Loading...

Loading...
کتب
۱۴۳ احادیث
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے، اس میں ہے کہ ہر بار اسے اللہ کی کتاب کے موافق یعنی پچاس کوڑے مارے ۱؎ اور صرف ڈانٹ ڈپٹ کر نہ چھوڑ دے، یا حد لگانے کے بعد پھر نہ ڈانٹے، اور چوتھی بار میں فرمایا: اگر وہ پھر زنا کرے تو پھر اسے اللہ کی کتاب کے موافق حد لگائے، پھر چاہیئے کہ اسے بیچ دے، گو بال کی ایک رسی ہی کے بدلے کیوں نہ ہو۔
حدثنا ابن نفيل، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث قال في كل مرة " فليضربها كتاب الله ولا يثرب عليها " . وقال في الرابعة " فان عادت فليضربها كتاب الله ثم ليبعها ولو بحبل من شعر
ابوامامہ اسعد بن سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری صحابہ نے انہیں بتایا کہ انصاریوں میں کا ایک آدمی بیمار ہوا وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ صرف ہڈی اور چمڑا باقی رہ گیا، اس کے پاس انہیں میں سے کسی کی ایک لونڈی آئی تو وہ اسے پسند آ گئی اور وہ اس سے جماع کر بیٹھا، پھر جب اس کی قوم کے لوگ اس کی عیادت کرنے آئے تو انہیں اس کی خبر دی، اور کہا میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو، کیونکہ میں نے ایک لونڈی سے صحبت کر لی ہے، جو میرے پاس آئی تھی، چنانچہ انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، اور کہا: ہم نے تو اتنا بیمار اور ناتواں کسی کو نہیں دیکھا جتنا وہ ہے، اگر ہم اسے لے کر آپ کے پاس آئیں تو اس کی ہڈیاں جدا ہو جائیں، وہ صرف ہڈی اور چمڑے کا ڈھانچہ ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ درخت کی سو ٹہنیاں لیں، اور اس سے اسے ایک بار مار دیں۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو امامة بن سهل بن حنيف، انه اخبره بعض، اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من الانصار انه اشتكى رجل منهم حتى اضني فعاد جلدة على عظم فدخلت عليه جارية لبعضهم فهش لها فوقع عليها فلما دخل عليه رجال قومه يعودونه اخبرهم بذلك وقال استفتوا لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فاني قد وقعت على جارية دخلت على . فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم وقالوا ما راينا باحد من الناس من الضر مثل الذي هو به لو حملناه اليك لتفسخت عظامه ما هو الا جلد على عظم فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ياخذوا له ماية شمراخ فيضربوه بها ضربة واحدة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے کسی کی لونڈی نے حرام کاری کر لی تو آپ نے فرمایا: علی! جاؤ اور اس پر حد قائم کرو میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا خون بہے چلا جا رہا ہے، رکتا ہی نہیں، یہ دیکھ کر میں آپ کے پاس واپس آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: علی! کیا حد لگا کر آ گئے ؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کے پاس آیا دیکھا تو اس کا خون بہ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا بند ہونے تک رکے رہو، جب بند ہو جائے تو اسے ضرور حد لگاؤ، اور حدوں کو اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر بھی قائم کیا کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوالاحوص نے عبدالاعلیٰ سے روایت کیا ہے، اور اسے شعبہ نے بھی عبدالاعلی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حد نہ لگانا جب تک وہ بچہ جن نہ دے لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا اسراييل، حدثنا عبد الاعلى، عن ابي جميلة، عن علي، رضى الله عنه قال فجرت جارية لال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا علي انطلق فاقم عليها الحد " . فانطلقت فاذا بها دم يسيل لم ينقطع فاتيته فقال " يا علي افرغت " . قلت اتيتها ودمها يسيل . فقال " دعها حتى ينقطع دمها ثم اقم عليها الحد واقيموا الحدود على ما ملكت ايمانكم " . قال ابو داود وكذلك رواه ابو الاحوص عن عبد الاعلى ورواه شعبة عن عبد الاعلى فقال فيه " لا تضربها حتى تضع " . والاول اصح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میری برات کی آیتیں نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، آپ نے اس کا ذکر کیا، اور قرآن کی ان آیتوں کی تلاوت کی، پھر جب منبر پر سے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے سلسلے میں حکم دیا تو ان پر حد جاری کیا گیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد الثقفي، ومالك بن عبد الواحد المسمعي، - وهذا حديثه - ان ابن ابي عدي، حدثهم عن محمد بن اسحاق، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت لما نزل عذري قام النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر فذكر ذاك وتلا - تعني القران - فلما نزل من المنبر امر بالرجلين والمراة فضربوا حدهم
اس سند سے بھی محمد بن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ نے دو مردوں اور ایک عورت کو جنہوں نے بری بات منہ سے نکالی تھی ( کوڑے لگانے کا ) حکم دیا، وہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ تھے نفیل کہتے ہیں: اور لوگ کہتے ہیں کہ عورت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، بهذا الحديث لم يذكر عايشة قال فامر برجلين وامراة ممن تكلم بالفاحشة حسان بن ثابت ومسطح بن اثاثة . قال النفيلي ويقولون المراة حمنة بنت جحش
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے حد کی تعیین نہیں فرمائی، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شراب پی اور بدمست ہو کر جھومتے ہوئے راستے میں لوگوں کو چلتے ملا تو اسے پکڑ کر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے جب وہ عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے ہوا تو چھڑا کر بھاگا اور عباس رضی اللہ عنہ کے مکان میں جا گھسا، اور ان سے چمٹ گیا، پھر یہ قصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ہنسے، اور صرف اتنا فرمایا: کیا اس نے ایسا کیا ہے؟ آپ نے اس کے بارے میں کوئی اور حکم نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی کی اس حدیث کی روایت میں اہل مدینہ منفرد ہیں۔
حدثنا الحسن بن علي، ومحمد بن المثنى، - وهذا حديثه - قالا حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن محمد بن علي بن ركانة، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يقت في الخمر حدا . وقال ابن عباس شرب رجل فسكر فلقي يميل في الفج فانطلق به الى النبي صلى الله عليه وسلم فلما حاذى بدار العباس انفلت فدخل على العباس فالتزمه فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فضحك وقال " افعلها " . ولم يامر فيه بشىء . قال ابو داود هذا مما تفرد به اهل المدينة حديث الحسن بن علي هذا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے فرمایا: اسے مارو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے، کسی نے جوتے سے، اور کسی نے کپڑے سے، اسے مارا، پھر جب فارغ ہوئے تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو ضمرة، عن يزيد بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي برجل قد شرب فقال " اضربوه " . قال ابو هريرة فمنا الضارب بيده والضارب بنعله والضارب بثوبه فلما انصرف قال بعض القوم اخزاك الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقولوا هكذا لا تعينوا عليه الشيطان
ابن الہاد سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت آئی ہے اس میں ہے کہ اسے مار چکنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تم لوگ اسے زبانی عار دلاؤ ، تو لوگ اس کی طرف یہ کہتے ہوئے متوجہ ہوئے: نہ تو تو اللہ سے ڈرا، نہ اس سے خوف کھایا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرمایا پھر لوگوں نے اسے چھوڑ دیا، اور اس کے آخر میں ہے: لیکن یوں کہو: اے اللہ اس کو بخش دے، اس پر ر حم فرما کچھ لوگوں نے اس سیاق میں کچھ کمی بیشی کی ہے۔
حدثنا محمد بن داود بن ابي ناجية الاسكندراني، حدثنا ابن وهب، اخبرني يحيى بن ايوب، وحيوة بن شريح، وابن، لهيعة عن ابن الهاد، باسناده ومعناه قال فيه بعد الضرب ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه " بكتوه " . فاقبلوا عليه يقولون ما اتقيت الله ما خشيت الله وما استحيت من رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ارسلوه وقال في اخره " ولكن قولوا اللهم اغفر له اللهم ارحمه " . وبعضهم يزيد الكلمة ونحوها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو بلایا، اور ان سے کہا: لوگ گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں ( اور مسدد کی روایت میں ہے ) بستیوں اور گاؤں سے قریب ہو گئے ہیں ( یعنی شراب زیادہ پینے لگے ہیں ) تو اب شراب کی حد کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو عبدالرحمٰن بن عوف نے ان سے کہا: ہماری رائے یہ ہے کہ سب سے ہلکی جو حد ہے وہی آپ اس میں مقرر کر دیں، چنانچہ اسی ( ۸۰ ) کوڑے مارنے کا حکم ہوا ( کیونکہ سب سے ہلکی حد یہی حدقذف تھی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ٹہنیوں اور جوتوں سے چالیس مار ماریں۔ اور اسے شعبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے کھجور کی دو ٹہنیوں سے چالیس کے قریب مار ماریں۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام، - المعنى - عن قتادة، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم جلد في الخمر بالجريد والنعال وجلد ابو بكر رضى الله عنه اربعين فلما ولي عمر دعا الناس فقال لهم ان الناس قد دنوا من الريف - وقال مسدد من القرى والريف - فما ترون في حد الخمر فقال له عبد الرحمن بن عوف نرى ان تجعله كاخف الحدود . فجلد فيه ثمانين . قال ابو داود رواه ابن ابي عروبة عن قتادة عن النبي صلى الله عليه وسلم انه جلد بالجريد والنعال اربعين . ورواه شعبة عن قتادة عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ضرب بجريدتين نحو الاربعين
حضین بن منذر رقاشی ابوساسان کہتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ولید بن عقبہ کو ان کے پاس لایا گیا، اور حمران اور ایک اور شخص نے اس کے خلاف گواہی دی، ان میں سے ایک نے گواہی دی کہ اس نے شراب پی ہے، اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اسے ( شراب ) قے کرتے دیکھا ہے، تو عثمان نے کہا: جب تک پیئے گا نہیں قے نہیں کر سکتا، پھر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو علی نے حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو حسن نے کہا: جو خلافت کی آسانیوں اور خیرات کا ذمہ دار رہا ہے وہی اس کی سختیوں اور برائیوں کا بھی ذمہ دار ہے، پھر علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر سے کہا: تم اس پر حد قائم کرو، تو انہوں نے کوڑا لے کر اسے مارنا شروع کیا، اور علی رضی اللہ عنہ گننے لگے، تو جب چالیس کوڑے ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بس کافی ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے ہی مارے ہیں، اور میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے ہیں، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی، اور سب سنت ہے، اور یہ چالیس کوڑے مجھے زیادہ پسند ہیں۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، وموسى بن اسماعيل، - المعنى - قالا حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا عبد الله الداناج، حدثني حضين بن المنذر الرقاشي، - هو ابو ساسان - قال شهدت عثمان بن عفان واتي بالوليد بن عقبة فشهد عليه حمران ورجل اخر فشهد احدهما انه راه شربها - يعني الخمر - وشهد الاخر انه راه يتقياها فقال عثمان انه لم يتقياها حتى شربها . فقال لعلي رضى الله عنه اقم عليه الحد . فقال علي للحسن اقم عليه الحد . فقال الحسن ول حارها من تولى قارها . فقال علي لعبد الله بن جعفر اقم عليه الحد . قال فاخذ السوط فجلده وعلي يعد فلما بلغ اربعين قال حسبك جلد النبي صلى الله عليه وسلم اربعين - احسبه قال - وجلد ابو بكر اربعين وعمر ثمانين وكل سنة وهذا احب الى
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب میں چالیس کوڑے ہی مارے، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے پورے کئے، اور یہ سب سنت ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی کہتے ہیں: «من تولى قارها ول شديدها من تولى هينها» کے معنی یہ ہیں جو خلافت کی آسانیوں کا ذمہ دار رہا ہے اسی کو اس کی دشواریوں کا ذمہ دار رہنا چاہیئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اپنی قوم کے سردار تھے یعنی حضین بن منذر ابوساسان۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن ابي عروبة، عن الداناج، عن حضين بن المنذر، عن علي، رضى الله عنه قال جلد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر وابو بكر اربعين وكملها عمر ثمانين وكل سنة . قال ابو داود وقال الاصمعي ول حارها من تولى قارها ول شديدها من تولى هينها . قال ابو داود هذا كان سيد قومه حضين بن المنذر ابو ساسان
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو انہیں قتل کر دو ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، عن عاصم، عن ابي صالح، ذكوان عن معاوية بن ابي سفيان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا شربوا الخمر فاجلدوهم ثم ان شربوا فاجلدوهم ثم ان شربوا فاجلدوهم ثم ان شربوا فاقتلوهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی فرمایا ہے، اس میں یہ ہے کہ میرا خیال ہے کہ پانچویں بار میں فرمایا: پھر اگر وہ پئے تو اسے قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوغطیف کی روایت میں پانچویں بار کا ذکر ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن حميد بن يزيد، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بهذا المعنى قال واحسبه قال في الخامسة " ان شربها فاقتلوه " . قال ابو داود وكذا في حديث ابي غطيف في الخامسة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شرابی جب نشہ سے مست ہو جائے تو اسے کوڑے مارو، پھر اگر نشہ سے مست ہو جائے تو اسے پھر کوڑے مارو، پھر اگر نشہ سے مست ہو جائے تو اسے پھر کوڑے مارو، اور اگر چوتھی بار پھر ایسا ہی کرے تو اسے قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عمر بن ابی سلمہ کی روایت ہے جسے وہ اپنے والد سے اور ابوسلمہ ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اور اگر چوتھی بار پھر ویسے ہی کرے تو اسے قتل کر دو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سہیل کی حدیث ہے جسے وہ ابوصالح سے اور ابوصالح ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اگر وہ چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو ۔ اور اسی طرح ابن ابی نعم کی روایت بھی ہے جسے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ اور اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اور شرید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت بھی ہے، اور جدلی کی روایت میں ہے جسے وہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ تیسری یا چوتھی بار پھر کرے تو اسے قتل کر دو ۔
حدثنا نصر بن عاصم الانطاكي، حدثنا يزيد بن هارون الواسطي، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سكر فاجلدوه ثم ان سكر فاجلدوه ثم ان سكر فاجلدوه فان عاد الرابعة فاقتلوه " . قال ابو داود وكذا حديث عمر بن ابي سلمة عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم " اذا شرب الخمر فاجلدوه فان عاد الرابعة فاقتلوه " . قال ابو داود وكذا حديث سهيل عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان شربوا الرابعة فاقتلوهم " . وكذا حديث ابن ابي نعم عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم وكذا حديث عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم والشريد عن النبي صلى الله عليه وسلم وفي حديث الجدلي عن معاوية ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " فان عاد في الثالثة او الرابعة فاقتلوه
قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر پھر پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ تیسری یا چوتھی دفعہ پئے تو اسے قتل کر دو تو ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے، پھر اسے لایا گیا، آپ نے پھر اسے کوڑے لگائے، پھر اسے لایا گیا، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے، پھر لایا گیا تو پھر آپ نے کوڑے ہی لگائے، اور قتل کا حکم اٹھا دیا اور رخصت ہو گئی۔ سفیان کہتے ہیں: زہری نے اس حدیث کو بیان کیا اور ان کے پاس منصور بن معتمر اور مخول بن راشد موجود تھے تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: تم دونوں اہل عراق کے لیے یہ حدیث یہاں سے تحفے میں لیتے جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شرید بن سوید، شرحبیل بن اوس، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن عمر، ابوغطیف کندی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا سفيان، قال الزهري اخبرنا عن قبيصة بن ذويب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من شرب الخمر فاجلدوه فان عاد فاجلدوه فان عاد فاجلدوه فان عاد في الثالثة او الرابعة فاقتلوه " . فاتي برجل قد شرب فجلده ثم اتي به فجلده ثم اتي به فجلده ثم اتي به فجلده ورفع القتل فكانت رخصة . قال سفيان حدث الزهري بهذا الحديث وعنده منصور بن المعتمر ومخول بن راشد فقال لهما كونا وافدى اهل العراق بهذا الحديث . قال ابو داود روى هذا الحديث الشريد بن سويد وشرحبيل بن اوس وعبد الله بن عمرو وعبد الله بن عمر وابو غطيف الكندي وابو سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں جس پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو میں اس کی دیت نہیں دوں گا، یا میں اس کی دیت دینے والا نہیں سوائے شراب پینے والے کے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے والے کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جسے ہم نے خود مقرر کی ہے۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري، حدثنا شريك، عن ابي حصين، عن عمير بن سعيد، عن علي، رضى الله عنه قال لا ادي - او ما كنت لادي - من اقمت عليه حدا الا شارب الخمر فان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسن فيه شييا انما هو شىء قلناه نحن
عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں آپ کجاؤں کے درمیان میں کھڑے تھے، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا کجاوہ ڈھونڈ رہے تھے، آپ اسی حالت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: اسے مارو ، تو کسی نے جوتے سے، کسی نے چھڑی سے، اور کسی نے کھجور کی ٹہنی سے اسے مارا ( ابن وہب کہتے ہیں ) «ميتخة» کے معنی کھجور کی تر ٹہنی کے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹی لی اور اس کے چہرے پر ڈال دی۔
حدثنا سليمان بن داود المهري المصري ابن اخي، رشدين بن سعد اخبرنا ابن وهب، اخبرنا اسامة بن زيد، ان ابن شهاب، حدثه عن عبد الرحمن بن ازهر، قال كاني انظر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم الان وهو في الرحال يلتمس رحل خالد بن الوليد فبينما هو كذلك اذ اتي برجل قد شرب الخمر فقال للناس " اضربوه " . فمنهم من ضربه بالنعال ومنهم من ضربه بالعصا ومنهم من ضربه بالميتخة - قال ابن وهب الجريدة الرطبة - ثم اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ترابا من الارض فرمى به في وجهه
عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی لایا گیا، اور آپ حنین میں تھے، آپ نے اس کے منہ پر خاک ڈال دی، پھر اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اسے اپنے جوتوں سے، اور جو چیزیں ان کے ہاتھوں میں تھیں ان سے مارا، یہاں تک کہ آپ فرمانے لگے: بس کرو، بس کرو تب لوگوں نے اسے چھوڑا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے تو آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی شراب کی حد میں چالیس کوڑے مارتے رہے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں چالیس کوڑے ہی مارے، پھر خلافت کے اخیر میں انہوں نے اسی کوڑے مارے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے کبھی اسی کوڑے اور کبھی چالیس کوڑے مارے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑوں کی تعیین کر دی۔
حدثنا ابن السرح، قال وجدت في كتاب خالي عبد الرحمن بن عبد الحميد عن عقيل ان ابن شهاب اخبره ان عبد الله بن عبد الرحمن بن الازهر اخبره عن ابيه قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بشارب وهو بحنين فحثى في وجهه التراب ثم امر اصحابه فضربوه بنعالهم وما كان في ايديهم حتى قال لهم " ارفعوا " . فرفعوا فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم جلد ابو بكر في الخمر اربعين ثم جلد عمر اربعين صدرا من امارته ثم جلد ثمانين في اخر خلافته ثم جلد عثمان الحدين كليهما ثمانين واربعين ثم اثبت معاوية الحد ثمانين
عبدالرحمٰن بن ازہر کہتے ہیں کہ میں نے فتح مکہ کے دوسرے دن صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں ایک کمسن لڑکا تھا، لوگوں میں گھس کر آیا جایا کرتا تھا، آپ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیام گاہ ڈھونڈ رہے تھے کہ اتنے میں ایک شرابی لایا گیا، آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا، تو لوگوں کے ہاتھوں میں جو چیز بھی تھی اسی سے انہوں نے اس کی پٹائی کی، کسی نے اسے کوڑے سے، کسی نے لاٹھی سے، کسی نے جوتے سے پیٹا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ پر مٹی ڈال دی، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ان کے پاس ایک شرابی لایا گیا تو انہوں نے لوگوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مار کے متعلق دریافت کیا جسے آپ نے مارا تھا تو لوگوں نے اس کا اندازہ لگایا کہ یہ چالیس کوڑے رہے ہوں گے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد چالیس کوڑے مقرر کر دی، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو خالد بن ولید نے انہیں لکھا کہ لوگ کثرت سے شراب پینے لگے ہیں اور اس کی حد اور سزا کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور لکھا کہ لوگ آپ کے پاس ہیں ان سے پوچھ لیں، اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین موجود تھے، آپ نے ان سے پوچھا تو سب کا اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ اسی کوڑے مارے جائیں، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آدمی جب شراب پیتا ہے تو بہتان باندھتا ہے اس لیے میری رائے یہ ہے کہ اس کی حد بہتان کی حد کر دی جائے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا اسامة بن زيد، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن ازهر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة الفتح وانا غلام شاب يتخلل الناس يسال عن منزل خالد بن الوليد فاتي بشارب فامرهم فضربوه بما في ايديهم فمنهم من ضربه بالسوط ومنهم من ضربه بعصا ومنهم من ضربه بنعله وحثى رسول الله صلى الله عليه وسلم التراب فلما كان ابو بكر اتي بشارب فسالهم عن ضرب النبي صلى الله عليه وسلم الذي ضربه فحزروه اربعين فضرب ابو بكر اربعين فلما كان عمر كتب اليه خالد بن الوليد ان الناس قد انهمكوا في الشرب وتحاقروا الحد والعقوبة . قال هم عندك فسلهم . وعنده المهاجرون الاولون فسالهم فاجمعوا على ان يضرب ثمانين . قال وقال علي ان الرجل اذا شرب افترى فارى ان يجعله كحد الفرية . قال ابو داود ادخل عقيل بن خالد بين الزهري وبين ابن الازهر في هذا الحديث عبد الله بن عبد الرحمن بن الازهر عن ابيه
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قصاص لینے، اشعار پڑھنے اور حد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا صدقة، - يعني ابن خالد - حدثنا الشعيثي، عن زفر بن وثيمة، عن حكيم بن حزام، انه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يستقاد في المسجد وان تنشد فيه الاشعار وان تقام فيه الحدود