Loading...

Loading...
کتب
۹۰ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مخابرہ نہ چھوڑے تو اسے چاہیئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان کر دے۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا ابن رجاء، - يعني المكي - قال ابن خثيم حدثني عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من لم يذر المخابرة فلياذن بحرب من الله ورسوله
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے روکا ہے، میں نے پوچھا: مخابرہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: مخابرہ یہ ہے کہ تم زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر لو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عمر بن ايوب، عن جعفر بن برقان، عن ثابت بن الحجاج، عن زيد بن ثابت، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المخابرة . قلت وما المخابرة قال ان تاخذ الارض بنصف او ثلث او ربع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کو زمین کے کام پر اس شرط پہ لگایا کہ کھجور یا غلہ کی جو بھی پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا تمہیں دیں گے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم عامل اهل خيبر بشطر ما يخرج من ثمر او زرع
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے کھجور کے درخت اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ ان میں اپنی پونجی لگا کر کام کریں گے اور جو پیداوار ہو گی، اس کا نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو گا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن الليث، عن محمد بن عبد الرحمن، - يعني ابن غنج - عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم دفع الى يهود خيبر نخل خيبر وارضها على ان يعتملوها من اموالهم وان لرسول الله صلى الله عليه وسلم شطر ثمرتها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا، اور یہ شرط لگا دی ( واضح کر دیا ) کہ اب زمین ان کی ہے اور جو بھی سونا چاندی نکلے وہ بھی ان کا ہے، تب خیبر والے کہنے لگے: ہم زمین کے کام کاج کو آپ لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں تو آپ ہمیں زمین اس شرط پہ دے دیجئیے کہ نصف پیداوار آپ کو دیں گے اور نصف ہم لیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر انہیں زمین دے دی، پھر جب کھجور کے توڑنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر کھجور کا اندازہ لگایا ( اسی کو اہل مدینہ «خرص» ( آنکنا ) کہتے ہیں ) تو انہوں نے کہا: اس باغ میں اتنی کھجوریں نکلیں گی اور اس باغ میں اتنی ( ان کا نصف ہمیں دے دو ) وہ کہنے لگے: اے ابن رواحہ! تم نے تو ہم پر ( بوجھ ڈالنے کے لیے ) زیادہ تخمینہ لگا دیا ہے، تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا ( اگر یہ زیادہ ہے ) تو ہم اسے توڑ لیں گے اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دیں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا یہی صحیح بات ہے، اور اسی انصاف اور سچائی کی بنا پر ہی زمین و آسمان اپنی جگہ پر قائم اور ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم راضی ہیں تمہارے آنکنے کے مطابق ہی ہم لے لیں گے۔
حدثنا ايوب بن محمد الرقي، حدثنا عمر بن ايوب، حدثنا جعفر بن برقان، عن ميمون بن مهران، عن مقسم، عن ابن عباس، قال افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر واشترط ان له الارض وكل صفراء وبيضاء . قال اهل خيبر نحن اعلم بالارض منكم فاعطناها على ان لكم نصف الثمرة ولنا نصف . فزعم انه اعطاهم على ذلك فلما كان حين يصرم النخل بعث اليهم عبد الله بن رواحة فحزر عليهم النخل وهو الذي يسميه اهل المدينة الخرص فقال في ذه كذا وكذا قالوا اكثرت علينا يا ابن رواحة . فقال فانا الي حزر النخل واعطيكم نصف الذي قلت . قالوا هذا الحق وبه تقوم السماء والارض قد رضينا ان ناخذه بالذي قلت
جعفر بن برقان سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں لفظ «فحزر» ہے اور «وكل صفراء وبيضاء» کی تفسیر سونے چاندی سے کی ہے۔
حدثنا محمد بن سهل الرملي، حدثنا زيد بن ابي الزرقاء، عن جعفر بن برقان، باسناده ومعناه قال فحزر وقال عند قوله وكل صفراء وبيضاء يعني الذهب والفضة له
مقسم سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت خیبر فتح کیا، پھر آگے انہوں نے زید کی حدیث ( پچھلی حدیث ) کی طرح حدیث ذکر کی اس میں ہے پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجور کا اندازہ لگایا، ( اور جب یہودیوں نے اعتراض کیا ) تو آپ نے کہا: اچھا کھجوروں کے پھل میں خود توڑ لوں گا، اور جو اندازہ میں نے لگایا ہے، اس کا نصف تمہیں دے دوں گا۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا كثير، - يعني ابن هشام - عن جعفر بن برقان، حدثنا ميمون، عن مقسم، ان النبي صلى الله عليه وسلم حين افتتح خيبر فذكر نحو حديث زيد قال فحزر النخل وقال فانا الي جذاذ النخل واعطيكم نصف الذي قلت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ( خیبر ) بھیجتے تھے، تو وہ کھجوروں کا اٹکل اندازہ لگاتے تھے جس وقت وہ پکنے کے قریب ہو جاتا کھائے جانے کے قابل ہونے سے پہلے پھر یہود کو اختیار دیتے کہ یا تو وہ اس اندازے کے مطابق نصف لے لیں یا آپ کو دے دیں تاکہ وہ زکوٰۃ کے حساب و کتاب میں آ جائیں، اس سے پہلے کہ پھل کھائے جائیں اور ادھر ادھر بٹ جائیں۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرت عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يبعث عبد الله بن رواحة فيخرص النخل حين يطيب قبل ان يوكل منه ثم يخير يهود ياخذونه بذلك الخرص او يدفعونه اليهم بذلك الخرص لكى تحصى الزكاة قبل ان توكل الثمار وتفرق
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو ( آدھے آدھے کے اصول پر ) انہیں بٹائی پر دے دیا اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ( تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے ) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا ( اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا ) ۔
حدثنا ابن ابي خلف، حدثنا محمد بن سابق، عن ابراهيم بن طهمان، عن ابي الزبير، عن جابر، انه قال افاء الله على رسوله خيبر فاقرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم كما كانوا وجعلها بينه وبينهم فبعث عبد الله بن رواحة فخرصها عليهم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس ہزار وسق ( کھجور ) کا اندازہ لگایا ( ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ) اور ان کا خیال ہے کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جب یہود کو اختیار دیا ( کہ وہ ہمیں اس کا نصف دے دیں، یا ہم سے اس کا نصف لے لیں ) تو انہوں نے پھل اپنے پاس رکھا اور انہیں بیس ہزار وسق ( کٹائی کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینا پڑا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، ومحمد بن بكر، قالا حدثنا ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول خرصها ابن رواحة اربعين الف وسق وزعم ان اليهود لما خيرهم ابن رواحة اخذوا الثمر وعليهم عشرون الف وسق