Loading...

Loading...
کتب
۳۷ احادیث
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ نماز استسقا کے لیے نکلے، تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی، جن میں بلند آواز سے قرأت کی اور اپنی چادر پلٹی اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی ۱؎۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت المروزي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عباد بن تميم، عن عمه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج بالناس ليستسقي فصلى بهم ركعتين جهر بالقراءة فيهما وحول رداءه ورفع يديه فدعا واستسقى واستقبل القبلة
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے عباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ ) سے ( جو صحابی رسول تھے ) سنا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر نماز استسقا کے لیے نکلے اور لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر کے اللہ عزوجل سے دعا کرتے رہے۔ سلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے قبلہ کا استقبال کیا اور اپنی چادر پلٹی پھر دو رکعتیں پڑھیں۔ اور ابن ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں میں قرآت کی۔ ابن سرح نے یہ اضافہ کیا ہے کہ قرآت سے ان کی مراد جہری قرآت ہے۔
حدثنا ابن السرح، وسليمان بن داود، قالا اخبرنا ابن وهب، قال اخبرني ابن ابي ذيب، ويونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عباد بن تميم المازني، انه سمع عمه، - وكان من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما يستسقي فحول الى الناس ظهره يدعو الله عز وجل - قال سليمان بن داود واستقبل القبلة وحول رداءه ثم صلى ركعتين - قال ابن ابي ذيب - وقرا فيهما زاد ابن السرح يريد الجهر
اس طریق سے بھی محمد بن مسلم (ابن شہاب زہری) سے سابقہ سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں راوی نے نماز کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر پلٹی تو چادر کا داہنا کنارہ اپنے بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ اپنے داہنے کندھے پر کر لیا، پھر اللہ عزوجل سے دعا کی۔
حدثنا محمد بن عوف، قال قرات في كتاب عمرو بن الحارث - يعني الحمصي - عن عبد الله بن سالم، عن الزبيدي، عن محمد بن مسلم، بهذا الحديث باسناده لم يذكر الصلاة قال وحول رداءه فجعل عطافه الايمن على عاتقه الايسر وجعل عطافه الايسر على عاتقه الايمن ثم دعا الله عز وجل
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز استسقا پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایک سیاہ چادر تھی تو آپ نے اس کے نچلے کنارے کو پکڑنے اور پلٹ کر اسے اوپر کرنے کا ارادہ کیا جب وہ بھاری لگی تو اسے اپنے کندھے ہی پر پلٹ لیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز، عن عمارة بن غزية، عن عباد بن تميم، ان عبد الله بن زيد، قال استسقى رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه خميصة له سوداء فاراد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ياخذ باسفلها فيجعله اعلاها فلما ثقلت قلبها على عاتقه
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے خبر دی ہے کہ مجھے ولید بن عتبہ نے ( عثمان کی روایت میں ولید بن عقبہ ہے، جو مدینہ کے حاکم تھے ) ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ میں جا کر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقا کے بارے پوچھوں تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے لباس میں عاجزی کے ساتھ گریہ وزاری کرتے ہوئے عید گاہ تک تشریف لائے، عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ منبر پر چڑھے، آگے دونوں راوی روایت میں متفق ہیں: آپ نے تمہارے ان خطبوں کی طرح خطبہ نہیں دیا، بلکہ آپ برابر دعا، گریہ وزاری اور تکبیر میں لگے رہے، پھر دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت نفیلی کی ہے اور صحیح ولید بن عقبہ ہے۔
حدثنا النفيلي، وعثمان بن ابي شيبة، نحوه قالا حدثنا حاتم بن اسماعيل، حدثنا هشام بن اسحاق بن عبد الله بن كنانة، قال اخبرني ابي قال، ارسلني الوليد بن عتبة - قال عثمان ابن عقبة وكان امير المدينة - الى ابن عباس اساله عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم في الاستسقاء فقال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم متبذلا متواضعا متضرعا حتى اتى المصلى - زاد عثمان فرقي على المنبر ثم اتفقا - ولم يخطب خطبكم هذه ولكن لم يزل في الدعاء والتضرع والتكبير ثم صلى ركعتين كما يصلي في العيد . قال ابو داود والاخبار للنفيلي والصواب ابن عتبة
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف بارش طلب کرنے کی غرض سے نکلے، جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ کیا تو قبلہ رخ ہوئے پھر اپنی چادر پلٹی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا سليمان، - يعني ابن بلال - عن يحيى، عن ابي بكر بن محمد، عن عباد بن تميم، ان عبد الله بن زيد، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج الى المصلى يستسقي وانه لما اراد ان يدعو استقبل القبلة ثم حول رداءه
عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف نکلے، اور ( اللہ تعالیٰ سے ) بارش طلب کی، اور جس وقت قبلہ رخ ہوئے، اپنی چادر پلٹی۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، انه سمع عباد بن تميم، يقول سمعت عبد الله بن زيد المازني، يقول خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى المصلى فاستسقى وحول رداءه حين استقبل القبلة
عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زوراء کے قریب احجار زیت کے پاس کھڑے ہو کر ( اللہ تعالیٰ سے ) بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ چہرے کی طرف اٹھائے بارش کے لیے دعا کر رہے تھے اور انہیں اپنے سر سے اوپر نہیں ہونے دیتے تھے۔
حدثنا محمد بن سلمة المرادي، اخبرنا ابن وهب، عن حيوة، وعمر بن مالك، عن ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن عمير، مولى بني ابي اللحم انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يستسقي عند احجار الزيت قريبا من الزوراء قايما يدعو يستسقي رافعا يديه قبل وجهه لا يجاوز بهما راسه
حدثنا ابن ابي خلف، حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا مسعر، عن يزيد الفقير، عن جابر بن عبد الله، قال اتت النبي صلى الله عليه وسلم بواكي فقال " اللهم اسقنا غيثا مغيثا مرييا مريعا نافعا غير ضار عاجلا غير اجل " . قال فاطبقت عليهم السماء
حدثنا ابن ابي خلف، حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا مسعر، عن يزيد الفقير، عن جابر بن عبد الله، قال اتت النبي صلى الله عليه وسلم بواكي فقال " اللهم اسقنا غيثا مغيثا مرييا مريعا نافعا غير ضار عاجلا غير اجل " . قال فاطبقت عليهم السماء
انس رضی اللہ عنہ وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقا کے علاوہ کسی دعا میں ( اتنا ) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ( اس موقعہ پر ) آپ اپنے دونوں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يرفع يديه في شىء من الدعاء الا في الاستسقاء فانه كان يرفع يديه حتى يرى بياض ابطيه
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا عفان، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يستسقي هكذا يعني ومد يديه وجعل بطونهما مما يلي الارض حتى رايت بياض ابطيه
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا عفان، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يستسقي هكذا يعني ومد يديه وجعل بطونهما مما يلي الارض حتى رايت بياض ابطيه
محمد بن ابراہیم (تیمی) کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ احجار زیت کے پاس اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلائے دعا فرما رہے تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن عبد ربه بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم، اخبرني من، راى النبي صلى الله عليه وسلم يدعو عند احجار الزيت باسطا كفيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر ( رکھنے ) کا حکم دیا تو وہ آپ کے لیے عید گاہ میں لا کر رکھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک دن عید گاہ کی طرف نکلنے کا وعدہ لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( حجرہ سے ) اس وقت نکلے جب کہ آفتاب کا کنارہ ظاہر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تحمید کی پھر فرمایا: تم لوگوں نے بارش میں تاخیر کی وجہ سے اپنی آبادیوں میں قحط سالی کی شکایت کی ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ( اگر تم اسے پکارو گے ) تو وہ تمہاری دعا قبول کرے گا ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين ، لا إله إلا الله يفعل ما يريد اللهم أنت الله لا إله إلا أنت الغني ونحن الفقراء أنزل علينا الغيث واجعل ما أنزلت لنا قوة وبلاغا إلى حين» یعنی تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو رحمن و رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، تو ہم پر باران رحمت نازل فرما اور جو تو نازل فرما اسے ہمارے لیے قوت ( رزق ) بنا دے اور ایک مدت تک اس سے فائدہ پہنچا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر حاضرین کی طرف پشت کر کے اپنی چادر کو پلٹا، آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اتر کر دو رکعت پڑھی، اسی وقت ( اللہ کے حکم سے ) آسمان سے بادل اٹھے، جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی تو ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد نہیں آ سکے تھے کہ بارش کی کثرت سے نالے بہنے لگے، جب آپ نے لوگوں کو سائبانوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند جید ( عمدہ ) ہے، اہل مدینہ «ملك يوم الدين» پڑھتے ہیں اور یہی حدیث ان کی دلیل ہے۔
حدثنا هارون بن سعيد الايلي، حدثنا خالد بن نزار، حدثني القاسم بن مبرور، عن يونس، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت شكى الناس الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قحوط المطر فامر بمنبر فوضع له في المصلى ووعد الناس يوما يخرجون فيه قالت عايشة فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حين بدا حاجب الشمس فقعد على المنبر فكبر صلى الله عليه وسلم وحمد الله عز وجل ثم قال " انكم شكوتم جدب دياركم واستيخار المطر عن ابان زمانه عنكم وقد امركم الله عز وجل ان تدعوه ووعدكم ان يستجيب لكم " . ثم قال " { الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين } لا اله الا الله يفعل ما يريد اللهم انت الله لا اله الا انت الغني ونحن الفقراء انزل علينا الغيث واجعل ما انزلت لنا قوة وبلاغا الى حين " . ثم رفع يديه فلم يزل في الرفع حتى بدا بياض ابطيه ثم حول على الناس ظهره وقلب او حول رداءه وهو رافع يديه ثم اقبل على الناس ونزل فصلى ركعتين فانشا الله سحابة فرعدت وبرقت ثم امطرت باذن الله فلم يات مسجده حتى سالت السيول فلما راى سرعتهم الى الكن ضحك صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه فقال " اشهد ان الله على كل شىء قدير واني عبد الله ورسوله " . قال ابو داود وهذا حديث غريب اسناده جيد اهل المدينة يقرءون { ملك يوم الدين } وان هذا الحديث حجة لهم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوئے، اسی دوران کہ آپ جمعہ کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہو اور عرض کیا کہ اللہ کے رسول! گھوڑے مر گئے، بکریاں ہلاک ہو گئیں، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں سیراب کرے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلایا اور دعا کی۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس وقت آسمان آئینہ کی طرح صاف تھا، اتنے میں ہوا چلنے لگی پھر بدلی اٹھی اور گھنی ہو گئی پھر آسمان نے اپنا دہانہ کھول دیا، پھر جب ہم ( نماز پڑھ کر ) واپس ہونے لگے تو پانی میں ہو کر اپنے گھروں کو گئے اور آنے والے دوسرے جمعہ تک برابر بارش کا سلسلہ جاری رہا، پھر وہی شخص یا دوسرا کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر گر گئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ بارش بند کر دے، ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے پھر فرمایا: اے اللہ! تو ہمارے اردگرد بارش نازل فرما اور ہم پر نہ نازل فرما ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے بادل کو دیکھا وہ مدینہ کے اردگرد سے چھٹ رہا تھا گویا وہ تاج ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، ويونس بن عبيد، عن ثابت، عن انس، قال اصاب اهل المدينة قحط على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فبينما هو يخطبنا يوم جمعة اذ قام رجل فقال يا رسول الله هلك الكراع هلك الشاء فادع الله ان يسقينا فمد يديه ودعا قال انس وان السماء لمثل الزجاجة فهاجت ريح ثم انشات سحابة ثم اجتمعت ثم ارسلت السماء عزاليها فخرجنا نخوض الماء حتى اتينا منازلنا فلم يزل المطر الى الجمعة الاخرى فقام اليه ذلك الرجل او غيره فقال يا رسول الله تهدمت البيوت فادع الله ان يحبسه فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " حوالينا ولا علينا " . فنظرت الى السحاب يتصدع حول المدينة كانه اكليل
شریک بن عبداللہ بن ابی نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، پھر راوی نے عبدالعزیز کی روایت کی طرح ذکر کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے بالمقابل اٹھایا اور یہ دعا کی «اللهم اسقنا» اے اللہ! ہمیں سیراب فرما اور آگے انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی
حدثنا عيسى بن حماد، اخبرنا الليث، عن سعيد المقبري، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، عن انس، انه سمعه يقول فذكر نحو حديث عبد العزيز قال فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه بحذاء وجهه فقال " اللهم اسقنا " . وساق نحوه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کے لیے دعا مانگتے تو فرماتے: «اللهم اسق عبادك وبهائمك، وانشر رحمتك، وأحي بلدك الميت» اے اللہ! تو اپنے بندوں اور چوپایوں کو سیراب کر، اور اپنی رحمت عام کر دے، اور اپنے مردہ شہر کو زندگی عطا فرما ( یہ مالک کی روایت کے الفاظ ہیں ) ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرو بن شعيب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول ح وحدثنا سهل بن صالح حدثنا علي بن قادم اخبرنا سفيان عن يحيى بن سعيد عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا استسقى قال " اللهم اسق عبادك وبهايمك وانشر رحمتك واحى بلدك الميت " . هذا لفظ حديث مالك
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس کو میں سچا جانتا ہوں ( عطا کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے، پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہر رکعت میں آپ نے تین تین رکوع کیا ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسرا رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے یہاں تک کہ آپ کے لمبے قیام کے باعث اس دن کچھ لوگوں کو ( کھڑے کھڑے ) غشی طاری ہو گئی اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو «الله أكبر» کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» کہتے یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے سورج یا چاند میں گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں، ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے لہٰذا جب ان دونوں میں گرہن لگے تو تم نماز کی طرف دوڑو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ابن جريج، عن عطاء، عن عبيد بن عمير، اخبرني من، اصدق وظننت انه يريد عايشة قال كسفت الشمس على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فقام النبي صلى الله عليه وسلم قياما شديدا يقوم بالناس ثم يركع ثم يقوم ثم يركع ثم يقوم ثم يركع فركع ركعتين في كل ركعة ثلاث ركعات يركع الثالثة ثم يسجد حتى ان رجالا يوميذ ليغشى عليهم مما قام بهم حتى ان سجال الماء لتصب عليهم يقول اذا ركع " الله اكبر " . واذا رفع " سمع الله لمن حمده " . حتى تجلت الشمس ثم قال " ان الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما ايتان من ايات الله عز وجل يخوف بهما عباده فاذا كسفا فافزعوا الى الصلاة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، یہ اسی دن کا واقعہ ہے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی، لوگ کہنے لگے کہ آپ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن لگا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو نماز ( کسوف ) پڑھائی، چار سجدوں میں چھ رکوع کیا ۱؎، اللہ اکبر کہا، پھر قرآت کی اور دیر تک قرآت کرتے رہے، پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور پہلی قرآت کی بہ نسبت مختصر قرآت کی پھر اتنی ہی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر تیسری قرآت کی جو دوسری قرآت کے بہ نسبت مختصر تھی اور اتنی دیر تک رکوع کیا جتنی دیر تک قیام کیا تھا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، اس کے بعد سجدے کے لیے جھکے اور دو سجدے کئے، پھر کھڑے ہوئے اور سجدے سے پہلے تین رکوع کیے، ہر رکوع اپنے بعد والے سے زیادہ لمبا ہوتا تھا، البتہ رکوع قیام کے برابر ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں پیچھے ہٹے تو صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہٹیں، پھر آپ آگے بڑھے اور اپنی جگہ چلے گئے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں پھر آپ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج ( صاف ہو کر ) نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، کسی انسان کے مرنے کی وجہ سے ان میں گرہن نہیں لگتا، لہٰذا جب تم اس میں سے کچھ دیکھو تو نماز میں مشغول ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ صاف ہو کر روشن ہو جائے ، اور راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن عبد الملك، حدثني عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ذلك في اليوم الذي مات فيه ابراهيم ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الناس انما كسفت لموت ابراهيم ابنه صلى الله عليه وسلم فقام النبي صلى الله عليه وسلم فصلى بالناس ست ركعات في اربع سجدات كبر ثم قرا فاطال القراءة ثم ركع نحوا مما قام ثم رفع راسه فقرا دون القراءة الاولى ثم ركع نحوا مما قام ثم رفع راسه فقرا القراءة الثالثة دون القراءة الثانية ثم ركع نحوا مما قام ثم رفع راسه فانحدر للسجود فسجد سجدتين ثم قام فركع ثلاث ركعات قبل ان يسجد ليس فيها ركعة الا التي قبلها اطول من التي بعدها الا ان ركوعه نحو من قيامه قال ثم تاخر في صلاته فتاخرت الصفوف معه ثم تقدم فقام في مقامه وتقدمت الصفوف فقضى الصلاة وقد طلعت الشمس فقال " يا ايها الناس ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله عز وجل لا ينكسفان لموت بشر فاذا رايتم شييا من ذلك فصلوا حتى تنجلي " . وساق بقية الحديث
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سخت گرمی کے دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز کسوف پڑھائی، ( اس میں ) آپ نے لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے پھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا ( رکوع ) کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا ( قیام ) کیا، پھر دو سجدے کئے پھر ( دوسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوئے تو ویسے ہی کیا، اس طرح ( دو رکعت میں ) چار رکوع اور چار سجدے ہوئے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔
حدثنا مومل بن هشام، حدثنا اسماعيل، عن هشام، حدثنا ابو الزبير، عن جابر، قال كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم شديد الحر فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم باصحابه فاطال القيام حتى جعلوا يخرون ثم ركع فاطال ثم رفع فاطال ثم ركع فاطال ثم رفع فاطال ثم سجد سجدتين ثم قام فصنع نحوا من ذلك فكان اربع ركعات واربع سجدات . وساق الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ مسجد کی طرف نکلے اور ( نماز کے لیے ) کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہا اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرات کی پھر «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر کھڑے رہے اور لمبی قرآت کی، اور یہ پہلی قرآت سے کچھ مختصر تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الله أكبر» کہہ کر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کچھ مختصر تھا، ( پھر رکوع سے سر اٹھایا ) اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اس طرح ( دو رکعت میں ) آپ نے پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے، اور آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے سورج روشن ہو گیا۔
حدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، ح وحدثنا محمد بن سلمة المرادي، حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت خسفت الشمس في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى المسجد فقام فكبر وصف الناس وراءه فاقترا رسول الله صلى الله عليه وسلم قراءة طويلة ثم كبر فركع ركوعا طويلا ثم رفع راسه فقال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " . ثم قام فاقترا قراءة طويلة هي ادنى من القراءة الاولى ثم كبر فركع ركوعا طويلا هو ادنى من الركوع الاول ثم قال " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد " . ثم فعل في الركعة الاخرى مثل ذلك فاستكمل اربع ركعات واربع سجدات وانجلت الشمس قبل ان ينصرف