Loading...

Loading...
کتب
۹۰ احادیث
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ ویسا ہی اونٹ آدمی کو لوٹا دوں، میں نے ( آ کر ) عرض کیا: مجھے کوئی ایسا اونٹ نہیں ملا سبھی اچھے، بڑے اور چھ برس کے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اسی کو دے دو، لوگوں میں اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی اچھی کریں ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي رافع، قال استسلف رسول الله صلى الله عليه وسلم بكرا فجاءته ابل من الصدقة فامرني ان اقضي الرجل بكره فقلت لم اجد في الابل الا جملا خيارا رباعيا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اعطه اياه فان خيار الناس احسنهم قضاء
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرا کچھ قرض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن مسعر، عن محارب بن دثار، قال سمعت جابر بن عبد الله، قال كان لي على النبي صلى الله عليه وسلم دين فقضاني وزادني
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو، اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے مگر جب نقدا نقد ہو ( نقدا نقد ہونے کی صورت میں ان چیزوں میں سود نہیں ہے لیکن شرط یہ بھی ہے کہ برابر بھی ہوں ) ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، وعن ابن شهاب، عن مالك بن اوس، عن عمر، - رضى الله عنه - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الذهب بالذهب ربا الا هاء وهاء والبر بالبر ربا الا هاء وهاء والتمر بالتمر ربا الا هاء وهاء والشعير بالشعير ربا الا هاء وهاء
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر برابر بیچو، ڈلی ہو یا سکہ، اور چاندی چاندی کے بدلے میں برابر برابر بیچو ڈلی ہو یا سکہ، اور گیہوں گیہوں کے بدلے برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جو جو کے بدلے میں برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، اسی طرح کھجور کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، نمک نمک کے بدلے میں برابر برابر بیچو، ایک مد ایک مد کے بدلے میں، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود دیا، سود لیا، سونے کو چاندی سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن ادھار درست نہیں، اور گیہوں کو جو سے کمی و بیشی کے ساتھ نقدا نقد بیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ادھار بیچنا صحیح نہیں ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے مسلم بن یسار سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا همام، عن قتادة، عن ابي الخليل، عن مسلم المكي، عن ابي الاشعث الصنعاني، عن عبادة بن الصامت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الذهب بالذهب تبرها وعينها والفضة بالفضة تبرها وعينها والبر بالبر مدى بمدى والشعير بالشعير مدى بمدى والتمر بالتمر مدى بمدى والملح بالملح مدى بمدى فمن زاد او ازداد فقد اربى ولا باس ببيع الذهب بالفضة - والفضة اكثرهما - يدا بيد واما نسيية فلا ولا باس ببيع البر بالشعير والشعير اكثرهما يدا بيد واما نسيية فلا " . قال ابو داود روى هذا الحديث سعيد بن ابي عروبة وهشام الدستوايي عن قتادة عن مسلم بن يسار باسناده
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث کچھ کمی و بیشی کے ساتھ روایت کی ہے، اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ جب صنف بدل جائے ( قسم مختلف ہو جائے ) تو جس طرح چاہو بیچو ( مثلا سونا چاندی کے بدلہ میں گیہوں جو کے بدلہ میں ) جب کہ وہ نقدا نقد ہو۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن خالد، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث الصنعاني، عن عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الخبر يزيد وينقص وزاد قال فاذا اختلفت هذه الاصناف فبيعوا كيف شيتم اذا كان يدا بيد
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خیبر کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہار لایا گیا جس میں سونے اور پتھر کے نگ ( جڑے ہوئے ) تھے ابوبکر اور ابن منیع کہتے ہیں: اس میں پتھر کے دانے سونے سے آویزاں کئے گئے تھے، ایک شخص نے اسے نو یا سات دینار دے کر خریدا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ( یہ خریداری درست نہیں ) یہاں تک کہ تم ان دونوں کو الگ الگ کر دو اس شخص نے کہا: میرا ارادہ پتھر کے دانے ( نگ ) لینے کا تھا ( یعنی میں نے پتھر کے دانے کے دام دئیے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ خریداری درست نہیں جب تک کہ تم دونوں کو علیحدہ نہ کر دو یہ سن کر اس نے ہار واپس کر دیا، یہاں تک کہ سونا نگوں سے جدا کر دیا گیا ۱؎۔ ابن عیسیٰ نے «أردت التجارة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان کی کتاب میں «الحجارة» ہی تھا مگر انہوں نے اسے بدل کر «التجارة» کر دیا۔
حدثنا محمد بن عيسى، وابو بكر بن ابي شيبة واحمد بن منيع قالوا حدثنا ابن المبارك، ح وحدثنا ابن العلاء، اخبرنا ابن المبارك، عن سعيد بن يزيد، حدثني خالد بن ابي عمران، عن حنش، عن فضالة بن عبيد، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم عام خيبر بقلادة فيها ذهب وخرز - قال ابو بكر وابن منيع فيها خرز معلقة بذهب - ابتاعها رجل بتسعة دنانير او بسبعة دنانير فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا حتى تميز بينه وبينه " . فقال انما اردت الحجارة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا حتى تميز بينهما " . قال فرده حتى ميز بينهما . وقال ابن عيسى اردت التجارة . قال ابو داود وكان في كتابه الحجارة فغيره فقال التجارة
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے خیبر کی لڑائی کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا جو سونے اور نگینے کا تھا میں نے سونا اور نگ الگ کئے تو اس میں مجھے سونا ( ۱۲ ) دینار سے زیادہ کا ملا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کو الگ الگ کئے بغیر بیچنا درست نہیں ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابي شجاع، سعيد بن يزيد عن خالد بن ابي عمران، عن حنش الصنعاني، عن فضالة بن عبيد، قال اشتريت يوم خيبر قلادة باثنى عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها اكثر من اثنى عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " لا تباع حتى تفصل
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم خیبر کی لڑائی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم یہود سے سونے کا اوقیہ دینار کے بدلے بیچتے خریدتے تھے ( قتیبہ کے علاوہ دوسرے راویوں نے دو دینار اور تین دینار بھی کہے ہیں، پھر آگے کی بات میں دونوں راوی ایک ہو گئے ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے سے نہ بیچو جب تک کہ دونوں طرف وزن برابر نہ ہوں ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن ابي جعفر، عن الجلاح ابي كثير، حدثني حنش الصنعاني، عن فضالة بن عبيد، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر نبايع اليهود الاوقية من الذهب بالدينار . قال غير قتيبة بالدينارين والثلاثة . ثم اتفقا فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تبيعوا الذهب بالذهب الا وزنا بوزن
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں بقیع میں اونٹ بیچا کرتا تھا، تو میں ( اسے ) دینار سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے درہم لیتا تھا اور درہم سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں اسے اس کے بدلے میں اور اسے اس کے بدلے میں الٹ پلٹ کر لیتا دیتا تھا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، میں نے کہا: اللہ کے رسول! ذرا سا میری عرض سن لیجئے: میں آپ سے پوچھتا ہوں: میں بقیع میں اونٹ بیچتا ہوں تو دینار سے بیچتا ہوں اور اس کے بدلے درہم لیتا ہوں اور درہم سے بیچتا ہوں اور دینار لیتا ہوں، یہ اس کے بدلے لے لیتا ہوں اور یہ اس کے بدلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس دن کے بھاؤ سے ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے جب تک تم دونوں جدا نہ ہو جاؤ اور حال یہ ہو کہ تم دونوں کے درمیان کوئی معاملہ باقی رہ گیا ہو ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، ومحمد بن محبوب، - المعنى واحد - قالا حدثنا حماد، عن سماك بن حرب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، قال كنت ابيع الابل بالبقيع فابيع بالدنانير واخذ الدراهم وابيع بالدراهم واخذ الدنانير اخذ هذه من هذه واعطي هذه من هذه فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في بيت حفصة فقلت يا رسول الله رويدك اسالك اني ابيع الابل بالبقيع فابيع بالدنانير واخذ الدراهم وابيع بالدراهم واخذ الدنانير اخذ هذه من هذه واعطي هذه من هذه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا باس ان تاخذها بسعر يومها ما لم تفترقا وبينكما شىء
اس سند سے بھی سماک سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے لیکن پہلی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں اس دن کے بھاؤ کا ذکر نہیں ہے۔
حدثنا حسين بن الاسود، حدثنا عبيد الله، اخبرنا اسراييل، عن سماك، باسناده ومعناه والاول اتم لم يذكر " بسعر يومها
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کے بدلے جانور ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيية
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا، تو اونٹ کم پڑ گئے تو آپ نے صدقہ کے جوان اونٹ کے بدلے اونٹ ( ادھار ) لینے کا حکم دیا تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک کی شرط پر دو اونٹ کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا حماد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن مسلم بن جبير، عن ابي سفيان، عن عمرو بن حريش، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امره ان يجهز جيشا فنفدت الابل فامره ان ياخذ في قلاص الصدقة فكان ياخذ البعير بالبعيرين الى ابل الصدقة
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدا۔
حدثنا يزيد بن خالد الهمداني، وقتيبة بن سعيد الثقفي، ان الليث، حدثهم عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم اشترى عبدا بعبدين
عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ زید ابوعیاش نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ گیہوں کو«سلت» ( بغیر چھلکے کے جو ) سے بیچنا کیسا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ان دونوں میں سے کون زیادہ اچھا ہوتا ہے؟ زید نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع کیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ( جب ) سوکھی کھجور کچی کھجور کے بدلے خریدنے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تر کھجور جب سوکھ جائے تو کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل بن امیہ نے اسے مالک کی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الله بن يزيد، ان زيدا ابا عياش، اخبره انه، سال سعد بن ابي وقاص عن البيضاء، بالسلت فقال له سعد ايهما افضل قال البيضاء . فنهاه عن ذلك وقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسال عن شراء التمر بالرطب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اينقص الرطب اذا يبس " . قالوا نعم فنهاه رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك . قال ابو داود رواه اسماعيل بن امية نحو مالك
ابوعیاش نے خبر دی کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تر کھجور سوکھی کھجور کے عوض ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمران بن انس نے مولی بنی مخزوم سے انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا الربيع بن نافع ابو توبة، حدثنا معاوية، - يعني ابن سلام - عن يحيى بن ابي كثير، اخبرنا عبد الله، ان ابا عياش، اخبره انه، سمع سعد بن ابي وقاص، يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الرطب بالتمر نسيية . قال ابو داود رواه عمران بن ابي انس عن مولى لبني مخزوم عن سعد عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کا اندازہ کر کے سوکھی کھجور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے، اسی طرح انگور کا ( جو بیلوں پر ہو ) اندازہ کر کے اسے سوکھے انگور کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے اور غیر پکی ہوئی فصل کا اندازہ کر کے اسے گیہوں کے بدلے ناپ کر بیچنے سے منع فرمایا ہے ( کیونکہ اس میں کمی و بیشی کا احتمال ہے ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن ابي زايدة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمر بالتمر كيلا وعن بيع العنب بالزبيب كيلا وعن بيع الزرع بالحنطة كيلا
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک سے تر کھجور کی بیع کو عرایا میں اجازت دی ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني خارجة بن زيد بن ثابت، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص في بيع العرايا بالتمر والرطب
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( درخت پر پھلے ) کھجور کو ( سوکھے ) کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے لیکن عرایا میں اس کو «تمر» ( سوکھی کھجور ) کے بدلے میں اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دی ہے تاکہ لینے والا تازہ پھل کھا سکے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، عن سهل بن ابي حثمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الثمر بالتمر ورخص في العرايا ان تباع بخرصها ياكلها اهلها رطبا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک عرایا کے بیچنے کی رخصت دی ہے ( یہ شک داود بن حصین کو ہوا ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جابر کی حدیث میں چار وسق تک ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن داود بن الحصين، عن مولى ابن ابي احمدقال ابو داود وقال لنا القعنبي فيما قرا على مالك عن ابي سفيان واسمه قزمان مولى ابن ابي احمد عن ابي هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص في بيع العرايا فيما دون خمسة اوسق او في خمسة اوسق شك داود بن الحصين . قال ابو داود حديث جابر الى اربعة اوسق
عبدربہ بن سعید انصاری کہتے ہیں عرایا یہ ہے کہ ایک آدمی ایک شخص کو کھجور کا ایک درخت دیدے یا اپنے باغ میں سے دو ایک درخت اپنے کھانے کے لیے الگ کر لے پھر اسے سوکھی کھجور سے بیچ دے۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد ربه بن سعيد الانصاري، انه قال العرية الرجل يعري الرجل النخلة او الرجل يستثني من ماله النخلة او الاثنتين ياكلها فيبيعها بتمر