزنا " . قال نعم اتيت منها حراما ما ياتي الرجل من امراته حلالا . قال " فما تريد بهذا القول " . قال اريد ان تطهرني . فامر به فرجم فسمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلين من اصحابه يقول احدهما لصاحبه انظر الى هذا الذي ستر الله عليه فلم تدعه نفسه حتى رجم رجم الكلب . فسكت عنهما ثم سار ساعة حتى مر بجيفة حمار شايل برجله فقال " اين فلان وفلان " . فقالا نحن ذان يا رسول الله . قال " انزلا فكلا من جيفة هذا الحمار " . فقالا يا نبي الله من ياكل من هذا قال " فما نلتما من عرض اخيكما انفا اشد من اكل منه والذي نفسي بيده انه الان لفي انهار الجنة ينقمس فيها
اس سند سے بھی ابوہریرہ سے ایسی ہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ایک درخت سے باندھ دیا گیا تھا اور کچھ کا کہنا ہے کہ اسے ( میدان میں ) کھڑا کر دیا گیا تھا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو عاصم، حدثنا ابن جريج، قال اخبرنا ابو الزبير، عن ابن عم ابي هريرة، عن ابي هريرة، بنحوه زاد واختلفوا فقال بعضهم ربط الى شجرة وقال بعضهم وقف
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا، پھر اس نے آ کر اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے اپنا منہ پھیر لیا، یہاں تک کہ اس نے اپنے خلاف چار بار گواہیاں دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے جنون ہے؟ اس نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو شادی شدہ ہے اس نے کہا: ہاں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا، تو انہیں عید گاہ میں رجم کر دیا گیا، جب ان پر پتھروں کی بارش ہونے لگی تو وہ بھاگے، پھر پکڑ لیے گئے، اور پتھروں سے مارے گئے، یہاں تک کہ ان کی موت ہو گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اور ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، والحسن بن علي، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، ان رجلا، من اسلم جاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعترف بالزنا فاعرض عنه ثم اعترف فاعرض عنه حتى شهد على نفسه اربع شهادات فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " ابك جنون " . قال لا . قال " احصنت " . قال نعم . قال فامر به النبي صلى الله عليه وسلم فرجم في المصلى فلما اذلقته الحجارة فر فادرك فرجم حتى مات فقال له النبي صلى الله عليه وسلم خيرا ولم يصل عليه