Loading...

Loading...
کتب
۵۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت نماز فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز ( حسب معمول ) برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۱؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن صالح بن كيسان، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت فرضت الصلاة ركعتين ركعتين في الحضر والسفر فاقرت صلاة السفر وزيد في صلاة الحضر
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے بتائیے کہ ( سفر میں ) لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے: اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دیں گے ، تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومسدد، قالا حدثنا يحيى، عن ابن جريج، ح وحدثنا خشيش، - يعني ابن اصرم - حدثنا عبد الرزاق، عن ابن جريج، قال حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن ابي عمار، عن عبد الله بن بابيه، عن يعلى بن امية، قال قلت لعمر بن الخطاب ارايت اقصار الناس الصلاة وانما قال تعالى { ان خفتم ان يفتنكم الذين كفروا } فقد ذهب ذلك اليوم . فقال عجبت مما عجبت منه فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ابوعاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، ومحمد بن بكر، قالا اخبرنا ابن جريج، سمعت عبد الله بن ابي عمار، يحدث فذكره نحوه . قال ابو داود رواه ابو عاصم وحماد بن مسعدة كما رواه ابن بكر
یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ ( یہ شک شعبہ کو ہوا ہے ) کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن يحيى بن يزيد الهنايي، قال سالت انس بن مالك عن قصر الصلاة، فقال انس كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا خرج مسيرة ثلاثة اميال او ثلاثة فراسخ - شعبة شك - يصلي ركعتين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت ۱؎۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا ابن عيينة، عن محمد بن المنكدر، وابراهيم بن ميسرة، سمعا انس بن مالك، يقول صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر بالمدينة اربعا والعصر بذي الحليفة ركعتين
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہارا رب بکری کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر نماز کے لیے اذان دیتا ۱؎ اور نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو، یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا ۔
حدثنا هارون بن معروف، حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، ان ابا عشانة المعافري، حدثه عن عقبة بن عامر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يعجب ربكم من راعي غنم في راس شظية بجبل يوذن بالصلاة ويصلي فيقول الله عز وجل انظروا الى عبدي هذا يوذن ويقيم الصلاة يخاف مني فقد غفرت لعبدي وادخلته الجنة
مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو، انہوں نے کہا: جب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے: سورج ڈھل گیا یا نہیں ۱؎ تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن المسحاج بن موسى، قال قلت لانس بن مالك حدثنا ما، سمعت من، رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال كنا اذا كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر فقلنا زالت الشمس او لم تزل صلى الظهر ثم ارتحل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: گرچہ نصف النہار ہوتا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ نصف النہار ہوتا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني حمزة العايذي، - رجل من بني ضبة - قال سمعت انس بن مالك، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا نزل منزلا لم يرتحل حتى يصلي الظهر فقال له رجل وان كان بنصف النهار قال وان كان بنصف النهار
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مؤخر کی پھر نکلے اور ظہر و عصر ایک ساتھ پڑھی ۲؎پھر اندر ( قیام گاہ میں ) ۳؎ چلے گئے، پھر نکلے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزبير المكي، عن ابي الطفيل، عامر بن واثلة ان معاذ بن جبل، اخبرهم انهم، خرجوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء فاخر الصلاة يوما ثم خرج فصلى الظهر والعصر جميعا ثم دخل ثم خرج فصلى المغرب والعشاء جميعا
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفیہ ۱؎ کی موت کی خبر دی گئی اس وقت مکہ میں تھے تو آپ چلے ( اور چلتے رہے ) یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا اور ستارے نظر آنے لگے، تو عرض کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جب کسی کام کی عجلت ہوتی تو آپ یہ دونوں ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ادا کرتے، پھر وہ شفق غائب ہونے تک چلتے رہے ٹھہر کر دونوں کو ایک ساتھ ادا کیا۔
حدثنا سليمان بن داود العتكي، حدثنا حماد، حدثنا ايوب، عن نافع، ان ابن عمر، استصرخ على صفية وهو بمكة فسار حتى غربت الشمس وبدت النجوم فقال ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا عجل به امر في سفر جمع بين هاتين الصلاتين . فسار حتى غاب الشفق فنزل فجمع بينهما
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں سفر سے پہلے سورج ڈھل جانے کی صورت میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے، اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ آپ عصر کے لیے قیام کرتے، اسی طرح آپ مغرب میں کرتے، اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈوب جاتا تو عشاء کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے اور اگر سورج ڈوبنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ عشاء کے لیے قیام کرتے پھر دونوں کو ملا کر پڑھ لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشام بن عروہ نے حصین بن عبداللہ سے حصین نے کریب سے، کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مفضل اور لیث کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب الرملي الهمداني، حدثنا المفضل بن فضالة، والليث بن سعد، عن هشام بن سعد، عن ابي الزبير، عن ابي الطفيل، عن معاذ بن جبل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في غزوة تبوك اذا زاغت الشمس قبل ان يرتحل جمع بين الظهر والعصر وان يرتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظهر حتى ينزل للعصر وفي المغرب مثل ذلك ان غابت الشمس قبل ان يرتحل جمع بين المغرب والعشاء وان يرتحل قبل ان تغيب الشمس اخر المغرب حتى ينزل للعشاء ثم جمع بينهما . قال ابو داود رواه هشام بن عروة عن حسين بن عبد الله عن كريب عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث المفضل والليث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث «ایوب عن نافع عن ابن عمر» سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں نمازوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا، یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الله بن نافع، عن ابي مودود، عن سليمان بن ابي يحيى، عن ابن عمر، قال ما جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين المغرب والعشاء قط في السفر الا مرة . قال ابو داود وهذا يروى عن ايوب عن نافع عن ابن عمر موقوفا على ابن عمر انه لم ير ابن عمر جمع بينهما قط الا تلك الليلة يعني ليلة استصرخ على صفية وروي من حديث مكحول عن نافع انه راى ابن عمر فعل ذلك مرة او مرتين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کسی خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا کیا ۱؎۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ایسا بارش میں ہوا ہو گا ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے مالک ہی کی طرح ابوالزبیر سے روایت کیا ہے، نیز اسے قرہ بن خالد نے بھی ابوالزبیر سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ یہ ایک سفر میں ہوا تھا جو ہم نے تبوک کی جانب کیا تھا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزبير المكي، عن سعيد بن جبير، عن عبد الله بن عباس، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر والعصر جميعا والمغرب والعشاء جميعا في غير خوف ولا سفر . قال مالك ارى ذلك كان في مطر . قال ابو داود ورواه حماد بن سلمة نحوه عن ابي الزبير ورواه قرة بن خالد عن ابي الزبير قال في سفرة سافرناها الى تبوك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا، ابن عباس سے پوچھا گیا: اس سے آپ کا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی امت کو کسی زحمت میں نہ ڈالیں ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء بالمدينة من غير خوف ولا مطر . فقيل لابن عباس ما اراد الى ذلك قال اراد ان لا يحرج امته
نافع اور عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مؤذن نے کہا: نماز ( پڑھ لی جائے ) ( تو ) ابن عمر نے کہا: چلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے، چنانچہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي، حدثنا محمد بن فضيل، عن ابيه، عن نافع، وعبد الله بن واقد، ان موذن ابن عمر، قال الصلاة . قال سر سر . حتى اذا كان قبل غيوب الشفق نزل فصلى المغرب ثم انتظر حتى غاب الشفق وصلى العشاء ثم قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا عجل به امر صنع مثل الذي صنعت فسار في ذلك اليوم والليلة مسيرة ثلاث . قال ابو داود رواه ابن جابر عن نافع نحو هذا باسناده
اس طریق سے بھی ابن جابر سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اور عبداللہ بن علاء نے نافع سے یہ حدیث روایت کی ہے: اس میں ہے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہونے کا وقت ہوا تو وہ اترے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، عن ابن جابر، بهذا المعنى . قال ابو داود ورواه عبد الله بن العلاء عن نافع، قال حتى اذا كان عند ذهاب الشفق نزل فجمع بينهما
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں ہمارے ساتھ ظہر و عصر ملا کر آٹھ رکعتیں اور مغرب و عشاء ملا کر سات رکعتیں پڑھیں۔ سلیمان اور مسدد کی روایت میں «بنا» یعنی ہمارے ساتھ کا لفظ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے صالح مولیٰ توامہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے، اس میں «بغير مطر» بغیر بارش کے الفاظ ہیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، قالا حدثنا حماد بن زيد، ح وحدثنا عمرو بن عون، اخبرنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة ثمانيا وسبعا الظهر والعصر والمغرب والعشاء . ولم يقل سليمان ومسدد بنا . قال ابو داود ورواه صالح مولى التوامة عن ابن عباس قال في غير مطر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے کہ سورج ڈوب گیا تو آپ نے مقام سرف میں دونوں ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ادا کی۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا يحيى بن محمد الجاري، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن مالك، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غابت له الشمس بمكة فجمع بينهما بسرف
ہشام بن سعد کہتے ہیں کہ دونوں یعنی مکہ اور سرف کے درمیان دس میل کا فاصلہ ہے۔
حدثنا محمد بن هشام، جار احمد بن حنبل حدثنا جعفر بن عون، عن هشام بن سعد، قال بينهما عشرة اميال يعني بين مكة وسرف
عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اس وقت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، پھر ہم چلے، جب دیکھا کہ رات آ گئی ہے تو ہم نے کہا: نماز ( ادا کر لیں ) لیکن آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی اور تارے پوری طرح جگمگا نے لگے، پھر آپ اترے، اور دونوں نمازیں ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ادا کیں، پھر کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چلتے رہنا ہوتا تو میری اس نماز کی طرح آپ بھی نماز ادا کرتے یعنی دونوں کو رات ہو جانے پر ایک ساتھ پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے اور انہوں نے سالم سے روایت کی ہے، اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبدالرحمٰن بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نمازوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے شفق غائب ہونے کے بعد جمع کیا۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب، حدثنا ابن وهب، عن الليث، قال قال ربيعة - يعني كتب اليه - حدثني عبد الله بن دينار قال غابت الشمس وانا عند عبد الله بن عمر فسرنا فلما رايناه قد امسى قلنا الصلاة . فسار حتى غاب الشفق وتصوبت النجوم ثم انه نزل فصلى الصلاتين جميعا ثم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جد به السير صلى صلاتي هذه يقول يجمع بينهما بعد ليل . قال ابو داود رواه عاصم بن محمد عن اخيه عن سالم ورواه ابن ابي نجيح عن اسماعيل بن عبد الرحمن بن ذويب ان الجمع بينهما من ابن عمر كان بعد غيوب الشفق