Loading...

Loading...
کتب
۱۶۱ احادیث
ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ وفد میں شامل ہو کر رسول اللہ کے پاس آئے تو آپ سے صدقے کے متعلق بات چیت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سبائی بھائی! ( سبا یمن کے ایک شہر کا نام ہے ) صدقہ دینا تو ضروری ہے ، ابیض بن حمال نے کہا: اللہ کے رسول! ہماری زراعت تو صرف کپاس ( روئی ) ہے، ( سبا اب پہلے والا سبا نہیں رہا ) سبا والے متفرق ہو گئے ( یعنی وہ شہر اور وہ آبادی اب نہیں رہی جو پہلے بلقیس کے زمانہ میں تھی، اب تو بالکل اجاڑ ہو گیا ہے ) اب کچھ تھوڑے سے سبا کے باشندے مارب ( ایک شہر کا نام ہے ) میں رہ رہے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہر سال کپڑے کے ایسے ستر جوڑے دینے پر مصالحت کر لی جو معافر ۱؎ کے ریشم کے جوڑے کی قیمت کے برابر ہوں، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک برابر یہ جوڑے ادا کرتے رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد عمال نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ابیض بن حمال سے سال بہ سال ستر جوڑے دیتے رہنے کے معاہدے کو توڑ دیا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سال میں ستر جوڑے دئیے جانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو دوبارہ جاری کر دیا، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو یہ معاہدہ بھی ٹوٹ گیا اور ان سے بھی ویسے ہی صدقہ لیا جانے لگا جیسے دوسروں سے لیا جاتا تھا۔
حدثنا محمد بن احمد القرشي، وهارون بن عبد الله، ان عبد الله بن الزبير، حدثهم حدثنا فرج بن سعيد، حدثني عمي، ثابت بن سعيد عن ابيه، سعيد - يعني ابن ابيض - عن جده، ابيض بن حمال انه كلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصدقة حين وفد عليه فقال " يا اخا سبا لا بد من صدقة " . فقال انما زرعنا القطن يا رسول الله وقد تبددت سبا ولم يبق منهم الا قليل بمارب . فصالح نبي الله صلى الله عليه وسلم على سبعين حلة بز من قيمة وفاء بز المعافر كل سنة عمن بقي من سبا بمارب فلم يزالوا يودونها حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وان العمال انتقضوا عليهم بعد قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما صالح ابيض بن حمال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحلل السبعين فرد ذلك ابو بكر على ما وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مات ابو بكر فلما مات ابو بكر رضى الله عنه انتقض ذلك وصارت على الصدقة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے وقت ) تین چیزوں کی وصیت فرمائی ( ایک تو یہ ) کہا کہ مشرکوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا، دوسرے یہ کہ وفود ( ایلچیوں ) کے ساتھ ایسے ہی سلوک کرنا جیسے میں ان کے ساتھ کرتا ہوں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اور تیسری چیز کے بارے میں انہوں نے سکوت اختیار کیا یا کہا کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر تو کیا ) لیکن میں ہی اسے بھلا دیا گیا۔ حمیدی سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ سلیمان نے کہا کہ مجھے یاد نہیں، سعید نے تیسری چیز کا ذکر کیا اور میں بھول گیا یا انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا خاموش رہے۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سليمان الاحول، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اوصى بثلاثة فقال " اخرجوا المشركين من جزيرة العرب واجيزوا الوفد بنحو مما كنت اجيزهم " . قال ابن عباس وسكت عن الثالثة او قال فانسيتها . وقال الحميدي عن سفيان قال سليمان لا ادري اذكر سعيد الثالثة فنسيتها او سكت عنها
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاری کو ضرور با لضرور نکال دوں گا اور اس میں مسلمانوں کے سوا کسی کو نہ رہنے دوں گا ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو عاصم، وعبد الرزاق، قالا اخبرنا ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول اخبرني عمر بن الخطاب، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لاخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب فلا اترك فيها الا مسلما
اس سند سے بھی عمر رضی اللہ عنہ سے اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو احمد، محمد بن عبد الله حدثنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، عن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بمعناه والاول اتم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ملک میں دو قبلے نہیں ہو سکتے ، ( یعنی مسلمان اور یہود و نصاریٰ عرب میں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ) ۔
حدثنا سليمان بن داود العتكي، حدثنا جرير، عن قابوس بن ابي ظبيان، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تكون قبلتان في بلد واحد
سعید یعنی ابن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ جزیرہ عرب وادی قریٰ سے لے کر انتہائے یمن تک عراق کی سمندری حدود تک ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین کے سامنے یہ پڑھا گیا اور میں وہاں موجود تھا کہ اشہب بن عبدالعزیز نے آپ کو خبر دی ہے کہ مالک کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اہل نجران ۱؎ کو جلا وطن کیا، اور تیماء سے جلا وطن نہیں کیا، اس لیے کہ تیماء ۲؎ بلاد عرب میں شامل نہیں ہے، رہ گئے وادی قریٰ کے یہودی تو میرے خیال میں وہ اس وجہ سے جلا وطن نہیں کئے گئے کہ ان لوگوں نے وادی قری کو عرب کی سر زمین میں سے نہیں سمجھا۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا عمر، - يعني ابن عبد الواحد - قال قال سعيد - يعني ابن عبد العزيز - جزيرة العرب ما بين الوادي الى اقصى اليمن الى تخوم العراق الى البحر . قال ابو داود قري على الحارث بن مسكين وانا شاهد اخبرك اشهب بن عبد العزيز قال قال مالك عمر اجلى اهل نجران ولم يجلوا من تيماء لانها ليست من بلاد العرب فاما الوادي فاني ارى انما لم يجل من فيها من اليهود انهم لم يروها من ارض العرب
مالک کہتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ نے نجران و فدک کے یہودیوں کو جلا وطن کیا ( کیونکہ یہ دونوں عرب کی سرحد میں ہیں ) ۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، قال قال مالك قد اجلى عمر رحمه الله يهود نجران وفدك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ایک وقت آئے گا ) جب عراق اپنے پیمانے اور روپے روک دے گا اور شام اپنے مدوں اور اشرفیوں کو روک دے گا اور مصر اپنے اردبوں ۲؎ اور اشرفیوں کو روک دے گا ۳؎ پھر ( ایک وقت آئے گا جب ) تم ویسے ہی ہو جاؤ گے جیسے شروع میں تھے ۴؎ ، ( احمد بن یونس کہتے ہیں: ) زہیر نے یہ بات ( زور دینے کے لیے ) تین بار کہی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گوشت و خون ( یعنی ان کی ذات ) نے اس کی گواہی دی۔
حدثنا احمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " منعت العراق قفيزها ودرهمها ومنعت الشام مديها ودينارها ومنعت مصر اردبها ودينارها ثم عدتم من حيث بداتم " . قالها زهير ثلاث مرات شهد على ذلك لحم ابي هريرة ودمه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بستی میں تم آؤ اور وہاں رہو تو جو تمہارا حصہ ہے وہی تم کو ملے گا ۱؎ اور جس بستی کے لوگوں نے اللہ و رسول کی نافرمانی کی ( اور اسے تم نے زور و طاقت سے زیر کیا ) تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ و رسول کا نکال کر باقی تمہیں مل جائے گا ( یعنی بطور غنیمت مجاہدین میں تقسیم ہو جائے گا ) ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن همام بن منبه، قال هذا ما حدثنا به ابو هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما قرية اتيتموها واقمتم فيها فسهمكم فيها وايما قرية عصت الله ورسوله فان خمسها لله وللرسول ثم هي لكم
انس رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) اور عثمان بن ابو سلیمان سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو اکیدر ۱؎ دومہ کی طرف بھیجا، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے، آپ نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ پر اس سے صلح کر لی۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم، حدثنا سهل بن محمد، حدثنا يحيى بن ابي زايدة، عن محمد بن اسحاق، عن عاصم بن عمر، عن انس بن مالك، وعن عثمان بن ابي سليمان، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث خالد بن الوليد الى اكيدر دومة فاخذ فاتوه به فحقن له دمه وصالحه على الجزية
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف ( حاکم بنا کر ) بھیجا، تو انہیں حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر قیمت کا معافری کپڑا جو یمن میں تیار ہوتا ہے جزیہ لیں۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن معاذ، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما وجهه الى اليمن امره ان ياخذ من كل حالم - يعني محتلما - دينارا او عدله من المعافري ثياب تكون باليمن
اس سند سے بھی معاذ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا النفيلي، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن مسروق، عن معاذ، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
زیاد بن حدیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں زندہ رہا تو بنی تغلب کے نصاریٰ کے لڑنے کے قابل لوگوں کو قتل کر دوں گا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لوں گا کیونکہ ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ عہد نامہ میں نے ہی لکھا تھا اس میں تھا کہ وہ اپنی اولاد کو نصرانی نہ بنائیں گے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ امام احمد بھی اس حدیث کا نہایت سختی سے انکار کرتے تھے۔ ابوعلی کہتے ہیں: ابوداؤد نے دوسری بار جب اس کتاب کو سنایا تو اس میں اس حدیث کو نہیں پڑھا۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم، حدثنا عبد الرحمن بن هاني ابو نعيم النخعي، اخبرنا شريك، عن ابراهيم بن مهاجر، عن زياد بن حدير، قال قال علي لين بقيت لنصارى بني تغلب لاقتلن المقاتلة ولاسبين الذرية فاني كتبت الكتاب بينهم وبين النبي صلى الله عليه وسلم على ان لا ينصروا ابناءهم . قال ابو داود هذا حديث منكر بلغني عن احمد انه كان ينكر هذا الحديث انكارا شديدا وهو عند بعض الناس شبه المتروك وانكروا هذا الحديث على عبد الرحمن بن هاني قال ابو علي ولم يقراه ابو داود في العرضة الثانية
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ کپڑوں کے دو ہزار جوڑے مسلمانوں کو دیا کریں گے، آدھا صفر میں دیں، اور باقی ماہ رجب میں، اور تیس زرہیں، تیس گھوڑے اور تیس اونٹ اور ہر قسم کے ہتھیاروں میں سے تیس تیس ہتھیار جس سے مسلمان جہاد کریں گے بطور عاریت دیں گے، اور مسلمان ان کے ضامن ہوں گے اور ( ضرورت پوری ہو جانے پر ) انہیں لوٹا دیں گے اور یہ عاریۃً دینا اس وقت ہو گا جب یمن میں کوئی فریب کرے ( یعنی سازش کر کے نقصان پہنچانا چاہے ) یا مسلمانوں سے غداری کرے اور عہد توڑے ( اور وہاں جنگ در پیش ہو ) اس شرط پر کہ ان کا کوئی گرجا نہ گرایا جائے گا، اور کوئی پادری نہ نکالا جائے گا، اور ان کے دین میں مداخلت نہ کی جائے گی، جب تک کہ وہ کوئی نئی بات نہ پیدا کریں یا سود نہ کھانے لگیں۔ اسماعیل سدی کہتے ہیں: پھر وہ سود کھانے لگے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب انہوں نے اپنے اوپر لاگو بعض شرائط توڑ دیں تو نئی بات پیدا کر لی ( اور وہ ملک عرب سے نکال دئیے گئے ) ۔
حدثنا مصرف بن عمرو اليامي، حدثنا يونس، - يعني ابن بكير - حدثنا اسباط بن نصر الهمداني، عن اسماعيل بن عبد الرحمن القرشي، عن ابن عباس، قال صالح رسول الله صلى الله عليه وسلم اهل نجران على الفى حلة النصف في صفر والبقية في رجب يودونها الى المسلمين وعارية ثلاثين درعا وثلاثين فرسا وثلاثين بعيرا وثلاثين من كل صنف من اصناف السلاح يغزون بها والمسلمون ضامنون لها حتى يردوها عليهم ان كان باليمن كيد او غدرة على ان لا تهدم لهم بيعة ولا يخرج لهم قس ولا يفتنوا عن دينهم ما لم يحدثوا حدثا او ياكلوا الربا . قال اسماعيل فقد اكلوا الربا . قال ابو داود اذا نقضوا بعض ما اشترط عليهم فقد احدثوا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب اہل فارس کے نبی مر گئے تو ابلیس نے انہیں مجوسیت ( یعنی آگ پوجنے ) پر لگا دیا۔
حدثنا احمد بن سنان الواسطي، حدثنا محمد بن بلال، عن عمران القطان، عن ابي جمرة، عن ابن عباس، قال ان اهل فارس لما مات نبيهم كتب لهم ابليس المجوسية
عمرو بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے بجالہ کو عمرو بن اوس اور ابوشعثاء سے بیان کرتے سنا کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزء بن معاویہ کا منشی ( کاتب ) تھا، کہ ہمارے پاس عمر رضی اللہ عنہ کا خط ان کی وفات سے ایک سال پہلے آیا ( اس میں لکھا تھا کہ ) : ہر جادوگر کو قتل کر ڈالو، اور مجوس کے ہر ذی محرم کو دوسرے محرم سے جدا کر دو، ۱؎ اور انہیں زمزمہ ( گنگنانے اور سر سے آواز نکالنے ) سے روک دو ، تو ہم نے ایک دن میں تین جادوگر مار ڈالے، اور جس مجوسی کے بھی نکاح میں اس کی کوئی محرم عورت تھی تو اللہ کی کتاب کے مطابق ہم نے اس کو جدا کر دیا، احنف بن قیس نے بہت سارا کھانا پکوایا، اور انہیں ( کھانے کے لیے ) بلوا بھیجا، اور تلوار اپنی ران پر رکھ کر بیٹھ گیا تو انہوں نے کھانا کھایا اور وہ گنگنائے نہیں، اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی ( بطور جزیہ ) لا کر ڈال دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا جب تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی نہ دے دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر ۲؎ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، سمع بجالة، يحدث عمرو بن اوس وابا الشعثاء قال كنت كاتبا لجزء بن معاوية عم الاحنف بن قيس اذ جاءنا كتاب عمر قبل موته بسنة اقتلوا كل ساحر وفرقوا بين كل ذي محرم من المجوس وانهوهم عن الزمزمة فقتلنا في يوم ثلاثة سواحر وفرقنا بين كل رجل من المجوس وحريمه في كتاب الله وصنع طعاما كثيرا فدعاهم فعرض السيف على فخذه فاكلوا ولم يزمزموا والقوا وقر بغل او بغلين من الورق ولم يكن عمر اخذ الجزية من المجوس حتى شهد عبد الرحمن بن عوف ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذها من مجوس هجر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بحرین کے رہنے والے اسبذیوں ۱؎ ( ہجر کے مجوسیوں ) میں کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے پاس تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر نکلا تو میں نے اس سے پوچھا: اللہ اور اس کے رسول نے تم سب کے متعلق کیا فیصلہ کیا؟ وہ کہنے لگا: برا فیصلہ کیا، میں نے کہا: چپ ( ایسی بات کہتا ہے ) اس پر اس نے کہا: فیصلہ کیا ہے کہ یا تو اسلام لاؤ یا قتل ہو جاؤ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے ان سے جزیہ لینا قبول کر لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل کیا اور اسبذی سے جو میں نے سنا تھا اسے چھوڑ دیا ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مقابل میں کافر اسبذی کے قول کا کیا اعتبار ) ۔
حدثنا محمد بن مسكين اليمامي، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا هشيم، اخبرنا داود بن ابي هند، عن قشير بن عمرو، عن بجالة بن عبدة، عن ابن عباس، قال جاء رجل من الاسبذيين من اهل البحرين - وهم مجوس اهل هجر - الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فمكث عنده ثم خرج فسالته ما قضى الله ورسوله فيكم قال شر . قلت مه قال الاسلام او القتل . قال وقال عبد الرحمن بن عوف قبل منهم الجزية . قال ابن عباس فاخذ الناس بقول عبد الرحمن بن عوف وتركوا ما سمعت انا من الاسبذي
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما نے حمص کے ایک عامل ( محصل ) کو دیکھا کہ وہ کچھ قبطیوں ( عیسائیوں ) سے جزیہ وصول کرنے کے لیے انہیں دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دے رہا تھا، تو انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیا کرتے ہیں ۱؎ ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، ان هشام بن حكيم بن حزام، وجد رجلا وهو على حمص يشمس ناسا من النبط في اداء الجزية فقال ما هذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله يعذب الذين يعذبون الناس في الدنيا
حرب بن عبیداللہ کے نانا (جو بنی تغلب سے ہیں) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عشر ( دسواں حصہ ) یہود و نصاریٰ سے لیا جائے گا اور مسلمانوں پر دسواں حصہ ( مال تجارت میں ) نہیں ہے ( بلکہ ان سے چالیسواں حصہ لیا جائے گا۔ البتہ پیداوار اور زراعت میں ان سے دسواں حصہ لیا جائے گا ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا عطاء بن السايب، عن حرب بن عبيد الله، عن جده ابي امه، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما العشور على اليهود والنصارى وليس على المسلمين عشور
حرب بن عبیداللہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے لیکن «عشور» کی جگہ «خراج» کا لفظ ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عطاء بن السايب، عن حرب بن عبيد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه قال " خراج " . مكان " العشور