Loading...

Loading...
کتب
۳۷ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی، جیسے عروہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے دو رکعت پڑھی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، قال كان كثير بن عباس يحدث ان عبد الله بن عباس، كان يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في كسوف الشمس مثل حديث عروة عن عايشة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه صلى ركعتين في كل ركعة ركعتين
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( دو رکعت ) پڑھائی تو آپ نے لمبی سورتوں میں سے ایک سورۃ کی قرآت کی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اس میں بھی لمبی سورتوں میں سے ایک سورت کی قرآت فرمائی اور پانچ رکوع اور دو سجدے کئے، پھر قبلہ رخ بیٹھے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ گرہن چھٹ گیا۔
حدثنا احمد بن الفرات بن خالد ابو مسعود الرازي، اخبرنا محمد بن عبد الله بن ابي جعفر الرازي، عن ابيه، عن ابي جعفر الرازي، قال ابو داود وحدثت عن عمر بن شقيق، حدثنا ابو جعفر الرازي، - وهذا لفظه وهو اتم - عن الربيع بن انس، عن ابي العالية، عن ابى بن كعب، قال انكسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وان النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم فقرا بسورة من الطول وركع خمس ركعات وسجد سجدتين ثم قام الثانية فقرا سورة من الطول وركع خمس ركعات وسجد سجدتين ثم جلس كما هو مستقبل القبلة يدعو حتى انجلى كسوفها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے سورج گرہن کی نماز پڑھی تو قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر قرآت کی، پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور دوسری ( رکعت ) بھی اسی طرح پڑھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثنا حبيب بن ابي ثابت، عن طاوس، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى في كسوف الشمس فقرا ثم ركع ثم قرا ثم ركع ثم قرا ثم ركع ثم قرا ثم ركع ثم سجد والاخرى مثلها
اسود بن قیس کہتے ہیں کہ ثعلبہ بن عباد عبدی (جو اہل بصرہ میں سے ہیں) نے بیان کیا ہے کہ وہ ایک دن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر رہے، سمرہ رضی اللہ عنہ نے ( خطبہ میں ) کہا: میں اور ایک انصاری لڑکا دونوں تیر سے اپنا اپنا نشانہ لگا رہے تھے یہاں تک کہ جب دیکھنے والوں کی نظر میں سورج دو نیزہ یا تین نیزہ کے برابر رہ گیا تو اسی دوران وہ دفعۃً سیاہ ہو گیا پھر گویا وہ تنومہ ۱؎ ہو گیا، تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: تم ہمارے ساتھ مسجد چلو کیونکہ اللہ کی قسم سورج کا یہ حال ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں کوئی نیا واقعہ رونما کرے گا، تو ہم چلے تو دیکھتے ہیں کہ مسجد بھری ۲؎ ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی، اور ہمارے ساتھ اتنا لمبا قیام کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی نماز میں اتنا لمبا قیام نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ اتنا لمبا رکوع کیا کہ اتنا لمبا رکوع کسی نماز میں نہیں کیا تھا، ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۳؎ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ اتنا لمبا سجدہ آپ نے کبھی بھی کسی نماز میں ہمارے ساتھ نہیں کیا تھا اور ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دوسری رکعت پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج روشن ہو گیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر کھڑے ہوئے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور گواہی دی کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر احمد بن یونس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا خطبہ بیان کیا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا الاسود بن قيس، حدثني ثعلبة بن عباد العبدي، من اهل البصرة انه شهد خطبة يوما لسمرة بن جندب قال قال سمرة بينما انا وغلام من الانصار نرمي غرضين لنا حتى اذا كانت الشمس قيد رمحين او ثلاثة في عين الناظر من الافق اسودت حتى اضت كانها تنومة فقال احدنا لصاحبه انطلق بنا الى المسجد فوالله ليحدثن شان هذه الشمس لرسول الله صلى الله عليه وسلم في امته حدثا قال فدفعنا فاذا هو بارز فاستقدم فصلى فقام بنا كاطول ما قام بنا في صلاة قط لا نسمع له صوتا قال ثم ركع بنا كاطول ما ركع بنا في صلاة قط لا نسمع له صوتا ثم سجد بنا كاطول ما سجد بنا في صلاة قط لا نسمع له صوتا . ثم فعل في الركعة الاخرى مثل ذلك قال فوافق تجلي الشمس جلوسه في الركعة الثانية قال ثم سلم ثم قام فحمد الله واثنى عليه وشهد ان لا اله الا الله وشهد انه عبده ورسوله ثم ساق احمد بن يونس خطبة النبي صلى الله عليه وسلم
قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے نکلے اس دن میں آپ کے ساتھ مدینہ ہی میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور ان میں لمبا قیام فرمایا، پھر نماز سے فارغ ہوئے اور سورج روشن ہو گیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ نشانیاں ہیں، جن کے ذریعہ اللہ ( بندوں کو ) ڈراتا ہے لہٰذا جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو جیسے تم نے قریب کی فرض نماز پڑھی ہو ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن قبيصة الهلالي، قال كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج فزعا يجر ثوبه وانا معه يوميذ بالمدينة فصلى ركعتين فاطال فيهما القيام ثم انصرف وانجلت فقال " انما هذه الايات يخوف الله بها فاذا رايتموها فصلوا كاحدث صلاة صليتموها من المكتوبة
ہلال بن عامر سے روایت ہے کہ قبیصہ ہلالی نے ان سے بیان کیا ہے کہ سورج میں گرہن لگا، پھر انہوں نے موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت ذکر کی، اس میں ہے: یہاں تک کہ ستارے دکھائی دینے لگے۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا ريحان بن سعيد، حدثنا عباد بن منصور، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن هلال بن عامر، ان قبيصة الهلالي، حدثه ان الشمس كسفت بمعنى حديث موسى قال حتى بدت النجوم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تو میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو مجھے لگا کہ آپ نے سورۃ البقرہ کی قرآت کی ہے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی، میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ کیا کہ آپ نے سورۃ آل عمران کی قرآت کی ہے۔
حدثنا عبيد الله بن سعد، حدثنا عمي، حدثنا ابي، عن محمد بن اسحاق، حدثني هشام بن عروة، وعبد الله بن ابي سلمة، وسليمان بن يسار، كلهم قد حدثني عن عروة، عن عايشة، قالت كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بالناس فقام فحزرت قراءته فرايت انه قرا بسورة البقرة - وساق الحديث - ثم سجد سجدتين ثم قام فاطال القراءة فحزرت قراءته فرايت انه قرا بسورة ال عمران
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قرآت کی اور اس میں جہر کیا یعنی نماز کسوف میں ۱؎۔
حدثنا العباس بن الوليد بن مزيد، اخبرني ابي، حدثنا الاوزاعي، اخبرني الزهري، اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قرا قراءة طويلة فجهر بها يعني في صلاة الكسوف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ کی قرآت کے برابر طویل قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، - كذا عند القاضي والصواب عن ابن عباس، - قال خسفت الشمس فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس معه فقام قياما طويلا بنحو من سورة البقرة ثم ركع وساق الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا کہ نماز ( کسوف ) جماعت سے ہو گی۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا الوليد، حدثنا عبد الرحمن بن نمر، انه سال الزهري فقال الزهري اخبرني عروة، عن عايشة، قالت كسفت الشمس فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا فنادى ان الصلاة جامعة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند میں گرہن کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں لگتا ہے، جب تم اسے دیکھو تو اللہ عزوجل سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الشمس والقمر لا يخسفان لموت احد ولا لحياته فاذا رايتم ذلك فادعوا الله عز وجل وكبروا وتصدقوا
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کسوف میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیتے تھے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زايدة، عن هشام، عن فاطمة، عن اسماء، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يامر بالعتاقة في صلاة الكسوف
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ دو دو رکعتیں پڑھتے جاتے اور سورج کے متعلق پوچھتے جاتے یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب الحراني، حدثني الحارث بن عمير البصري، عن ايوب السختياني، عن ابي قلابة، عن النعمان بن بشير، قال كسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يصلي ركعتين ركعتين ويسال عنها حتى انجلت
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا، تو آپ نماز کسوف کے لیے کھڑے ہوئے تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع ہی نہیں کریں گے، پھر رکوع کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھائیں گے ہی نہیں، پھر سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر سجدے سے سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر اٹھایا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، پھر اخیر سجدے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھونک ماری اور اف اف کہا: پھر فرمایا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان میں رہوں گا؟ کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے؟ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور حال یہ تھا کہ سورج بالکل صاف ہو گیا تھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال انكسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يكد يركع ثم ركع فلم يكد يرفع ثم رفع فلم يكد يسجد ثم سجد فلم يكد يرفع ثم رفع فلم يكد يسجد ثم سجد فلم يكد يرفع ثم رفع وفعل في الركعة الاخرى مثل ذلك ثم نفخ في اخر سجوده فقال " اف اف " . ثم قال " رب الم تعدني ان لا تعذبهم وانا فيهم الم تعدني ان لا تعذبهم وهم يستغفرون " . ففرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من صلاته وقد امحصت الشمس وساق الحديث
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ اسی دوران سورج گرہن لگا تو میں نے انہیں پھینک دیا اور کہا کہ میں ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سورج گرہن آج کیا نیا واقعہ رونما کرے گا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح، تحمید اور تہلیل اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج سے گرہن چھٹ گیا، اس وقت آپ نے ( نماز کسوف کی دونوں رکعتوں ) میں دو سورتیں پڑھیں اور دو رکوع کئے۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا الجريري، عن حيان بن عمير، عن عبد الرحمن بن سمرة، قال بينما انا اترمى، باسهم في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ كسفت الشمس فنبذتهن وقلت لانظرن ما احدث لرسول الله صلى الله عليه وسلم في كسوف الشمس اليوم فانتهيت اليه وهو رافع يديه يسبح ويحمد ويهلل ويدعو حتى حسر عن الشمس فقرا بسورتين وركع ركعتين
نضر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تاریکی چھا گئی، تو میں آپ کے پاس آیا اور کہا: ابوحمزہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آپ لوگوں پر اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، اگر ہوا ذرا زور سے چلنے لگتی تو ہم قیامت کے خوف سے بھاگ کر مسجد آ جاتے تھے۔
حدثنا محمد بن عمرو بن جبلة بن ابي رواد، حدثني حرمي بن عمارة، عن عبيد الله بن النضر، حدثني ابي قال، كانت ظلمة على عهد انس بن مالك - قال - فاتيت انسا فقلت يا ابا حمزة هل كان يصيبكم مثل هذا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال معاذ الله ان كانت الريح لتشتد فنبادر المسجد مخافة القيامة
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی کا انتقال ہو گیا ہے، تو وہ یہ سن کر سجدے میں گر پڑے، ان سے کہا گیا: کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی ( یعنی بڑا حادثہ ) دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہو سکتی ہے؟ ۔
حدثنا محمد بن عثمان بن ابي صفوان الثقفي، حدثنا يحيى بن كثير، حدثنا سلم بن جعفر، عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، قال قيل لابن عباس ماتت فلانة بعض ازواج النبي صلى الله عليه وسلم فخر ساجدا فقيل له اتسجد هذه الساعة فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم اية فاسجدوا " . واى اية اعظم من ذهاب ازواج النبي صلى الله عليه وسلم