Loading...

Loading...
کتب
۵۲ احادیث
صالح بن خوات ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے ذات الرقاع کے غزوہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی وہ کہتے ہیں: ایک جماعت آپ کے ساتھ صف میں کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والی جماعت کے ساتھ ایک رکعت ادا کی پھر کھڑے رہے اور ان لوگوں نے ( اس دوران میں ) اپنی نماز پوری کر لی ( یعنی دوسری رکعت بھی پڑھ لی ) پھر وہ واپس دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے اور دوسری جماعت آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ اپنی رکعت ادا کی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنی دوسری رکعت پوری کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ مالک کہتے ہیں: یزید بن رومان کی حدیث میری مسموعات میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يزيد بن رومان، عن صالح بن خوات، عمن صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم ذات الرقاع صلاة الخوف ان طايفة صفت معه وطايفة وجاه العدو فصلى بالتي معه ركعة ثم ثبت قايما واتموا لانفسهم ثم انصرفوا وصفوا وجاه العدو وجاءت الطايفة الاخرى فصلى بهم الركعة التي بقيت من صلاته ثم ثبت جالسا واتموا لانفسهم ثم سلم بهم . قال مالك وحديث يزيد بن رومان احب ما سمعت الى
صالح بن خوات انصاری کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ نماز خوف اس طرح ہو گی کہ امام ( نماز کے لیے ) کھڑا ہو گا اور اس کے ساتھیوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہو گی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہو گی، امام اور جو اس کے ساتھ ہوں گے رکوع اور سجدہ کریں گے پھر امام کھڑا ہو گا، جب پورے طور سے سیدھا کھڑا ہو جائے گا تو یونہی کھڑا رہے گا یہاں تک کہ لوگ اپنی باقی ( دوسری ) رکعت بھی ادا کر لیں گے، پھر وہ لوگ سلام پھیر کر واپس چلے جائیں گے اور امام کھڑا رہے گا، اب یہ دشمن کے سامنے ہوں گے اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی ہے، وہ آئیں گے اور امام کے پیچھے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہیں گے پھر وہ ان کے ساتھ رکوع اور سجدہ کر کے اپنی دوسری رکعت پوری کرے گا پھر سلام پھیر دے گا، اس کے بعد یہ لوگ کھڑے ہو کر اپنی باقی رکعت ادا کریں گے پھر سلام پھیریں گے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رہی قاسم سے مروی یحییٰ بن سعید کی روایت تو وہ یزید بن رومان کی روایت ہی کی طرح ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے سلام میں اختلاف کیا ہے اور عبیداللہ کی روایت یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح ہے اس میں ہے کہ ( امام ) کھڑا رہے گا ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، عن صالح بن خوات الانصاري، ان سهل بن ابي حثمة الانصاري، حدثه ان صلاة الخوف ان يقوم الامام وطايفة من اصحابه وطايفة مواجهة العدو فيركع الامام ركعة ويسجد بالذين معه ثم يقوم فاذا استوى قايما ثبت قايما واتموا لانفسهم الركعة الباقية ثم سلموا وانصرفوا والامام قايم فكانوا وجاه العدو ثم يقبل الاخرون الذين لم يصلوا فيكبرون وراء الامام فيركع بهم ويسجد بهم ثم يسلم فيقومون فيركعون لانفسهم الركعة الباقية ثم يسلمون . قال ابو داود واما رواية يحيى بن سعيد عن القاسم نحو رواية يزيد بن رومان الا انه خالفه في السلام ورواية عبيد الله نحو رواية يحيى بن سعيد قال ويثبت قايما
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو عبد الرحمن المقري، حدثنا حيوة، وابن، لهيعة قالا اخبرنا ابو الاسود، انه سمع عروة بن الزبير، يحدث عن مروان بن الحكم، انه سال ابا هريرة هل صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف قال ابو هريرة نعم . قال مروان متى فقال ابو هريرة عام غزوة نجد قام رسول الله صلى الله عليه وسلم الى صلاة العصر فقامت معه طايفة وطايفة اخرى مقابل العدو ظهورهم الى القبلة فكبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبروا جميعا الذين معه والذين مقابلي العدو ثم ركع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة واحدة وركعت الطايفة التي معه ثم سجد فسجدت الطايفة التي تليه والاخرون قيام مقابلي العدو ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقامت الطايفة التي معه فذهبوا الى العدو فقابلوهم واقبلت الطايفة التي كانت مقابلي العدو فركعوا وسجدوا ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم كما هو ثم قاموا فركع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة اخرى وركعوا معه وسجد وسجدوا معه ثم اقبلت الطايفة التي كانت مقابلي العدو فركعوا وسجدوا ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد ومن معه ثم كان السلام فسلم رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلموا جميعا فكان لرسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتان ولكل رجل من الطايفتين ركعة ركعة
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو عبد الرحمن المقري، حدثنا حيوة، وابن، لهيعة قالا اخبرنا ابو الاسود، انه سمع عروة بن الزبير، يحدث عن مروان بن الحكم، انه سال ابا هريرة هل صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف قال ابو هريرة نعم . قال مروان متى فقال ابو هريرة عام غزوة نجد قام رسول الله صلى الله عليه وسلم الى صلاة العصر فقامت معه طايفة وطايفة اخرى مقابل العدو ظهورهم الى القبلة فكبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبروا جميعا الذين معه والذين مقابلي العدو ثم ركع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة واحدة وركعت الطايفة التي معه ثم سجد فسجدت الطايفة التي تليه والاخرون قيام مقابلي العدو ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقامت الطايفة التي معه فذهبوا الى العدو فقابلوهم واقبلت الطايفة التي كانت مقابلي العدو فركعوا وسجدوا ورسول الله صلى الله عليه وسلم قايم كما هو ثم قاموا فركع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة اخرى وركعوا معه وسجد وسجدوا معه ثم اقبلت الطايفة التي كانت مقابلي العدو فركعوا وسجدوا ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد ومن معه ثم كان السلام فسلم رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلموا جميعا فكان لرسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتان ولكل رجل من الطايفتين ركعة ركعة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع میں تھے تو غطفان کے کچھ لوگ ملے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی لیکن اس کے الفاظ حیوۃ کے الفاظ سے مختلف ہیں اس میں «حين ركع بمن معه وسجد» کے الفاظ ہیں، نیز اس میں ہے «فلما قاموا مشوا القهقرى إلى مصاف أصحابهم» یعنی جب وہ اٹھے تو الٹے پاؤں پھرے اور اپنے ساتھیوں کی صف میں آ کھڑے ہوئے ، اس میں انہوں نے «استدبار قبلہ» ( قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے ) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عمرو الرازي، حدثنا سلمة، حدثني محمد بن اسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزبير، ومحمد بن الاسود، عن عروة بن الزبير، عن ابي هريرة، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى نجد حتى اذا كنا بذات الرقاع من نخل لقي جمعا من غطفان فذكر معناه ولفظه على غير لفظ حيوة وقال فيه حين ركع بمن معه وسجد قال فلما قاموا مشوا القهقرى الى مصاف اصحابهم ولم يذكر استدبار القبلة
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی واقعہ بیان کیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور اس جماعت نے بھی جو آپ کے ساتھ صف میں کھڑی تھی تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی اٹھایا، اس کے بعد آپ بیٹھے رہے اور وہ لوگ دوسرا سجدہ خود سے کر کے کھڑے ہوئے اور ایٹریوں کے بل پیچھے چلتے ہوئے الٹے پاؤں لوٹے، یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے، اور دوسری جماعت آ کر کھڑی ہوئی، اس نے تکبیر کہی پھر خود سے رکوع کیا اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دوسرا سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنا دوسرا سجدہ کیا، پھر دونوں جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہوئیں اور دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے رکوع کیا ( ان سب نے بھی رکوع کیا ) ، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی ایک ساتھ سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسرا سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی سجدہ کیا، اور جلدی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اور لوگوں نے بھی سلام پھیرا، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اس طرح لوگوں نے پوری نماز میں آپ کے ساتھ شرکت کر لی۔
قال ابو داود واما عبيد الله بن سعد فحدثنا قال حدثني عمي، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، حدثني محمد بن جعفر بن الزبير، ان عروة بن الزبير، حدثه ان عايشة حدثته بهذه القصة، قالت كبر رسول الله صلى الله عليه وسلم وكبرت الطايفة الذين صفوا معه ثم ركع فركعوا ثم سجد فسجدوا ثم رفع فرفعوا ثم مكث رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا ثم سجدوا هم لانفسهم الثانية ثم قاموا فنكصوا على اعقابهم يمشون القهقرى حتى قاموا من ورايهم وجاءت الطايفة الاخرى فقاموا فكبروا ثم ركعوا لانفسهم ثم سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسجدوا معه ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وسجدوا لانفسهم الثانية ثم قامت الطايفتان جميعا فصلوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فركع فركعوا ثم سجد فسجدوا جميعا ثم عاد فسجد الثانية وسجدوا معه سريعا كاسرع الاسراع جاهدا لا يالون سراعا ثم سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلموا فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد شاركه الناس في الصلاة كلها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی پھر یہ جماعت جا کر پہلی جماعت کی جگہ کھڑی ہو گئی اور وہ جماعت ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ) آ گئی تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ بھی ( جو دشمن کے سامنے چلے گئے تھے ) کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح یہ حدیث نافع اور خالد بن معدان نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور یہی قول مسروق اور یوسف بن مہران ہے جسے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح یونس نے حسن سے اور انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى باحدى الطايفتين ركعة والطايفة الاخرى مواجهة العدو ثم انصرفوا فقاموا في مقام اوليك وجاء اوليك فصلى بهم ركعة اخرى ثم سلم عليهم ثم قام هولاء فقضوا ركعتهم وقام هولاء فقضوا ركعتهم . قال ابو داود وكذلك رواه نافع وخالد بن معدان عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم وكذلك قول مسروق ويوسف بن مهران عن ابن عباس وكذلك روى يونس عن الحسن عن ابي موسى انه فعله
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی تو ایک صف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی، آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر دوسری جماعت آئی اور ان کی جگہ کھڑی ہوئی اور یہ جماعت دشمن کے سامنے چلی گئی، اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر یہ جماعت کھڑی ہوئی، اس نے دوسری رکعت ادا کر کے سلام پھیرا اور جا کر ان کی جگہ کھڑی ہو گئی، جو دشمن کے سامنے تھے، اب وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے اور انہوں نے اپنی دوسری رکعت ادا کی پھر سلام پھیرا۔
حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا ابن فضيل، حدثنا خصيف، عن ابي عبيدة، عن عبد الله بن مسعود، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف فقاموا صفين صف خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وصف مستقبل العدو فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعة ثم جاء الاخرون فقاموا مقامهم واستقبل هولاء العدو فصلى بهم النبي صلى الله عليه وسلم ركعة ثم سلم فقام هولاء فصلوا لانفسهم ركعة ثم سلموا ثم ذهبوا فقاموا مقام اوليك مستقبلي العدو ورجع اوليك الى مقامهم فصلوا لانفسهم ركعة ثم سلموا
اس طریق سے بھی خصیف سے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہی اور دونوں صف کے سارے لوگوں نے بھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ثوری نے بھی خصیف سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے اسی طرح یہ نماز ادا کی، البتہ اتنا فرق ضرور تھا کہ وہ گروہ جس کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا، اپنے ساتھیوں کی جگہ واپس چلا گیا اور ان لوگوں نے آ کر خود سے ایک رکعت پوری کی۔ پھر وہ ان کی جگہ واپس چلے گئے اور اس گروہ نے آ کر اپنی باقی ماندہ رکعت خود سے ادا کی۔ ۱۲۴۵/م- ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے یہ حدیث مسلم بن ابراہیم نے بیان کی، مسلم کہتے ہیں: ہم سے عبدالصمد بن حبیب نے بیان کی، عبدالصمد کہتے ہیں: میرے والد نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے عبدالرحمٰن بن سمرہ کے ساتھ کابل کا جہاد کیا تو انہوں نے ہمیں نماز خوف پڑھائی۔
حدثنا تميم بن المنتصر، اخبرنا اسحاق، - يعني ابن يوسف - عن شريك، عن خصيف، باسناده ومعناه . قال فكبر نبي الله صلى الله عليه وسلم وكبر الصفان جميعا . قال ابو داود رواه الثوري بهذا المعنى عن خصيف وصلى عبد الرحمن بن سمرة هكذا الا ان الطايفة التي صلى بهم ركعة ثم سلم مضوا الى مقام اصحابهم وجاء هولاء فصلوا لانفسهم ركعة ثم رجعوا الى مقام اوليك فصلوا لانفسهم ركعة . قال ابو داود حدثنا بذلك مسلم بن ابراهيم حدثنا عبد الصمد بن حبيب قال اخبرني ابي انهم غزوا مع عبد الرحمن بن سمرة كابل فصلى بنا صلاة الخوف
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم لوگ سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں تھے، وہ کھڑے ہوئے اور پوچھا: تم میں کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی ہے؟ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ( پھر حذیفہ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرے کو ایک رکعت ) اور ان لوگوں نے ( دوسری رکعت کی ) قضاء نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عبداللہ اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور عبداللہ بن شفیق نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور یزید فقیر اور ابوموسیٰ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوموسیٰ تابعی ہیں، ابوموسیٰ اشعری نہیں ہیں۔ یزید الفقیر کی روایت میں بعض راویوں نے شعبہ سے یوں روایت کی ہے کہ انہوں نے دوسری رکعت قضاء کی تھی۔ اسی طرح اسے سماک حنفی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ نیز اسی طرح اسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني الاشعث بن سليم، عن الاسود بن هلال، عن ثعلبة بن زهدم، قال كنا مع سعيد بن العاص بطبرستان فقام فقال ايكم صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف فقال حذيفة انا فصلى بهولاء ركعة وبهولاء ركعة ولم يقضوا . قال ابو داود وكذا رواه عبيد الله بن عبد الله ومجاهد عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم وعبد الله بن شقيق عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ويزيد الفقير وابو موسى - قال ابو داود رجل من التابعين ليس بالاشعري - جميعا عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم وقد قال بعضهم في حديث يزيد الفقير انهم قضوا ركعة اخرى . وكذلك رواه سماك الحنفي عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم وكذلك رواه زيد بن ثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم قال فكانت للقوم ركعة ركعة وللنبي صلى الله عليه وسلم ركعتين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تم پر حضر میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت۔
حدثنا مسدد، وسعيد بن منصور، قالا حدثنا ابو عوانة، عن بكير بن الاخنس، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال فرض الله تعالى الصلاة على لسان نبيكم صلى الله عليه وسلم في الحضر اربعا وفي السفر ركعتين وفي الخوف ركعة
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی حالت میں ظہر ادا کی تو بعض لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی اور بعض دشمن کے سامنے رہے، آپ نے انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، تو جو لوگ آپ کے ساتھ نماز میں تھے، وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کر کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ یہاں آ گئے پھر آپ کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی تو آپ نے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں اور صحابہ کرام کی دو دو رکعتیں ہوئیں، اور حسن بصری اسی کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مغرب میں امام کی چھ، اور دیگر لوگوں کی تین تین رکعتیں ہوں گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح سلیمان یشکری نے «عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کہا ہے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا الاشعث، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم في خوف الظهر فصف بعضهم خلفه وبعضهم بازاء العدو فصلى بهم ركعتين ثم سلم فانطلق الذين صلوا معه فوقفوا موقف اصحابهم ثم جاء اوليك فصلوا خلفه فصلى بهم ركعتين ثم سلم فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم اربعا ولاصحابه ركعتين ركعتين . وبذلك كان يفتي الحسن . قال ابو داود وكذلك في المغرب يكون للامام ست ركعات وللقوم ثلاثا ثلاثا . قال ابو داود وكذلك رواه يحيى بن ابي كثير عن ابي سلمة عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم وكذلك قال سليمان اليشكري عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان ہذلی کی طرف بھیجا اور وہ عرنہ و عرفات کی جانب تھا تو فرمایا: جاؤ اور اسے قتل کر دو ، عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھ لیا عصر کا وقت ہو گیا تھا تو میں نے ( اپنے جی میں ) کہا اگر میں رک کر نماز میں لگتا ہوں تو اس کے اور میرے درمیان فاصلہ ہو جائے گا، چنانچہ میں اشاروں سے نماز پڑھتے ہوئے مسلسل اس کی جانب چلتا رہا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: عرب کا ایک شخص، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے ) کے لیے تم ( لوگوں کو ) جمع کر رہے ہو ۱؎ تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں، اس نے کہا: ہاں میں اسی کوشش میں ہوں، چنانچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا، جب مجھے مناسب موقع مل گیا تو میں نے اس پر تلوار سے وار کر دیا اور وہ ٹھنڈا ہو گیا۔
حدثنا ابو معمر عبد الله بن عمرو، حدثنا عبد الوارث، حدثنا محمد بن اسحاق، عن محمد بن جعفر، عن ابن عبد الله بن انيس، عن ابيه، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى خالد بن سفيان الهذلي - وكان نحو عرنة وعرفات - فقال " اذهب فاقتله " . قال فرايته وحضرت صلاة العصر فقلت اني لاخاف ان يكون بيني وبينه ما ان اوخر الصلاة فانطلقت امشي وانا اصلي اومي ايماء نحوه فلما دنوت منه قال لي من انت قلت رجل من العرب بلغني انك تجمع لهذا الرجل فجيتك في ذاك . قال اني لفي ذاك فمشيت معه ساعة حتى اذا امكنني علوته بسيفي حتى برد