Loading...

Loading...
کتب
۹۰ احادیث
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سماسرہ ۱؎ کہا جاتا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں ایک اچھے نام سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سوداگروں کی جماعت! بیع میں لایعنی باتیں اور ( جھوٹی ) قسمیں ہو جاتی ہیں تو تم اسے صدقہ سے ملا دیا کرو ۲؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن قيس بن ابي غرزة، قال كنا في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم نسمى السماسرة فمر بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمانا باسم هو احسن منه فقال " يا معشر التجار ان البيع يحضره اللغو والحلف فشوبوه بالصدقة
اس سند سے بھی قیس بن ابی غرزہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں «يحضره اللغو والحلف» کے بجائے: «يحضره الكذب والحلف» ہے عبداللہ الزہری کی روایت میں: «اللغو والكذب» ہے۔
حدثنا الحسين بن عيسى البسطامي، وحامد بن يحيى، وعبد الله بن محمد الزهري، قالوا حدثنا سفيان، عن جامع بن ابي راشد، وعبد الملك بن اعين، وعاصم، عن ابي وايل، عن قيس بن ابي غرزة، بمعناه قال " يحضره الكذب والحلف " . وقال عبد الله الزهري " اللغو والكذب
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قرض دار کے ساتھ لگا رہا جس کے ذمہ اس کے دس دینار تھے اس نے کہا: میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ تو قرض نہ ادا کر دے، یا ضامن نہ لے آ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض دار کی ضمانت لے لی، پھر وہ اپنے وعدے کے مطابق لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ سونا تجھے کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: میں نے کان سے نکالا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ( لے جاؤ ) اس میں بھلائی نہیں ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے ( قرض کو ) خود ادا کر دیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن عمرو، - يعني ابن ابي عمرو - عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، لزم غريما له بعشرة دنانير فقال والله لا افارقك حتى تقضيني او تاتيني بحميل فتحمل بها النبي صلى الله عليه وسلم فاتاه بقدر ما وعده فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " من اين اصبت هذا الذهب " . قال من معدن . قال " لا حاجة لنا فيها وليس فيها خير " . فقضاها عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: حلال واضح ہے، اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں ( جن کی حلت و حرمت میں شک ہے ) اور کبھی یہ کہا کہ ان کے درمیان مشتبہ چیز ہے اور میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں، اللہ نے ( اپنے لیے ) محفوظ جگہ ( چراگاہ ) بنائی ہے، اور اللہ کی محفوظ جگہ اس کے محارم ہیں ( یعنی ایسے امور جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے ) اور جو شخص محفوظ چراگاہ کے گرد اپنے جانور چرائے گا، تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر داخل ہو جائے اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے قریب جائے گا تو عین ممکن ہے کہ اسے حلال کر بیٹھنے کی جسارت کر ڈالے ۔
حدثنا احمد بن يونس، قال حدثنا ابو شهاب، حدثنا ابن عون، عن الشعبي، قال سمعت النعمان بن بشير، - ولا اسمع احدا بعده يقول - سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الحلال بين وان الحرام بين وبينهما امور مشتبهات " . واحيانا يقول " مشتبهة " . " وساضرب لكم في ذلك مثلا ان الله حمى حمى وان حمى الله ما حرم وانه من يرع حول الحمى يوشك ان يخالطه وانه من يخالط الريبة يوشك ان يجسر
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، حدثنا زكريا، عن عامر الشعبي، قال سمعت النعمان بن بشير، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول بهذا الحديث قال " وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرا عرضه ودينه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں سود کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھاپ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی ۱؎ ۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں «أصابه من بخاره» کی جگہ«أصابه من غباره» ہے، یعنی اس کی گرد کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا هشيم، اخبرنا عباد بن راشد، قال سمعت سعيد بن ابي خيرة، يقول حدثنا الحسن، منذ اربعين سنة عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا وهب بن بقية اخبرنا خالد عن داود - يعني ابن ابي هند - وهذا لفظه عن سعيد بن ابي خيرة عن الحسن عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لياتين على الناس زمان لا يبقى احد الا اكل الربا فان لم ياكله اصابه من بخاره " . قال ابن عيسى " اصابه من غباره
ایک انصاری کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تھے قبر کھودنے والے کو بتا رہے تھے: پیروں کی جانب سے ( قبر ) کشادہ کرو اور سر کی جانب سے چوڑی کرو پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( وہاں سے فراغت پا کر ) لوٹے تو ایک عورت کی جانب سے کھانے کی دعوت دینے والا آپ کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس کے یہاں ) آئے اور کھانا لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ رکھا ( کھانا شروع کیا ) پھر دوسرے لوگوں نے رکھا اور سب نے کھانا شروع کر دیا تو ہمارے بزرگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک ہی لقمہ منہ میں لیے گھما پھرا رہے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لگتا ہے یہ ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کر کے پکا لیا گیا ہے پھر عورت نے کہلا بھیجا: اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک آدمی بقیع کی طرف بکری خرید کر لانے کے لیے بھیجا تو اسے بکری نہیں ملی پھر میں نے اپنے ہمسایہ کو، جس نے ایک بکری خرید رکھی تھی کہلا بھیجا کہ تم نے جس قیمت میں بکری خرید رکھی ہے اسی قیمت میں مجھے دے دو ( اتفاق سے ) وہ ہمسایہ ( گھر پر ) نہ ملا تو میں نے اس کی بیوی سے کہلا بھیجا تو اس نے بکری میرے پاس بھیج دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابن ادريس، اخبرنا عاصم بن كليب، عن ابيه، عن رجل، من الانصار قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على القبر يوصي الحافر " اوسع من قبل رجليه اوسع من قبل راسه " . فلما رجع استقبله داعي امراة فجاء وجيء بالطعام فوضع يده ثم وضع القوم فاكلوا فنظر اباونا رسول الله صلى الله عليه وسلم يلوك لقمة في فمه ثم قال " اجد لحم شاة اخذت بغير اذن اهلها " . فارسلت المراة قالت يا رسول الله اني ارسلت الى البقيع يشتري لي شاة فلم اجد فارسلت الى جار لي قد اشترى شاة ان ارسل الى بها بثمنها فلم يوجد فارسلت الى امراته فارسلت الى بها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطعميه الاسارى
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کے لیے گواہ بننے والے اور اس کے کاتب ( لکھنے والے ) پر لعنت فرمائی ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سماك، حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن ابيه، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم اكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه
عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا: آپ فرما رہے تھے: سنو! زمانہ جاہلیت کے سارے سود کالعدم قرار دے دیئے گئے ہیں تمہارے لیے بس تمہارا اصل مال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تم پر ظلم کرے ( نہ تم کسی سے سود لو نہ تم سے کوئی سود لے ) سن لو! زمانہ جاہلیت کے خون کالعدم کر دئیے گئے ہیں، اور زمانہ جاہلیت کے سارے خونوں میں سے میں سب سے پہلے جسے معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب ۱؎ کا خون ہے وہ ایک شیر خوار بچہ تھے جو بنی لیث میں پرورش پا رہے تھے کہ ان کو ہذیل کے لوگوں نے مار ڈالا تھا۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ لوگوں نے تین بار کہا: ہاں ( آپ نے پہنچا دیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا شبيب بن غرقدة، عن سليمان بن عمرو، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع يقول " الا ان كل ربا من ربا الجاهلية موضوع لكم رءوس اموالكم لا تظلمون ولا تظلمون . الا وان كل دم من دم الجاهلية موضوع واول دم اضع منها دم الحارث بن عبد المطلب " . كان مسترضعا في بني ليث فقتلته هذيل . قال " اللهم هل بلغت " . قالوا نعم . ثلاث مرات . قال " اللهم اشهد " . ثلاث مرات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ( جھوٹی ) قسم ( قسم کھانے والے کے خیال میں ) سامان کو رائج کر دیتی ہے، لیکن برکت کو ختم کر دیتی ہے ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، ح وحدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، عن يونس، عن ابن شهاب، قال قال ابن المسيب ان ابا هريرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الحلف منفقة للسلعة ممحقة للبركة " . قال ابن السرح " للكسب " . وقال عن سعيد بن المسيب عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
سوید بن قیس کہتے ہیں میں نے اور مخرمہ عبدی نے ہجر ۱؎ سے کپڑا لیا اور اسے ( بیچنے کے لیے ) مکہ لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پیدل آئے، اور ہم سے پائجامہ کے کپڑے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تو ہم نے اسے بیچ دیا اور وہاں ایک شخص تھا جو معاوضہ لے کر وزن کیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تولو اور جھکا ہوا تولو ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا سفيان، عن سماك بن حرب، حدثني سويد بن قيس، قال جلبت انا ومخرمة العبدي، بزا من هجر فاتينا به مكة فجاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي فساومنا بسراويل فبعناه وثم رجل يزن بالاجر فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " زن وارجح
ابوصفوان بن عمیرۃ (یعنی سوید) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ آیا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی لیکن اجرت لے کر وزن کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے قیس نے بھی سفیان کی طرح بیان کیا ہے اور لائق اعتماد بات تو سفیان کی بات ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، ومسلم بن ابراهيم، - المعنى قريب - قالا حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، عن ابي صفوان بن عميرة، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة قبل ان يهاجر بهذا الحديث ولم يذكر يزن بالاجر . قال ابو داود رواه قيس كما قال سفيان والقول قول سفيان
ابورزمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شعبہ سے کہا: سفیان نے روایت میں آپ کی مخالفت کی ہے، آپ نے کہا: تم نے تو میرا دماغ چاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین کی یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی سفیان کی مخالفت کی تو لائق اعتماد بات سفیان کی بات ہو گی ۱؎۔
حدثنا ابن ابي رزمة، سمعت ابي يقول، قال رجل لشعبة خالفك سفيان . قال دمغتني . وبلغني عن يحيى بن معين قال كل من خالف سفيان فالقول قول سفيان
شعبہ کہتے ہیں سفیان کا حافظہ مجھ سے زیادہ قوی تھا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا وكيع، عن شعبة، قال كان سفيان احفظ مني
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تول میں مکے والوں کی تول معتبر ہے اور ناپ میں مدینہ والوں کی ناپ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: فریابی اور ابواحمد نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے اور انہوں نے متن میں ان دونوں کی موافقت کی ہے اور ابواحمد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جگہ «عن ابن عباس» کہا ہے اور اسے ولید بن مسلم نے حنظلہ سے روایت کیا ہے کہ وزن ( باٹ ) مدینہ کا اور پیمانہ مکہ کا معتبر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک بن دینار کی حدیث جسے انہوں نے عطاء سے عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ متن میں اختلاف واقع ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن دكين، حدثنا سفيان، عن حنظلة، عن طاوس، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الوزن وزن اهل مكة والمكيال مكيال اهل المدينة " . قال ابو داود وكذا رواه الفريابي وابو احمد عن سفيان وافقهما في المتن وقال ابو احمد عن ابن عباس مكان ابن عمر ورواه الوليد بن مسلم عن حنظلة قال " وزن المدينة ومكيال مكة " . قال ابو داود واختلف في المتن في حديث مالك بن دينار عن عطاء عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبے میں فرمایا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو پھر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا یہاں بنی فلاں کا کوئی شخص ہے؟ تو ایک شخص کھڑے ہو کر کہا: میں ہوں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے دوبار پوچھنے پر تم کو میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں تو تمہیں بھلائی ہی کی خاطر پکار رہا تھا تمہارا ساتھی اپنے قرض کے سبب قید ہے ۱؎ ۔ سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ اس شخص نے اس کا قرض ادا کر دیا یہاں تک کہ کوئی اس سے اپنا قرضہ مانگنے والا نہ بچا۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا ابو الاحوص، عن سعيد بن مسروق، عن الشعبي، عن سمعان، عن سمرة، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ها هنا احد من بني فلان " . فلم يجبه احد ثم قال " ها هنا احد من بني فلان " . فلم يجبه احد ثم قال " ها هنا احد من بني فلان " . فقام رجل فقال انا يا رسول الله . فقال صلى الله عليه وسلم " ما منعك ان تجيبني في المرتين الاوليين اما اني لم انوه بكم الا خيرا ان صاحبكم ماسور بدينه " . فلقد رايته ادى عنه حتى ما بقي احد يطلبه بشىء . قال ابو داود سمعان بن مشنج
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک ان کبائر کے بعد جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی مرے اور اس پر قرض ہو اور وہ کوئی ایسی چیز نہ چھوڑے جس سے اس کا قرض ادا ہو ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، حدثني سعيد بن ابي ايوب، انه سمع ابا عبد الله القرشي، يقول سمعت ابا بردة بن ابي موسى الاشعري، يقول عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " ان اعظم الذنوب عند الله ان يلقاه بها عبد - بعد الكباير التي نهى الله عنها - ان يموت رجل وعليه دين لا يدع له قضاء
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے جو اس حال میں مرتا کہ اس پر قرض ہوتا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ ( میت ) لایا گیا، آپ نے پوچھا: کیا اس پر قرض ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، اس کے ذمہ دو دینار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو ۱؎ ، تو ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتا ہوں اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات اور اموال غنیمت سے نوازا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مومن سے اس کی جان سے زیادہ قریب تر ہوں پس جو کوئی قرض دار مر جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہو گی اور جو کوئی مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے ورثاء کا ہو گا ۔
حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي على رجل مات وعليه دين فاتي بميت فقال " اعليه دين " . قالوا نعم ديناران . قال " صلوا على صاحبكم " . فقال ابو قتادة الانصاري هما على يا رسول الله . قال فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما فتح الله على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انا اولى بكل مومن من نفسه فمن ترك دينا فعلى قضاوه ومن ترك مالا فلورثته
عکرمہ سے روایت ہے انہوں نے اسے مرفوع کیا ہے اور عثمان کی سند یوں ہے: «حدثنا وكيع، عن شريك، عن سماك، عن عكرمة، – عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور متن اسی کے ہم مثل ہے اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قافلہ سے ایک تبیع ۱؎ خریدا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی قیمت نہیں تھی، تو آپ کو اس میں نفع دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا اور جو نفع ہوا اسے بنو عبدالمطلب کی بیواؤں کو صدقہ کر دیا اور فرمایا: آئندہ جب تک چیز کی قیمت اپنے پاس نہ ہو گی کوئی چیز نہ خریدوں گا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وقتيبة بن سعيد، عن شريك، عن سماك، عن عكرمة، رفعه - قال عثمان وحدثنا وكيع، عن شريك، عن سماك، عن عكرمة، - عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله قال اشترى من عير تبيعا وليس عنده ثمنه فاربح فيه فباعه فتصدق بالربح على ارامل بني عبد المطلب وقال لا اشتري بعدها شييا الا وعندي ثمنه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ( چاہے وہ قرض ہو یا کسی کا کوئی حق ) اور اگر تم میں سے کوئی مالدار شخص کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی قبول کرے ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " مطل الغني ظلم واذا اتبع احدكم على مليء فليتبع