Loading...

Loading...
کتب
۱۴۳ احادیث
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ یہ حدود کے نازل کئے جانے سے پہلے کی ہے یعنی انس رضی اللہ عنہ کی روایت۔
حدثنا محمد بن كثير، قال اخبرنا ح، وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا همام، عن قتادة، عن محمد بن سيرين، قال كان هذا قبل ان تنزل الحدود يعني حديث انس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا أو تقطع أيديهم وأرجلهم من خلاف أو ينفوا من الأرض» سے «غفور رحيم» تک مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے تو جو اس پر قابو پائے جانے سے پہلے توبہ کر لے تو ایسا نہ ہو گا کہ اس کے ذمہ سے حد ساقط ہو جائے ۲؎۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت، حدثنا علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { انما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الارض فسادا ان يقتلوا او يصلبوا او تقطع ايديهم وارجلهم من خلاف او ينفوا من الارض } الى قوله { غفور رحيم } نزلت هذه الاية في المشركين فمن تاب منهم قبل ان يقدر عليه لم يمنعه ذلك ان يقام فيه الحد الذي اصابه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قریش کو ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی کے معاملہ نے فکرمند کر دیا، وہ کہنے لگے: اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اور کس کو اس کی جرات ہو سکتی ہے؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسامہ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، آپ نے اس خطبہ میں فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کیونکہ ان میں جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کسی کمزور سے یہ جرم سرزد ہو جاتا تو اس پر حد قائم کرتے، قسم اللہ کی اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ ڈالوں گا ۔
حدثنا يزيد بن خالد بن عبد الله بن موهب الهمداني، قال حدثني ح، وحدثنا قتيبة بن سعيد الثقفي، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها ان قريشا، اهمهم شان المراة المخزومية التي سرقت فقالوا من يكلم فيها تعني رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا ومن يجتري الا اسامة بن زيد حب رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلمه اسامة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا اسامة اتشفع في حد من حدود الله " . ثم قام فاختطب فقال " انما هلك الذين من قبلكم انهم كانوا اذا سرق فيهم الشريف تركوه واذا سرق فيهم الضعيف اقاموا عليه الحد وايم الله لو ان فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ کر لے جایا کرتی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کر دیا کرتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ لیا جائے۔ اور معمر نے لیث جیسی روایت بیان کی اس میں ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن وہب نے اس حدیث کو یونس سے، یونس نے زہری سے روایت کیا، اور اس میں ویسے ہی ہے جیسے لیث نے کہا ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فتح مکہ کے سال چوری کی۔ اور اسے لیث نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ اس عورت نے ( کوئی چیز ) منگنی ( مانگ کر ) لی تھی ( پھر وہ مکر گئی تھی ) ۔ اور اسے مسعود بن اسود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مثل روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے ایک چادر چرائی تھی۔ اور ابوزبیر نے جابر سے اسے یوں روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے چوری کی، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب کی پناہ لی۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كانت امراة مخزومية تستعير المتاع وتجحده فامر النبي صلى الله عليه وسلم بقطع يدها وقص نحو حديث الليث قال فقطع النبي صلى الله عليه وسلم يدها . قال ابو داود روى ابن وهب هذا الحديث عن يونس عن الزهري وقال فيه كما قال الليث ان امراة سرقت في عهد النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة الفتح . ورواه الليث عن يونس عن ابن شهاب باسناده فقال استعارت امراة . وروى مسعود بن الاسود عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا الخبر قال سرقت قطيفة من بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود ورواه ابو الزبير عن جابر ان امراة سرقت فعاذت بزينب بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صاحب حیثیت اور محترم وبا وقار لوگوں کی لغزشوں کو معاف کر دیا کرو سوائے حدود کے ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، ومحمد بن سليمان الانباري، قالا اخبرنا ابن ابي فديك، عن عبد الملك بن زيد، - نسبه جعفر الى سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل - عن محمد بن ابي بكر، عن عمرة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقيلوا ذوي الهييات عثراتهم الا الحدود
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حدود کو آپس میں نظر انداز کرو، جب حد میں سے کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی ( اسے معاف نہیں کیا جا سکتا ) ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، قال سمعت ابن جريج، يحدث عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تعافوا الحدود فيما بينكم فما بلغني من حد فقد وجب
نعیم بن ہزال اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماعز رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے پاس چار دفعہ زنا کا اقرار کیا، تو آپ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، اور ہزال ( جس نے ان سے اقرار کے لیے کہا تھا ) سے کہا: اگر تم اسے اپنے کپڑے ڈال کر چھپا لیتے تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہوتا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن زيد بن اسلم، عن يزيد بن نعيم، عن ابيه، ان ماعزا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فاقر عنده اربع مرات فامر برجمه وقال لهزال " لو سترته بثوبك كان خيرا لك
ابن المنکدر سے روایت ہے کہ ہزال رضی اللہ عنہ نے ماعز رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں اور آپ کو بتا دیں۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا يحيى، عن ابن المنكدر، ان هزالا، امر ماعزا ان ياتي النبي صلى الله عليه وسلم فيخبره
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک مرد ملا اور اسے دبوچ لیا، اور اس سے اپنی خواہش پوری کی تو وہ چلائی، وہ جا چکا تھا، اتنے میں اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا تو وہ کہنے لگی کہ اس ( فلاں ) نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت بھی آ گئی ان سے بھی اس نے یہی کہا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، تو وہ سب گئے اور اس شخص کو پکڑا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے، اور اسے لے کر آئے، تو اس نے کہا: ہاں اسی نے کیا ہے، چنانچہ وہ لوگ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا ( کہ اس پر حد جاری کی جائے ) یہ دیکھ کر اصل شخص جس نے اس سے صحبت کی تھی کھڑا ہو گیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! فی الواقع یہ کام میں نے کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا ( کیونکہ یہ تیری رضا مندی سے نہیں ہوا تھا ) اور اس آدمی سے بھلی بات کہی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد وہ آدمی ہے ( ناحق ) جو پکڑا گیا تھا، اور اس آدمی کے متعلق جس نے زنا کیا تھا فرمایا: اس کو رجم کر دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ سارے مدینہ کے لوگ ایسی توبہ کریں تو ان کی طرف سے وہ قبول ہو جائے ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا الفريابي، حدثنا اسراييل، حدثنا سماك بن حرب، عن علقمة بن وايل، عن ابيه، ان امراة، خرجت على عهد النبي صلى الله عليه وسلم تريد الصلاة فتلقاها رجل فتجللها فقضى حاجته منها فصاحت وانطلق فمر عليها رجل فقالت ان ذاك فعل بي كذا وكذا ومرت عصابة من المهاجرين فقالت ان ذلك الرجل فعل بي كذا وكذا . فانطلقوا فاخذوا الرجل الذي ظنت انه وقع عليها فاتوها به فقالت نعم هو هذا . فاتوا به النبي صلى الله عليه وسلم فلما امر به قام صاحبها الذي وقع عليها فقال يا رسول الله انا صاحبها . فقال " اذهبي فقد غفر الله لك " . وقال للرجل قولا حسنا . قال ابو داود يعني الرجل الماخوذ وقال للرجل الذي وقع عليها " ارجموه " . فقال " لقد تاب توبة لو تابها اهل المدينة لقبل منهم " . قال ابو داود رواه اسباط بن نصر ايضا عن سماك
ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے چوری کا اعتراف کر لیا تھا، لیکن اس کے پاس کوئی سامان نہیں پایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ تم نے چوری کی ہے اس نے کہا: کیوں نہیں، ضرور چرایا ہے، اسی طرح اس نے آپ سے دو یا تین بار دہرایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا، تو اس کا ہاتھ کاٹ لیا گیا، اور اسے لایا گیا، تو آپ نے فرمایا: اللہ سے مغفرت طلب کرو، اور اس سے توبہ کرو اس نے کہا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اور اس سے توبہ کرتا ہوں، تو آپ نے تین بار فرمایا: اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو بن عاصم نے اسے ہمام سے، ہمام نے اسحاق بن عبداللہ سے، اسحاق نے ابوامیہ انصاری سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن ابي المنذر، مولى ابي ذر عن ابي امية المخزومي، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي بلص قد اعترف اعترافا ولم يوجد معه متاع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اخالك سرقت " . قال بلى . فاعاد عليه مرتين او ثلاثا فامر به فقطع وجيء به فقال " استغفر الله وتب اليه " . فقال استغفر الله واتوب اليه فقال " اللهم تب عليه " . ثلاثا . قال ابو داود رواه عمرو بن عاصم عن همام عن اسحاق بن عبد الله قال عن ابي امية رجل من الانصار عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حد کا مرتکب ہو گیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کر دیا ۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا عمر بن عبد الواحد، عن الاوزاعي، قال حدثني ابو عمار، حدثني ابو امامة، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني اصبت حدا فاقمه على . قال " توضات حين اقبلت " . قال نعم . قال " هل صليت معنا حين صلينا " . قال نعم . قال " اذهب فان الله تعالى قد عفا عنك
ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہ کلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا، پھر وہ سب نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہو گی جتنا ان کو مارا تھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ آپ کا فیصلہ ہے؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس قول سے نعمان رضی اللہ عنہ نے ڈرا دیا، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا بقية، حدثنا صفوان، حدثنا ازهر بن عبد الله الحرازي، ان قوما، من الكلاعيين سرق لهم متاع فاتهموا اناسا من الحاكة فاتوا النعمان بن بشير صاحب النبي صلى الله عليه وسلم فحبسهم اياما ثم خلى سبيلهم فاتوا النعمان فقالوا خليت سبيلهم بغير ضرب ولا امتحان . فقال النعمان ما شيتم ان شيتم ان اضربهم فان خرج متاعكم فذاك والا اخذت من ظهوركم مثل ما اخذت من ظهورهم . فقالوا هذا حكمك فقال هذا حكم الله وحكم رسوله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود انما ارهبهم بهذا القول اى لا يجب الضرب الا بعد الاعتراف
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں ( چور کا ہاتھ ) کاٹتے تھے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن الزهري، قال سمعته منه، عن عمرة، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقطع في ربع دينار فصاعدا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چور کا ہاتھ چوتھائی دینار، یا اس سے زائد میں کاٹا جائے ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں کٹے گا۔
حدثنا احمد بن صالح، ووهب بن بيان، قالا حدثنا ح، وحدثنا ابن السرح، قال اخبرنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، وعمرة، عن عايشة، رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تقطع يد السارق في ربع دينار فصاعدا " . قال احمد بن صالح القطع في ربع دينار فصاعدا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال میں جس کی قیمت تین درہم تھی ( چور کا ہاتھ ) کاٹا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قطع في مجن ثمنه ثلاثة دراهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترہ سے ایک ڈھال چرائی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني اسماعيل بن امية، ان نافعا، مولى عبد الله بن عمر حدثه ان عبد الله بن عمر حدثهم ان النبي صلى الله عليه وسلم قطع يد رجل سرق ترسا من صفة النساء ثمنه ثلاثة دراهم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال کے ( چرانے پر ) کاٹا جس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن ابي السري العسقلاني، - وهذا لفظه وهو اتم - قالا حدثنا ابن نمير عن محمد بن اسحاق عن ايوب بن موسى عن عطاء عن ابن عباس قال قطع رسول الله صلى الله عليه وسلم يد رجل في مجن قيمته دينار او عشرة دراهم . قال ابو داود رواه محمد بن سلمة وسعدان بن يحيى عن ابن اسحاق باسناده
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ ایک غلام نے ایک کھجور کے باغ سے ایک شخص کے کھجور کا پودا چرا لیا اور اسے لے جا کر اپنے مالک کے باغ میں لگا دیا، پھر پودے کا مالک اپنا پودا ڈھونڈنے نکلا تو اسے ( ایک باغ میں لگا ) پایا تو اس نے مروان بن حکم سے جو اس وقت مدینہ کے حاکم تھے غلام کے خلاف شکایت کی مروان نے اس غلام کو قید کر لیا اور اس کا ہاتھ کاٹنا چاہا تو غلام کا مالک رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، اور ان سے اس سلسلہ میں مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اسے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پھل اور جمار ( کھجور کے درخت کے پیڑی کا گابھا ) کی چوری میں ہاتھ نہیں کٹے گا تو اس شخص نے کہا: مروان نے میرے غلام کو پکڑ رکھا ہے وہ اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتے ہیں میری خواہش ہے کہ آپ میرے ساتھ ان کے پاس چلیں اور اسے وہ بتائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ چلے، اور مروان کے پاس آئے، اور ان سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پھل اور گابھا کے ( چرانے میں ) ہاتھ نہیں کٹے گا مروان نے یہ سنا تو اس غلام کو چھوڑ دینے کا حکم دے دیا، چنانچہ اسے چھوڑ دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «کثر» کے معنیٰ «جمار» کے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك بن انس، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، ان عبدا، سرق وديا من حايط رجل فغرسه في حايط سيده فخرج صاحب الودي يلتمس وديه فوجده فاستعدى على العبد مروان بن الحكم وهو امير المدينة يوميذ فسجن مروان العبد واراد قطع يده فانطلق سيد العبد الى رافع بن خديج فساله عن ذلك فاخبره انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا قطع في ثمر ولا كثر " . فقال الرجل ان مروان اخذ غلامي وهو يريد قطع يده وانا احب ان تمشي معي اليه فتخبره بالذي سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم فمشى معه رافع بن خديج حتى اتى مروان بن الحكم فقال له رافع سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا قطع في ثمر ولا كثر " . فامر مروان بالعبد فارسل . قال ابو داود الكثر الجمار
اس سند سے بھی محمد بن یحییٰ بن حبان سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے مروان نے اسے کچھ کوڑے مار کر چھوڑ دیا۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد، حدثنا يحيى، عن محمد بن يحيى بن حبان، بهذا الحديث قال فجلده مروان جلدات وخلى سبيله
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھلوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: جس ضرورت مند نے اسے کھا لیا، اور جمع کر کے نہیں رکھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو اس میں سے کچھ لے جائے تو اس پر اس کا دوگنا تاوان اور سزا ہو گی اور جو اسے کھلیان میں جمع کئے جانے کے بعد چرائے اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو پھر اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده عبد الله بن عمرو بن العاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه سيل عن الثمر المعلق فقال " من اصاب بفيه من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شىء عليه ومن خرج بشىء منه فعليه غرامة مثليه والعقوبة ومن سرق منه شييا بعد ان ييويه الجرين فبلغ ثمن المجن فعليه القطع ومن سرق دون ذلك فعليه غرامة مثليه والعقوبة " . قال ابو داود الجرين الجوخان