Loading...

Loading...
کتب
۱۴۳ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعلانیہ زبردستی کسی کا مال لے کر بھاگ جانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۱؎، اور جو اعلانیہ کسی کا مال لوٹ لے وہ ہم میں سے نہیں ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا محمد بن بكر، حدثنا ابن جريج، قال قال ابو الزبير قال جابر بن عبد الله قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس على المنتهب قطع ومن انتهب نهبة مشهورة فليس منا
اور اسی سند سے مروی ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امانت میں خیانت کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔
وبهذا الاسناد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس على الخاين قطع
جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس میں اتنا اضافہ ہے اور نہ اچکے کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا عيسى بن يونس، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله زاد " ولا على المختلس قطع " . قال ابو داود هذان الحديثان لم يسمعهما ابن جريج من ابي الزبير وبلغني عن احمد بن حنبل انه قال انما سمعهما ابن جريج من ياسين الزيات . قال ابو داود وقد رواهما المغيرة بن مسلم عن ابي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں سویا ہوا تھا، میرے اوپر میری ایک اونی چادر پڑی تھی جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور اسے مجھ سے چھین کر لے کر بھاگا، لیکن وہ پکڑ لیا گیا، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے، تو میں آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا تیس درہم کی وجہ سے آپ اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں گے؟ میں اسے اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں، اور اس کی قیمت اس پر ادھار چھوڑ دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس لانے سے پہلے ہی ایسے ایسے کیوں نہیں کر لیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زائدہ نے سماک سے، سماک نے جعید بن حجیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: صفوان سو گئے تھے اتنے میں چور آیا ۔ اور طاؤس و مجاہد نے اس کو یوں روایت کیا ہے کہ وہ سوئے تھے اتنے میں ایک چور آیا، اور ان کے سر کے نیچے سے چادر چرا لی۔ اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسے یوں روایت کیا ہے کہ اس نے اسے ان کے سر کے نیچے سے کھینچا، تو وہ جاگ گئے، اور چلائے، اور وہ پکڑ لیا گیا۔ اور زہری نے صفوان بن عبداللہ سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ وہ مسجد میں سوئے اور انہوں نے اپنی چادر کو تکیہ بنا لیا، اتنے میں ایک چور آیا، اور اس نے ان کی چادر چرا لی، تو اسے پکڑ لیا گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عمرو بن حماد بن طلحة، حدثنا اسباط، عن سماك بن حرب، عن حميد ابن اخت، صفوان عن صفوان بن امية، قال كنت نايما في المسجد على خميصة لي ثمن ثلاثين درهما فجاء رجل فاختلسها مني فاخذ الرجل فاتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر به ليقطع . قال فاتيته فقلت انقطعه من اجل ثلاثين درهما انا ابيعه وانسيه ثمنها قال " فهلا كان هذا قبل ان تاتيني به " . قال ابو داود ورواه زايدة عن سماك عن جعيد بن جحير قال نام صفوان . ورواه مجاهد وطاوس انه كان نايما فجاء سارق فسرق خميصة من تحت راسه . ورواه ابو سلمة بن عبد الرحمن قال فاستله من تحت راسه فاستيقظ فصاح به فاخذ . ورواه الزهري عن صفوان بن عبد الله قال فنام في المسجد وتوسد رداءه فجاءه سارق فاخذ رداءه فاخذ السارق فجيء به الى النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت لوگوں سے چیزیں منگنی ( مانگ کر ) لے کر مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے جویریہ نے نافع سے، نافع نے ابن عمر سے یا صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ نے تین بار فرمایا: کیا کوئی عورت ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرے؟ وہ وہاں موجود تھی لیکن وہ نہ کھڑی ہوئی اور نہ کچھ بولی ۔ اور اسے ابن غنج نے نافع سے، نافع نے صفیہ بنت ابی عبید سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ نے اس کے خلاف گواہی دی۔
حدثنا الحسن بن علي، ومخلد بن خالد، - المعنى - قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، - قال مخلد عن معمر، - عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان امراة، مخزومية كانت تستعير المتاع وتجحده فامر النبي صلى الله عليه وسلم بها فقطعت يدها . قال ابو داود رواه جويرية عن نافع عن ابن عمر او عن صفية بنت ابي عبيد زاد فيه وان النبي صلى الله عليه وسلم قام خطيبا فقال " هل من امراة تايبة الى الله عز وجل ورسوله " . ثلاث مرات وتلك شاهدة فلم تقم ولم تتكلم . قال ابو داود ورواه ابن غنج عن نافع عن صفية بنت ابي عبيد قال فيه فشهد عليها
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بیان کرتے تھے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ایک عورت نے جسے کوئی نہیں جانتا تھا چند معروف لوگوں کی شہادت اور ذمہ داری پر ایک زیور منگنی لی اور اسے بیچ کر کھا گئی تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، یہ وہی عورت ہے جس کے سلسلہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے سفارش کی تھی، اور اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو فرمانا تھا فرمایا تھا۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا ابو صالح، عن الليث، قال حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال كان عروة يحدث ان عايشة رضى الله عنها قالت استعارت امراة - تعني - حليا على السنة اناس يعرفون ولا تعرف هي فباعته فاخذت فاتي بها النبي صلى الله عليه وسلم فامر بقطع يدها وهي التي شفع فيها اسامة بن زيد وقال فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت سامان منگنی ( مانگ کر ) لیتی اور اس سے مکر جایا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ معمر نے اسی طرح کی روایت بیان کی جیسے قتیبہ نے لیث سے، لیث نے ابن شہاب سے بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كانت امراة مخزومية تستعير المتاع وتجحده فامر النبي صلى الله عليه وسلم بقطع يدها وقص نحو حديث قتيبة عن الليث عن ابن شهاب زاد فقطع النبي صلى الله عليه وسلم يدها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، عن حماد، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رفع القلم عن ثلاثة عن النايم حتى يستيقظ وعن المبتلى حتى يبرا وعن الصبي حتى يكبر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا، تو اسے لے کر لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے واپس لے چلو، پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، کہا: کیوں نہیں؟ ضرور معلوم ہے، تو بولے: پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے؟ بولے: کوئی بات نہیں، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر اسے چھوڑیئے، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اور لگے اللہ اکبر کہنے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي ظبيان، عن ابن عباس، قال اتي عمر بمجنونة قد زنت فاستشار فيها اناسا فامر بها عمر ان ترجم فمر بها على علي بن ابي طالب رضوان الله عليه فقال ما شان هذه قالوا مجنونة بني فلان زنت فامر بها عمر ان ترجم . قال فقال ارجعوا بها ثم اتاه فقال يا امير المومنين اما علمت ان القلم قد رفع عن ثلاثة عن المجنون حتى يبرا وعن النايم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يعقل قال بلى . قال فما بال هذه ترجم قال لا شىء . قال فارسلها . قال فارسلها . قال فجعل يكبر
اس سند سے اعمش سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اس میں بھی «حتى يعقل» ہے اور «عن المجنون حتى يبرأ» کے بجائے «حتى يفيق» ہے، اور «فجعل يكبر» کے بجائے «فجعل عمر يكبر» ہے۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا وكيع، عن الاعمش، نحوه وقال ايضا حتى يعقل . وقال وعن المجنون حتى يفيق . قال فجعل عمر يكبر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اسے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزارا گیا، آگے اسی طرح جیسے عثمان بن ابی شیبہ کی روایت کا مفہوم ہے، اس میں ہے: کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے تو عمر رضی اللہ عنہ بولے: تم نے سچ کہا، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
حدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني جرير بن حازم، عن سليمان بن مهران، عن ابي ظبيان، عن ابن عباس، قال مر على علي بن ابي طالب رضى الله عنه بمعنى عثمان . قال اوما تذكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رفع القلم عن ثلاثة عن المجنون المغلوب على عقله حتى يفيق وعن النايم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يحتلم " . قال صدقت قال فخلى عنها سبيلها
ابوظبیان جنی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، تو انہوں نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، علی رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا، تو عمر کو اس کی خبر دی گئی تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلاؤ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: امیر المؤمنین! آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور دیوانہ سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے اور یہ تو دیوانی اور پاگل ہے، فلاں قوم کی ہے، ہو سکتا ہے اس کے پاس جو آیا ہو اس حالت میں آیا ہو کہ وہ دیوانگی کی شدت میں مبتلاء رہی ہو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت دیوانی تھی، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ نہیں تھی۔
حدثنا هناد، عن ابي الاحوص، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، - المعنى - عن عطاء بن السايب، عن ابي ظبيان، - قال هناد - الجنبي قال اتي عمر بامراة قد فجرت فامر برجمها فمر علي رضى الله عنه فاخذها فخلى سبيلها فاخبر عمر قال ادعوا لي عليا . فجاء علي رضى الله عنه فقال يا امير المومنين لقد علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رفع القلم عن ثلاثة عن الصبي حتى يبلغ وعن النايم حتى يستيقظ وعن المعتوه حتى يبرا " . وان هذه معتوهة بني فلان لعل الذي اتاها اتاها وهي في بلايها . قال فقال عمر لا ادري . فقال علي عليه السلام وانا لا ادري
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، اور دیوانے سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے قاسم بن یزید سے انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے، علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اس میں کھوسٹ بوڑھے کا اضافہ ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن خالد، عن ابي الضحى، عن علي، عليه السلام عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رفع القلم عن ثلاثة عن النايم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يحتلم وعن المجنون حتى يعقل " . قال ابو داود رواه ابن جريج عن القاسم بن يزيد عن علي رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم زاد فيه " والخرف
عطیہ قرظی کہتے ہیں کہ بنی قریظہ کے قیدیوں میں میں بھی تھا تو لوگ دیکھتے تھے جس کے زیر ناف کے بال اگے ہوتے انہیں قتل کر دیتے تھے اور جن کے بال نہیں اگے تھے انہیں قتل نہیں کرتے، تو میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، اخبرنا عبد الملك بن عمير، حدثني عطية القرظي، قال كنت من سبى بني قريظة فكانوا ينظرون فمن انبت الشعر قتل ومن لم ينبت لم يقتل فكنت فيمن لم ينبت
عبدالملک بن عمیر سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے انہوں نے میرے زیر ناف کا حصہ کھولا تو دیکھا کہ وہ اگا نہیں تھا تو مجھے قیدی بنا لیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن عبد الملك بن عمير، بهذا الحديث قال فكشفوا عانتي فوجدوها لم تنبت فجعلوني في السبى
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد کے دن پیش کئے گئے تو ان کی عمر چودہ سال کی تھی آپ نے انہیں جنگ میں شمولیت کی اجازت نہیں دی، اور غزوہ خندق میں پیش ہوئے تو پندرہ سال کے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم عرضه يوم احد وهو ابن اربع عشرة سنة فلم يجزه وعرضه يوم الخندق وهو ابن خمس عشرة سنة فاجازه
نافع کہتے ہیں اس حدیث کو میں نے عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: یہی بالغ اور نابالغ کی حد ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن ادريس، عن عبيد الله بن عمر، قال قال نافع حدثت بهذا الحديث، عمر بن عبد العزيز فقال ان هذا الحد بين الصغير والكبير
جنادہ بن ابی امیہ کہتے ہیں کہ ہم بسر بن ارطاۃ کے ساتھ سمندری سفر پر تھے کہ ان کے پاس ایک چور لایا گیا جس کا نام مصدر تھا اس نے ایک اونٹ چرایا تھا تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: سفر میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اگر آپ کا یہ فرمان نہ ہوتا تو میں ضرور اسے کاٹ ڈالتا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني حيوة بن شريح، عن عياش بن عباس القتباني، عن شييم بن بيتان، ويزيد بن صبح الاصبحي، عن جنادة بن ابي امية، قال كنا مع بسر بن ارطاة في البحر فاتي بسارق يقال له مصدر قد سرق بختية فقال قد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تقطع الايدي في السفر " . ولولا ذلك لقطعته
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! میں نے کہا: حاضر ہوں، اور حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب لوگوں کو موت پہنچے گی اور گھر یعنی قبر ایک خادم کے بدلہ میں خریدی جائیگی؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، یا جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر کو لازم پکڑنا یا فرمایا: اس دن صبر کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان کہتے ہیں: کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت کے گھر میں گھسا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي عمران، عن المشعث بن طريف، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر " . قلت لبيك يا رسول الله وسعديك . فقال " كيف انت اذا اصاب الناس موت يكون البيت فيه بالوصيف " . يعني القبر . قلت الله ورسوله اعلم او ما خار الله لي ورسوله . قال " عليك بالصبر " . او قال " تصبر " . قال ابو داود قال حماد بن ابي سليمان يقطع النباش لانه دخل على الميت بيته
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر اسی شخص کو دوسری بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو لوگوں نے پھر یہی کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اس کا ہاتھ کاٹ دو تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر وہی شخص تیسری بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو قتل کر دو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے صرف چوری ہی تو کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اس کا ایک پیر کاٹ دو پھر اسے پانچویں بار لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم اسے لے گئے اور ہم نے اسے قتل کر دیا، اور گھسیٹ کر اسے ایک کنویں میں ڈال دیا، اور اس پر پتھر مارے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن عبيد بن عقيل الهلالي، حدثنا جدي، عن مصعب بن ثابت بن عبد الله بن الزبير، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال جيء بسارق الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اقتلوه " . فقالوا يا رسول الله انما سرق . فقال " اقطعوه " . قال فقطع ثم جيء به الثانية فقال " اقتلوه " . فقالوا يا رسول الله انما سرق . فقال " اقطعوه " . قال فقطع ثم جيء به الثالثة فقال " اقتلوه " . فقالوا يا رسول الله انما سرق . قال " اقطعوه " . ثم اتي به الرابعة فقال " اقتلوه " . فقالوا يا رسول الله انما سرق . قال " اقطعوه " . فاتي به الخامسة فقال " اقتلوه " . قال جابر فانطلقنا به فقتلناه ثم اجتررناه فالقيناه في بير ورمينا عليه الحجارة