Loading...

Loading...
کتب
۱۵۵ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے ۱؎ اور تاجر سے پہلے ہی مل کر سودا نہ کرے جب تک کہ وہ اپنا سامان بازار میں نہ اتار لے ۲؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يبع بعضكم على بيع بعض ولا تلقوا السلع حتى يهبط بها الاسواق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلب سے یعنی مال تجارت بازار میں آنے سے پہلے ہی راہ میں جا کر سودا کر لینے سے منع فرمایا ہے، لیکن اگر خریدنے والے نے آگے بڑھ کر ( ارزاں ) خرید لیا، تو صاحب سامان کو بازار میں آنے کے بعد اختیار ہے ( کہ وہ چاہے اس بیع کو باقی رکھے، اور چاہے تو فسخ کر دے ) ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ سفیان نے کہا کہ کسی کے بیع پر بیع نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ( خریدار کوئی چیز مثلاً گیارہ روپے میں خرید رہا ہے تو کوئی اس سے یہ نہ کہے ) کہ میرے پاس اس سے بہتر مال دس روپے میں مل جائے گا۔
حدثنا الربيع بن نافع ابو توبة، حدثنا عبيد الله، - يعني ابن عمرو الرقي - عن ايوب، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن تلقي الجلب فان تلقاه متلق مشتر فاشتراه فصاحب السلعة بالخيار اذا وردت السوق . قال ابو علي سمعت ابا داود يقول قال سفيان لا يبع بعضكم على بيع بعض ان يقول ان عندي خيرا منه بعشرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نجش نہ کرو ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تناجشوا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز بیچے، میں ( طاؤس ) نے کہا: شہری دیہاتی کی چیز نہ بیچے اس کا کیا مطلب ہے؟ تو ابن عباس نے فرمایا: ( اس کا مطلب یہ ہے کہ ) وہ اس کی دلالی نہ کرے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا محمد بن ثور، عن معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيع حاضر لباد . فقلت ما يبيع حاضر لباد قال لا يكون له سمسارا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے حفص بن عمر کو کہتے ہوئے سنا: مجھ سے ابوہلال نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے محمد نے بیان کیا انہوں نے انس بن مالک سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: لوگ کہا کرتے تھے کہ شہری دیہاتی کا سامان نہ بیچے، یہ ایک جامع کلمہ ہے ( مفہوم یہ ہے کہ ) نہ اس کے واسطے کوئی چیز بیچے اور نہ اس کے لیے کوئی چیز خریدے ( یہ ممانعت دونوں کو عام ہے ) ۔
حدثنا زهير بن حرب، ان محمد بن الزبرقان ابا همام، حدثهم - قال زهير وكان ثقة - عن يونس، عن الحسن، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبيع حاضر لباد وان كان اخاه او اباه " . قال ابو داود سمعت حفص بن عمر يقول حدثنا ابو هلال حدثنا محمد عن انس بن مالك قال كان يقال لا يبيع حاضر لباد . وهي كلمة جامعة لا يبيع له شييا ولا يبتاع له شييا
سالم مکی سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے ان سے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی ایک دودھاری اونٹنی لے کر آیا، یا اپنا بیچنے کا سامان لے کر آیا، اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس قیام کیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا سامان کو بیچنے سے روکا ہے ( اس لیے میں تمہارے ساتھ تمہارا دلال بن کر تو نہ جاؤں گا ) لیکن تم بازار جاؤ اور دیکھو کون کون تم سے خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے پھر تم مجھ سے مشورہ کرنا تو میں تمہیں بتاؤں گا کہ دے دو یا نہ دو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن اسحاق، عن سالم المكي، ان اعرابيا، حدثه انه، قدم بحلوبة له على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فنزل على طلحة بن عبيد الله فقال ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يبيع حاضر لباد ولكن اذهب الى السوق فانظر من يبايعك فشاورني حتى امرك او انهاك
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شہری کسی دیہاتی کی چیز نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو ( انہیں خود سے لین دین کرنے دو ) اللہ بعض کو بعض کے ذریعہ روزی دیتا ہے ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبع حاضر لباد وذروا الناس يرزق الله بعضهم من بعض
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجارتی قافلوں سے آگے بڑھ کر نہ ملو ۱؎، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو، اور اونٹ و بکری کا تصریہ ۲؎ نہ کرو جس نے کوئی ایسی بکری یا اونٹنی خریدی تو اسے دودھ دوہنے کے بعد اختیار ہے، چاہے تو اسے رکھ لے اور چاہے تو پسند کر کے اسے واپس کر دے، اور ساتھ میں ایک صاع کھجور دیدے ۳؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تلقوا الركبان للبيع ولا يبع بعضكم على بيع بعض ولا تصروا الابل والغنم فمن ابتاعها بعد ذلك فهو بخير النظرين بعد ان يحلبها فان رضيها امسكها وان سخطها ردها وصاعا من تمر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تصریہ کی ہوئی بکری خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے چاہے تو اسے لوٹا دے، اور ساتھ میں ایک صاع غلہ ( جو غلہ بھی میسر ہو ) دیدے، گیہوں دینا ضروری نہیں ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ايوب، وهشام، وحبيب، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اشترى شاة مصراة فهو بالخيار ثلاثة ايام ان شاء ردها وصاعا من طعام لا سمراء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تھن میں دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدی اسے دوہا، تو اگر اسے پسند ہو تو روک لے اور اگر ناپسند ہو تو دوہنے کے عوض ایک صاع کھجور دے کر اسے واپس پھیر دے۔
حدثنا عبد الله بن مخلد التميمي، حدثنا المكي، - يعني ابن ابراهيم - حدثنا ابن جريج، حدثني زياد، ان ثابتا، مولى عبد الرحمن بن زيد اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اشترى غنما مصراة احتلبها فان رضيها امسكها وان سخطها ففي حلبتها صاع من تمر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تھن میں دودھ جمع کی ہوئی ( مادہ ) خریدے تو تین دن تک اسے اختیار ہے ( چاہے تو رکھ لے تو کوئی بات نہیں ) اور اگر واپس کرتا ہے، تو اس کے ساتھ اس کے دودھ کے برابر یا اس دودھ کے دو گنا گیہوں بھی دے ۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا صدقة بن سعيد، عن جميع بن عمير التيمي، قال سمعت عبد الله بن عمر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ابتاع محفلة فهو بالخيار ثلاثة ايام فان ردها رد معها مثل او مثلى لبنها قمحا
بنو عدی بن کعب کے ایک فرد معمر بن ابی معمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھاؤ بڑھانے کے لیے احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو ۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے کہا: آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا: معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے پوچھا: حکرہ کیا ہے؟ ( یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہو گا ) انہوں نے کہا: جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی کہتے ہیں: احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کرنے والا وہ ہے جو بازار کے آڑے آئے یعنی اس کے لیے رکاوٹ بنے۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا خالد، عن عمرو بن يحيى، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن سعيد بن المسيب، عن معمر بن ابي معمر، احد بني عدي بن كعب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحتكر الا خاطي " . فقلت لسعيد فانك تحتكر قال ومعمر كان يحتكر . قال ابو داود وسالت احمد ما الحكرة قال ما فيه عيش الناس . قال ابو داود قال الاوزاعي المحتكر من يعترض السوق
قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار ( ذخیرہ اندودزی ) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے ( کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان ( ابن سعید ثوری ) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کو ناپسند کرتے تھے۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا: روک لو ( کوئی حرج نہیں ہے ) ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فياض، حدثنا ابي ح، وحدثنا ابن المثنى، حدثنا يحيى بن الفياض، حدثنا همام، عن قتادة، قال ليس في التمر حكرة . قال ابن المثنى قال عن الحسن فقلنا له لا تقل عن الحسن . قال ابو داود هذا الحديث عندنا باطل . قال ابو داود كان سعيد بن المسيب يحتكر النوى والخبط والبزر سمعت احمد بن يونس يقول سالت سفيان عن كبس القت فقال كانوا يكرهون الحكرة وسالت ابا بكر بن عياش فقال اكبسه
عبداللہ (مزنی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے رائج سکے کو توڑنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ کسی کو ضرورت ہو۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا معتمر، سمعت محمد بن فضاء، يحدث عن ابيه، عن علقمة بن عبد الله، عن ابيه، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تكسر سكة المسلمين الجايزة بينهم الا من باس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نرخ مقرر فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( میں نرخ مقرر تو نہیں کروں گا ) البتہ دعا کروں گا ( کہ غلہ سستا ہو جائے ) ، پھر ایک اور شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے بھی کہا: اللہ کے رسول! نرخ متعین فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہی نرخ گراتا اور اٹھاتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ کسی کی طرف سے مجھ پر زیادتی کا الزام نہ ہو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عثمان الدمشقي، ان سليمان بن بلال، حدثهم حدثني العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رجلا، جاء فقال يا رسول الله سعر . فقال " بل ادعو " . ثم جاءه رجل فقال يا رسول الله سعر فقال " بل الله يخفض ويرفع واني لارجو ان القى الله وليس لاحد عندي مظلمة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ ( کوئی مناسب ) نرخ مقرر فرما دیجئیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، ( میں نہیں ) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے، اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو ( اس لیے میں بھاؤ مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہوں ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، اخبرنا ثابت، عن انس، وقتادة، وحميد، عن انس، قال قال الناس يا رسول الله غلا السعر فسعر لنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله هو المسعر القابض الباسط الرازق واني لارجو ان القى الله وليس احد منكم يطالبني بمظلمة في دم ولا مال
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو غلہ بیچ رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا: کیسے بیچتے ہو؟ تو اس نے آپ کو بتایا، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ حکم ملا کہ اس کے غلہ ( کے ڈھیر ) میں ہاتھ ڈال کر دیکھئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کے اندر ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ اندر سے تر ( گیلا ) تھا تو آپ نے فرمایا: جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ( یعنی دھوکہ دہی ہم مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے ) ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل يبيع طعاما فساله " كيف تبيع " . فاخبره فاوحي اليه ان ادخل يدك فيه فادخل يده فيه فاذا هو مبلول فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من غش
یحییٰ کہتے ہیں سفیان «ليس منا» کی تفسیر «ليس مثلنا» ( ہماری طرح نہیں ہے ) سے کرنا ناپسند کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا الحسن بن الصباح، عن علي، عن يحيى، قال كان سفيان يكره هذا التفسير ليس منا ليس مثلنا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری میں سے ہر ایک کو بیع قبول کرنے یا رد کرنے کا اختیار ہوتا ہے جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں ۱؎ مگر جب بیع خیار ہو ۲؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المتبايعان كل واحد منهما بالخيار على صاحبه ما لم يفترقا الا بيع الخيار
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں یوں ہے: یا ان میں سے کوئی اپنے ساتھی سے کہے «اختر» یعنی لینا ہے تو لے لو، یا دینا ہے تو دے دو ( پھر وہ کہے: لے لیا، یا کہے دے دیا، تو جدا ہونے سے پہلے ہی اختیار جاتا رہے گا ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال " او يقول احدهما لصاحبه اختر