Loading...

Loading...
کتب
۱۵۵ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔
حدثنا علي بن بحر، وعبد الرحيم بن مطرف الرواسي، قالا حدثنا عيسى، - وهو ابن يونس بن ابي اسحاق السبيعي - عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقبل الهدية ويثيب عليها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عمرو الرازي، حدثنا سلمة، - يعني ابن الفضل - حدثني محمد بن اسحاق، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وايم الله لا اقبل بعد يومي هذا من احد هدية الا ان يكون مهاجرا قرشيا او انصاريا او دوسيا او ثقفيا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لینے والا قے کر کے اسے پیٹ میں واپس لوٹا لینے والے کے مانند ہے ۔ ہمام کہتے ہیں: اور قتادہ نے ( یہ بھی ) کہا: ہم قے کو حرام ہی سمجھتے ہیں ( تو گویا ہدیہ دے کر واپس لے لینا بھی حرام ہی ہوا ) ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابان، وهمام، وشعبة، قالوا حدثنا قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العايد في هبته كالعايد في قييه " . قال همام وقال قتادة ولا نعلم القىء الا حراما
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کوئی عطیہ دے، یا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسے واپس لوٹا لے، سوائے والد کے کہ وہ بیٹے کو دے کر اس سے لے سکتا ہے ۱؎، اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر ( یا ہبہ کر کے ) واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے، کتا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے، پھر قے کرتا ہے، اور اپنے قے کئے ہوئے کو دوبارہ کھا لیتا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد، - يعني ابن زريع - حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن طاوس، عن ابن عمر، وابن، عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لرجل ان يعطي عطية او يهب هبة فيرجع فيها الا الوالد فيما يعطي ولده ومثل الذي يعطي العطية ثم يرجع فيها كمثل الكلب ياكل فاذا شبع قاء ثم عاد في قييه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہدیہ دے کر واپس لے لینے والے کی مثال کتے کی ہے جو قے کر کے اپنی قے کھا لیتا ہے، تو جب ہدیہ دینے والا واپس مانگے تو پانے والے کو ٹھہر کر پوچھنا چاہیئے کہ وہ واپس کیوں مانگ رہا ہے، ( اگر بدل نہ ملنا سبب ہو تو بدل دیدے یا اور کوئی وجہ ہو تو ) پھر اس کا دیا ہوا اسے لوٹا دے ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني اسامة بن زيد، ان عمرو بن شعيب، حدثه عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " مثل الذي يسترد ما وهب كمثل الكلب يقيء فياكل قييه فاذا استرد الواهب فليوقف فليعرف بما استرد ثم ليدفع اليه ما وهب
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے کسی بھائی کی کوئی سفارش کی اور کی اس نے اس سفارش کے بدلے میں سفارش کرنے والے کو کوئی چیز ہدیہ میں دی اور اس نے اسے قبول کر لیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، عن عمر بن مالك، عن عبيد الله بن ابي جعفر، عن خالد بن ابي عمران، عن القاسم، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من شفع لاخيه بشفاعة فاهدى له هدية عليها فقبلها فقد اتى بابا عظيما من ابواب الربا
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے کوئی چیز ( بطور عطیہ ) دی، ( اسماعیل بن سالم کی روایت میں ہے کہ انہیں اپنا ایک غلام بطور عطیہ دیا ) اس پر میری والدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جایئے ( اور میرے بیٹے کو جو دیا ہے اس پر ) آپ کو گواہ بنا لیجئے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( آپ کو گواہ بنانے کے لیے ) حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو ایک عطیہ دیا ہے اور ( میری بیوی ) عمرہ نے کہا ہے کہ میں آپ کو اس بات کا گواہ بنا لوں ( اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ہوں ) آپ نے ان سے پوچھا: کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے اور کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سب کو اسی جیسی چیز دی ہے جو نعمان کو دی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ظلم ہے اور بعض کی روایت میں ہے: یہ جانب داری ہے، جاؤ تم میرے سوا کسی اور کو اس کا گواہ بنا لو ( میں ایسے کاموں کی شہادت نہیں دیتا ) ۔ مغیرہ کی روایت میں ہے: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہوتی کہ تمہارے سارے لڑکے تمہارے ساتھ بھلائی اور لطف و عنایت کرنے میں برابر ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں ( مجھے اس سے خوشی ہوتی ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو ( مجھے یہ امتیاز اور ناانصافی پسند نہیں ) ۔ اور مجالد نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے: ان ( بیٹوں ) کا تمہارے اوپر یہ حق ہے کہ تم ان سب کے درمیان عدل و انصاف کرو جیسا کہ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری کی روایت میں ۱؎ بعض نے: «أكل بنيك» کے الفاظ روایت کئے ہیں اور بعض نے «بنيك» کے بجائے «ولدك» کہا ہے، اور ابن ابی خالد نے شعبی کے واسطہ سے «ألك بنون سواه» اور ابوالضحٰی نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے «ألك ولد غيره» روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، اخبرنا سيار، واخبرنا مغيرة، واخبرنا داود، عن الشعبي، وانبانا مجالد، واسماعيل بن سالم، عن الشعبي، عن النعمان بن بشير، قال انحلني ابي نحلا - قال اسماعيل بن سالم من بين القوم نحلة غلاما له - قال فقالت له امي عمرة بنت رواحة ايت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشهده فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاشهده فذكر ذلك له فقال اني نحلت ابني النعمان نحلا وان عمرة سالتني ان اشهدك على ذلك قال فقال " الك ولد سواه " . قال قلت نعم . قال " فكلهم اعطيت مثل ما اعطيت النعمان " . قال لا قال فقال بعض هولاء المحدثين " هذا جور " . وقال بعضهم " هذا تلجية فاشهد على هذا غيري " . قال مغيرة في حديثه " اليس يسرك ان يكونوا لك في البر واللطف سواء " . قال نعم . قال " فاشهد على هذا غيري " . وذكر مجالد في حديثه " ان لهم عليك من الحق ان تعدل بينهم كما ان لك عليهم من الحق ان يبروك " . قال ابو داود في حديث الزهري قال بعضهم " اكل بنيك " . وقال بعضهم " ولدك " . وقال ابن ابي خالد عن الشعبي فيه " الك بنون سواه " . وقال ابو الضحى عن النعمان بن بشير " الك ولد غيره
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیسا غلام ہے؟ انہوں نے کہا: میرا غلام ہے، اسے مجھے میرے والد نے دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: جیسے تمہیں دیا ہے کیا تمہارے سب بھائیوں کو دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے لوٹا دو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، حدثني النعمان بن بشير، قال اعطاه ابوه غلاما فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما هذا الغلام " . قال غلامي اعطانيه ابي . قال " فكل اخوتك اعطى كما اعطاك " . قال لا . قال " فاردده
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کے درمیان انصاف کیا کرو، اپنے بیٹوں کے حقوق کی ادائیگی میں برابری کا خیال رکھا کرو ( کسی کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی نہ ہو ) ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن حاجب بن المفضل بن المهلب، عن ابيه، قال سمعت النعمان بن بشير، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعدلوا بين اولادكم اعدلوا بين ابنايكم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ( بشیر رضی اللہ عنہ سے ) کہا: اپنا غلام میرے بیٹے کو دے دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات پر میرے لیے گواہ بنا دیں، تو بشیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: فلاں کی بیٹی ( یعنی میری بیوی ) نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو غلام ہبہ کروں ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اور بھی بھائی ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سب کو بھی تم نے ایسے ہی دیا ہے جیسے اسے دیا ہے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ درست نہیں، اور میں تو صرف حق بات ہی کی گواہی دے سکتا ہوں ( اس لیے اس ناحق بات کے لیے گواہ نہ بنوں گا ) ۱؎۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا زهير، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قالت امراة بشير انحل ابني غلامك واشهد لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان ابنة فلان سالتني ان انحل ابنها غلاما وقالت لي اشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال " له اخوة " . فقال نعم . قال " فكلهم اعطيت مثل ما اعطيته " . قال لا . قال " فليس يصلح هذا واني لا اشهد الا على حق
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے نکاح میں رہتے ہوئے جو اس کی عصمت کا مالک ہے اپنا مال اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن داود بن ابي هند، وحبيب المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يجوز لامراة امر في مالها اذا ملك زوجها عصمتها
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز نہیں ہے ۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا خالد، - يعني ابن الحارث - حدثنا حسين، عن عمرو بن شعيب، ان اباه، اخبره عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يجوز لامراة عطية الا باذن زوجها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر بھر کے لے عطیہ دینا جائز ہے ۱؎ ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا همام، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العمرى جايزة
سمرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا همام، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: زندگی بھر کے لیے دی ہوئی چیز کا وہی مالک ہے جس کو چیز دے دی گئی ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن جابر، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " العمرى لمن وهبت له
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے عمر بھر کے لیے کوئی چیز دی گئی تو وہ اس کی ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے اولاد کی ہو گی ۱؎، اس کی اولاد میں سے جو اس کے وارث ہوں گے وہی اس چیز کے بھی وارث ہوں گے ۔
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا محمد بن شعيب، اخبرني الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعمر عمرى فهي له ولعقبه يرثها من يرثه من عقبه
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد نے زہری سے زہری نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن ابي الحواري، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن ابي سلمة، وعروة، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . قال ابو داود وهكذا رواه الليث بن سعد عن الزهري عن ابي سلمة عن جابر
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز دے دی گئی اور اس کے بعد اس کے آنے والوں کے لیے بھی کہہ دی گئی ہو تو وہ عمریٰ اس کے اور اس کی اولاد کے لیے ہے، جس نے دیا ہے اسے واپس نہ ہو گی، اس لیے کہ دینے والے نے اس انداز سے دیا ہے جس میں وراثت شروع ہو گئی ہے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا بشر بن عمر، حدثنا مالك، - يعني ابن انس - عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل اعمر عمرى له ولعقبه فانها للذي يعطاها لا ترجع الى الذي اعطاها لانه اعطى عطاء وقعت فيه المواريث
ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے عقیل اور یزید ابن حبیب نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے، اور اوزاعی پر اختلاف کیا گیا ہے کہ کبھی انہوں نے ابن شہاب سے «ولعقبه» کے الفاظ کی روایت کی ہے اور کبھی نہیں اور اسے فلیح بن سلیمان نے بھی مالک کی حدیث کے مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا حجاج بن ابي يعقوب، حدثنا يعقوب، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، باسناده ومعناه . قال ابو داود وكذلك رواه عقيل عن ابن شهاب، ويزيد بن ابي حبيب، عن ابن شهاب، واختلف، على الاوزاعي في لفظه عن ابن شهاب، ورواه، فليح بن سليمان مثل حديث مالك
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جس عمریٰ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے وہ ہے کہ دینے والا کہے کہ یہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی ہے ( تو اس میں وراثت جاری ہو گی اور دینے والے کی ملکیت ختم ہو جائے گی ) لیکن اگر دینے والا کہے کہ یہ تمہارے لیے ہے جب تک تم زندہ رہو ( تو اس سے استفادہ کرو ) تو وہ چیز ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کے دینے والے کو لوٹا دی جائے گی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، قال انما العمرى التي اجازها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقول هي لك ولعقبك . فاما اذا قال هي لك ما عشت . فانها ترجع الى صاحبها