Loading...

Loading...
کتب
۱۵۵ احادیث
بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، ( اجازت ملی ) پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پھر پوچھا: اللہ کے نبی! ( اور ) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمک پھر پوچھا: اللہ کے نبی! ( اور ) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی بھی تو نیکی کرے ( یعنی جو چیزیں بھی دے سکتا ہے دے ) تیرے لیے بہتر ہے ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا كهمس، عن سيار بن منظور، - رجل من بني فزارة - عن ابيه، عن امراة، يقال لها بهيسة عن ابيها، قالت استاذن ابي النبي صلى الله عليه وسلم فدخل بينه وبين قميصه فجعل يقبل ويلتزم ثم قال يا نبي الله ما الشىء الذي لا يحل منعه قال " الماء " . قال يا نبي الله ما الشىء الذي لا يحل منعه قال " الملح " . قال يا نبي الله ما الشىء الذي لا يحل منعه قال " ان تفعل الخير خير لك
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین بار جہاد کیا ہے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنتا تھا: مسلمان تین چیزوں میں برابر برابر کے شریک ہیں ( یعنی ان سے سبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ) : ( ا ) پانی ( نہر و چشمے وغیرہ کا جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو ) ، ( ۲ ) گھاس ( جو لاوارث زمین میں ہو ) اور ( ۳ ) آگ ( جو چقماق وغیرہ سے نکلتی ہو ) ۔
حدثنا علي بن الجعد اللولوي، اخبرنا حريز بن عثمان، عن حبان بن زيد الشرعبي، عن رجل، من قرن ح وحدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا حريز بن عثمان، حدثنا ابو خداش، - وهذا لفظ علي - عن رجل، من المهاجرين من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثا اسمعه يقول " المسلمون شركاء في ثلاث في الكلا والماء والنار
ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل ( پینے کے ) پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا داود بن عبد الرحمن العطار، عن عمرو بن دينار، عن ابي المنهال، عن اياس بن عبد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع فضل الماء
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت ( لینے ) سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، ح وحدثنا الربيع بن نافع ابو توبة، وعلي بن بحر، قالا حدثنا عيسى، وقال، ابراهيم اخبرنا عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب والسنور
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت ( لینے ) سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا عمر بن زيد الصنعاني، انه سمع ابا الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الهرة
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے، اور اگر کوئی کتے کی قیمت مانگنے آئے، تو اس کی مٹھی میں مٹی بھر دو۔
حدثنا الربيع بن نافع ابو توبة، حدثنا عبيد الله، - يعني ابن عمرو - عن عبد الكريم، عن قيس بن حبتر، عن عبد الله بن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب وان جاء يطلب ثمن الكلب فاملا كفه ترابا
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، اخبرني عون بن ابي جحيفة، ان اباه، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں ہے، نہ کاہن کی کمائی حلال ہے اور نہ فاحشہ کی کمائی ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثني معروف بن سويد الجذامي، ان على بن رباح اللخمي، حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل ثمن الكلب ولا حلوان الكاهن ولا مهر البغي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، سور اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا معاوية بن صالح، عن عبد الوهاب بن بخت، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله حرم الخمر وثمنها وحرم الميتة وثمنها وحرم الخنزير وثمنه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ( آپ مکہ میں تھے ) : اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے خریدنے اور بیچنے کو حرام کیا ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ ( اس سے تو بہت سے کام لیے جاتے ہیں ) اس سے کشتیوں پر روغن آمیزی کی جاتی ہے، اس سے کھال نرمائی جاتی ہے، لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ( ان سب کے باوجود بھی ) وہ حرام ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی جب حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کے دام کھائے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح وهو بمكة " ان الله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والاصنام " . فقيل يا رسول الله ارايت شحوم الميتة فانه يطلى بها السفن ويدهن بها الجلود ويستصبح بها الناس فقال " لا هو حرام " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك " قاتل الله اليهود ان الله لما حرم عليهم شحومها اجملوه ثم باعوه فاكلوا ثمنه
اس سند سے بھی جابر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے مگر اس میں انہوں نے «هو حرام» نہیں کہا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، عن عبد الحميد بن جعفر، عن يزيد بن ابي حبيب، قال كتب الى عطاء عن جابر، نحوه لم يقل " هو حرام
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن ( حجر اسود ) کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، آپ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں پھر ہنسے اور تین بار فرمایا: اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کی ( تو انہوں نے چربی تو نہ کھائی ) لیکن چربی بیچ کر اس کے پیسے کھائے، اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کر دیا ہے ۔ خالد بن عبداللہ ( خالد بن عبداللہ طحان ) کی حدیث میں دیکھنے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں: «لعن الله اليهود» کے بجائے: «قال قاتل الله اليهود» ہے۔
حدثنا مسدد، ان بشر بن المفضل، وخالد بن عبد الله، حدثاهم - المعنى، - عن خالد الحذاء، عن بركة، قال مسدد في حديث خالد بن عبد الله عن بركة ابي الوليد، ثم اتفقا - عن ابن عباس، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا عند الركن - قال - فرفع بصره الى السماء فضحك فقال " لعن الله اليهود " . ثلاثا " ان الله حرم عليهم الشحوم فباعوها واكلوا اثمانها وان الله اذا حرم على قوم اكل شىء حرم عليهم ثمنه " . ولم يقل في حديث خالد بن عبد الله الطحان " رايت " . وقال " قاتل الله اليهود
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شراب بیچے اسے سور کا گوشت بھی کاٹنا ( اور بیچنا ) چاہیئے ( اس لیے کہ دونوں ہی چیزیں حرمت میں برابر ہیں ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، قال حدثنا ابن ادريس، ووكيع، عن طعمة بن عمرو الجعفري، عن عمر بن بيان التغلبي، عن عروة بن المغيرة بن شعبة، عن المغيرة بن شعبة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من باع الخمر فليشقص الخنازير
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں: «يسألونك عن الخمر والميسر…» اتریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے یہ آیتیں ہم پر پڑھیں اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام کر دی گئی ہے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن سليمان، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت لما نزلت الايات الاواخر من سورة البقرة خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فقراهن علينا وقال " حرمت التجارة في الخمر
اعمش سے بھی اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں «الآيات الأواخر من سورة البقرہ» کے بجائے «الآيات الأواخر في الربا» ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، باسناده ومعناه قال الايات الاواخر في الربا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھانے کا غلہ خریدے وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے پورے طور سے اپنے قبضہ میں نہ لے لے ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ خریدتے تھے، تو آپ ہمارے پاس ( کسی شخص کو ) بھیجتے وہ ہمیں اس بات کا حکم دیتا کہ غلہ اس جگہ سے اٹھا لیا جائے جہاں سے ہم نے اسے خریدا ہے اس سے پہلے کہ ہم اسے بیچیں یعنی اندازے سے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، انه قال كنا في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم نبتاع الطعام فيبعث علينا من يامرنا بانتقاله من المكان الذي ابتعناه فيه الى مكان سواه قبل ان نبيعه - يعني - جزافا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں لوگ اٹکل سے بغیر ناپے تولے ( ڈھیر کے ڈھیر ) بازار کے بلند علاقے میں غلہ خریدتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ اسے اس جگہ سے منتقل نہ کر لیں ( تاکہ مشتری کا پہلے اس پر قبضہ ثابت ہو جائے پھر بیچے ) ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، اخبرني نافع، عن ابن عمر، قال كانوا يتبايعون الطعام جزافا باعلى السوق فنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبيعوه حتى ينقلوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ کو جسے کسی نے ناپ تول کر خریدا ہو، جب تک اسے اپنے قبضہ و تحویل میں پوری طرح نہ لے لے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثنا عمرو، عن المنذر بن عبيد المديني، ان القاسم بن محمد، حدثه ان عبد الله بن عمر حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يبيع احد طعاما اشتراه بكيل حتى يستوفيه