Loading...

Loading...
کتب
۱۶۱ احادیث
عطا سے روایت ہے انہوں نے ( قبیلہ ) بکر بن وائل کے ایک شخص سے اس نے اپنے ماموں سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم سے ( اموال تجارت میں ) دسواں حصہ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دسواں حصہ یہود و نصاریٰ پر ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن عطاء، عن رجل، من بكر بن وايل عن خاله، قال قلت يا رسول الله اعشر قومي قال " انما العشور على اليهود والنصارى
حرب بن عبیداللہ کے نانا جو بنی تغلب سے تعلق رکھتے تھے کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمان ہو کر آیا، آپ نے مجھے اسلام سکھایا، اور مجھے بتایا کہ میں اپنی قوم کے ان لوگوں سے جو اسلام لے آئیں کس طرح سے صدقہ لیا کروں، پھر میں آپ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو آپ نے مجھے سکھایا تھا سب مجھے یاد ہے، سوائے صدقہ کے کیا میں اپنی قوم سے دسواں حصہ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، دسواں حصہ تو یہود و نصاریٰ پر ہے ۔
حدثنا محمد بن ابراهيم البزاز، حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد السلام، عن عطاء بن السايب، عن حرب بن عبيد الله بن عمير الثقفي، عن جده، - رجل من بني تغلب - قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فاسلمت وعلمني الاسلام وعلمني كيف اخذ الصدقة من قومي ممن اسلم ثم رجعت اليه فقلت يا رسول الله كل ما علمتني قد حفظته الا الصدقة افاعشرهم قال " لا انما العشور على النصارى واليهود
عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر میں پڑاؤ کیا، جو لوگ آپ کے اصحاب میں سے آپ کے ساتھ تھے وہ بھی تھے، خیبر کا رئیس سرکش و شریر شخص تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: محمد! کیا تمہارے لیے روا ہے کہ ہمارے گدھوں کو ذبح کر ڈالو، ہمارے پھل کھاؤ، اور ہماری عورتوں کو مارو پیٹو؟ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے، اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اعلان کر دو کہ جنت سوائے مومن کے کسی کے لیے حلال نہیں ہے، اور سب لوگ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ ، تو سب لوگ اکٹھا ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی پھر کھڑے ہو کر فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھ کر یہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے اس قرآن میں جو کچھ حرام کیا اس کے سوا اور کچھ حرام نہیں ہے؟ خبردار! سن لو میں نے تمہیں کچھ باتوں کی نصیحت کی ہے، کچھ باتوں کا حکم دیا ہے اور کچھ باتوں سے روکا ہے، وہ باتیں بھی ویسی ہی ( اہم اور ضروری ) ہیں جیسی وہ باتیں جن کا ذکر قرآن میں ہے یا ان سے بھی زیادہ ۱؎، اللہ نے تمہیں بغیر اجازت اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے، اور نہ ہی ان کی عورتوں کو مارنے و ستانے کی، اور نہ ہی ان کے پھل کھانے کی، جب تک کہ وہ تمہیں وہ چیزیں دیتے رہیں جو تمہارا ان پر ہے ( یعنی جزیہ ) ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا اشعث بن شعبة، حدثنا ارطاة بن المنذر، قال سمعت حكيم بن عمير ابا الاحوص، يحدث عن العرباض بن سارية السلمي، قال نزلنا مع النبي صلى الله عليه وسلم خيبر ومعه من معه من اصحابه وكان صاحب خيبر رجلا ماردا منكرا فاقبل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا محمد الكم ان تذبحوا حمرنا وتاكلوا ثمرنا وتضربوا نساءنا فغضب يعني النبي صلى الله عليه وسلم وقال " يا ابن عوف اركب فرسك ثم ناد الا ان الجنة لا تحل الا لمومن وان اجتمعوا للصلاة " . قال فاجتمعوا ثم صلى بهم النبي صلى الله عليه وسلم ثم قام فقال " ايحسب احدكم متكيا على اريكته قد يظن ان الله لم يحرم شييا الا ما في هذا القران الا واني والله قد وعظت وامرت ونهيت عن اشياء انها لمثل القران او اكثر وان الله عز وجل لم يحل لكم ان تدخلوا بيوت اهل الكتاب الا باذن ولا ضرب نسايهم ولا اكل ثمارهم اذا اعطوكم الذي عليهم
جہینہ کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہو سکتا ہے کہ تم ایک قوم سے لڑو اور اس پر غالب آ جاؤ تو وہ تمہیں مال ( جزیہ ) دے کر اپنی جانوں اور اپنی اولاد کو تم سے بچا لیں ۔ سعید کی روایت میں ہے: «فيصالحونكم على صلح» پھر وہ تم سے صلح پر مصالحت کر لیں پھر ( مسدد اور سعید بن منصور دونوں راوی آگے کی بات پر ) متفق ہو گئے کہ: جتنے پر مصالحت ہو گئی ہو اس سے زیادہ کچھ بھی نہ لینا کیونکہ یہ تمہارے واسطے درست نہیں ہے۔
حدثنا مسدد، وسعيد بن منصور، قالا حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن هلال، عن رجل، من ثقيف عن رجل، من جهينة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعلكم تقاتلون قوما فتظهرون عليهم فيتقونكم باموالهم دون انفسهم وابنايهم " . قال سعيد في حديثه " فيصالحونكم على صلح " . ثم اتفقا " فلا تصيبوا منهم شييا فوق ذلك فانه لا يصلح لكم
ابوصخر مدینی کا بیان ہے کہ صفوان بن سلیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے کچھ بیٹوں سے اور انہوں نے اپنے آبائ سے ( جو ایک دوسرے کے عزیز تھے ) اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا یا اس کا کوئی حق چھینا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈالا یا اس کی کوئی چیز بغیر اس کی مرضی کے لے لی تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے وکیل ۱؎ ہوں گا ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، حدثني ابو صخر المديني، ان صفوان بن سليم، اخبره عن عدة، من ابناء اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ابايهم دنية عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا من ظلم معاهدا او انتقصه او كلفه فوق طاقته او اخذ منه شييا بغير طيب نفس فانا حجيجه يوم القيامة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان پر جزیہ نہیں ہے ۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، عن جرير، عن قابوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس على المسلم جزية
محمد بن کثیر کہتے ہیں سفیان سے اس حدیث کا مطلب ۱؎ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب ذمی اسلام قبول کر لے تو اس پر ( اسلام لاتے وقت سال میں سے گزرے ہوئے دنوں کا ) جزیہ نہ ہو گا۔
حدثنا محمد بن كثير، قال سيل سفيان عن تفسير، هذا فقال اذا اسلم فلا جزية عليه
عبداللہ ہوزنی کہتے ہیں کہ میں نے مؤذن رسول بلال رضی اللہ عنہ سے حلب ۱؎ میں ملاقات کی، اور کہا: بلال! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خرچ کیسے چلتا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ نہ ہوتا، بعثت سے لے کر موت تک جب بھی آپ کو کوئی ضرورت پیش آتی میں ہی اس کا انتظام کرتا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپ اس کو ننگا دیکھتے تو مجھے حکم کرتے، میں جاتا اور قرض لے کر اس کے لیے چادر خریدتا، اسے پہننے کے لیے دے دیتا اور اسے کھانا کھلاتا، یہاں تک کہ مشرکین میں سے ایک شخص مجھے ملا اور کہنے لگا: بلال! میرے پاس وسعت ہے ( تنگی نہیں ہے ) آپ کسی اور سے قرض نہ لیں، مجھ سے لے لیا کریں، میں ایسا ہی کرنے لگا یعنی ( اس سے لینے لگا ) پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں نے وضو کیا اور اذان دینے کے لیے کھڑا ہوا کہ اچانک وہی مشرک سوداگروں کی ایک جماعت لیے ہوئے آ پہنچا جب اس نے مجھے دیکھا تو بولا: اے حبشی! میں نے کہا: «يا لباه» ۲؎ حاضر ہوں، تو وہ ترش روئی سے پیش آیا اور سخت سست کہنے لگا اور بولا: تو جانتا ہے مہینہ پورا ہونے میں کتنے دن باقی رہ گئے ہیں؟ میں نے کہا: قریب ہے، اس نے کہا: مہینہ پورا ہونے میں صرف چار دن باقی ہیں ۳؎ میں اپنا قرض تجھ سے لے کر چھوڑوں گا اور تجھے ایسا ہی کر دوں گا جیسے تو پہلے بکریاں چرایا کرتا تھا، مجھے اس کی باتوں کا ایسے ہی سخت رنج و ملال ہوا جیسے ایسے موقع پر لوگوں کو ہوا کرتا ہے، جب میں عشاء پڑھ چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لے جا چکے تھے ( میں بھی وہاں گیا ) اور شرف یابی کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں نے ( حاضر ہو کر ) عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، وہ مشرک جس سے میں قرض لیا کرتا تھا اس نے مجھے ایسا ایسا کہا ہے اور نہ آپ کے پاس مال ہے جس سے میرے قرض کی ادائیگی ہو جائے اور نہ ہی میرے پاس ہے ( اگر ادا نہ کیا ) تو وہ مجھے اور بھی ذلیل و رسوا کرے گا، تو آپ مجھے اجازت دے دیجئیے کہ میں بھاگ کر ان قوموں میں سے کسی قوم کے پاس جو مسلمان ہو چکے ہیں اس وقت تک کے لیے چلا جاؤں جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو اتنا مال عطا نہ کر دے جس سے میرا قرض ادا ہو جائے، یہ کہہ کر میں نکل آیا اور اپنے گھر چلا آیا، اور اپنی تلوار، موزہ جوتا اور ڈھال سرہانے رکھ کر سو گیا، صبح ہی صبح پو پھٹتے ہی یہاں سے چلے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک شخص بھاگا بھاگا پکارتا ہوا آیا کہ اے بلال ( تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد کر رہے ہیں ) چل کر آپ کی بات سن لو، تو میں چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ چار لدے ہوئے جانور بیٹھے ہیں، آپ سے اجازت طلب کی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: بلال! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری ضرورت پوری کر دی، کیا تم نے چاروں بیٹھی ہوئی سواریاں نہیں دیکھیں؟ ، میں نے کہا: ہاں دیکھ لی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ وہ جانور بھی لے لو اور جو ان پر لدا ہوا ہے وہ بھی ان پر کپڑا اور کھانے کا سامان ہے، فدک کے رئیس نے مجھے ہدیہ میں بھیجا ہے، ان سب کو اپنی تحویل میں لے لو، اور ان سے اپنا قرض ادا کر دو ، تو میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں مسجد میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہیں، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: جو مال تمہیں ملا اس کا کیا ہوا؟ ، میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے سارے قرضے ادا کر دیئے اب کوئی قرضہ باقی نہ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ مال بچا بھی ہے؟ ، میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ جو بچا ہے اسے اللہ کی راہ میں صرف کر کے مجھے آرام دو کیونکہ جب تک یہ مال صرف نہ ہو جائے گا میں اپنی ازواج ( مطہرات ) میں سے کسی کے پاس نہ جاؤں گا ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: کیا ہوا وہ مال جو تمہارے پاس بچ رہا تھا؟ میں نے کہا: وہ میرے پاس موجود ہے، کوئی ہمارے پاس آیا ہی نہیں کہ میں اسے دے دوں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رات مسجد ہی میں گزاری۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی ( اس میں ہے ) یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ چکے یعنی دوسرے دن تو آپ نے مجھے بلایا اور پوچھا: وہ مال کیا ہوا جو تمہارے پاس بچ رہا تھا؟ ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کو اس سے بے نیاز و بےفکر کر دیا ( یعنی وہ میں نے ایک ضرورت مند کو دے دیا ) یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس کی حمد و ثنا بیان کی اس ڈر سے کہ کہیں آپ کو موت نہ آ جاتی اور یہ مال آپ کے پاس باقی رہتا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلا، آپ اپنی بیویوں کے پاس آئے اور ایک ایک کو سلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے جہاں رات گزارنی تھی، ( اے عبداللہ ہوزنی! ) یہ ہے تمہارے سوال کا جواب۔
اس سند سے بھی ابوتوبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ جب میں نے کہا کہ نہ آپ کے پاس اتنا مال ہے اور نہ میرے پاس کہ قرضہ ادا ہو جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو مجھے بڑی گرانی ہوئی ( کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات پر توجہ نہیں دی ) ۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا مروان بن محمد، حدثنا معاوية، بمعنى اسناد ابي توبة وحديثه قال عند قوله " ما يقضي عني " . فسكت عني رسول الله صلى الله عليه وسلم فاغتمزتها
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہدیہ میں دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مشرکوں سے تحفہ لینے کی ممانعت کر دی گئی ہے ۱؎ ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو داود، حدثنا عمران، عن قتادة، عن يزيد بن عبد الله بن الشخير، عن عياض بن حمار، قال اهديت للنبي صلى الله عليه وسلم ناقة فقال " اسلمت " . فقلت لا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني نهيت عن زبد المشركين
وائل رضی اللہ عنہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حضر موت ۱؎ میں زمین کا ٹکڑا جاگیر میں دیا ۲؎۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن سماك، عن علقمة بن وايل، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم اقطعه ارضا بحضرموت
اس سند سے بھی علقمہ بن وائل سے اسی کے مثل روایت مروی ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا جامع بن مطر، عن علقمة بن وايل، باسناده مثله
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں مجھے گھر بنانے کے لیے کمان سے نشان لگا کر ایک زمین دی اور فرمایا: میں تمہیں مزید دوں گا مزید دوں گا ( فی الحال یہ لے لو ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن فطر، حدثني ابي، عن عمرو بن حريث، قال خط لي رسول الله صلى الله عليه وسلم دارا بالمدينة بقوس وقال " ازيدك ازيدك
ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے کئی لوگوں سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو فرع ۱؎ کی طرف کے قبلیہ ۲؎ کے کان دیئے، تو ان کانوں سے آج تک زکاۃ کے سوا کچھ نہیں لیا جاتا رہا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن غير، واحد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقطع بلال بن الحارث المزني معادن القبلية وهي من ناحية الفرع فتلك المعادن لا يوخذ منها الا الزكاة الى اليوم
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کی نشیب و فراز کی کانیں ٹھیکہ میں دیں ۱؎۔ ( ابوداؤد کہتے ہیں ) اور دیگر لوگوں نے «جلسيها وغوريها» کہا ہے ) اور قدس ( ایک پہاڑ کا نام ہے ) کی وہ زمین بھی دی جو قابل کاشت تھی اور وہ زمین انہیں نہیں دی جس پر کسی مسلمان کا حق اور قبضہ تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے لیے ایک دستاویز لکھ کر دی، وہ اس طرح تھی: بسم الله الرحمن الرحيم،، یہ دستاویز ہے اس بات کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کے کانوں کا جو بلندی میں ہیں اور پستی میں ہیں، ٹھیکہ دیا اور قدس کی وہ زمین بھی دی جس میں کھیتی ہو سکتی ہے، اور انہیں کسی مسلمان کا حق نہیں دیا ۔ ابواویس راوی کہتے ہیں: مجھ سے بنو دیل بن بکر بن کنانہ کے غلام ثور بن زید نے بیان کیا، انہوں نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔
حدثنا العباس بن محمد بن حاتم، وغيره، قال العباس حدثنا الحسين بن محمد، اخبرنا ابو اويس، حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم اقطع بلال بن الحارث المزني معادن القبلية جلسيها وغوريها - وقال غير العباس جلسها وغورها - وحيث يصلح الزرع من قدس ولم يعطه حق مسلم وكتب له النبي صلى الله عليه وسلم " بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما اعطى محمد رسول الله بلال بن الحارث المزني اعطاه معادن القبلية جلسيها وغوريها " . وقال غير العباس " جلسها وغورها " . " وحيث يصلح الزرع من قدس ولم يعطه حق مسلم " . قال ابو اويس وحدثني ثور بن زيد مولى بني الديل بن بكر بن كنانة عن عكرمة عن ابن عباس مثله
محمد بن نضر کہتے ہیں کہ میں نے حنینی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اسے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاگیر نامہ کو کئی بار پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے کئی ایک نے حسین بن محمد کے واسطہ سے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ابواویس نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں: مجھ سے کثیر بن عبداللہ نے بیان کیا ہے وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں بطور جاگیر دیں۔ ابن نضر کی روایت میں ہے: اور اس کے جرس اور ذات النصب ۱؎ کو دیا، پھر دونوں راوی متفق ہیں: اور قدس کی قابل کاشت زمین دی، اور بلال بن حارث کو کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لکھ کر دیا کہ یہ وہ تحریر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو لکھ کر دی، انہیں قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں اور قدس کی قابل کاشت زمینیں دیں، اور انہیں کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا۔ ابواویس کہتے ہیں کہ ثور بن زید نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کیا اور ابن نضر نے اتنا اضافہ کیا کہ ( یہ دستاویز ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لکھی۔
حدثنا محمد بن النضر، قال سمعت الحنيني، قال قراته غير مرة يعني كتاب قطيعة النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود وحدثنا غير واحد عن حسين بن محمد اخبرنا ابو اويس حدثني كثير بن عبد الله عن ابيه عن جده ان النبي صلى الله عليه وسلم اقطع بلال بن الحارث المزني معادن القبلية جلسيها وغوريها - قال ابن النضر وجرسها وذات النصب ثم اتفقا - وحيث يصلح الزرع من قدس . ولم يعط بلال بن الحارث حق مسلم وكتب له النبي صلى الله عليه وسلم " هذا ما اعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم بلال بن الحارث المزني اعطاه معادن القبلية جلسها وغورها وحيث يصلح الزرع من قدس ولم يعطه حق مسلم " . قال ابو اويس حدثني ثور بن زيد عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله زاد ابن النضر وكتب ابى بن كعب
ابیض بن حمال ماربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے نمک کی کان کی جاگیر مانگی ( ابن متوکل کی روایت میں ہے: جو مآرب ۱؎ میں تھی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دی، لیکن جب وہ واپس مڑے تو مجلس میں موجود ایک شخص نے عرض کیا: جانتے ہیں کہ آپ نے ان کو کیا دے دیا ہے؟ آپ نے ان کو ایسا پانی دے دیا ہے جو ختم نہیں ہوتا، بلا محنت و مشقت کے حاصل ہوتا ہے ۲؎ وہ کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لے لیا، تب انہوں نے آپ سے پوچھا: پیلو کے درختوں کی کون سی جگہ گھیری جائے؟ ۳؎، آپ نے فرمایا: جہاں جانوروں کے پاؤں نہ پہنچ سکیں ۴؎۔ ابن متوکل کہتے ہیں: خفاف سے مراد «أخفاف الإبل» ( یعنی اونٹوں کے پیر ) ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد الثقفي، ومحمد بن المتوكل العسقلاني، - المعنى واحد - ان محمد بن يحيى بن قيس الماربي، حدثهم اخبرني ابي، عن ثمامة بن شراحيل، عن سمى بن قيس، عن شمير، - قال ابن المتوكل ابن عبد المدان - عن ابيض بن حمال، انه وفد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستقطعه الملح - قال ابن المتوكل الذي بمارب - فقطعه له فلما ان ولى قال رجل من المجلس اتدري ما قطعت له انما قطعت له الماء العد . قال فانتزع منه قال وساله عما يحمى من الاراك قال " ما لم تنله خفاف " . وقال ابن المتوكل " اخفاف الابل
ہارون بن عبداللہ کہتے ہیں کہ محمد بن حسن مخزومی نے کہا: «ما لم تنله أخفاف الإبل» کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ کا سر جہاں تک پہنچے گا وہاں تک وہ کھائے ہی کھائے گا اس سے اوپر کا حصہ بچایا جا سکتا ہے ( اس لیے ایسی جگہ گھیرو جہاں اونٹ جاتے ہی نہ ہوں ) ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، قال قال محمد بن الحسن المخزومي " ما لم تنله اخفاف الابل " يعني ان الابل تاكل منتهى رءوسها ويحمى ما فوقه
ابیض بن حمال ماربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیلو کی ایک چراگاہ مانگی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیلو میں روک نہیں ہے ، انہوں نے کہا: پیلو میرے باڑھ اور احاطے کے اندر ہیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیلو میں روک نہیں ہے ( اس لیے کہ اس کی حاجت سبھی آدمیوں کو ہے ) ۔ فرج کہتے ہیں: «حظاری» سے ایسی سر زمین مراد ہے جس میں کھیتی ہوتی ہو اور وہ گھری ہوئی ہو۔
حدثنا محمد بن احمد القرشي، حدثنا عبد الله بن الزبير، حدثنا فرج بن سعيد، حدثني عمي، ثابت بن سعيد عن ابيه، عن جده، ابيض بن حمال انه سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حمى الاراك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا حمى في الاراك " . فقال اراكة في حظاري . فقال النبي عليه السلام " لا حمى في الاراك " . قال فرج يعني بحظاري الارض التي فيها الزرع المحاط عليها
صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف سے جہاد کیا ( یعنی قلعہ طائف پر حملہ آور ہوئے ) چنانچہ جب صخر رضی اللہ عنہ نے اسے سنا تو وہ چند سوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے نکلے تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو چکے ہیں اور قلعہ فتح نہیں ہوا ہے، تو صخر رضی اللہ عنہ نے اس وقت اللہ سے عہد کیا کہ وہ قلعہ کو چھوڑ کر نہ جائیں گے جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ جائیں اور قلعہ خالی نہ کر دیں ( پھر ایسا ہی ہوا ) انہوں نے قلعہ کا محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں کیا جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ گئے۔ صخر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا: امّا بعد، اللہ کے رسول! ثقیف آپ کا حکم مان گئے ہیں اور وہ اپنے گھوڑ سواروں کے ساتھ ہیں میں ان کے پاس جا رہا ہوں ( تاکہ آگے کی بات چیت کروں ) ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے باجماعت نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور نماز میں احمس ۱؎ کے لیے دس ( باتوں کی ) دعائیں مانگیں اور ( ان دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی ) : «اللهم بارك لأحمس في خيلها ورجالها» اے اللہ! احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت دے ، پھر سب لوگ ( یعنی ضحر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی اور کہا: اللہ کے نبی! صخر نے میری پھوپھی کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ وہ اس ( دین ) میں داخل ہو چکی ہیں جس میں سبھی مسلمان داخل ہو چکے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور فرمایا: صخر! جب کوئی قوم اسلام قبول کر لیتی ہے تو وہ اپنی جانوں اور مالوں کو بچا اور محفوظ کر لیتی ہے، اس لیے مغیرہ کی پھوپھی کو انہیں لوٹا دو ، تو صخر رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دی، پھر صخر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمیوں کے پانی کے چشمے کو مانگا جسے وہ لوگ اسلام کے خوف سے چھوڑ کر بھاگ لیے تھے، صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے نبی! آپ مجھے اور میری قوم کو اس پانی کے چشمے پہ رہنے اور اس میں تصرف کرنے کا حق و اختیار دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ہاں ہاں ( لے لو اور ) رہو ، تو وہ لوگ رہنے لگے ( اور کچھ دنوں بعد ) بنو سلیم مسلمان ہو گئے اور صخر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور صخر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ وہ انہیں پانی ( کا چشمہ ) واپس دے دیں، صخر رضی اللہ عنہ ( اور ان کی قوم ) نے دینے سے انکار کیا ( اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چشمہ انہیں اور ان کی قوم کو دے دیا ہے ) تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم مسلمان ہو چکے ہیں، ہم صخر کے پاس پہنچے ( اور ان سے درخواست کی ) کہ ہمارا پانی کا چشمہ ہمیں واپس دے دیں تو انہوں نے ہمیں لوٹانے سے انکار کر دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا: صخر! جب کوئی قوم اسلام قبول کر لیتی ہے تو اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیتی ہے ( نہ اسے ناحق قتل کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کا مال لیا جا سکتا ہے ) تو تم ان کو ان کا چشمہ دے دو صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: بہت اچھا اللہ کے نبی! ( صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک کو دیکھا کہ وہ شرم و ندامت سے بدل گیا اور سرخ ہو گیا ( یہ سوچ کر ) کہ میں نے اس سے لونڈی بھی لے لی اور پانی بھی ۲؎۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا معاوية، - يعني ابن سلام - عن زيد، انه سمع ابا سلام، قال حدثني عبد الله الهوزني، قال لقيت بلالا موذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بحلب فقلت يا بلال حدثني كيف كانت نفقة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما كان له شىء كنت انا الذي الي ذلك منه منذ بعثه الله الى ان توفي وكان اذا اتاه الانسان مسلما فراه عاريا يامرني فانطلق فاستقرض فاشتري له البردة فاكسوه واطعمه حتى اعترضني رجل من المشركين فقال يا بلال ان عندي سعة فلا تستقرض من احد الا مني ففعلت فلما ان كان ذات يوم توضات ثم قمت لاوذن بالصلاة فاذا المشرك قد اقبل في عصابة من التجار فلما ان راني قال يا حبشي . قلت يا لباه . فتجهمني وقال لي قولا غليظا وقال لي اتدري كم بينك وبين الشهر قال قلت قريب . قال انما بينك وبينه اربع فاخذك بالذي عليك فاردك ترعى الغنم كما كنت قبل ذلك فاخذ في نفسي ما ياخذ في انفس الناس حتى اذا صليت العتمة رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اهله فاستاذنت عليه فاذن لي فقلت يا رسول الله بابي انت وامي ان المشرك الذي كنت اتدين منه قال لي كذا وكذا وليس عندك ما تقضي عني ولا عندي وهو فاضحي فاذن لي ان ابق الى بعض هولاء الاحياء الذين قد اسلموا حتى يرزق الله رسوله صلى الله عليه وسلم ما يقضي عني فخرجت حتى اذا اتيت منزلي فجعلت سيفي وجرابي ونعلي ومجني عند راسي حتى اذا انشق عمود الصبح الاول اردت ان انطلق فاذا انسان يسعى يدعو يا بلال اجب رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلقت حتى اتيته فاذا اربع ركايب مناخات عليهن احمالهن فاستاذنت فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابشر فقد جاءك الله بقضايك " . ثم قال " الم تر الركايب المناخات الاربع " . فقلت بلى . فقال " ان لك رقابهن وما عليهن فان عليهن كسوة وطعاما اهداهن الى عظيم فدك فاقبضهن واقض دينك " . ففعلت فذكر الحديث ثم انطلقت الى المسجد فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد في المسجد فسلمت عليه فقال " ما فعل ما قبلك " . قلت قد قضى الله كل شىء كان على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يبق شىء . قال " افضل شىء " . قلت نعم قال " انظر ان تريحني منه فاني لست بداخل على احد من اهلي حتى تريحني منه " . فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العتمة دعاني فقال " ما فعل الذي قبلك " . قال قلت هو معي لم ياتنا احد . فبات رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد وقص الحديث حتى اذا صلى العتمة - يعني من الغد - دعاني قال " ما فعل الذي قبلك " . قال قلت قد اراحك الله منه يا رسول الله . فكبر وحمد الله شفقا من ان يدركه الموت وعنده ذلك ثم اتبعته حتى اذا جاء ازواجه فسلم على امراة امراة حتى اتى مبيته فهذا الذي سالتني عنه
حدثنا عمر بن الخطاب ابو حفص، حدثنا الفريابي، حدثنا ابان، قال عمر - وهو ابن عبد الله بن ابي حازم - قال حدثني عثمان بن ابي حازم، عن ابيه، عن جده، صخر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غزا ثقيفا فلما ان سمع ذلك صخر ركب في خيل يمد النبي صلى الله عليه وسلم فوجد نبي الله صلى الله عليه وسلم قد انصرف ولم يفتح فجعل صخر يوميذ عهد الله وذمته ان لا يفارق هذا القصر حتى ينزلوا على حكم رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يفارقهم حتى نزلوا على حكم رسول الله صلى الله عليه وسلم فكتب اليه صخر اما بعد فان ثقيفا قد نزلت على حكمك يا رسول الله وانا مقبل اليهم وهم في خيل . فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصلاة جامعة فدعا لاحمس عشر دعوات " اللهم بارك لاحمس في خيلها ورجالها " . واتاه القوم فتكلم المغيرة بن شعبة فقال يا نبي الله ان صخرا اخذ عمتي ودخلت فيما دخل فيه المسلمون . فدعاه فقال " يا صخر ان القوم اذا اسلموا احرزوا دماءهم واموالهم فادفع الى المغيرة عمته " . فدفعها اليه وسال نبي الله صلى الله عليه وسلم ماء لبني سليم قد هربوا عن الاسلام وتركوا ذلك الماء . فقال يا نبي الله انزلنيه انا وقومي . قال " نعم " . فانزله واسلم - يعني السلميين - فاتوا صخرا فسالوه ان يدفع اليهم الماء فابى فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا نبي الله اسلمنا واتينا صخرا ليدفع الينا ماءنا فابى علينا . فاتاه فقال " يا صخر ان القوم اذا اسلموا احرزوا اموالهم ودماءهم فادفع الى القوم ماءهم " . قال نعم يا نبي الله . فرايت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم يتغير عند ذلك حمرة حياء من اخذه الجارية واخذه الماء