Loading...

Loading...
کتب
۱۴۳ احادیث
عکرمہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جو اسلام سے پھر گئے تھے آگ میں جلوا دیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: مجھے یہ زیب نہیں دیتا کہ میں انہیں جلاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم انہیں وہ عذاب نہ دو جو اللہ کے ساتھ مخصوص ہے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی رو سے انہیں قتل کر دیتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو اسلام چھوڑ کر کوئی اور دین اختیار کر لے اسے قتل کر دو پھر جب علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا: اللہ ابن عباس کی ماں پر رحم فرمائے انہوں نے بڑی اچھی بات کہی۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، اخبرنا ايوب، عن عكرمة، ان عليا، عليه السلام احرق ناسا ارتدوا عن الاسلام فبلغ ذلك ابن عباس فقال لم اكن لاحرقهم بالنار ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تعذبوا بعذاب الله " . وكنت قاتلهم بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من بدل دينه فاقتلوه " . فبلغ ذلك عليا عليه السلام فقال ويح ابن عباس
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کا جو صرف اللہ کے معبود ہونے، اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو خون حلال نہیں، سوائے تین صورتوں کے: یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو، یا اس نے کسی کا قتل کیا ہو تو اس کو اس کے بدلہ قتل کیا جائے گا، یا اپنا دین چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو گیا ہو ۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل دم رجل مسلم يشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله الا باحدى ثلاث الثيب الزاني والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون جو صرف اللہ کے معبود ہونے اور میرے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے ایک وہ شخص جو شادی شدہ ہو اور اس کے بعد زنا کا ارتکاب کرے تو وہ رجم کیا جائے گا، دوسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے نکلا ہو تو وہ قتل کیا جائے گا، یا اسے سولی دے دی جائے گی، یا وہ جلا وطن کر دیا جائے گا، تیسرے جس نے کسی کو قتل کیا ہو تو اس کے بدلے وہ قتل کیا جائے گا ۔
حدثنا محمد بن سنان الباهلي، حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن عبد العزيز بن رفيع، عن عبيد بن عمير، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل دم امري مسلم يشهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله الا باحدى ثلاث رجل زنى بعد احصان فانه يرجم ورجل خرج محاربا لله ورسوله فانه يقتل او يصلب او ينفى من الارض او يقتل نفسا فيقتل بها
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے ساتھ قبیلہ اشعر کے دو شخص تھے، ایک میرے دائیں طرف تھا دوسرا بائیں طرف، تو دونوں نے آپ سے عامل کا عہدہ طلب کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر فرمایا: ابوموسیٰ! یا فرمایا: عبداللہ بن قیس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، ان دونوں نے مجھے اس چیز سے آگاہ نہیں کیا تھا جو ان کے دل میں تھا، اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ آپ سے عامل بنائے جانے کا مطالبہ کریں گے، گویا میں اس وقت آپ کی مسواک کو دیکھ رہا ہوں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسوڑھے کے نیچے تھی اور مسوڑھا اس کی وجہ سے اوپر اٹھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اپنے کام پر اس شخص کو ہرگز عامل نہیں بنائیں گے یا عامل نہیں بناتے جو عامل بننے کی خواہش کرے، لیکن اے ابوموسیٰ! یا آپ نے فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! اس کام کے لیے تم جاؤ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیج دیا، پھر ان کے پیچھے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھیجا، جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: اترو، اور ایک گاؤ تکیہ ان کے لیے لگا دیا، تو اچانک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی ان کے پاس بندھا ہوا ہے، معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کیسا آدمی ہے؟ ابوموسیٰ نے کہا: یہ ایک یہودی تھا جو اسلام لے آیا تھا، لیکن اب پھر وہ اپنے باطل دین کی طرف پھر گیا ہے، معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے مطابق جب تک یہ قتل نہ کر دیا جائے میں نہیں بیٹھ سکتا، ابوموسیٰ نے کہا: اچھا بیٹھئیے، معاذ نے پھر کہا: اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کی رو سے جب تک وہ قتل نہ کر دیا جائے میں نہیں بیٹھ سکتا، آپ نے تین بار ایسا کہا، چنانچہ انہوں نے اس کے قتل کا حکم دیا، وہ قتل کر دیا گیا، ( پھر وہ بیٹھے ) پھر ان دونوں نے آپس میں قیام اللیل ( تہجد کی نماز ) کا ذکر کیا تو ان دونوں میں سے ایک نے غالباً وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے کہا: رہا میں، تو میں سوتا بھی ہوں، اور قیام بھی کرتا ہوں، یا کہا قیام بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور بحالت نیند بھی اسی ثواب کی امید رکھتا ہوں جو بحالت قیام رکھتا ہوں۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومسدد، قالا حدثنا يحيى بن سعيد، - قال مسدد - حدثنا قرة بن خالد، قال حدثنا حميد بن هلال، حدثنا ابو بردة، قال قال ابو موسى اقبلت الى النبي صلى الله عليه وسلم ومعي رجلان من الاشعريين احدهما عن يميني والاخر عن يساري فكلاهما سال العمل والنبي صلى الله عليه وسلم ساكت فقال " ما تقول يا ابا موسى " . او " يا عبد الله بن قيس " . قلت والذي بعثك بالحق ما اطلعاني على ما في انفسهما وما شعرت انهما يطلبان العمل . قال وكاني انظر الى سواكه تحت شفته قلصت قال " لن نستعمل - او لا نستعمل - على عملنا من اراده ولكن اذهب انت يا ابا موسى او يا عبد الله بن قيس " . فبعثه على اليمن ثم اتبعه معاذ بن جبل قال فلما قدم عليه معاذ قال انزل . والقى له وسادة فاذا رجل عنده موثق قال ما هذا قال هذا كان يهوديا فاسلم ثم راجع دينه دين السوء . قال لا اجلس حتى يقتل قضاء الله ورسوله . قال اجلس نعم . قال لا اجلس حتى يقتل قضاء الله ورسوله . ثلاث مرات فامر به فقتل ثم تذاكرا قيام الليل فقال احدهما معاذ بن جبل اما انا فانام واقوم - او اقوم وانام - وارجو في نومتي ما ارجو في قومتي
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس معاذ رضی اللہ عنہ آئے، میں یمن میں تھا، ایک یہودی نے اسلام قبول کر لیا، پھر وہ اسلام سے مرتد ہو گیا، تو جب معاذ رضی اللہ عنہ آئے کہنے تو لگے: میں اس وقت تک اپنی سواری سے نہیں اتر سکتا جب تک وہ قتل نہ کر دیا جائے چنانچہ وہ قتل کر دیا گیا، اس سے پہلے اسے توبہ کے لیے کہا جا چکا تھا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا الحماني، - يعني عبد الحميد بن عبد الرحمن - عن طلحة بن يحيى، وبريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قدم على معاذ وانا باليمن، ورجل، كان يهوديا فاسلم فارتد عن الاسلام، فلما قدم معاذ قال لا انزل عن دابتي حتى يقتل . فقتل . قال احدهما وكان قد استتيب قبل ذلك
اس سند سے بھی ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتے ہیں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لے کر آیا گیا جو اسلام سے مرتد گیا تھا، بیس دن تک یا اس کے لگ بھگ وہ اسے اسلام کی دعوت دیتے رہے کہ اسی دوران معاذ رضی اللہ عنہ آ گئے تو آپ نے بھی اسے اسلام کی دعوت دی لیکن اس نے انکار کر دیا تو آپ نے اس کی گردن مار دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن عمیر نے ابوبردہ سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے اس میں توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے اور اسے ابن فضیل نے شیبانی سے شیبانی نے سعید بن ابی بردہ سے، ابوبردہ نے اپنے والد ابوبردہ سے اور ابوبردہ نے ابوموسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے اور اس میں بھی انہوں نے توبہ کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا حفص، حدثنا الشيباني، عن ابي بردة، بهذه القصة قال فاتي ابو موسى برجل قد ارتد عن الاسلام، فدعاه عشرين ليلة او قريبا منها فجاء معاذ فدعاه فابى فضرب عنقه . قال ابو داود ورواه عبد الملك بن عمير عن ابي بردة لم يذكر الاستتابة ورواه ابن فضيل عن الشيباني عن سعيد بن ابي بردة عن ابيه عن ابي موسى ولم يذكر فيه الاستتابة
قاسم سے بھی یہی واقعہ مروی ہے اس میں ہے کہ جب تک اس کی گردن مار نہیں دی گئی وہ سواری سے نیچے نہیں اترے اور انہوں نے اس سے توبہ نہیں کرائی ۱؎۔
حدثنا ابن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا المسعودي، عن القاسم، بهذه القصة قال فلم ينزل حتى ضرب عنقه وما استتابه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا، پھر شیطان نے اس کو بہکا لیا، اور وہ کافروں سے جا ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن اس کے قتل کا حکم دیا، پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان مانگی تو آپ نے اسے امان دی۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثنا علي بن الحسين بن واقد، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان عبد الله بن سعد بن ابي سرح يكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم فازله الشيطان فلحق بالكفار فامر به رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقتل يوم الفتح فاستجار له عثمان بن عفان فاجاره رسول الله صلى الله عليه وسلم
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، پھر آپ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لا کھڑا کیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف تین بار دیکھا، ہر بار آپ انکار فرماتے رہے، پھر تین دفعہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا نیک بخت انسان نہیں تھا کہ اس وقت اسے کھڑا ہوا پا کر قتل کر دیتا، جب اس نے یہ دیکھ لیا تھا کہ میں اس سے بیعت کے لیے اپنا ہاتھ روکے ہوئے ہوں تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا جو منشا تھا ہمیں معلوم نہ ہو سکا، آپ نے اپنی آنکھ سے ہمیں اشارہ کیوں نہیں کر دیا ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کنکھیوں سے پوشیدہ اشارے کرے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا احمد بن المفضل، حدثنا اسباط بن نصر، قال زعم السدي عن مصعب بن سعد، عن سعد، قال لما كان يوم فتح مكة اختبا عبد الله بن سعد بن ابي سرح عند عثمان بن عفان فجاء به حتى اوقفه على النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله بايع عبد الله . فرفع راسه فنظر اليه ثلاثا كل ذلك يابى فبايعه بعد ثلاث ثم اقبل على اصحابه فقال " اما كان فيكم رجل رشيد يقوم الى هذا حيث راني كففت يدي عن بيعته فيقتله " . فقالوا ما ندري يا رسول الله ما في نفسك الا اومات الينا بعينك قال " انه لا ينبغي لنبي ان تكون له خاينة الاعين
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب غلام دارالحرب بھاگ جائے تو اس کا خون مباح ہو گیا ۱؎ ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن الشعبي، عن جرير، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اذا ابق العبد الى الشرك فقد حل دمه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کے پاس ایک ام ولد تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، وہ نابینا اسے روکتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، وہ اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی طرح باز نہیں آتی تھی حسب معمول ایک رات اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو شروع کی، اور آپ کو گالیاں دینے لگی، تو اس ( اندھے ) نے ایک چھری لی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا کر اسے ہلاک کر دیا، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان اس کے پیٹ سے ایک بچہ گرا جس نے اس جگہ کو جہاں وہ تھی خون سے لت پت کر دیا، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حادثہ کا ذکر کیا گیا، آپ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور فرمایا: جس نے یہ کیا ہے میں اس سے اللہ کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہو جائے تو وہ اندھا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھاندتے اور ہانپتے کانپتے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول میں اس کا مولی ہوں، وہ آپ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی صورت سے باز نہیں آتی تھی، میرے اس سے موتیوں کے مانند دو بچے ہیں، وہ مجھے بڑی محبوب تھی تو جب کل رات آئی حسب معمول وہ آپ کو گالیاں دینے لگی، اور ہجو کرنی شروع کی، میں نے ایک چھری اٹھائی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا، وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مار ہی ڈالا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سنو تم گواہ رہنا کہ اس کا خون لغو ہے ۔
حدثنا عباد بن موسى الختلي، اخبرنا اسماعيل بن جعفر المدني، عن اسراييل، عن عثمان الشحام، عن عكرمة، قال حدثنا ابن عباس، ان اعمى، كانت له ام ولد تشتم النبي صلى الله عليه وسلم وتقع فيه فينهاها فلا تنتهي ويزجرها فلا تنزجر - قال - فلما كانت ذات ليلة جعلت تقع في النبي صلى الله عليه وسلم وتشتمه فاخذ المغول فوضعه في بطنها واتكا عليها فقتلها فوقع بين رجليها طفل فلطخت ما هناك بالدم فلما اصبح ذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فجمع الناس فقال " انشد الله رجلا فعل ما فعل لي عليه حق الا قام " . فقام الاعمى يتخطى الناس وهو يتزلزل حتى قعد بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله انا صاحبها كانت تشتمك وتقع فيك فانهاها فلا تنتهي وازجرها فلا تنزجر ولي منها ابنان مثل اللولوتين وكانت بي رفيقة فلما كانت البارحة جعلت تشتمك وتقع فيك فاخذت المغول فوضعته في بطنها واتكات عليها حتى قتلتها . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الا اشهدوا ان دمها هدر
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون باطل ٹھہرا دیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وعبد الله بن الجراح، عن جرير، عن مغيرة، عن الشعبي، عن علي، رضي الله عنه ان يهودية، كانت تشتم النبي صلى الله عليه وسلم وتقع فيه فخنقها رجل حتى ماتت فابطل رسول الله صلى الله عليه وسلم دمها
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، وہ ایک شخص پر ناراض ہوئے اور بہت سخت ناراض ہوئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول کے خلیفہ! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن مار دوں، میری اس بات نے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کر دیا، پھر وہ اٹھے اور اندر چلے گئے، پھر مجھ کو بلایا اور پوچھا: ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: میں نے کہا تھا: مجھے اجازت دیجئیے، میں اس کی گردن مار دوں، بولے: اگر میں تمہیں حکم دے دیتا تو تم اسے کر گزرتے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، ضرور، بولے: نہیں، قسم اللہ کی! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی آدمی کو بھی یہ مرتبہ حاصل نہیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کے الفاظ ہیں، احمد بن حنبل کہتے ہیں: یعنی ابوبکر ایسا نہیں کر سکتے تھے کہ وہ کسی شخص کو بغیر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے قتل کرنے کا حکم دے دیں: ایک ایمان کے بعد کافر ہو جانا دوسرے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنا، تیسرے بغیر نفس کے کسی نفس کو قتل کرنا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر سکتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن يونس، عن حميد بن هلال، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا هارون بن عبد الله، ونصير بن الفرج، قالا حدثنا ابو اسامة، عن يزيد بن زريع، عن يونس بن عبيد، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن مطرف، عن ابي برزة، قال كنت عند ابي بكر رضي الله عنه فتغيظ على رجل فاشتد عليه فقلت تاذن لي يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم اضرب عنقه قال فاذهبت كلمتي غضبه فقام فدخل فارسل الى فقال ما الذي قلت انفا قلت ايذن لي اضرب عنقه . قال اكنت فاعلا لو امرتك قلت نعم . قال لا والله ما كانت لبشر بعد محمد صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود هذا لفظ يزيد قال احمد بن حنبل اى لم يكن لابي بكر ان يقتل رجلا الا باحدى الثلاث التي قالها رسول الله صلى الله عليه وسلم كفر بعد ايمان او زنا بعد احصان او قتل نفس بغير نفس وكان للنبي صلى الله عليه وسلم ان يقتل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل، یا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی چند اونٹنیاں دلوائیں، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں، وہ ( اونٹنیاں لے کر ) چلے گئے جب وہ صحت یاب ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹ ہانک لے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح ہی صبح اس کی خبر مل گئی، چنانچہ آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو روانہ کیا، تو ابھی دن بھی اوپر نہیں چڑھنے پایا تھا کہ انہیں پکڑ کر لے آیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئیے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں، اور وہ گرم سیاہ پتھریلی زمین میں ڈال دیئے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا، ابوقلابہ کہتے ہیں: ان لوگوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تھے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، ان قوما، من عكل - او قال من عرينة - قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجتووا المدينة فامر لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بلقاح وامرهم ان يشربوا من ابوالها والبانها فانطلقوا فلما صحوا قتلوا راعي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستاقوا النعم فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم خبرهم من اول النهار فارسل النبي صلى الله عليه وسلم في اثارهم فما ارتفع النهار حتى جيء بهم فامر بهم فقطعت ايديهم وارجلهم وسمر اعينهم والقوا في الحرة يستسقون فلا يسقون . قال ابو قلابة فهولاء قوم سرقوا وقتلوا وكفروا بعد ايمانهم وحاربوا الله ورسوله
اس سند سے بھی ایوب سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلائیوں کو گرم کرنے کا حکم دیا تو وہ گرم کی گئیں، پھر انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں پھیر دیں، ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ ڈالے، اور ان کو یکبارگی ہی نہیں مار ڈالا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن ايوب، باسناده بهذا الحديث قال فيه فامر بمسامير فاحميت فكحلهم وقطع ايديهم وارجلهم وما حسمهم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب میں کچھ مخبر بھیجے تو انہیں پکڑ کر لایا گیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں آیت کریمہ «إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا» جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں ( سورۃ المائدہ: ۳۳ ) اتاری۔
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، قال اخبرنا ح، وحدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، عن يحيى، - يعني ابن ابي كثير - عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، بهذا الحديث قال فيه فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم في طلبهم قافة فاتي بهم . قال فانزل الله تبارك وتعالى في ذلك { انما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الارض فسادا } الاية
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں انس کہتے ہیں کہ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے زمین کو اپنے منہ سے کاٹتا تھا یہاں تک کہ وہ سب ( پیاس سے تڑپ تڑپ کر ) مر گئے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت، وقتادة، وحميد، عن انس بن مالك، ذكر هذا الحديث قال انس فلقد رايت احدهم يكدم الارض بفيه عطشا حتى ماتوا
اس سند سے بھی انس بن مالک سے یہی حدیث انہیں جیسے الفاظ سے مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے پھر آپ نے مثلہ سے منع فرما دیا اور اس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسرے طرف کا پیر۔ شعبہ نے قتادہ اور سلام بن مسکین سے انہوں نے ثابت سے، ثابت نے انس سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے بھی یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا، تو دوسری طرف کا پیر اور مجھے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ملا کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹا تو دوسری طرف کا پیر۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن هشام، عن قتادة، عن انس بن مالك، بهذا الحديث نحوه زاد ثم نهى عن المثلة ولم يذكر من خلاف . ورواه شعبة عن قتادة وسلام بن مسكين عن ثابت جميعا عن انس لم يذكرا من خلاف . ولم اجد في حديث احد قطع ايديهم وارجلهم من خلاف . الا في حديث حماد بن سلمة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ کر انہیں ہنکا لے گئے، اسلام سے مرتد ہو گئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن چرواہے کو قتل کر دیا، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ پکڑے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی، اور انہیں لوگوں کے متعلق انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کو خبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو، عن سعيد بن ابي هلال، عن ابي الزناد، عن عبد الله بن عبيد الله، - قال احمد هو يعني عبد الله بن عبيد الله بن عمر بن الخطاب - عن ابن عمر ان ناسا اغاروا على ابل النبي صلى الله عليه وسلم فاستاقوها وارتدوا عن الاسلام وقتلوا راعي رسول الله صلى الله عليه وسلم مومنا فبعث في اثارهم فاخذوا فقطع ايديهم وارجلهم وسمل اعينهم . قال ونزلت فيهم اية المحاربة وهم الذين اخبر عنهم انس بن مالك الحجاج حين ساله
ابوالزناد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان لوگوں کے ( ہاتھ پاؤں ) کاٹے جنہوں نے آپ کے اونٹ چرائے تھے اور ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائیاں پھیریں تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس سلسلہ میں عتاب فرمایا: اور آیت محاربہ «إنما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الأرض فسادا أن يقتلوا أو يصلبوا» جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی پر چڑھا دئیے جائیں ( سورۃ المائدہ: ۳۳ ) اخیر تک نازل فرمائی۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني الليث بن سعد، عن محمد بن العجلان، عن ابي الزناد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما قطع الذين سرقوا لقاحه وسمل اعينهم بالنار عاتبه الله تعالى في ذلك فانزل الله تعالى { انما جزاء الذين يحاربون الله ورسوله ويسعون في الارض فسادا ان يقتلوا او يصلبوا } الاية