Loading...

Loading...
کتب
۱۵۵ احادیث
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اصحاب صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا تو ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیتہً دی، میں نے ( جی میں ) کہا یہ کوئی مال تو ہے نہیں، اس سے میں فی سبیل اللہ تیر اندازی کا کام لوں گا ( پھر بھی ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ سے اس بارے میں پوچھوں گا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جن لوگوں کو قرآن پڑھنا لکھنا سکھا رہا تھا، ان میں سے ایک شخص نے مجھے ہدیہ میں ایک کمان دی ہے، اور اس کی کچھ مالیت تو ہے نہیں، میں اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں پسند ہو کہ تمہیں آگ کا طوق پہنایا جائے تو اس کمان کو قبول کر لو ۱؎ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، وحميد بن عبد الرحمن الرواسي، عن مغيرة بن زياد، عن عبادة بن نسى، عن الاسود بن ثعلبة، عن عبادة بن الصامت، قال علمت ناسا من اهل الصفة الكتاب والقران فاهدى الى رجل منهم قوسا فقلت ليست بمال وارمي عنها في سبيل الله عز وجل لاتين رسول الله صلى الله عليه وسلم فلاسالنه فاتيته فقلت يا رسول الله رجل اهدى الى قوسا ممن كنت اعلمه الكتاب والقران وليست بمال وارمي عنها في سبيل الله . قال " ان كنت تحب ان تطوق طوقا من نار فاقبلها
اس سند سے بھی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن اس سے پہلی والی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں یہ ہے کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک انگارا ہے جسے تم نے گلے کا طوق بنا لیا ہے یا اسے لٹکا لیا ہے ۱؎ ۔
حدثنا عمرو بن عثمان، وكثير بن عبيد، قالا حدثنا بقية، حدثني بشر بن عبد الله بن يسار، قال عمرو حدثني عبادة بن نسى، عن جنادة بن ابي امية، عن عبادة بن الصامت، نحو هذا الخبر - والاول اتم - فقلت ما ترى فيها يا رسول الله فقال " جمرة بين كتفيك تقلدتها " . او " تعلقتها
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے پاس وہ لوگ جا کر ٹھہرے اور ان سے مہمان نوازی طلب کی تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا وہ پھر اس قبیلے کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ ( ڈنک مار دیا ) کھایا، انہوں نے ہر چیز سے علاج کیا لیکن اسے کسی چیز سے فائدہ نہیں ہو رہا تھا، تب ان میں سے ایک نے کہا: اگر تم ان لوگوں کے پاس آتے جو تمہارے یہاں آ کر قیام پذیر ہیں، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو جو تمہارے ساتھی کو فائدہ پہنچائے ( وہ آئے ) اور ان میں سے ایک نے کہا: ہمارا سردار ڈس لیا گیا ہے ہم نے اس کی شفایابی کے لیے ہر طرح کی دوا دارو کر لی لیکن کوئی چیز اسے فائدہ نہیں دے رہی ہے، تو کیا تم میں سے کسی کے پاس جھاڑ پھونک قسم کی کوئی چیز ہے جو ہمارے ( ساتھی کو شفاء دے ) ؟ تو اس جماعت میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں، میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں، لیکن بھائی بات یہ ہے کہ ہم نے چاہا کہ تم ہمیں اپنا مہمان بنا لو لیکن تم نے ہمیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کر دیا، تو اب جب تک اس کا معاوضہ طے نہ کر دو میں جھاڑ پھونک کرنے والا نہیں، انہوں نے بکریوں کا ایک گلہ دینے کا وعدہ کیا تو وہ ( صحابی ) سردار کے پاس آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر تھوتھو کرتے رہے یہاں تک کہ وہ شفایاب ہو گیا، گویا وہ رسی کی گرہ سے آزاد ہو گیا، تو ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی وہ پوری پوری دے دی، تو صحابہ نے کہا: لاؤ اسے تقسیم کر لیں، تو اس شخص نے جس نے منتر پڑھا تھا کہا: نہیں ابھی نہ کرو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے پوچھ لیں تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے پورا واقعہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کیسے جانا کہ یہ جھاڑ پھونک ہے؟ تم نے اچھا کیا، اپنے ساتھ تم میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد الخدري، ان رهطا، من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم انطلقوا في سفرة سافروها فنزلوا بحى من احياء العرب فاستضافوهم فابوا ان يضيفوهم - قال - فلدغ سيد ذلك الحى فشفوا له بكل شىء لا ينفعه شىء . فقال بعضهم لو اتيتم هولاء الرهط الذين نزلوا بكم لعل ان يكون عند بعضهم شىء ينفع صاحبكم فقال بعضهم ان سيدنا لدغ فشفينا له بكل شىء فلا ينفعه شىء فهل عند احد منكم شىء يشفي صاحبنا يعني رقية . فقال رجل من القوم اني لارقي ولكن استضفناكم فابيتم ان تضيفونا ما انا براق حتى تجعلوا لي جعلا . فجعلوا له قطيعا من الشاء فاتاه فقرا عليه بام الكتاب ويتفل حتى بري كانما انشط من عقال فاوفاهم جعلهم الذي صالحوه عليه . فقالوا اقتسموا فقال الذي رقى لا تفعلوا حتى ناتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فنستامره . فغدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكروا له فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اين علمتم انها رقية احسنتم واضربوا لي معكم بسهم
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن اخيه، معبد بن سيرين عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث
خارجہ بن صلت کے چچا علاقہ بن صحار تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ آدمی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس سے بھلائی لے کر آئے ہیں، تو ہمارے اس آدمی کو ذرا جھاڑ پھونک دیں، پھر وہ لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے ایک پاگل لے کر آئے، تو انہوں نے اس پر تین دن تک صبح و شام سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جب وہ اسے ختم کرتے تو ( منہ میں ) تھوک جمع کرتے پھر تھو تھو کرتے، پھر وہ شخص ایسا ہو گیا، گویا اس کی گرہیں کھل گئیں، ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بے دھڑک ) کھاؤ، قسم ہے ( یعنی اس ذات کی جس کے اختیار میں میری زندگی ہے ) لوگ تو جھوٹا منتر پڑھ کر کھاتے ہیں، آپ تو سچا منتر پڑھ کر کھا رہے ہیں ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن عبد الله بن ابي السفر، عن الشعبي، عن خارجة بن الصلت، عن عمه، انه مر بقوم فاتوه فقالوا انك جيت من عند هذا الرجل بخير فارق لنا هذا الرجل . فاتوه برجل معتوه في القيود فرقاه بام القران ثلاثة ايام غدوة وعشية كلما ختمها جمع بزاقه ثم تفل فكانما انشط من عقال فاعطوه شييا فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكره له فقال النبي صلى الله عليه وسلم " كل فلعمري لمن اكل برقية باطل لقد اكلت برقية حق
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی ( پچھنا ) لگانے والے کی کمائی بری ( غیر شریفانہ ) ہے ۱؎ کتے کی قیمت ناپاک ہے اور زانیہ عورت کی کمائی ناپاک ( یعنی حرام ) ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، اخبرنا ابان، عن يحيى، عن ابراهيم بن عبد الله، - يعني ابن قارظ - عن السايب بن يزيد، عن رافع بن خديج، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كسب الحجام خبيث وثمن الكلب خبيث ومهر البغي خبيث
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگا کر اجرت لینے کی اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اس کے لینے سے منع فرمایا، وہ برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے ان سے کہہ دیا کہ اس سے اپنے اونٹ اور اپنے غلام کو چارہ کھلاؤ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابن محيصة، عن ابيه، انه استاذن رسول الله صلى الله عليه وسلم في اجارة الحجام فنهاه عنها فلم يزل يساله ويستاذنه حتى امره ان اعلفه ناضحك ورقيقك
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، اور سینگی لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اگر آپ اسے حرام جانتے تو اسے مزدوری نہ دیتے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم واعطى الحجام اجره ولو علمه خبيثا لم يعطه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ابوطیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی تو آپ نے اسے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکان سے کہا کہ اس کے خراج میں کچھ کمی کر دیں۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، انه قال حجم ابو طيبة رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر له بصاع من تمر وامر اهله ان يخففوا عنه من خراجه
ابوحازم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی لینے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن محمد بن جحادة، قال سمعت ابا حازم، سمع ابا هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كسب الاماء
طارق بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں رافع بن رفاعہ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے، پھر انہوں نے کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی ( زنا کی کمائی ) سے منع فرمایا سوائے اس کمائی کے جو اس نے ہاتھ سے محنت کر کے کمائی ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے اشارہ کر کے بتایا، مثلاً روٹی پکانا، چرخہ کاتنا، روئی دھننا، جیسے کام۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا عكرمة، حدثني طارق بن عبد الرحمن القرشي، قال جاء رافع بن رفاعة الى مجلس الانصار فقال لقد نهانا نبي الله صلى الله عليه وسلم اليوم فذكر اشياء ونهانا عن كسب الامة الا ما عملت بيدها . وقال هكذا باصابعه نحو الخبز والغزل والنفش
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ۱؎؟ ۔
حدثني احمد بن صالح، حدثنا ابن ابي فديك، عن عبيد الله، - يعني ابن هرير - عن ابيه، عن جده، رافع - هو ابن خديج - قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كسب الامة حتى يعلم من اين هو
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ۱؎، زانیہ عورت کی کمائی ۲؎، اور کاہن کی اجرت ۳؎لینے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا قتيبة، عن سفيان، عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا اسماعيل، عن علي بن الحكم، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل
ابوماجدہ کہتے ہیں میں نے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، یا میرا کان کاٹ لیا گیا، ( یہ شک راوی کو ہوا ہے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں حج کے ارادے سے آئے، ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، تو انہوں نے ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ معاملہ تو قصاص تک پہنچ گیا ہے، کسی حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو میرے پاس بلا کر لاؤ تاکہ وہ اس سے ( جس نے کان کاٹا ہے ) قصاص لے، پھر جب حجام ( پچھنا لگانے والا ) بلا کر لایا گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام ہبہ کیا اور میں نے امید کی کہ انہیں اس غلام سے برکت ہو گی تو میں نے ان سے کہا کہ اس غلام کو کسی حجام ( سینگی لگانے والے ) ، سنار اور قصاب کے حوالے نہ کر دینا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالاعلی نے اسے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ابن ماجدہ بنو سہم کے ایک فرد ہیں اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت مرسل ہے)
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، اخبرنا محمد بن اسحاق، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابي ماجدة، قال قطعت من اذن غلام - او قطع من اذني - فقدم علينا ابو بكر حاجا فاجتمعنا اليه فرفعنا الى عمر بن الخطاب فقال عمر ان هذا قد بلغ القصاص ادعوا لي حجاما ليقتص منه فلما دعي الحجام قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اني وهبت لخالتي غلاما وانا ارجو ان يبارك لها فيه فقلت لها لا تسلميه حجاما ولا صايغا ولا قصابا " . قال ابو داود روى عبد الاعلى عن ابن اسحاق قال ابن ماجدة رجل من بني سهم عن عمر بن الخطاب
ابن ماجدہ سہمی نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا سلمة بن الفضل، حدثنا ابن اسحاق، عن العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، عن ابن ماجدة السهمي، عن عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
اس سند سے بھی ابن ماجدہ سہمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔
حدثنا الفضل بن يعقوب، حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن اسحاق، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن الحرقي، عن ابن ماجدة السهمي، عن عمر بن الخطاب، - رضى الله عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام کو بیچا اور اس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع لے گا، الا یہ کہتے ہیں کہ خریدار پہلے سے اس مال کی شرط لگا لے ۱؎، ( ایسے ہی ) جس نے تابیر ( اصلاح ) کئے ہوئے ( گابھا دئیے ہوئے کھجور کا درخت بیچا تو پھل بائع کا ہو گا الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے ( کہ پھل میں لوں گا ) ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من باع عبدا وله مال فماله للبايع الا ان يشترطه المبتاع ومن باع نخلا موبرا فالثمرة للبايع الا ان يشترط المبتاع
عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام کا واقعہ روایت کیا ہے، اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور کے درخت کے واقعہ کی روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری اور نافع نے چار حدیثوں میں اختلاف کیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بقصة العبد وعن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم بقصة النخل . قال ابو داود واختلف الزهري ونافع في اربعة احاديث هذا احدها
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو مال بیچنے والے کو ملے گا، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے ( کہ مال میں لوں گا تو پھر خریدار ہی پائے گا ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني سلمة بن كهيل، حدثني من، سمع جابر بن عبد الله، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من باع عبدا وله مال فماله للبايع الا ان يشترط المبتاع