احادیث
#1177
سنن ابی داؤد - The Book Of The Prayer For Rain
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس کو میں سچا جانتا ہوں ( عطا کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی مراد عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے، پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے پھر قیام میں رہے پھر رکوع میں رہے اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہر رکعت میں آپ نے تین تین رکوع کیا ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسرا رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے یہاں تک کہ آپ کے لمبے قیام کے باعث اس دن کچھ لوگوں کو ( کھڑے کھڑے ) غشی طاری ہو گئی اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو «الله أكبر» کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده» کہتے یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے سورج یا چاند میں گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں، ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے لہٰذا جب ان دونوں میں گرہن لگے تو تم نماز کی طرف دوڑو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ابن جريج، عن عطاء، عن عبيد بن عمير، اخبرني من، اصدق وظننت انه يريد عايشة قال كسفت الشمس على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فقام النبي صلى الله عليه وسلم قياما شديدا يقوم بالناس ثم يركع ثم يقوم ثم يركع ثم يقوم ثم يركع فركع ركعتين في كل ركعة ثلاث ركعات يركع الثالثة ثم يسجد حتى ان رجالا يوميذ ليغشى عليهم مما قام بهم حتى ان سجال الماء لتصب عليهم يقول اذا ركع " الله اكبر " . واذا رفع " سمع الله لمن حمده " . حتى تجلت الشمس ثم قال " ان الشمس والقمر لا ينكسفان لموت احد ولا لحياته ولكنهما ايتان من ايات الله عز وجل يخوف بهما عباده فاذا كسفا فافزعوا الى الصلاة
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- The Book Of The Prayer For Rain
- Hadith Index
- #1177
- Book Index
- 17
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidShadh
- Shuaib Al ArnautDaif
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim (901)
