Loading...

Loading...
کتب
۱۵۵ احادیث
ابورافع رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پڑوسی اپنے سے لگے ہوئے مکان یا زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا سفيان، عن ابراهيم بن ميسرة، سمع عمرو بن الشريد، سمع ابا رافع، سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الجار احق بسقبه
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی پڑوسی کے گھر اور زمین کا زیادہ حقدار ہے ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " جار الدار احق بدار الجار او الارض
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، اگر وہ موجود نہ ہو گا تو شفعہ میں اس کا انتظار کیا جائے گا، جب دونوں ہمسایوں کے آنے جانے کا راستہ ایک ہو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، اخبرنا عبد الملك، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الجار احق بشفعة جاره ينتظر بها وان كان غايبا اذا كان طريقهما واحدا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مفلس ہو جائے، پھر کوئی آدمی اپنا مال اس کے پاس ہو بہو پائے تو وہ ( دوسرے قرض خواہوں کے مقابل میں ) اسے واپس لے لینے کا زیادہ مستحق ہے ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، ح وحدثنا النفيلي، حدثنا زهير، - المعنى - عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عمر بن عبد العزيز، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل افلس فادرك الرجل متاعه بعينه فهو احق به من غيره
ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنا سامان بیچا اور خریدار مفلس ہو گیا، اور بیچنے والے نے اپنے مال کی کوئی قیمت نہ پائی ہو، اور اس کا سامان خریدار کے پاس بعینہٖ موجود ہو تو وہ اپنا سامان واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے، اور اگر خریدار مر گیا ہو تو سامان والا دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل باع متاعا فافلس الذي ابتاعه ولم يقبض الذي باعه من ثمنه شييا فوجد متاعه بعينه فهو احق به وان مات المشتري فصاحب المتاع اسوة الغرماء
یونس، ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ ۔ ۔ پھر آگے انہوں نے مالک کی حدیث جیسی روایت ذکر کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر مشتری اس مال کی کسی قدر قیمت دے چکا ہے، تو وہ مال والا دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا۔
حدثنا سليمان بن داود، حدثنا عبد الله، - يعني ابن وهب - اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر معنى حديث مالك زاد " وان قضى من ثمنها شييا فهو اسوة الغرماء فيها
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اگر بائع نے اس کی قیمت میں سے کچھ پا لیا ہے تو باقی قرض کے سلسلہ میں وہ دیگر قرض خواہوں کی طرح ہو گا، اور جو شخص مر گیا اور اس کے پاس کسی شخص کی بعینہٖ کوئی چیز نکلی تو اس میں سے اس نے کچھ وصول کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہر حال میں وہ دوسرے قرض خواہوں کے برابر ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک کی روایت ( بہ نسبت زبیدی کی روایت کے ) زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن عوف الطايي، حدثنا عبد الله بن عبد الجبار، - يعني الخبايري - حدثنا اسماعيل، - يعني ابن عياش - عن الزبيدي، - قال ابو داود وهو محمد بن الوليد ابو الهذيل الحمصي - عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه قال " فان كان قضاه من ثمنها شييا فما بقي فهو اسوة الغرماء وايما امري هلك وعنده متاع امري بعينه اقتضى منه شييا او لم يقتض فهو اسوة الغرماء " . قال ابو داود حديث مالك اصح
عمر بن خلدہ کہتے ہیں ہم اپنے ایک ساتھی کے مقدمہ میں جو مفلس ہو گیا تھا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میں تمہارا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو مفلس ہو گیا، یا مر گیا، اور بائع نے اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پایا تو وہ بہ نسبت اور قرض خواہوں کے اپنا مال واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، هو الطيالسي حدثنا ابن ابي ذيب، عن ابي المعتمر، عن عمر بن خلدة، قال اتينا ابا هريرة في صاحب لنا افلس فقال لاقضين فيكم بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم " من افلس او مات فوجد رجل متاعه بعينه فهو احق به
عامر شعبی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی ایسا جانور پائے جسے اس کے مالک نے ناکارہ و بوڑھا سمجھ کر دانا و چارہ سے آزاد کر دیا ہو، وہ اسے ( کھلا پلا کر، اور علاج معالجہ کر کے ) تندرست کر لے تو وہ جانور اسی کا ہو جائے گا ۔ عبیداللہ بن حمید بن عبدالرحمٰن حمیری نے کہا: تو میں نے عامر شعبی سے پوچھا: یہ حدیث آپ نے کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے ( ایک نہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حماد کی حدیث ہے، اور یہ زیادہ واضح اور مکمل ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا موسى، حدثنا ابان، عن عبيد الله بن حميد بن عبد الرحمن الحميري، عن الشعبي، - قال عن ابان، ان عامرا الشعبي، - حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من وجد دابة قد عجز عنها اهلها ان يعلفوها فسيبوها فاخذها فاحياها فهي له " . قال في حديث ابان قال عبيد الله فقلت عمن قال عن غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود وهذا حديث حماد وهو ابين واتم
شعبی سے روایت ہے، وہ اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص کوئی جانور مر کھپ جانے کے لیے چھوڑ دے اور اسے کوئی دوسرا شخص ( کھلا پلا کر ) تندرست کر لے، تو وہ اسی کا ہو گا جس نے اسے ( کھلا پلا کر ) صحت مند بنایا ۔
حدثنا محمد بن عبيد، عن حماد، - يعني ابن زيد - عن خالد الحذاء، عن عبيد الله بن حميد بن عبد الرحمن، عن الشعبي، يرفع الحديث الى النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من ترك دابة بمهلك فاحياها رجل فهي لمن احياها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہوا ہو تو اسے کھلانے پلانے کے بقدر دوہا جائے گا، اور سواری والا جانور رہن رکھا ہوا ہو تو کھلانے پلانے کے بقدر اس پر سواری کی جائے گی، اور جو سواری کرے اور دوہے اس پر اسے کھلانے پلانے کی ذمہ داری ہو گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک صحیح ہے۔
حدثنا هناد، عن ابن المبارك، عن زكرياء، عن الشعبي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لبن الدر يحلب بنفقته اذا كان مرهونا والظهر يركب بنفقته اذا كان مرهونا وعلى الذي يركب ويحلب النفقة " . قال ابو داود وهو عندنا صحيح
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو انبیاء و شہداء تو نہیں ہوں گے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو مرتبہ انہیں ملے گا اس پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں بتائیں وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسے لوگ ہوں گے جن میں آپس میں خونی رشتہ تو نہ ہو گا اور نہ مالی لین دین اور کاروبار ہو گا لیکن وہ اللہ کی ذات کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے، قسم اللہ کی، ان کے چہرے ( مجسم ) نور ہوں گے، وہ خود پرنور ہوں گے انہیں کوئی ڈر نہ ہو گا جب کہ لوگ ڈر رہے ہوں گے، انہیں کوئی رنج و غم نہ ہو گا جب کہ لوگ رنجیدہ و غمگین ہوں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون» یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں ( سورۃ یونس: ۶۲ ) ۔
حدثنا زهير بن حرب، وعثمان بن ابي شيبة، قالا حدثنا جرير، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، ان عمر بن الخطاب، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان من عباد الله لاناسا ما هم بانبياء ولا شهداء يغبطهم الانبياء والشهداء يوم القيامة بمكانهم من الله تعالى " . قالوا يا رسول الله تخبرنا من هم . قال " هم قوم تحابوا بروح الله على غير ارحام بينهم ولا اموال يتعاطونها فوالله ان وجوههم لنور وانهم على نور لا يخافون اذا خاف الناس ولا يحزنون اذا حزن الناس " . وقرا هذه الاية { الا ان اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون}
عمارہ بن عمیر کی پھوپھی سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: میری گود میں ایک یتیم ہے، کیا میں اس کے مال میں سے کچھ کھا سکتی ہوں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: آدمی کی پاکیزہ خوراک اس کی اپنی کمائی کی ہے، اور اس کا بیٹا بھی اس کی کمائی ہے ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن عمارة بن عمير، عن عمته، انها سالت عايشة رضى الله عنها في حجري يتيم افاكل من ماله فقالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من اطيب ما اكل الرجل من كسبه وولده من كسبه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی اولاد بھی اس کی کمائی ہے بلکہ بہترین کمائی ہے، تو ان کے مال میں سے کھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن ابی سلیمان نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ جب تم اس کے حاجت مند ہو ( تو بقدر ضرورت لے لو ) لیکن یہ زیادتی منکر ہے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، وعثمان بن ابي شيبة، - المعنى - قالا حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن الحكم، عن عمارة بن عمير، عن امه، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ولد الرجل من كسبه من اطيب كسبه فكلوا من اموالهم " . قال ابو داود حماد بن ابي سليمان زاد فيه " اذا احتجتم " . وهو منكر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس مال ہے اور والد بھی ہیں اور میرے والد کو میرے مال کی ضرورت ہے ۱؎ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارا مال تمہارے والد ہی کا ہے ( یعنی ان کی خبرگیری تجھ پر لازم ہے ) تمہاری اولاد تمہاری پاکیزہ کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ ۔
حدثنا محمد بن المنهال، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حبيب المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان لي مالا وولدا وان والدي يجتاح مالي . قال " انت ومالك لوالدك ان اولادكم من اطيب كسبكم فكلوا من كسب اولادكم
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنا مال کسی اور کے پاس ہو بہو پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے اور خریدار اس شخص کا پیچھا کرے جس نے اس کے ہاتھ بیچا ہے ۱؎ ۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا هشيم، عن موسى بن السايب، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من وجد عين ماله عند رجل فهو احق به ويتبع البيع من باعه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہند رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ( اپنے شوہر کے متعلق ) کہا: ابوسفیان بخیل آدمی ہیں مجھے خرچ کے لیے اتنا نہیں دیتے جو میرے اور میرے بیٹوں کے لیے کافی ہو، تو کیا ان کے مال میں سے میرے کچھ لے لینے میں کوئی گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عام دستور کے مطابق بس اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بیٹوں کی ضرورتوں کے لیے کافی ہو ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، ان هندا ام معاوية، جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت ان ابا سفيان رجل شحيح وانه لا يعطيني ما يكفيني وبني فهل على جناح ان اخذ من ماله شييا قال " خذي ما يكفيك وبنيك بالمعروف
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہند رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان کنجوس آدمی ہیں، اگر ان کے مال میں سے ان سے اجازت لیے بغیر ان کی اولاد کے کھانے پینے پر کچھ خرچ کر دوں تو کیا میرے لیے کوئی حرج ( نقصان و گناہ ) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معروف ( عام دستور ) کے مطابق خرچ کرنے میں تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ۔
حدثنا خشيش بن اصرم، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت جاءت هند الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ابا سفيان رجل ممسك فهل على من حرج ان انفق على عياله من ماله بغير اذنه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا حرج عليك ان تنفقي عليهم بالمعروف
یوسف بن ماہک مکی کہتے ہیں میں فلاں شخص کا کچھ یتیم بچوں کے خرچ کا جن کا وہ والی تھا حساب لکھا کرتا تھا، ان بچوں نے ( بڑے ہونے پر ) اس پر ایک ہزار درہم کی غلطی نکالی، اس نے انہیں ایک ہزار درہم دے دئیے ( میں نے حساب کیا تو ) مجھے ان کا مال دوگنا ملا، میں نے اس شخص سے کہا ( جس نے مجھے حساب لکھنے کے کام پر رکھا تھا ) کہ وہ ایک ہزار درہم واپس لے لوں جو انہوں نے مغالطہٰ دے کر آپ سے اینٹھ لیے ہیں؟ اس نے کہا: نہیں ( میں واپس نہ لوں گا ) مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے اس کی امانت پوری کی پوری لوٹا دو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ۔
حدثنا ابو كامل، ان يزيد بن زريع، حدثهم حدثنا حميد، - يعني الطويل - عن يوسف بن ماهك المكي، قال كنت اكتب لفلان نفقة ايتام كان وليهم فغالطوه بالف درهم فاداها اليهم فادركت لهم من مالهم مثليها . قال قلت اقبض الالف الذي ذهبوا به منك قال لا حدثني ابي انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اد الامانة الى من ايتمنك ولا تخن من خانك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تمہارے پاس امانت رکھی اسے امانت ( جب وہ مانگے ) لوٹا دو اور جس نے تمہارے ساتھ خیانت ( دھوکے بازی ) کی ہو تو تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن العلاء، واحمد بن ابراهيم، قالا حدثنا طلق بن غنام، عن شريك، - قال ابن العلاء وقيس - عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اد الامانة الى من ايتمنك ولا تخن من خانك