احادیث
#4435
سنن ابی داؤد - Prescribed Punishments
خالد بن لجلاج کا بیان ہے کہ ان کے والد الجلاج نے انہیں بتایا کہ وہ بیٹھے بازار میں کام کر رہے تھے اتنے میں ایک عورت ایک لڑکے کو لیے گزری تو لوگ اس کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے ان اٹھنے والوں میں میں بھی تھا، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ اس سے پوچھ رہے تھے: اس بچہ کا باپ کون ہے؟ وہ عورت چپ تھی، ایک نوجوان جو اس کے برابر میں تھا بولا: اللہ کے رسول! میں اس کا باپ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اور پوچھا: اس بچے کا باپ کون ہے؟ تو نوجوان نے پھر کہا: اللہ کے رسول! میں اس کا باپ ہوں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان میں سے کسی کی طرف دیکھا، آپ ان سے اس نوجوان کے متعلق دریافت فرما رہے تھے؟ تو لوگوں نے کہا: ہم تو اسے نیک ہی جانتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ رجم کر دیا گیا، اس میں ہے کہ ہم اس کو لے کر نکلے اور ایک گڑھے میں اسے گاڑا پھر پتھروں سے اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا، اتنے میں ایک شخص آیا، اور اس رجم کئے گئے شخص کے متعلق پوچھنے لگا، تو اسے لے کر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ہم نے کہا: یہ اس خبیث کے متعلق پوچھ رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے پھر پتا چلا کہ وہ اس کا باپ تھا ہم نے اس کے غسل اور کفن دفن میں اس کی مدد کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے اور اس پر نماز پڑھنے میں بھی ( مدد کی ) کہا یا نہیں یہ عبدہ کی روایت ہے، اور زیادہ کامل ہے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله، ومحمد بن داود بن صبيح، قال عبدة اخبرنا حرمي بن حفص، قال حدثنا محمد بن عبد الله بن علاثة، حدثنا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، ان خالد بن اللجلاج، حدثه ان اللجلاج اباه اخبره انه، كان قاعدا يعتمل في السوق فمرت امراة تحمل صبيا فثار الناس معها وثرت فيمن ثار فانتهيت الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقول " من ابو هذا معك " . فسكتت فقال شاب حذوها انا ابوه يا رسول الله . فاقبل عليها فقال " من ابو هذا معك " . قال الفتى انا ابوه يا رسول الله . فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى بعض من حوله يسالهم عنه فقالوا ما علمنا الا خيرا . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " احصنت " . قال نعم . فامر به فرجم . قال فخرجنا به فحفرنا له حتى امكنا ثم رميناه بالحجارة حتى هدا فجاء رجل يسال عن المرجوم فانطلقنا به الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلنا هذا جاء يسال عن الخبيث . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لهو اطيب عند الله من ريح المسك " . فاذا هو ابوه فاعناه على غسله وتكفينه ودفنه وما ادري قال والصلاة عليه ام لا . وهذا حديث عبدة وهو اتم
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Prescribed Punishments
- Hadith Index
- #4435
- Book Index
- 85
Grades
- Al-AlbaniHasan Isnaad
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidHasan Isnaad
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
