Loading...

Loading...
کتب
۱۵۵ احادیث
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رقبیٰ اور عمریٰ نہ کرو جس نے رقبیٰ اور عمریٰ کیا تو یہ جس کو دیا گیا ہے اس کا اور اس کے وارثوں کا ہو جائے گا ۱؎ ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن عطاء، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ترقبوا ولا تعمروا فمن ارقب شييا او اعمره فهو لورثته
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی ایک عورت کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جسے اس کے بیٹے نے کھجور کا ایک باغ دیا تھا پھر وہ مر گئی تو اس کے بیٹے نے کہا کہ یہ میں نے اسے اس کی زندگی تک کے لیے دیا تھا اور اس کے اور بھائی بھی تھے ( جو اپنا حق مانگ رہے تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ باغ زندگی اور موت دونوں میں اسی عورت کا ہے پھر وہ کہنے لگا: میں نے یہ باغ اسے صدقہ میں دیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو یہ ( واپسی ) تمہارے لیے اور بھی ناممکن بات ہے ( کہیں صدقہ بھی واپس لیا جاتا ہے ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا سفيان، عن حبيب، - يعني ابن ابي ثابت - عن حميد الاعرج، عن طارق المكي، عن جابر بن عبد الله، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في امراة من الانصار اعطاها ابنها حديقة من نخل فماتت فقال ابنها انما اعطيتها حياتها . وله اخوة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هي لها حياتها وموتها " . قال كنت تصدقت بها عليها . قال " ذلك ابعد لك
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمریٰ جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے، اور رقبیٰ ۱؎ ( بھی ) اسی کے اہل کا حق ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، اخبرنا داود، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول صلى الله عليه وسلم " العمرى جايزة لاهلها والرقبى جايزة لاهلها
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی چیز کسی کو عمر بھر کے لیے دی تو وہ چیز اسی کی ہو گئی جسے دی گئی اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد بھی ۔ اور فرمایا: رقبی نہ کرو جس نے رقبیٰ کیا تو وہ میراث کے طریق پر جاری ہو گی ( یعنی اس کے ورثاء کی مانی جائے گی دینے والے کو واپس نہ ملے گی ) ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، قال قرات على معقل عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن حجر، عن زيد بن ثابت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعمر شييا فهو لمعمره محياه ومماته ولا ترقبوا فمن ارقب شييا فهو سبيله
مجاہد کہتے ہیں: عمری یہ ہے کہ کوئی شخص کسی سے کہے کہ یہ چیز تمہاری ہے جب تک تم زندہ رہے، تو جب اس نے ایسا کہہ دیا تو وہ چیز اس کی ہو گئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ہو گی، اور رقبی یہ ہے کہ آدمی ایک چیز کسی کو دے کر کہے کہ ہم دونوں میں سے جو آخر میں زندہ رہے یہ چیز اس کی ہو گی ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، عن عبيد الله بن موسى، عن عثمان بن الاسود، عن مجاهد، قال العمرى ان يقول الرجل للرجل هو لك ما عشت فاذا قال ذلك فهو له ولورثته والرقبى هو ان يقول الانسان هو للاخر مني ومنك
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لینے والے ہاتھ کی ذمہ داری ہے کہ جو لیا ہے اسے واپس کرے پھر حسن بھول گئے اور یہ کہنے لگے کہ جس کو تو مانگنے پر چیز دے تو وہ تمہاری طرف سے اس چیز کا امین ہے ( اگر وہ چیز خود سے ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان ( معاوضہ و بدلہ ) نہ ہو گا۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا يحيى، عن ابن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، ع��ن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " على اليد ما اخذت حتى تودي " . ثم ان الحسن نسي فقال هو امينك لا ضمان عليه
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی کے دن ان سے کچھ زرہیں عاریۃً لیں تو وہ کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ زبردستی لے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں عاریت کے طور پر لے رہا ہوں، جس کی واپسی کی ذمہ داری میرے اوپر ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید کی بغداد کی روایت ہے اور واسط ۱؎ میں ان کی جو روایت ہے وہ اس سے مختلف ہے۔
حدثنا الحسن بن محمد، وسلمة بن شبيب، قالا حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا شريك، عن عبد العزيز بن رفيع، عن امية بن صفوان بن امية، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعار منه ادراعا يوم حنين فقال اغصب يا محمد فقال " لا بل عارية مضمونة " . قال ابو داود وهذه رواية يزيد ببغداد وفي روايته بواسط تغير على غير هذا
عبداللہ بن صفوان کے خاندان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صفوان! کیا تیرے پاس کچھ ہتھیار ہیں؟ انہوں نے کہا: عاریۃً چاہتے ہیں یا زبردستی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبردستی نہیں عاریۃً چنانچہ اس نے آپ کو بطور عاریۃً تیس سے چالیس کے درمیان زرہیں دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی لڑی، پھر جب مشرکین ہار گئے اور صفوان رضی اللہ عنہ کی زرہیں اکٹھا کی گئیں تو ان میں سے کچھ زرہیں کھو گئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفوان! تمہاری زرہوں میں سے ہم نے کچھ زرہیں کھو دی ہیں، تو کیا ہم تمہیں ان کا تاوان دے دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کے رسول! آج میرے دل میں جو بات ہے ( جو میں دیکھ رہا اور سوچ رہا ہوں ) وہ بات اس وقت نہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں نے اسلام لانے سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ زرہیں عاریۃً دی تھیں پھر اسلام لے آئے ( تو اسلام لے آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون تاوان لیتا؟ ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن عبد العزيز بن رفيع، عن اناس، من ال عبد الله بن صفوان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يا صفوان هل عندك من سلاح " . قال عارية ام غصبا قال " لا بل عارية " . فاعاره ما بين الثلاثين الى الاربعين درعا وغزا رسول الله صلى الله عليه وسلم حنينا فلما هزم المشركون جمعت دروع صفوان ففقد منها ادراعا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لصفوان " انا قد فقدنا من ادراعك ادراعا فهل نغرم لك " . قال لا يا رسول الله لان في قلبي اليوم ما لم يكن يوميذ . قال ابو داود وكان اعاره قبل ان يسلم ثم اسلم
اس سند سے بھی آل صفوان کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زرہیں عاریۃً لیں، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا عبد العزيز بن رفيع، عن عطاء، عن ناس، من ال صفوان قال استعار النبي صلى الله عليه وسلم فذكر معناه
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دے دیا ہے تو اب وارث کے واسطے وصیت نہیں ہے، اور عورت اپنے گھر میں شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کھانا بھی نہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ہم مردوں کا بہترین مال ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عاریۃً دی ہوئی چیز کی واپسی ہو گی ( اگر چیز موجود ہے تو چیز، ورنہ اس کی قیمت دی جائے گی ) دودھ استعمال کرنے کے لیے دیا جانے والا جانور ( دودھ ختم ہو جانے کے بعد ) واپس کر دیا جائے گا، قرض کی ادائیگی کی جائے گی اور کفیل ضامن ہے ( یعنی جس قرض کا ذمہ لیا ہے اس کا ادا کرنا اس کے لیے ضروری ہو گا ) ۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة الحوطي، حدثنا ابن عياش، عن شرحبيل بن مسلم، قال سمعت ابا امامة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله عز وجل قد اعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث ولا تنفق المراة شييا من بيتها الا باذن زوجها " . فقيل يا رسول الله ولا الطعام قال " ذاك افضل اموالنا " . ثم قال " العارية موداة والمنحة مردودة والدين مقضي والزعيم غارم
یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تمہارے پاس میرے فرستادہ پہنچیں تو انہیں تیس زرہیں اور تیس اونٹ دے دینا میں نے کہا: کیا اس عاریت کے طور پر دوں جس کا ضمان لازم آتا ہے یا اس عاریت کے طور پر جو مالک کو واپس دلائی جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالک کو واپس دلائی جانے والی عاریت کے طور پر ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان ہلال الرائی کے ماموں ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن المستمر العصفري، حدثنا حبان بن هلال، حدثنا همام، عن قتادة، عن عطاء بن ابي رباح، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتتك رسلي فاعطهم ثلاثين درعا وثلاثين بعيرا " . قال فقلت يا رسول الله اعارية مضمونة او عارية موداة قال " بل موداة " . قال ابو داود حبان خال هلال الراى
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس تھے، امہات المؤمنین میں سے ایک نے اپنے خادم کے ہاتھ آپ کے پاس ایک پیالے میں کھانا رکھ کر بھیجا، تو اس بیوی نے ( جس کے گھر میں آپ تھے ) ہاتھ مار کر پیالہ توڑ دیا ( وہ دو ٹکڑے ہو گیا ) ، ابن مثنیٰ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا لیا اور ایک کو دوسرے سے ملا کر پیالے کی شکل دے لی، اور اس میں کھانا اٹھا کر رکھنے لگے اور فرمانے لگے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ابن مثنیٰ نے اضافہ کیا ہے ( کہ آپ نے فرمایا: کھاؤ تو لوگ کھانے لگے، یہاں تک کہ جس گھر میں آپ موجود تھے اس گھر سے کھانے کا پیالہ آیا ( اب ہم پھر مسدد کی حدیث کی طرف واپس لوٹ رہے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور خادم کو ( جو کھانا لے کر آیا تھا ) اور پیالے کو روکے رکھا، یہاں تک کہ لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح و سالم پیالہ قاصد کو پکڑا دیا ( کہ یہ لے کر جاؤ اور دے دو ) اور ٹوٹا ہوا پیالہ اپنے اس گھر میں روک لیا ( جس میں آپ قیام فرما تھے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، ح وحدثنا محمد بن المثنى، حدثنا خالد، عن حميد، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عند بعض نسايه فارسلت احدى امهات المومنين مع خادمها بقصعة فيها طعام قال فضربت بيدها فكسرت القصعة - قال ابن المثنى - فاخذ النبي صلى الله عليه وسلم الكسرتين فضم احداهما الى الاخرى فجعل يجمع فيها الطعام ويقول " غارت امكم " . زاد ابن المثنى " كلوا " . فاكلوا حتى جاءت قصعتها التي في بيتها ثم رجعنا الى لفظ حديث مسدد وقال " كلوا " . وحبس الرسول والقصعة حتى فرغوا فدفع القصعة الصحيحة الى الرسول وحبس المكسورة في بيته
جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا ( اچھا ) کھانا پکاتے کسی کو نہیں دیکھا، ایک دن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکا کر آپ کے پاس بھیجا ( اس وقت آپ میرے یہاں تھے ) میں غصہ سے کانپنے لگی ( کہ آپ میرے یہاں ہوں اور کھانا کہیں اور سے پک کر آئے ) تو میں نے ( وہ ) برتن توڑ دیا ( جس میں کھانا آیا تھا ) ، پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے جو حرکت سرزد ہو گئی ہے اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برتن کے بدلے ویسا ہی برتن اور کھانے کے بدلے ویسا ہی دوسرا کھانا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني فليت العامري، عن جسرة بنت دجاجة، قالت قالت عايشة رضى الله عنها ما رايت صانعا طعاما مثل صفية صنعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما فبعثت به فاخذني افكل فكسرت الاناء فقلت يا رسول الله ما كفارة ما صنعت قال " اناء مثل اناء وطعام مثل طعام
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہما کی اونٹنی ایک شخص کے باغ میں گھس گئی اور اسے تباہ و برباد کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا کہ دن میں مال والوں پر مال کی حفاظت کی ذمہ داری ہے اور رات میں جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری جانوروں کے مالکان پر ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت المروزي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن حرام بن محيصة، عن ابيه، ان ناقة، للبراء بن عازب دخلت حايط رجل فافسدته عليهم فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم على اهل الاموال حفظها بالنهار وعلى اهل المواشي حفظها بالليل
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے پاس ایک ہرہٹ اونٹنی تھی، وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اسے برباد کر دیا، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی گئی تو آپ نے فیصلہ فرمایا: دن میں باغ کی حفاظت کی ذمہ داری باغ کے مالک پر ہے، اور رات میں جانور کی حفاظت کی ذمہ داری جانور کے مالک پر ہے ۔ ( اگر جانور کے مالک نے رات میں جانور کو آزاد چھوڑ دیا ) اور اس نے کسی کا باغ یا کھیت چر لیا تو نقصان کا معاوضہ جانور کے مالک سے لیا جائے گا۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الفريابي، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن حرام بن محيصة الانصاري، عن البراء بن عازب، قال كانت له ناقة ضارية فدخلت حايطا فافسدت فيه فكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقضى ان حفظ الحوايط بالنهار على اهلها وان حفظ الماشية بالليل على اهلها وان على اهل الماشية ما اصابت ماشيتهم بالليل