Loading...

Loading...
کتب
۵۲ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر دیتے پھر قیام فرماتے اور دونوں کو جمع کرتے، اور اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مفضل مصر کے قاضی اور مستجاب لدعوات تھے، وہ فضالہ کے لڑکے ہیں۔
حدثنا قتيبة، وابن، موهب - المعنى - قالا حدثنا المفضل، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ارتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظهر الى وقت العصر ثم نزل فجمع بينهما فان زاغت الشمس قبل ان يرتحل صلى الظهر ثم ركب صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود كان مفضل قاضي مصر وكان مجاب الدعوة وهو ابن فضالة
اس طریق سے بھی عقیل سے یہی روایت اسی سند سے منقول ہے البتہ اس میں اضافہ ہے کہ مغرب کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہو جاتی تو اسے اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، حدثنا ابن وهب، اخبرني جابر بن اسماعيل، عن عقيل، بهذا الحديث باسناده قال ويوخر المغرب حتى يجمع بينها وبين العشاء حين يغيب الشفق
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ اسے عصر سے ملا دیتے، اور دونوں کو ایک ساتھ ادا کرتے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے، اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر ادا کرتے، اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء میں جلدی فرماتے اور اسے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث سوائے قتیبہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، اخبرنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الطفيل، عامر بن واثلة عن معاذ بن جبل، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في غزوة تبوك اذا ارتحل قبل ان تزيغ الشمس اخر الظهر حتى يجمعها الى العصر فيصليهما جميعا واذا ارتحل بعد زيغ الشمس صلى الظهر والعصر جميعا ثم سار وكان اذا ارتحل قبل المغرب اخر المغرب حتى يصليها مع العشاء واذا ارتحل بعد المغرب عجل العشاء فصلاها مع المغرب . قال ابو داود ولم يرو هذا الحديث الا قتيبة وحده
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی اور دونوں رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں «والتين والزيتون» پڑھی
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن البراء، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فصلى بنا العشاء الاخرة فقرا في احدى الركعتين بالتين والزيتون
براء بن عازب انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا، لیکن میں نے نہیں دیکھا کہ سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں ترک کی ہوں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن صفوان بن سليم، عن ابي بسرة الغفاري، عن البراء بن عازب الانصاري، قال صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمانية عشر سفرا فما رايته ترك ركعتين اذا زاغت الشمس قبل الظهر
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ( نماز کی حالت میں ) کھڑے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ نفل پڑھ رہے ہیں، تو آپ نے کہا: بھتیجے! اگر مجھے نفل ۱؎ پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا، میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، مجھے ( سفر میں ) عثمان رضی اللہ عنہ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عيسى بن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب، عن ابيه، قال صحبت ابن عمر في طريق - قال - فصلى بنا ركعتين ثم اقبل فراى ناسا قياما فقال ما يصنع هولاء قلت يسبحون . قال لو كنت مسبحا اتممت صلاتي يا ابن اخي اني صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله عز وجل وصحبت ابا بكر فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله عز وجل وصحبت عمر فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله تعالى وصحبت عثمان فلم يزد على ركعتين حتى قبضه الله تعالى وقد قال الله عز وجل { لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نفل پڑھتے تھے، خواہ آپ کسی بھی طرف متوجہ ہوتے اور اسی پر وتر پڑھتے، البتہ اس پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسبح على الراحلة اى وجه توجه ويوتر عليها غير انه لا يصلي المكتوبة عليها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی قبلہ رخ کر لیتے اور تکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے خواہ آپ کی سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو جائے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ربعي بن عبد الله بن الجارود، حدثني عمرو بن ابي الحجاج، حدثني الجارود بن ابي سبرة، حدثني انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا سافر فاراد ان يتطوع استقبل بناقته القبلة فكبر ثم صلى حيث وجهه ركابه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گدھے پر نماز پڑھتے دیکھا آپ کا رخ خیبر کی جانب تھا۱؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عمرو بن يحيى المازني، عن ابي الحباب، سعيد بن يسار عن عبد الله بن عمر، انه قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على حمار وهو متوجه الى خيبر
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا، میں ( واپس ) آیا تو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں ( آپ کا ) سجدہ رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک کر ہوتا تھا
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، - قال - بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في حاجة قال فجيت وهو يصلي على راحلته نحو المشرق والسجود اخفض من الركوع
عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا عورتوں کو چوپایوں پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ آپ نے کہا: مشکل میں ہوں یا سہولت میں، انہیں کسی حالت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں: یہ بات فرض نماز کے سلسلے میں ہے۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا محمد بن شعيب، عن النعمان بن المنذر، عن عطاء بن ابي رباح، انه سال عايشة - رضى الله عنها - هل رخص للنساء ان يصلين على الدواب قالت لم يرخص لهن في ذلك في شدة ولا رخاء . قال محمد هذا في المكتوبة
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور فتح مکہ میں آپ کے ساتھ موجود رہا، آپ نے مکہ میں اٹھارہ شب قیام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے اور فرماتے: اے مکہ والو! تم چار پڑھو، کیونکہ ہم تو مسافر ہیں ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا ابن علية، - وهذا لفظه - اخبرنا علي بن زيد، عن ابي نضرة، عن عمران بن حصين، قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وشهدت معه الفتح فاقام بمكة ثماني عشرة ليلة لا يصلي الا ركعتين ويقول " يا اهل البلد صلوا اربعا فانا قوم سفر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سترہ دن مکہ میں مقیم رہے، اور نماز قصر کرتے رہے، تو جو شخص سترہ دن قیام کرے وہ قصر کرے، اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ اتمام کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد بن منصور نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم انیس دن تک مقیم رہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، وعثمان بن ابي شيبة، - المعنى واحد - قالا حدثنا حفص، عن عاصم، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقام سبع عشرة بمكة يقصر الصلاة . قال ابن عباس ومن اقام سبع عشرة قصر ومن اقام اكثر اتم . قال ابو داود قال عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس قال اقام تسع عشرة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے سال مکہ میں پندرہ روز قیام فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز قصر کرتے رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث عبدہ بن سلیمان، احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال اقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة عام الفتح خمس عشرة يقصر الصلاة . قال ابو داود روى هذا الحديث عبدة بن سليمان واحمد بن خالد الوهبي وسلمة بن الفضل عن ابن اسحاق لم يذكروا فيه ابن عباس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں سترہ دن تک مقیم رہے اور دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرني ابي، حدثنا شريك، عن ابن الاصبهاني، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقام بمكة سبع عشرة يصلي ركعتين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے، آپ ( اس سفر میں ) دو رکعتیں پڑھتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے تو ہم لوگوں نے پوچھا: کیا آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے؟ انہوں نے جواب دیا: مکہ میں ہمارا قیام دس دن رہا ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، ومسلم بن ابراهيم، - المعنى - قالا حدثنا وهيب، حدثني يحيى بن ابي اسحاق، عن انس بن مالك، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة الى مكة فكان يصلي ركعتين حتى رجعنا الى المدينة فقلنا هل اقمتم بها شييا قال اقمنا بها عشرا
عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج ڈوبنے کے بعد بھی چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہو جاتا، پھر آپ اترتے اور مغرب پڑھتے۔ پھر شام کا کھانا طلب کرتے اور کھا کر عشاء ادا کرتے۔ پھر کوچ فرماتے اور کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عثمان کی روایت میں «أخبرني عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» کے بجائے «عن عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» ہے۔ ( ابوعلی لولؤی کہتے ہیں ) میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبیداللہ ( بن انس بن مالک ) سے روایت کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ جب شفق غائب ہو جاتی تو دونوں ( مغرب اور عشاء ) کو جمع کرتے اور کہتے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وابن المثنى، - وهذا لفظ ابن المثنى - قالا حدثنا ابو اسامة، - قال ابن المثنى - قال اخبرني عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن ابي طالب، عن ابيه، عن جده، ان عليا، - رضى الله عنه - كان اذا سافر سار بعد ما تغرب الشمس حتى تكاد ان تظلم ثم ينزل فيصلي المغرب ثم يدعو بعشايه فيتعشى ثم يصلي العشاء ثم يرتحل ويقول هكذا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع . قال عثمان عن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي سمعت ابا داود يقول وروى اسامة بن زيد عن حفص بن عبيد الله يعني ابن انس بن مالك ان انسا كان يجمع بينهما حين يغيب الشفق ويقول كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع ذلك ورواية الزهري عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور نماز قصر کرتے رہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر کے علاوہ سبھی اسے مرسل روایت کرتے ہیں، کوئی اسے مسند روایت نہیں کرتا ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن جابر بن عبد الله، قال اقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بتبوك عشرين يوما يقصر الصلاة . قال ابو داود غير معمر لا يسنده
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے، اس وقت مشرکوں کے سردار خالد بن ولید تھے، ہم نے ظہر پڑھی تو مشرکین کہنے لگے: ہم سے چوک ہو گئی، ہم غفلت کا شکار ہو گئے، کاش! ہم نے دوران نماز ان پر حملہ کر دیا ہوتا، چنانچہ ظہر اور عصر کے درمیان قصر کی آیت نازل ہوئی ۱؎ پھر جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے، مشرکین آپ کے سامنے تھے، لوگوں نے آپ کے پیچھے ایک صف بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک دوسری صف بنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ بیک وقت رکوع کیا، لیکن سجدہ آپ نے اور صرف اس صف کے لوگوں نے کیا جو آپ سے قریب تر تھے اور باقی ( پچھلی صف کے ) لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، پھر جب یہ لوگ سجدہ کر کے کھڑے ہو گئے تو باقی دوسرے لوگوں نے جو ان کے پیچھے تھے، سجدے کئے، پھر قریب والی صف پیچھے ہٹ کر دوسری صف کی جگہ پر چلی گئی، اور دوسری صف آگے بڑھ کر پہلی صف کی جگہ پر آ گئی، پھر سب نے مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، اس کے بعد سجدہ صرف آپ اور آپ سے قریب والی صف نے کیا اور بقیہ لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریب والی صف کے لوگ بیٹھ گئے تو بقیہ دوسروں نے سجدہ کیا، پھر سب ایک ساتھ بیٹھے اور ایک ساتھ سلام پھیرا، آپ نے عسفان میں اسی طرح نماز پڑھی اور بنی سلیم سے جنگ کے روز بھی اسی طرح نماز پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب اور ہشام نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے اسی مفہوم کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث داود بن حصین نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ اسی طرح یہ حدیث عبدالملک نے عطا سے، عطاء نے جابر سے روایت کی ہے۔ اسی طرح قتادہ نے حسن سے، حسن نے حطان سے، حطان نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی عمل نقل کیا ہے۔ اسی طرح عکرمہ بن خالد نے مجاہد سے مجاہد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اسی طرح ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور یہی ثوری کا قول ہے۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن منصور، عن مجاهد، عن ابي عياش الزرقي، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعسفان وعلى المشركين خالد بن الوليد فصلينا الظهر فقال المشركون لقد اصبنا غرة لقد اصبنا غفلة لو كنا حملنا عليهم وهم في الصلاة فنزلت اية القصر بين الظهر والعصر فلما حضرت العصر قام رسول الله صلى الله عليه وسلم مستقبل القبلة والمشركون امامه فصف خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم صف وصف بعد ذلك الصف صف اخر فركع رسول الله صلى الله عليه وسلم وركعوا جميعا ثم سجد وسجد الصف الذين يلونه وقام الاخرون يحرسونهم فلما صلى هولاء السجدتين وقاموا سجد الاخرون الذين كانوا خلفهم ثم تاخر الصف الذي يليه الى مقام الاخرين وتقدم الصف الاخير الى مقام الصف الاول ثم ركع رسول الله صلى الله عليه وسلم وركعوا جميعا ثم سجد وسجد الصف الذي يليه وقام الاخرون يحرسونهم فلما جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم والصف الذي يليه سجد الاخرون ثم جلسوا جميعا فسلم عليهم جميعا فصلاها بعسفان وصلاها يوم بني سليم . قال ابو داود روى ايوب وهشام عن ابي الزبير عن جابر هذا المعنى عن النبي صلى الله عليه وسلم وكذلك رواه داود بن حصين عن عكرمة عن ابن عباس وكذلك عبد الملك عن عطاء عن جابر وكذلك قتادة عن الحسن عن حطان عن ابي موسى فعله وكذلك عكرمة بن خالد عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم وكذلك هشام بن عروة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم وهو قول الثوري
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ حالت خوف میں نماز ادا کی تو اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں پھر جو آپ سے قریب تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہو گئے اور برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے جو پہلی صف کے پیچھے تھے، ایک رکعت ادا کی، پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے، آپ کے پیچھے آ گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی پھر آپ بیٹھے رہے یہاں تک کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے ایک رکعت اور پڑھی پھر آپ نے سلام پھیرا۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن صالح بن خوات، عن سهل بن ابي حثمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى باصحابه في خوف فجعلهم خلفه صفين فصلى بالذين يلونه ركعة ثم قام فلم يزل قايما حتى صلى الذين خلفهم ركعة ثم تقدموا وتاخر الذين كانوا قدامهم فصلى بهم النبي صلى الله عليه وسلم ركعة ثم قعد حتى صلى الذين تخلفوا ركعة ثم سلم