Loading...

Loading...
کتب
۹۰ احادیث
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ عرایا یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کو چند درختوں کے پھل ( کھانے کے لیے ) ہبہ کر دے پھر اسے اس کا وہاں رہنا سہنا ناگوار گزرے تو اس کا تخمینہ لگا کر مالک کے ہاتھ تر یا سوکھے کھجور کے عوض بیچ دے ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، عن عبدة، عن ابن اسحاق، قال العرايا ان يهب الرجل، للرجل النخلات فيشق عليه ان يقوم عليها فيبيعها بمثل خرصها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے، خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها نهى البايع والمشتري
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے اور بالی کو بھی یہاں تک کہ وہ سوکھ جائے اور آفت سے مامون ہو جائے بیچنے والے، اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع النخل حتى يزهو وعن السنبل حتى يبيض ويامن العاهة نهى البايع والمشتري
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ تقسیم نہ کر دیا جائے اور کھجور کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جب تک کہ وہ ہر آفت سے مامون نہ ہو جائے، اور بغیر کمر بند کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ( کہ کہیں ستر کھل نہ جائے ) ۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن يزيد بن خمير، عن مولى، لقريش عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الغنايم حتى تقسم وعن بيع النخل حتى تحرز من كل عارض وان يصلي الرجل بغير حزام
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشقاح سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے، پوچھا گیا: اشقاح کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اشقاح یہ ہے کہ پھل سرخی مائل یا زردی مائل ہو جائیں اور انہیں کھایا جانے لگے ۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن خلاد الباهلي حدثنا يحيى بن سعيد، عن سليم بن حيان، اخبرنا سعيد بن ميناء، قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تباع الثمرة حتى تشقح . قيل وما تشقح قال تحمار وتصفار ويوكل منها
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کو جب تک کہ وہ پختہ نہ ہو جائے اور غلہ کو جب تک کہ وہ سخت نہ ہو جائے بیچنے سے منع فرمایا ہے ( ان کا کچے پن میں بیچنا درست نہیں ) ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو الوليد، عن حماد بن سلمة، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع العنب حتى يسود وعن بيع الحب حتى يشتد
یونس کہتے ہیں کہ میں نے ابوالزناد سے پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے اور جو اس بارے میں ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر سہل بن ابو حثمہ کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: لوگ پھلوں کو ان کی پختگی و بہتری معلوم ہونے سے پہلے بیچا اور خریدا کرتے تھے، پھر جب لوگ پھل پا لیتے اور تقاضے یعنی پیسہ کی وصولی کا وقت آتا تو خریدار کہتا: پھل کو دمان ہو گیا، قشام ہو گیا، مراض ۱؎ ہو گیا، یہ بیماریاں ہیں جن کے ذریعہ ( وہ قیمت کم کرانے یا قیمت نہ دینے کے لیے ) حجت بازی کرتے جب اس قسم کے جھگڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بڑھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے باہمی جھگڑوں اور اختلاف کی کثرت کی وجہ سے بطور مشورہ فرمایا: پھر تم ایسا نہ کرو، جب تک پھلوں کی درستگی ظاہر نہ ہو جائے ان کی خرید و فروخت نہ کرو ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة بن خالد، حدثني يونس، قال سالت ابا الزناد عن بيع الثمر، قبل ان يبدو، صلاحه وما ذكر في ذلك فقال كان عروة بن الزبير يحدث عن سهل بن ابي حثمة عن زيد بن ثابت قال كان الناس يتبايعون الثمار قبل ان يبدو صلاحها فاذا جد الناس وحضر تقاضيهم قال المبتاع قد اصاب الثمر الدمان واصابه قشام واصابه مراض عاهات يحتجون بها فلما كثرت خصومتهم عند النبي صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كالمشورة يشير بها " فاما لا فلا تتبايعوا الثمرة حتى يبدو صلاحها " . لكثرة خصومتهم واختلافهم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میوہ کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے اور فرمایا ہے: پھل ( میوہ ) درہم و دینار ( روپیہ پیسہ ) ہی سے بیچا جائے سوائے عرایا کے ( عرایا میں پکا پھل کچے پھل سے بیچا جا سکتا ہے ) ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل الطالقاني، حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن عطاء، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحه ولا يباع الا بالدينار او بالدرهم الا العرايا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کے لیے پھل بیچنے سے روکا ہے، اور آفات سے پہنچنے والے نقصانات کا خاتمہ کر دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثلث کے سلسلے میں کوئی صحیح چیز ثابت نہیں ہے اور یہ اہل مدینہ کی رائے ہے ۲؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، ويحيى بن معين، قالا حدثنا سفيان، عن حميد الاعرج، عن سليمان بن عتيق، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع السنين ووضع الجوايح . قال ابو داود لم يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم في الثلث شىء وهو راى اهل المدينة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاومہ ( کئی سالوں کے لیے درخت کا پھل بیچنے ) سے روکا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان میں سے ایک ( یعنی ابو الزبیر ) نے ( معاومہ کی جگہ ) «بيع السنين» کہا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي الزبير، وسعيد بن ميناء، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المعاومة وقال احدهما بيع السنين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکہ کی بیع سے روکا ہے۔ عثمان راوی نے اس حدیث میں«والحصاة» کا لفظ بڑھایا ہے یعنی کنکری پھینک کر بھی بیع کرنے سے روکا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر، وعثمان، ابنا ابي شيبة قالا حدثنا ابن ادريس، عن عبيد الله، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الغرر - زاد عثمان - والحصاة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع سے اور دو قسم کے پہناؤں سے روکا ہے، رہے دو بیع تو وہ ملامسہ ۱؎ اور منابذہ ۲؎ ہیں، اور رہے دونوں پہناوے تو ایک اشتمال صماء ۳؎ ہے اور دوسرا احتباء ہے، اور احتباء یہ ہے کہ ایک کپڑا اوڑھ کے گوٹ مار کر اس طرح سے بیٹھے کہ شرمگاہ کھلی رہے، یا شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ رہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، واحمد بن عمرو بن السرح، - وهذا لفظه - قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيعتين وعن لبستين اما البيعتان فالملامسة والمنابذة واما اللبستان فاشتمال الصماء وان يحتبي الرجل في ثوب واحد كاشفا عن فرجه او ليس على فرجه منه شىء
اس سند سے بھی بواسطہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اشتمال صماء یہ ہے کہ ایک کپڑا سارے بدن پر لپیٹ لے، اور کپڑے کے دونوں کنارے اپنے بائیں کندھے پر ڈال لے، اور اس کا داہنا پہلو کھلا رہے، اور منابذہ یہ ہے کہ بائع یہ کہے کہ جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں تو بیع لازم ہو جائے گی، اور ملامسہ یہ ہے کہ ہاتھ سے چھو لے نہ اسے کھولے اور نہ الٹ پلٹ کر دیکھے تو جب اس نے چھو لیا تو بیع لازم ہو گئی۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث زاد واشتمال الصماء ان يشتمل في ثوب واحد يضع طرفى الثوب على عاتقه الايسر ويبرز شقه الايمن والمنابذة ان يقول اذا نبذت اليك هذا الثوب فقد وجب البيع والملامسة ان يمسه بيده ولا ينشره ولا يقلبه فاذا مسه وجب البيع
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے خبر دی ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، آگے سفیان و عبدالرزاق کی حدیث کے ہم معنی حدیث مذکور ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة بن خالد، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عامر بن سعد بن ابي وقاص، ان ابا سعيد الخدري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم بمعنى حديث سفيان وعبد الرزاق جميعا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حبل الحبلة» ( بچے کے بچہ ) کی بیع سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع حبل الحبلة
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے «حبل الحبلة» یہ ہے کہ اونٹنی اپنے پیٹ کا بچہ جنے پھر بچہ جو پیدا ہوا تھا حاملہ ہو جائے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وقال حبل الحبلة ان تنتج الناقة بطنها ثم تحمل التي نتجت
بنو تمیم کے ایک شیخ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، یا فرمایا: عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا، جو کاٹ کھانے والا ہو گا، مالدار اپنے مال کو دانتوں سے پکڑے رہے گا ( کسی کو نہ دے گا ) حالانکہ اسے ایسا حکم نہیں دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «ولا تنسوا الفضل بينكم» اللہ کے فضل بخشش و انعام کو نہ بھولو یعنی مال کو خرچ کرو ( سورۃ البقرہ: ۲۳۸ ) مجبور و پریشاں حال اپنا مال بیچیں گے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاچار و مجبور کا مال خریدنے سے اور دھوکے کی بیع سے روکا ہے، اور پھل کے پکنے سے پہلے اسے بیچنے سے روکا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا هشيم، اخبرنا صالح ابو عامر، - قال ابو داود كذا قال محمد - حدثنا شيخ، من بني تميم قال خطبنا علي بن ابي طالب - او قال قال علي قال ابن عيسى هكذا حدثنا هشيم، - قال سياتي على الناس زمان عضوض يعض الموسر على ما في يديه ولم يومر بذلك قال الله تعالى { ولا تنسوا الفضل بينكم } ويبايع المضطرون وقد نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع المضطر وبيع الغرر وبيع الثمرة قبل ان تدرك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا ہوں جب تک کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کرے، اور جب کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو میں ان کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں ۔
حدثنا محمد بن سليمان المصيصي، حدثنا محمد بن الزبرقان، عن ابي حيان التيمي، عن ابيه، عن ابي هريرة، رفعه قال " ان الله يقول انا ثالث الشريكين، ما لم يخن احدهما صاحبه فاذا خانه خرجت من بينهما
عروہ بن ابی الجعد بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کا جانور یا بکری خریدنے کے لیے ایک دینار دیا تو انہوں نے دو بکریاں خریدیں، پھر ایک بکری ایک دینار میں بیچ دی، اور ایک دینار اور ایک بکری لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کی خرید و فروخت میں برکت کی دعا فرمائی ( اس دعا کے بعد ) ان کا حال یہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مٹی بھی خرید لیتے تو اس میں بھی نفع کما لیتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن شبيب بن غرقدة، حدثني الحى، عن عروة، - يعني ابن ابي الجعد البارقي - قال اعطاه النبي صلى الله عليه وسلم دينارا يشتري به اضحية او شاة فاشترى شاتين فباع احداهما بدينار فاتاه بشاة ودينار فدعا له بالبركة في بيعه فكان لو اشترى ترابا لربح فيه
اس سند سے بھی عروہ بارقی سے یہی حدیث مروی ہے اور اس کے الفاظ مختلف ہیں۔
حدثنا الحسن بن الصباح، حدثنا ابو المنذر، حدثنا سعيد بن زيد، - هو اخو حماد بن زيد - حدثنا الزبير بن الخريت، عن ابي لبيد، حدثني عروة البارقي، بهذا الخبر ولفظه مختلف