Loading...

Loading...
کتب
۹۰ احادیث
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار دے کر بھیجا کہ وہ آپ کے لیے ایک قربانی کا جانور خرید لیں، انہوں نے قربانی کا جانور ایک دینار میں خریدا اور اسے دو دینار میں بیچ دیا پھر لوٹ کر قربانی کا ایک جانور ایک دینار میں خریدا اور ایک دینار بچا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کر دیا اور ان کے لیے ان کی تجارت میں برکت کی دعا کی۔
حدثنا محمد بن كثير العبدي، اخبرنا سفيان، حدثني ابو حصين، عن شيخ، من اهل المدينة عن حكيم بن حزام، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معه بدينار يشتري له اضحية فاشتراها بدينار وباعها بدينارين فرجع فاشترى له اضحية بدينار وجاء بدينار الى النبي صلى الله عليه وسلم فتصدق به النبي صلى الله عليه وسلم ودعا له ان يبارك له في تجارته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص ایک فرق ۱؎ چاول والے کے مثل ہو سکے تو ہو جائے لوگوں نے پوچھا: ایک فرق چاول والا کون ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار کی حدیث بیان کی جب ان پر چٹان گر پڑی تھی تو ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے اپنے اچھے کاموں کا ذکر کر کے اللہ سے چٹان ہٹنے کی دعا کرنے کی بات کہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے میں نے ایک مزدور کو ایک فرق چاول کے بدلے مزدوری پر رکھا، شام ہوئی میں نے اسے اس کی مزدوری پیش کی تو اس نے نہ لی، اور چلا گیا، تو میں نے اسے اس کے لیے پھل دار بنایا، ( بویا اور بڑھایا ) یہاں تک کہ اس سے میں نے گائیں اور ان کے چرواہے بڑھا لیے، پھر وہ مجھے ملا اور کہا: مجھے میرا حق ( مزدوری ) دے دو، میں نے اس سے کہا: ان گایوں بیلوں اور ان کے چرواہوں کو لے جاؤ تو وہ گیا اور انہیں ہانک لے گیا ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، حدثنا عمر بن حمزة، اخبرنا سالم بن عبد الله، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من استطاع منكم ان يكون مثل صاحب فرق الارز فليكن مثله " . قالوا ومن صاحب فرق الارز يا رسول الله فذكر حديث الغار حين سقط عليهم الجبل فقال كل واحد منهم اذكروا احسن عملكم قال " وقال الثالث اللهم انك تعلم اني استاجرت اجيرا بفرق ارز فلما امسيت عرضت عليه حقه فابى ان ياخذه وذهب فثمرته له حتى جمعت له بقرا ورعاءها فلقيني فقال اعطني حقي . فقلت اذهب الى تلك البقر ورعايها فخذها فذهب فاستاقها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں، عمار اور سعد تینوں نے بدر کے دن حاصل ہونے والے مال غنیمت میں حصے کا معاملہ کیا تو سعد دو قیدی لے کر آئے اور میں اور عمار کچھ نہ لائے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا يحيى، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، قال اشتركت انا وعمار، وسعد، فيما نصيب يوم بدر قال فجاء سعد باسيرين ولم اجي انا وعمار بشىء
عمرو بن دینار کہتے ہیں میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ ہم مزارعت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، میں نے طاؤس سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی کسی کو اپنی زمین یونہی بغیر کسی معاوضہ کے دیدے تو یہ کوئی متعین محصول ( لگان ) لگا کر دینے سے بہتر ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن عمرو بن دينار، قال سمعت ابن عمر، يقول ما كنا نرى بالمزارعة باسا حتى سمعت رافع بن خديج يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنها . فذكرته لطاوس فقال قال لي ابن عباس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم ينه عنها ولكن قال " لان يمنح احدكم ارضه خير من ان ياخذ عليها خراجا معلوما
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے قسم اللہ کی میں اس حدیث کو ان سے زیادہ جانتا ہوں ( واقعہ یہ ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے دو آدمی آئے، پھر وہ دونوں جھگڑ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں ایسے ہی ( یعنی لڑتے جھگڑتے ) رہنا ہے تو کھیتوں کو بٹائی پر نہ دیا کرو ۔ مسدد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے آپ کی اتنی ہی بات سنی کہ زمین بٹائی پر نہ دیا کرو ( موقع و محل اور انداز گفتگو پر دھیان نہیں دیا ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن علية، ح وحدثنا مسدد، حدثنا بشر، - المعنى - عن عبد الرحمن بن اسحاق، عن ابي عبيدة بن محمد بن عمار، عن الوليد بن ابي الوليد، عن عروة بن الزبير، قال قال زيد بن ثابت يغفر الله لرافع بن خديج انا والله، اعلم بالحديث منه انما اتاه رجلان - قال مسدد من الانصار ثم اتفقا - قد اقتتلا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان كان هذا شانكم فلا تكروا المزارع " . زاد مسدد فسمع قوله " لا تكروا المزارع
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم زمین کو کرایہ پر کھیتی کی نالیوں اور سہولت سے پانی پہنچنے والی جگہوں کی پیداوار کے بدلے دیا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا اور سونے چاندی ( سکوں ) کے بدلے میں دینے کا حکم دیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا ابراهيم بن سعد، عن محمد بن عكرمة بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن محمد بن عبد الرحمن بن ابي لبيبة، عن سعيد بن المسيب، عن سعد، قال كنا نكري الارض بما على السواقي من الزرع وما سعد بالماء منها فنهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك وامرنا ان نكريها بذهب او فضة
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اجرت پر لینے دینے کا معاملہ کرتے تھے پانی کی نالیوں، نالوں کے سروں اور کھیتی کی جگہوں کے بدلے ( یعنی ان جگہوں کی پیداوار میں لوں گا ) تو کبھی یہ برباد ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ برباد ہو جاتا، اس کے سوا کرایہ کا اور کوئی طریقہ رائج نہ تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا، اور رہی محفوظ اور مامون صورت تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم کی حدیث مکمل ہے اور قتیبہ نے «عن حنظلة عن رافع» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی روایت جسے انہوں نے حنظلہ سے روایت کیا ہے اسی طرح ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، حدثنا الاوزاعي، ح وحدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، كلاهما عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، - واللفظ للاوزاعي - حدثني حنظلة بن قيس الانصاري، قال سالت رافع بن خديج عن كراء الارض، بالذهب والورق فقال لا باس بها انما كان الناس يواجرون على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم بما على الماذيانات واقبال الجداول واشياء من الزرع فيهلك هذا ويسلم هذا ويسلم هذا ويهلك هذا ولم يكن للناس كراء الا هذا فلذلك زجر عنه فاما شىء مضمون معلوم فلا باس به . وحديث ابراهيم اتم وقال قتيبة عن حنظلة عن رافع . قال ابو داود رواية يحيى بن سعيد عن حنظلة نحوه
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر ( کھیتی کے لیے ) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا: سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو؟ تو انہوں نے کہا: رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن حنظلة بن قيس، انه سال رافع بن خديج عن كراء الارض، فقال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كراء الارض فقلت ابالذهب والورق فقال اما بالذهب والورق فلا باس به
سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر جب انہیں یہ خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو بٹائی پر دینے سے روکتے تھے، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سے ملے، اور کہنے لگے: ابن خدیج! زمین کو بٹائی پر دینے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر سے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا ہے اور وہ دونوں جنگ بدر میں شریک تھے، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے، عبداللہ بن عمر نے کہا: قسم اللہ کی! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی، پھر عبداللہ کو خدشہ ہوا کہ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم نہ صادر فرما دیا ہو اور ان کو پتہ نہ چل پایا ہو، تو انہوں نے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسے ایوب، عبیداللہ، کثیر بن فرقد اور مالک نے نافع سے انہوں نے رافع رضی اللہ عنہ سے اور رافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے حفص بن عنان حنفی سے اور انہوں نے نافع سے اور نافع نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، رافع کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ اور اسی طرح اسے زید بن ابی انیسہ نے حکم سے انہوں نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ وہ رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ ایسے ہی عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے اور انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے اوزاعی نے ابونجاشی سے، انہوں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، رافع نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابونجاشی سے مراد عطاء بن صہیب ہیں۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثني ابي، عن جدي الليث، حدثني عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سالم بن عبد الله بن عمر، ان ابن عمر، كان يكري ارضه حتى بلغه ان رافع بن خديج الانصاري حدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينهى عن كراء الارض فلقيه عبد الله فقال يا ابن خديج ماذا تحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في كراء الارض قال رافع لعبد الله بن عمر سمعت عمى وكانا قد شهدا بدرا يحدثان اهل الدار ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن كراء الارض . قال عبد الله والله لقد كنت اعلم في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الارض تكرى . ثم خشي عبد الله ان يكون رسول الله صلى الله عليه وسلم احدث في ذلك شييا لم يكن علمه فترك كراء الارض . قال ابو داود رواه ايوب وعبيد الله وكثير بن فرقد ومالك عن نافع عن رافع عن النبي صلى الله عليه وسلم ورواه الاوزاعي عن حفص بن عنان عن نافع عن رافع قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكذلك رواه زيد بن ابي انيسة عن الحكم عن نافع عن ابن عمر انه اتى رافعا فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال نعم . وكذا قال عكرمة بن عمار عن ابي النجاشي عن رافع بن خديج قال سمعت النبي عليه السلام . ورواه الاوزاعي عن ابي النجاشي عن رافع بن خديج عن عمه ظهير بن رافع عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود ابو النجاشي عطاء بن صهيب
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( بٹائی پر ) کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو ( ایک بار ) میرے ایک چچا آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں ہمارا فائدہ تھا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے مناسب اور زیادہ نفع بخش ہے، ہم نے کہا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کے پاس زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ خود کاشت کرے، یا ( اگر خود کاشت نہ کر سکتا ہو تو ) اپنے کسی بھائی کو کاشت کروا دے اور اسے تہائی یا چوتھائی یا کسی معین مقدار کے غلہ پر بٹائی نہ دے ۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، عن يعلى بن حكيم، عن سليمان بن يسار، ان رافع بن خديج، قال كنا نخابر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ان بعض عمومته اتاه فقال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن امر كان لنا نافعا وطواعية الله ورسوله انفع لنا وانفع . قال قلنا وما ذاك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له ارض فليزرعها او فليزرعها اخاه ولا يكاريها بثلث ولا بربع ولا بطعام مسمى
ایوب کہتے ہیں: یعلیٰ بن حکیم نے مجھے لکھا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے عبیداللہ کی سند اور ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث سنی ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، قال كتب الى يعلى بن حكيم اني سمعت سليمان بن يسار، بمعنى اسناد عبيد الله وحديثه
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہمارے پاس ابورافع رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے سود مند تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہمارے لیے اس سے بھی زیادہ سود مند ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زراعت کرنے سے روک دیا ہے مگر ایسی زمین میں جس کے رقبہ و حدود کے ہم خود مالک ہوں یا جسے کوئی ہمیں ( بلامعاوضہ و شرط ) دیدے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا عمر بن ذر، عن مجاهد، عن ابن رافع بن خديج، عن ابيه، قال جاءنا ابو رافع من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن امر كان يرفق بنا وطاعة الله وطاعة رسوله ارفق بنا نهانا ان يزرع احدنا الا ارضا يملك رقبتها او منيحة يمنحها رجل
اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو «حقل» سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی زمین سے بے نیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو ( مفت ) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے شعبہ اور مفضل بن مہلہل نے منصور سے روایت کیا ہے شعبہ کہتے ہیں: اسید رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن منصور، عن مجاهد، ان اسيد بن ظهير، قال جاءنا رافع بن خديج فقال ان رسول الله ينهاكم عن امر، كان لكم نافعا وطاعة الله وطاعة رسول الله صلى الله عليه وسلم انفع لكم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهاكم عن الحقل وقال " من استغنى عن ارضه فليمنحها اخاه او ليدع " . قال ابو داود وهكذا رواه شعبة ومفضل بن مهلهل عن منصور . قال شعبة اسيد ابن اخي رافع بن خديج
ابوجعفر خطمی کہتے ہیں میرے چچا نے مجھے اور اپنے ایک غلام کو سعید بن مسیب کے پاس بھیجا، تو ہم نے ان سے کہا: مزارعت کے سلسلے میں آپ کے واسطہ سے ہمیں ایک خبر ملی ہے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزارعت میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما کی حدیث پہنچی تو وہ ( براہ راست ) ان کے پاس معلوم کرنے پہنچ گئے، رافع رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے تو وہاں ظہیر کی زمین میں کھیتی دیکھی، تو فرمایا: ( ماشاء اللہ ) ظہیر کی کھیتی کتنی اچھی ہے لوگوں نے کہا: یہ ظہیر کی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا یہ زمین ظہیر کی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں زمین تو ظہیر کی ہے لیکن کھیتی فلاں کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کھیت لے لو اور کھیتی کرنے والے کو اس کے اخراجات اور مزدوری دے دو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( یہ سن کر ) ہم نے اپنا کھیت لے لیا اور جس نے جوتا بویا تھا اس کا نفقہ ( اخراجات و محنتانہ ) اسے دے دیا۔ سعید بن مسیب نے کہا: ( اب دو صورتیں ہیں ) یا تو اپنے بھائی کو زمین زراعت کے لیے عاریۃً دے دو ( اس سے پیداوار کا کوئی حصہ وغیرہ نہ مانگو ) یا پھر درہم کے عوض زمین کو کرایہ پر دو ( یعنی نقد روپیہ اس سے طے کر لو ) ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى، حدثنا ابو جعفر الخطمي، قال بعثني عمي انا وغلاما، له الى سعيد بن المسيب قال فقلنا له شىء بلغنا عنك في المزارعة . قال كان ابن عمر لا يرى بها باسا حتى بلغه عن رافع بن خديج حديث فاتاه فاخبره رافع ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى بني حارثة فراى زرعا في ارض ظهير فقال " ما احسن زرع ظهير " . قالوا ليس لظهير . قال " اليس ارض ظهير " . قالوا بلى ولكنه زرع فلان . قال " فخذوا زرعكم وردوا عليه النفقة " . قال رافع فاخذنا زرعنا ورددنا اليه النفقة . قال سعيد افقر اخاك او اكره بالدراهم
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع کیا ہے ۱؎ اور فرمایا: زراعت تین طرح کے لوگ کرتے ہیں ( ۱ ) ایک وہ شخص جس کی اپنی ذاتی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرتا ہے، ( ۲ ) دوسرا وہ شخص جسے عاریۃً ( بلامعاوضہ ) زمین دے دی گئی ہو تو وہ دی ہوئی زمین میں کھیتی کرتا ہے، ( ۳ ) تیسرا وہ شخص جس نے سونا چاندی ( نقد ) دے کر زمین کرایہ پر لی ہو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا طارق بن عبد الرحمن، عن سعيد بن المسيب، عن رافع بن خديج، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المحاقلة والمزابنة وقال " انما يزرع ثلاثة رجل له ارض فهو يزرعها ورجل منح ارضا فهو يزرع ما منح ورجل استكرى ارضا بذهب او فضة
عثمان بن سہل بن رافع بن خدیج کہتے ہیں میں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش ایک یتیم تھا، میں نے ان کے ساتھ حج کیا تو میرے بھائی عمران بن سہل ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہم نے اپنی زمین دو سو درہم کے بدلے فلاں شخص کو کرایہ پر دی ہے، تو انہوں نے ( رافع نے ) کہا: اسے چھوڑ دو ( یعنی یہ معاملہ ختم کر لو ) کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کرایہ پر دینے سے منع فرمایا ہے۔
قال ابو داود قرات على سعيد بن يعقوب الطالقاني قلت له حدثكم ابن المبارك، عن سعيد ابي شجاع، حدثني عثمان بن سهل بن رافع بن خديج، قال اني ليتيم في حجر رافع بن خديج وحججت معه فجاءه اخي عمران بن سهل فقال اكرينا ارضنا فلانة بمايتى درهم فقال دعه فان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن كراء الارض
ابن ابی نعم سے روایت ہے کہ مجھ سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک زمین میں کھیتی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ اس میں پانی دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کھیتی کس کی ہے اور زمین کس کی؟ تو انہوں کہا: میری کھیتی میرے بیج سے ہے اور محنت بھی میری ہے نصف پیداوار مجھے ملے گی اور نصف پیداوار فلاں شخص کو ( جو زمین کا مالک ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں نے ربا کیا ( یعنی یہ عقد ناجائز ہے ) زمین اس کے مالک کو لوٹا دو، اور تم اپنے خرچ اور اپنی محنت کی اجرت لے لو ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا بكير، - يعني ابن عامر - عن ابن ابي نعم، حدثني رافع بن خديج، انه زرع ارضا فمر به النبي صلى الله عليه وسلم وهو يسقيها فساله " لمن الزرع ولمن الارض " . فقال زرعي ببذري وعملي لي الشطر ولبني فلان الشطر . فقال " اربيتما فرد الارض على اهلها وخذ نفقتك
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن عطاء، عن رافع بن خديج، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من زرع في ارض قوم بغير اذنهم فليس له من الزرع شىء وله نفقته
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ۱؎ مزابنہ ۲؎ مخابرہ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا ہے۔ مسدد کی روایت میں «عن حماد» ہے اور ابوزبیر اور سعید بن میناء دونوں میں سے ایک نے معاومہ کہا اور دوسرے نے «بيع السنين»کہا ہے پھر دونوں راوی متفق ہیں اور استثناء کرنے ۴؎ سے منع فرمایا ہے، اور عرایا ۵؎ کی اجازت دی ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا اسماعيل، ح وحدثنا مسدد، ان حمادا، وعبد الوارث، حدثاهم كلهم، عن ايوب، عن ابي الزبير، - قال عن حماد، وسعيد بن ميناء، ثم اتفقوا - عن جابر بن عبد الله، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المحاقلة والمزابنة والمخابرة والمعاومة - قال عن حماد وقال احدهما والمعاومة وقال الاخر بيع السنين ثم اتفقوا - وعن الثنيا ورخص في العرايا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ( درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک پھل سے بیچنے ) سے اور محاقلہ ( کھیت میں لگی ہوئی فصل کو غلہ سے اندازہ کر کے بیچنے ) سے اور غیر متعین اور غیر معلوم مقدار کے استثناء سے روکا ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمر بن يزيد السياري حدثنا عباد بن العوام، عن سفيان بن حسين، عن يونس بن عبيد، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المزابنة والمحاقلة وعن الثنيا الا ان يعلم