Loading...

Loading...
کتب
۱۵۵ احادیث
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرید و فروخت کرنے والے دونوں جب تک جدا نہ ہوں معاملہ ختم کر دینے کا اختیار رکھتے ہیں، مگر جب بیع خیار ہو، ( تو جدا ہونے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے ) بائع و مشتری دونوں میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ چیز کو پھیر دینے کے ڈر سے اپنے ساتھی کے پاس سے اٹھ کر چلا جائے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المتبايعان بالخيار ما لم يفترقا الا ان تكون صفقة خيار ولا يحل له ان يفارق صاحبه خشية ان يستقيله
ابوالوضی کہتے ہیں ہم نے ایک جنگ لڑی ایک جگہ قیام کیا تو ہمارے ایک ساتھی نے غلام کے بدلے ایک گھوڑا بیچا، اور معاملہ کے وقت سے لے کر پورا دن اور پوری رات دونوں وہیں رہے، پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی اور کوچ کا وقت آیا، تو وہ ( بیچنے والا ) اٹھا اور ( اپنے ) گھوڑے پر زین کسنے لگا اسے بیچنے پر شرمندگی ہوئی ( زین کس کر اس نے واپس لے لینے کا ارادہ کر لیا ) وہ مشتری کے پاس آیا اور اسے بیع کو فسخ کرنے کے لیے پکڑا تو خریدنے والے نے گھوڑا لوٹانے سے انکار کر دیا، پھر اس نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوبرزہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں ( وہ جو فیصلہ کر دیں ہم مان لیں گے ) وہ دونوں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اس وقت ابوبرزہ لشکر کے ایک جانب ( پڑاؤ ) میں تھے، ان دونوں نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: دونوں خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک بیع فسخ کر دینے کا اختیار ہے، جب تک کہ وہ دونوں ( ایک مجلس سے ) جدا ہو کر ادھر ادھر نہ ہو جائیں ۔ ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ جمیل نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ تم دونوں جدا نہیں ہوئے ہو ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن جميل بن مرة، عن ابي الوضيء، قال غزونا غزوة لنا فنزلنا منزلا فباع صاحب لنا فرسا بغلام ثم اقاما بقية يومهما وليلتهما فلما اصبحا من الغد حضر الرحيل فقام الى فرسه يسرجه فندم فاتى الرجل واخذه بالبيع فابى الرجل ان يدفعه اليه فقال بيني وبينك ابو برزة صاحب النبي صلى الله عليه وسلم فاتيا ابا برزة في ناحية العسكر فقالا له هذه القصة . فقال اترضيان ان اقضي بينكما بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا " . قال هشام بن حسان حدث جميل انه قال ما اراكما افترقتما
یحییٰ بن ایوب کہتے ہیں ابوزرعہ جب کسی آدمی سے خرید و فروخت کرتے تو اسے اختیار دیتے اور پھر اس سے کہتے: تم بھی مجھے اختیار دے دو اور کہتے: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی جب ایک ساتھ ہوں تو وہ ایک دوسرے سے علیحدہ نہ ہوں مگر ایک دوسرے سے راضی ہو کر ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن حاتم الجرجرايي، قال مروان الفزاري اخبرنا عن يحيى بن ايوب، قال كان ابو زرعة اذا بايع رجلا خيره قال ثم يقول خيرني ويقول سمعت ابا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يفترقن اثنان الا عن تراض
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، پھر اگر دونوں سچ کہیں اور خوبی و خرابی دونوں بیان کر دیں تو دونوں کے اس خرید و فروخت میں برکت ہو گی اور اگر ان دونوں نے عیوب کو چھپایا، اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان دونوں کی بیع سے برکت ختم کر دی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ اور حماد نے روایت کیا ہے، لیکن ہمام کی روایت میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بائع و مشتری کو اختیار ہے جب تک کہ دونوں جدا نہ ہوں، یا دونوں تین مرتبہ اختیار کی شرط نہ کر لیں ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، عن حكيم بن حزام، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " البيعان بالخيار ما لم يفترقا فان صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما وان كتما وكذبا محقت البركة من بيعهما " . قال ابو داود وكذلك رواه سعيد بن ابي عروبة وحماد واما همام فقال " حتى يتفرقا او يختار " . ثلاث مرار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے مسلمان بھائی سے فروخت کا معاملہ فسخ کر لے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گناہ معاف کر دے گا ۱؎ ۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا حفص، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اقال مسلما اقاله الله عثرته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک معاملہ میں دو طرح کی بیع کی تو جو کم والی ہو گی وہی لاگو ہو گی ( اور دوسری ٹھکرا دی جائے گی ) کیونکہ وہ سود ہو جائے گی ۱؎ ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، عن يحيى بن زكريا، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من باع بيعتين في بيعة فله اوكسهما او الربا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم بیع عینہ ۱؎ کرنے لگو گے گایوں بیلوں کے دم تھام لو گے، کھیتی باڑی میں مست و مگن رہنے لگو گے، اور جہاد کو چھوڑ دو گے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا، جس سے تم اس وقت تک نجات و چھٹکارا نہ پا سکو گے جب تک اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت جعفر کی ہے اور یہ انہیں کے الفاظ ہیں۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني حيوة بن شريح، ح وحدثنا جعفر بن مسافر التنيسي، حدثنا عبد الله بن يحيى البرلسي، حدثنا حيوة بن شريح، عن اسحاق ابي عبد الرحمن، - قال سليمان عن ابي عبد الرحمن الخراساني، - ان عطاء الخراساني، حدثه ان نافعا حدثه عن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا تبايعتم بالعينة واخذتم اذناب البقر ورضيتم بالزرع وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا الى دينكم " . قال ابو داود الاخبار لجعفر وهذا لفظه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اس وقت لوگ پھلوں میں سال سال، دو دو سال، تین تین سال کی بیع سلف کرتے تھے ( یعنی مشتری بائع کو قیمت نقد دے دیتا اور بائع سال و دو سال تین سال کی جو بھی مدت متعین ہوتی مقررہ وقت تک پھل دیتا رہتا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کھجور کی پیشگی قیمت دینے کا معاملہ کرے اسے چاہیئے کہ معاملہ کرتے وقت پیمانہ وزن اور مدت سب کچھ معلوم و متعین کر لے ۲؎ ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن عبد الله بن كثير، عن ابي المنهال، عن ابن عباس، قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهم يسلفون في التمر السنة والسنتين والثلاثة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اسلف في تمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم الى اجل معلوم
محمد یا عبداللہ بن مجالد کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما میں بیع سلف کے سلسلہ میں اختلاف ہوا تو لوگوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں گیہوں، جو، کھجور اور انگور خریدنے میں سلف کیا کرتے تھے، اور ان لوگوں سے ( کرتے تھے ) جن کے پاس یہ میوے نہ ہوتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، ح وحدثنا ابن كثير، اخبرنا شعبة، اخبرني محمد، او عبد الله بن مجالد قال اختلف عبد الله بن شداد وابو بردة في السلف فبعثوني الى ابن ابي اوفى فسالته فقال ان كنا نسلف على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر في الحنطة والشعير والتمر والزبيب - زاد ابن كثير - الى قوم ما هو عندهم . ثم اتفقا وسالت ابن ابزى فقال مثل ذلك
عبداللہ بن ابی مجالد (اور عبدالرحمٰن نے ابن ابی مجالد کہا ہے) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ ایسے لوگوں سے سلم کرتے تھے، جن کے پاس ( بروقت ) یہ مال نہ ہوتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی مجالد صحیح ہے، اور شعبہ سے اس میں غلطی ہوئی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى، وابن، مهدي قالا حدثنا شعبة، عن عبد الله بن ابي المجالد، وقال عبد الرحمن، عن ابن ابي المجالد، بهذا الحديث قال عند قوم ما هو عندهم . قال ابو داود الصواب ابن ابي المجالد وشعبة اخطا فيه
عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام میں جہاد کیا تو شام کے کاشتکاروں میں سے بہت سے کاشتکار ہمارے پاس آتے، تو ہم ان سے بھاؤ اور مدت معلوم و متعین کر کے گیہوں اور تیل کا سلف کرتے ( یعنی پہلے رقم دے دیتے پھر متعینہ بھاؤ سے مقررہ مدت پر مال لے لیتے تھے ) ان سے کہا گیا: آپ ایسے لوگوں سے سلم کرتے رہے ہوں گے جن کے پاس یہ مال موجود رہتا ہو گا، انہوں نے کہا: ہم یہ سب ان سے نہیں پوچھتے تھے۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا ابو المغيرة، حدثنا عبد الملك بن ابي غنية، حدثني ابو اسحاق، عن عبد الله بن ابي اوفى الاسلمي، قال غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الشام فكان ياتينا انباط من انباط الشام فنسلفهم في البر والزيت سعرا معلوما واجلا معلوما فقيل له ممن له ذلك قال ما كنا نسالهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک شخص سے کھجور کے ایک خاص درخت کے پھل کی بیع سلف کی، تو اس سال اس درخت میں کچھ بھی پھل نہ آیا تو وہ دونوں اپنا جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچنے والے سے فرمایا: تم کس چیز کے بدلے اس کا مال اپنے لیے حلال کرنے پر تلے ہوئے ہو؟ اس کا مال اسے لوٹا دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجوروں میں جب تک وہ قابل استعمال نہ ہو جائیں سلف نہ کرو ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن رجل، نجراني عن ابن عمر، ان رجلا، اسلف رجلا في نخل فلم تخرج تلك السنة شييا فاختصما الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " بم تستحل ماله اردد عليه ماله " . ثم قال " لا تسلفوا في النخل حتى يبدو صلاحه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی پہلے قیمت دے کر کوئی چیز خریدے تو وہ چیز کسی اور چیز سے نہ بدلے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ابو بدر، عن زياد بن خيثمة، عن سعد، - يعني الطايي - عن عطية بن سعد، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اسلف في شىء فلا يصرفه الى غيره
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آ گئی چنانچہ اس پر بہت سارا قرض ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے خیرات دو تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی کہ جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہو جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کے قرض خواہوں سے ) فرمایا: جو پا گئے وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے ۱؎ ( یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے ) ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن بكير، عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، انه قال اصيب رجل في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثمار ابتاعها فكثر دينه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تصدقوا عليه " . فتصدق الناس عليه فلم يبلغ ذلك وفاء دينه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذوا ما وجدتم وليس لكم الا ذلك
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اپنے کسی بھائی کے ہاتھ ( باغ کا ) پھل بیچو پھر اس پھل پر کوئی آفت آ جائے ( اور وہ تباہ و برباد ہو جائے ) تو تمہارے لیے مشتری سے کچھ لینا جائز نہیں تم ناحق اپنے بھائی کا مال کس وجہ سے لو گے؟ ۱؎ ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، واحمد بن سعيد الهمداني، قالا اخبرنا ابن وهب، قال اخبرني ابن جريج، ح وحدثنا محمد بن معمر، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، - المعنى - ان ابا الزبير المكي، اخبره عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان بعت من اخيك تمرا فاصابتها جايحة فلا يحل لك ان تاخذ منه شييا بم تاخذ مال اخيك بغير حق
عطاء کہتے ہیں «جائحہ» ہر وہ آفت و مصیبت ہے جو بالکل کھلی ہوئی اور واضح ہو جس کا کوئی انکار نہ کر سکے، جیسے بارش بہت زیادہ ہو گئی ہو، پالا پڑ گیا ہو، ٹڈیاں آ کر صاف کر گئی ہوں، آندھی آ گئی ہو، یا آگ لگ گئی ہو۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني عثمان بن الحكم، عن ابن جريج، عن عطاء، قال الجوايح كل ظاهر مفسد من مطر او برد او جراد او ريح او حريق
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں راس المال کے ایک تہائی سے کم مال پر آفت آئے تو اسے آفت نہیں کہیں گے۔ یحییٰ کہتے ہیں: مسلمانوں میں یہی طریقہ مروج ہے ۱؎۔
حدثنا سليمان بن داود، اخبرنا ابن وهب، اخبرني عثمان بن الحكم، عن يحيى بن سعيد، انه قال لا جايحة فيما اصيب دون ثلث راس المال - قال يحيى - وذلك في سنة المسلمين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاضل پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعہ سے گھاس سے روک دیا جائے ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يمنع فضل الماء ليمنع به الكلا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا: ایک تو وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو دینے سے انکار کر دے، دوسرا وہ شخص جو اپنا سامان بیچنے کے لیے عصر بعد جھوٹی قسم کھائے، تیسرا وہ شخص جو کسی امام ( و سربراہ ) سے ( وفاداری کی ) بیعت کرے پھر اگر امام اسے ( دنیاوی مال و جاہ ) سے نوازے تو اس کا وفادار رہے، اور اگر اسے کچھ نہ دے تو وہ بھی عہد کی پاسداری نہ کرے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة رجل منع ابن السبيل فضل ماء عنده ورجل حلف على سلعة بعد العصر - يعني كاذبا - ورجل بايع اماما فان اعطاه وفى له وان لم يعطه لم يف له
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ان کو گناہوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا اور سامان کے سلسلہ میں یوں کہے: قسم اللہ کی اس مال کے تو اتنے اتنے روپے مل رہے تھے، یہ سن کر خریدار اس کی بات کو سچ سمجھ لے اور اسے ( منہ مانگا پیسہ دے کر ) لے لے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، باسناده ومعناه قال " ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم " . وقال في السلعة " بالله لقد اعطي بها كذا وكذا فصدقه الاخر فاخذها