احادیث
#3328
سنن ابی داؤد - Commercial Transactions
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قرض دار کے ساتھ لگا رہا جس کے ذمہ اس کے دس دینار تھے اس نے کہا: میں تجھ سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ تو قرض نہ ادا کر دے، یا ضامن نہ لے آ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض دار کی ضمانت لے لی، پھر وہ اپنے وعدے کے مطابق لے کر آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ سونا تجھے کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: میں نے کان سے نکالا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ( لے جاؤ ) اس میں بھلائی نہیں ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے ( قرض کو ) خود ادا کر دیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن عمرو، - يعني ابن ابي عمرو - عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، لزم غريما له بعشرة دنانير فقال والله لا افارقك حتى تقضيني او تاتيني بحميل فتحمل بها النبي صلى الله عليه وسلم فاتاه بقدر ما وعده فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " من اين اصبت هذا الذهب " . قال من معدن . قال " لا حاجة لنا فيها وليس فيها خير " . فقضاها عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Commercial Transactions
- Hadith Index
- #3328
- Book Index
- 3
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
