Loading...

Loading...
کتب
۱۴۳ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا وہ دونوں شادی شدہ تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو تورات میں رجم کا حکم تحریر تھا، لیکن انہوں نے اسے چھوڑے رکھا تھا اور اس کے بدلہ «تَجبیہ» کو اختیار کر لیا تھا، تارکول ملی ہوئی رسی سے اسے سو بار مارا جاتا، اسے گدھے پر سوار کیا جاتا اور اس کا چہرہ گدھے کے پچھاڑی کی طرف ہوتا، تو ان کے علماء میں سے کچھ عالم اکٹھا ہوئے ان لوگوں نے کچھ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا جا کر ان سے زنا کی حد کے متعلق پوچھو، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: چونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر نہیں تھے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اسی لیے آپ کو اس سلسلہ میں اختیار دیا گیا اور فرمایا گیا «فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم» اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے چاہو تو ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور چاہو تو ٹال دو ( سورۃ المائدہ: ۴۲ ) ۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى ابو الاصبغ الحراني، قال حدثني محمد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، قال سمعت رجلا، من مزينة يحدث سعيد بن المسيب عن ابي هريرة، قال زنى رجل وامراة من اليهود وقد احصنا حين قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وقد كان الرجم مكتوبا عليهم في التوراة فتركوه واخذوا بالتجبية يضرب ماية بحبل مطلي بقار ويحمل على حمار وجهه مما يلي دبر الحمار فاجتمع احبار من احبارهم فبعثوا قوما اخرين الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا سلوه عن حد الزاني . وساق الحديث قال فيه قال ولم يكونوا من اهل دينه فيحكم بينهم فخير في ذلك قال { فان جاءوك فاحكم بينهم او اعرض عنهم}
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے ان دونوں نے زنا کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسے شخصوں کو جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں لے کر میرے پاس آؤ تو وہ لوگ صوریا کے دونوں لڑکوں کو لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا واسطہ دے کر ان دونوں سے پوچھا: تم تورات میں ان دونوں کا حکم کیا پاتے ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہم تورات میں یہی پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیدیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کے فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کر دئیے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو پھر انہیں رجم کرنے سے کون سی چیز روک رہی ہے؟ انہوں نے کہا: ہماری سلطنت تو رہی نہیں اس لیے اب ہمیں قتل اچھا نہیں لگتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلایا، وہ چار گواہ لے کر آئے، انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کی فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔
حدثنا يحيى بن موسى البلخي، حدثنا ابو اسامة، قال مجالد اخبرنا عن عامر، عن جابر بن عبد الله، قال جاءت اليهود برجل وامراة منهم زنيا فقال ايتوني باعلم رجلين منكم فاتوه بابنى صوريا فنشدهما " كيف تجدان امر هذين في التوراة " . قالا نجد في التوراة اذا شهد اربعة انهم راوا ذكره في فرجها مثل الميل في المكحلة رجما . قال " فما يمنعكما ان ترجموهما " . قالا ذهب سلطاننا فكرهنا القتل فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالشهود فجاءوا باربعة فشهدوا انهم راوا ذكره في فرجها مثل الميل في المكحلة فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم برجمهما
ابراہیم اور شعبی سے روایت ہے وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں لیکن اس میں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ نے گواہوں کو بلایا، اور انہوں نے گواہی دی۔
حدثنا وهب بن بقية، عن هشيم، عن مغيرة، عن ابراهيم، والشعبي، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه لم يذكر فدعا بالشهود فشهدوا
اس سند سے بھی شعبی سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حدثنا وهب بن بقية، عن هشيم، عن ابن شبرمة، عن الشعبي، بنحو منه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ایک مرد اور ایک عورت کو جنہوں نے زنا کیا تھا رجم کیا۔
حدثنا ابراهيم بن حسن المصيصي، حدثنا حجاج بن محمد، قال حدثنا ابن جريج، انه سمع ابا الزبير، سمع جابر بن عبد الله، يقول رجم النبي صلى الله عليه وسلم رجلا من اليهود وامراة زنيا
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا مطرف، عن ابي الجهم، عن البراء بن عازب، قال بينا انا اطوف، على ابل لي ضلت اذ اقبل ركب او فوارس معهم لواء فجعل الاعراب يطيفون بي لمنزلتي من النبي صلى الله عليه وسلم اذ اتوا قبة فاستخرجوا منها رجلا فضربوا عنقه فسالت عنه فذكروا انه اعرس بامراة ابيه
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔
حدثنا عمرو بن قسيط الرقي، حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن زيد بن ابي انيسة، عن عدي بن ثابت، عن يزيد بن البراء، عن ابيه، قال لقيت عمي ومعه راية فقلت له اين تريد قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى رجل نكح امراة ابيه فامرني ان اضرب عنقه واخذ ماله
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن حنین نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی، معاملہ کوفہ کے امیر نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے کہا: میں بالکل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، اگر تمہاری بیوی نے اسے تمہارے لیے حلال کر دیا تھا تو تمہیں سو کوڑے ماروں گا، اور اگر اسے تمہارے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں تمہیں رجم کروں گا، پھر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے اس لونڈی کو حلال کر دیا تھا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھے لکھ بھیجی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا قتادة، عن خالد بن عرفطة، عن حبيب بن سالم، ان رجلا، يقال له عبد الرحمن بن حنين وقع على جارية امراته فرفع الى النعمان بن بشير وهو امير على الكوفة فقال لاقضين فيك بقضية رسول الله صلى الله عليه وسلم ان كانت احلتها لك جلدتك ماية وان لم تكن احلتها لك رجمتك بالحجارة . فوجدوه قد احلتها له فجلده ماية . قال قتادة كتبت الى حبيب بن سالم فكتب الى بهذا
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا ہو: اگر اس کی بیوی نے اس کے لیے لونڈی کو حلال کر دیا ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں، اور اگر حلال نہ کیا ہو تو میں اسے رجم کروں گا ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن ابي بشر، عن خالد بن عرفطة، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرجل ياتي جارية امراته قال " ان كانت احلتها له جلد ماية وان لم تكن احلتها له رجمته
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کر لی تھی فیصلہ کیا کہ اگر اس نے جبراً جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے، اور اس کی مالکہ کو اسے ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی، اور اگر لونڈی نے خوشی سے اس کی مان لی ہے تو وہ اس کی ہو جائیگی، اور اسے لونڈی کی مالکہ کو ویسی ہی لونڈی دینی ہو گی ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن قتادة، عن الحسن، عن قبيصة بن حريث، عن سلمة بن المحبق، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في رجل وقع على جارية امراته ان كان استكرهها فهي حرة وعليه لسيدتها مثلها فان كانت طاوعته فهي له وعليه لسيدتها مثلها . قال ابو داود رواه يونس بن عبيد وعمرو بن دينار ومنصور بن زاذان وسلام عن الحسن هذا الحديث بمعناه لم يذكر يونس ومنصور قبيصة
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی۔
حدثنا علي بن الحسن الدرهمي، حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سلمة بن المحبق، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه الا انه قال وان كانت طاوعته فهي حرة ومثلها من ماله لسيدتها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے قوم لوط کا عمل ( اغلام بازی ) کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہے دونوں کو قتل کر دو ۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن علي النفيلي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن ابي عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به " . قال ابو داود رواه سليمان بن بلال عن عمرو بن ابي عمرو مثله ورواه عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس رفعه ورواه ابن جريج عن ابراهيم عن داود بن الحصين عن عكرمة عن ابن عباس رفعه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن راهويه، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني ابن خثيم، قال سمعت سعيد بن جبير، ومجاهدا، يحدثان عن ابن عباس، في البكر يوجد على اللوطية قال يرجم . قال ابو داود حديث عاصم يضعف حديث عمرو بن ابي عمرو
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو ۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس سے پوچھا: اس چوپایہ کا کیا جرم ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثني عمرو بن ابي عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اتى بهيمة فاقتلوه واقتلوها معه " . قال قلت له ما شان البهيمة قال ما اراه الا قال ذلك انه كره ان يوكل لحمها وقد عمل بها ذلك العمل . قال ابو داود ليس هذا بالقوي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن يونس، ان شريكا، وابا الاحوص، وابا، بكر بن عياش حدثوهم عن عاصم، عن ابي رزين، عن ابن عباس، قال ليس على الذي ياتي البهيمة حد . قال ابو داود كذا قال عطاء وقال الحكم ارى ان يجلد ولا يبلغ به الحد . وقال الحسن هو بمنزلة الزاني . قال ابو داود حديث عاصم يضعف حديث عمرو بن ابي عمرو
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا طلق بن غنام، حدثنا عبد السلام بن حفص، حدثنا ابو حازم، عن سهل بن سعد، عن النبي صلى الله عليه وسلم ان رجلا اتاه فاقر عنده انه زنى بامراة سماها له فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم الى المراة فسالها عن ذلك فانكرت ان تكون زنت فجلده الحد وتركها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بکر بن لیث کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر چار بار اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے تو آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، وہ کنوارا تھا، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہی طلب کی تو عورت نے کہا: قسم اللہ کی وہ جھوٹا ہے، اللہ کے رسول! تو اس پر آپ نے بہتان کے بھی اسی ( ۸۰ ) کوڑے لگائے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا موسى بن هارون البردي، حدثنا هشام بن يوسف، عن القاسم بن فياض الابناوي، عن خلاد بن عبد الرحمن، عن ابن المسيب، عن ابن عباس، ان رجلا، من بكر بن ليث اتى النبي صلى الله عليه وسلم فاقر انه زنى بامراة اربع مرات فجلده ماية وكان بكرا ثم ساله البينة على المراة فقالت كذب والله يا رسول الله فجلده حد الفرية ثمانين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: مدینہ کے آخری کنارے کی ایک عورت سے میں لطف اندوز ہوا، لیکن جماع نہیں کیا، تو اب میں حاضر ہوں میرے اوپر جو چاہیئے حد قائم کیجئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو تو خود بھی پردہ پوشی کرتا تو بہتر ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، تو وہ شخص چلا گیا، پھر اس کے پیچھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا، وہ اسے بلا کر لایا تو آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی «وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل» دن کے دونوں سروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کچھ ساعتوں میں بھی ۔ ( ھود: ۱۱۴ ) ۱؎ تو ان میں سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے، یا سارے لوگوں کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سارے لوگوں کے لیے ہے ۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا سماك، عن ابراهيم، عن علقمة، والاسود، قالا قال عبد الله جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني عالجت امراة من اقصى المدينة فاصبت منها ما دون ان امسها فانا هذا فاقم على ما شيت . فقال عمر قد ستر الله عليك لو سترت على نفسك . فلم يرد عليه النبي صلى الله عليه وسلم شييا فانطلق الرجل فاتبعه النبي صلى الله عليه وسلم رجلا فدعاه فتلا عليه { واقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل } الى اخر الاية فقال رجل من القوم يا رسول الله اله خاصة ام للناس كافة فقال " بل للناس كافة
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لونڈی جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ نہ ہو ( تو اس کا کیا حکم ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، گو ایک رسی ہی کے عوض میں ہو ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ یہ آپ نے تیسری بار میں فرمایا: یا چوتھی بار میں اور «ضفیر» کے معنی رسی کے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد الجهني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن الامة اذا زنت ولم تحصن قال " ان زنت فاجلدوها ثم ان زنت فاجلدوها ثم ان زنت فاجلدوها ثم ان زنت فبيعوها ولو بضفير " . قال ابن شهاب لا ادري في الثالثة او الرابعة والضفير الحبل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے، ایسا وہ تین بار کرے، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، حدثني سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا زنت امة احدكم فليحدها ولا يعيرها ثلاث مرار فان عادت في الرابعة فليجلدها وليبعها بضفير او بحبل من شعر