Loading...

Loading...
کتب
۱۶۱ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ: آپ ہمیں اس شرط پر یہیں رہنے دیں کہ ہم محنت کریں گے اور جو پیداوار ہو گی اس کا نصف ہم لیں گے اور نصف آپ کو دیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ہم تمہیں اس شرط پر رکھ رہے ہیں کہ جب تک چاہیں گے رکھیں گے،، چنانچہ وہ اسی شرط پر رہے، خیبر کی کھجور کے نصف کے کئی حصے کئے جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے پانچواں حصہ لیتے، اور اپنی ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو ( سال بھر میں ) دیتے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے یہود کو نکال دینے کا ارادہ کر لیا تو امہات المؤمنین کو کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے کہ میں اس کو اتنے درخت دے دوں جن میں سے سو وسق کھجور نکلیں مع جڑ کھجور اور پانی کے اور اسی طرح کھیتی میں سے اس قدر زمین دے دوں جس میں بیس وسق جو پیدا ہو، تو میں دے دوں اور جو پسند کرے کہ میں خمس میں سے اس کا حصہ نکالا کروں جیسا کہ ہے تو میں ویسا ہی نکالا کروں گا۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرني ابن وهب، اخبرني اسامة بن زيد الليثي، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، قال لما افتتحت خيبر سالت يهود رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقرهم على ان يعملوا على النصف مما خرج منها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقركم فيها على ذلك ما شينا " . فكانوا على ذلك وكان التمر يقسم على السهمان من نصف خيبر وياخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم الخمس وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اطعم كل امراة من ازواجه من الخمس ماية وسق تمرا وعشرين وسقا شعيرا فلما اراد عمر اخراج اليهود ارسل الى ازواج النبي صلى الله عليه وسلم فقال لهن من احب منكن ان اقسم لها نخلا بخرصها ماية وسق فيكون لها اصلها وارضها وماوها ومن الزرع مزرعة خرص عشرين وسقا فعلنا ومن احب ان نعزل الذي لها في الخمس كما هو فعلنا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے جہاد کیا، ہم نے اسے لڑ کر حاصل کیا، پھر قیدی اکٹھا کئے گئے ( تاکہ انہیں مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے ) ۔
حدثنا داود بن معاذ، حدثنا عبد الوارث، ح وحدثنا يعقوب بن ابراهيم، وزياد بن ايوب، ان اسماعيل بن ابراهيم، حدثهم عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غزا خيبر فاصبناها عنوة فجمع السبى
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا: ایک حصہ تو اپنی حوائج و ضروریات کے لیے رکھا اور ایک حصہ کے اٹھارہ حصے کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔
حدثنا الربيع بن سليمان الموذن، حدثنا اسد بن موسى، حدثنا يحيى بن زكريا، حدثني سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، عن سهل بن ابي حثمة، قال قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر نصفين نصفا لنوايبه وحاجته ونصفا بين المسلمين قسمها بينهم على ثمانية عشر سهما
بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے سنا، انہوں نے کہا، پھر راوی نے یہی حدیث ذکر کی اور کہا کہ نصف میں سب مسلمانوں کے حصے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ تھا اور باقی نصف مسلمانوں کی ضروریات اور مصائب و مشکلات کے لیے رکھا جاتا تھا جو انہیں پیش آتے۔
حدثنا حسين بن علي بن الاسود، ان يحيى بن ادم، حدثهم عن ابي شهاب، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، انه سمع نفرا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قالوا فذكر هذا الحديث قال فكان النصف سهام المسلمين وسهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وعزل النصف للمسلمين لما ينوبه من الامور والنوايب
بشیر بن یسار جو انصار کے غلام تھے بعض اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خیبر پر غالب آئے تو آپ نے اسے چھتیس حصوں میں تقسیم فرمایا، ہر ایک حصے میں سو حصے تھے تو اس میں سے نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے ہوا اور باقی نصف آنے والے وفود اور دیگر کاموں اور اچانک مسلمانوں کو پیش آنے والے حادثات و مصیبتوں میں خرچ کرنے کے لیے الگ کر کے رکھ دیا۔
حدثنا حسين بن علي، حدثنا محمد بن فضيل، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، مولى الانصار عن رجال، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما ظهر على خيبر قسمها على ستة وثلاثين سهما جمع كل سهم ماية سهم فكان لرسول الله صلى الله عليه وسلم وللمسلمين النصف من ذلك وعزل النصف الباقي لمن نزل به من الوفود والامور ونوايب الناس
بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے خیبر اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور غنیمت عطا فرمایا تو آپ نے اس کے ( ۳۶ چھتیس ) حصے کئے اور ہر حصے میں سو حصے رکھے، تو اس کے نصف حصے اپنی ضرورتوں و کاموں کے لیے رکھا اور اسی میں سے وطیحہ وکتیبہ ۱؎ اور ان سے متعلق جائیداد بھی ہے اور دوسرے نصف حصے کو جس میں شق و نطاۃ ۲؎ ہیں اور ان سے متعلق جائیداد بھی شامل تھی الگ کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ان دونوں گاؤں کے متعلقات میں تھا۔
حدثنا عبد الله بن سعيد الكندي، حدثنا ابو خالد، - يعني سليمان - عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، قال لما افاء الله على نبيه صلى الله عليه وسلم خيبر قسمها على ستة وثلاثين سهما جمع كل سهم ماية سهم فعزل نصفها لنوايبه وما ينزل به الوطيحة والكتيبة وما احيز معهما وعزل النصف الاخر فقسمه بين المسلمين الشق والنطاة وما احيز معهما وكان سهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما احيز معهما
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ نے خیبر کا مال عطا کیا تو آپ نے اس کے کل چھتیس حصے کئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھے یعنی اٹھارہ حصے مسلمانوں کے لیے الگ کر دئیے، ہر حصے میں سو حصے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں کے ساتھ تھے آپ کا بھی ویسے ہی ایک حصہ تھا جیسے ان میں سے کسی دوسرے شخص کا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ حصے ( یعنی نصف آخر ) اپنی ضروریات اور مسلمانوں کے امور کے لیے الگ کر دیے، اسی نصف میں وطیح، کتیبہ اور سلالم ( دیہات کے نام ہیں ) اور ان کے متعلقات تھے، جب یہ سب اموال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آئے تو مسلمانوں کے پاس ان کی دیکھ بھال اور ان میں کام کرنے والے نہیں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو بلا کر ان سے ( بٹائی پر ) معاملہ کر لیا۔
حدثنا محمد بن مسكين اليمامي، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا سليمان، - يعني ابن بلال - عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما افاء الله عليه خيبر قسمها ستة وثلاثين سهما جمعا فعزل للمسلمين الشطر ثمانية عشر سهما يجمع كل سهم ماية النبي صلى الله عليه وسلم معهم له سهم كسهم احدهم وعزل رسول الله صلى الله عليه وسلم ثمانية عشر سهما وهو الشطر لنوايبه وما ين��ل به من امر المسلمين فكان ذلك الوطيح والكتيبة والسلالم وتوابعها فلما صارت الاموال بيد النبي صلى الله عليه وسلم والمسلمين لم يكن لهم عمال يكفونهم عملها فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم اليهود فعاملهم
مجمع بن جاریہ انصاری (جو قرآن کے قاریوں میں سے ایک تھے) کہتے ہیں کہ خیبر ان لوگوں پر تقسیم کیا گیا جو صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۱؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو اٹھارہ حصوں میں تقسیم کیا، لشکر کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی، ان میں تین سو سوار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو دو حصے دئیے اور پیادوں کو ایک ایک حصہ دیا۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا مجمع بن يعقوب بن مجمع بن يزيد الانصاري، قال سمعت ابي يعقوب بن مجمع، يذكر لي عن عمه عبد الرحمن بن يزيد الانصاري، عن عمه، مجمع بن جارية الانصاري - وكان احد القراء الذين قرءوا القران - قال قسمت خيبر على اهل الحديبية فقسمها رسول الله صلى الله عليه وسلم على ثمانية عشر سهما وكان الجيش الفا وخمسماية فيهم ثلاثماية فارس فاعطى الفارس سهمين واعطى الراجل سهما
ابن شہاب زہری، عبداللہ بن ابوبکر اور محمد بن مسلمہ کے بعض لڑکوں سے روایت ہے یہ لوگ کہتے ہیں ( جب خیبر فتح ہو گیا ) خیبر کے کچھ لوگ رہ گئے وہ قلعہ بند ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کا خون نہ بہایا جائے اور انہیں یہاں سے نکل کر چلے جانے دیا جائے، آپ نے ان کی درخواست قبول کر لی ) یہ خبر فدک والوں نے بھی سنی، تو وہاں کے لوگ بھی اس جیسی شرط پر اترے تو فدک ( اللہ کی جانب سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ( عطیہ ) قرار پایا، اس لیے کہ اس پر اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے گئے ۱؎۔
حدثنا حسين بن علي العجلي، حدثنا يحيى، - يعني ابن ادم - حدثنا ابن ابي زايدة، عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، وعبد الله بن ابي بكر، وبعض، ولد محمد بن مسلمة قالوا بقيت بقية من اهل خيبر تحصنوا فسالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يحقن دماءهم ويسيرهم ففعل فسمع بذلك اهل فدك فنزلوا على مثل ذلك فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة لانه لم يوجف عليها بخيل ولا ركاب
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کا کچھ حصہ طاقت سے فتح کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ آپ لوگوں کو ابن وہب نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا ہے وہ ابن شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں کہ خیبر کا بعض حصہ زور و طاقت سے حاصل ہوا ہے، اور بعض صلح کے ذریعہ اور کتیبہ ( جو خیبر کا ایک گاؤں ہے ) کا زیادہ حصہ زور و طاقت سے فتح ہوا اور کچھ صلح کے ذریعہ ۔ ابن وہب کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کتیبہ کیا ہے؟ بولے: خیبر کی زمین کا ایک حصہ ہے، اور وہ چالیس ہزار کھجور کے درختوں پر مشتمل تھا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عَذْق» کھجور کے درخت کو کہتے ہیں، اور «عِذْق» کھجور کے گچھے کی جڑ جو ٹیڑھی ہوتی ہے، اور گچھے کو کاٹنے پر درخت پر خشک ہو کر باقی رہ جاتی ہے اس کو کہتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الله بن محمد، عن جويرية، عن مالك، عن الزهري، ان سعيد بن المسيب، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افتتح بعض خيبر عنوة . قال ابو داود وقري على الحارث بن مسكين وانا شاهد اخبركم ابن وهب قال حدثني مالك عن ابن شهاب ان خيبر كان بعضها عنوة وبعضها صلحا والكتيبة اكثرها عنوة وفيها صلح . قلت لمالك وما الكتيبة قال ارض خيبر وهي اربعون الف عذق
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو طاقت کے ذریعہ لڑ کر فتح کیا اور خیبر کے جو لوگ قلعہ سے نکل کر جلا وطن ہوئے وہ بھی جنگ کے بعد ہی جلا وطنی کی شرط پر قلعہ سے باہر نکلے تھے ۱؎۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، قال بلغني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم افتتح خيبر عنوة بعد القتال ونزل من نزل من اهلها على الجلاء بعد القتال
ابن شہاب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے مال میں سے ( جو غنیمت میں آیا ) خمس ( پانچواں حصہ ) نکال لیا اور جو باقی بچ رہا اسے ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جو جنگ میں موجود تھے اور جو موجود نہیں تھے لیکن صلح حدیبیہ میں حاضر تھے۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، قال خمس رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر ثم قسم سايرها على من شهدها ومن غاب عنها من اهل الحديبية
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا ( یعنی ان کی محتاجی کا ) خیال نہ ہوتا تو جو بھی گاؤں و شہر فتح کیا جاتا اسے میں اسی طرح تقسیم کر دیتا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو تقسیم کیا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرحمن، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر، قال لولا اخر المسلمين ما فتحت قرية الا قسمتها كما قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال ۱؎ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ابوسفیان بن حرب کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ مرالظہران ۲؎ میں مسلمان ہو گئے، اس وقت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسفیان ایک ایسے شخص ہیں جو فخر اور نمود و نمائش کو پسند کرتے ہیں، تو آپ اگر ان کے لیے کوئی چیز کر دیتے ( جس سے ان کے اس جذبہ کو تسکین ہوتی تو اچھا ہوتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ( یعنی ٹھیک ہے میں ایسا کر دیتا ہوں ) جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے تو وہ مامون ہے، اور جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ بھی مامون ہے ( ہم اسے نہیں ماریں گے ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابن ادريس، عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح جاءه العباس بن عبد المطلب بابي سفيان بن حرب فاسلم بمر الظهران فقال له العباس يا رسول الله ان ابا سفيان رجل يحب هذا الفخر فلو جعلت له شييا . قال " نعم من دخل دار ابي سفيان فهو امن ومن اغلق عليه بابه فهو امن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرالظہران میں ( فتح مکہ کے لیے آنے والے مبارک لشکر کے ساتھ ) پڑاؤ کیا، عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بزور مکہ میں داخل ہوئے اور قریش نے آپ کے مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حاضر ہو کر امان حاصل نہ کر لی تو قریش تباہ ہو جائیں گے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر سوار ہو کر نکلا، میں نے ( اپنے جی ) میں کہا: شاید کوئی ضرورت مند اپنی ضرورت سے مکہ جاتا ہوا مل جائے ( تو میں اسے بتا دوں ) اور وہ جا کر اہل مکہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر کر دے ( کہ آپ مع لشکر جرار تمہارے سر پر آ پہنچے ہیں ) تاکہ وہ آپ کے حضور میں پہنچ کر آپ سے امان حاصل کر لیں۔ میں اسی خیال میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک ابوسفیان اور بدیل بن ورقاء کی آواز سنی، میں نے پکار کر کہا: اے ابوحنظلہ ( ابوسفیان کی کنیت ہے ) اس نے میری آواز پہچان لی، اس نے کہا: ابوفضل؟ ( عباس کی کنیت ہے ) میں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: کیا بات ہے، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں، میں نے کہا: دیکھ! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے ساتھ کے لوگ ہیں ( سوچ لے ) ابوسفیان نے کہا: پھر کیا تدبیر کروں؟ وہ کہتے ہیں: ابوسفیان میرے پیچھے ( خچر پر ) سوار ہوا، اور اس کا ساتھی ( بدیل بن ورقاء ) لوٹ گیا۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں ابوسفیان کو اپنے ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ( وہ مسلمان ہو گیا ) میں نے کہا: اللہ کے رسول! ابوسفیان فخر کو پسند کرتا ہے، تو آپ اس کے لیے ( اس طرح کی ) کوئی چیز کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ہاں ( ایسی کیا بات ہے، لو کر دیا میں نے ) ، جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کے لیے امن ہے ( وہ قتل نہیں کیا جائے گا ) اور جو اپنے گھر میں دروازہ بند کر کے بیٹھ رہے اس کے لیے امن ہے، اور جو خانہ کعبہ میں داخل ہو جائے اس کو امن ہے ، یہ سن کر لوگ اپنے اپنے گھروں میں اور مسجد میں بٹ گئے۔
حدثنا محمد بن عمرو الرازي، حدثنا سلمة، - يعني ابن الفضل - عن محمد بن اسحاق، عن العباس بن عبد الله بن معبد، عن بعض، اهله عن ابن عباس، قال لما نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم مر الظهران قال العباس قلت والله لين دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة عنوة قبل ان ياتوه فيستامنوه انه لهلاك قريش فجلست على بغلة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت لعلي اجد ذا حاجة ياتي اهل مكة فيخبرهم بمكان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليخرجوا اليه فيستامنوه فاني لاسير اذ سمعت كلام ابي سفيان وبديل بن ورقاء فقلت يا ابا حنظلة فعرف صوتي فقال ابو الفضل قلت نعم . قال ما لك فداك ابي وامي قلت هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس . قال فما الحيلة قال فركب خلفي ورجع صاحبه فلما اصبح غدوت به على رسول الله صلى الله عليه وسلم فاسلم قلت يا رسول الله ان ابا سفيان رجل يحب هذا الفخر فاجعل له شييا . قال " نعم من دخل دار ابي سفيان فهو امن ومن اغلق عليه داره فهو امن ومن دخل المسجد فهو امن " . قال فتفرق الناس الى دورهم والى المسجد
وہب (وہب بن منبہ) کہتے ہیں میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا مسلمانوں کو فتح مکہ کے دن کچھ مال غنیمت ملا تھا؟ تو انہوں نے کہا: نہیں۔
حدثنا الحسن بن الصباح، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن عبد الكريم - حدثني ابراهيم بن عقيل بن معقل، عن ابيه، عن وهب بن منبه، قال سالت جابرا هل غنموا يوم الفتح شييا قال لا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے زبیر بن عوام، ابوعبیدہ ابن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو گھوڑوں پر سوار رہنے دیا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم انصار کو پکار کر کہہ دو کہ اس راہ سے جائیں، اور تمہارے سامنے جو بھی آئے اسے ( موت کی نیند ) سلا دیں ، اتنے میں ایک منادی نے آواز دی: آج کے دن کے بعد قریش نہیں رہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گھر میں رہے اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو امن ہے ، قریش کے سردار خانہ کعبہ کے اندر چلے گئے تو خانہ کعبہ ان سے بھر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی پھر خانہ کعبہ کے دروازے کے دونوں بازوؤں کو پکڑ کر ( کھڑے ہوئے ) تو خانہ کعبہ کے اندر سے لوگ نکلے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ کسی شخص نے احمد بن حنبل سے پوچھا: کیا مکہ طاقت سے فتح ہوا ہے؟ تو احمد بن حنبل نے کہا: اگر ایسا ہوا ہو تو تمہیں اس سے کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: تو کیا صلح ( معاہدہ ) کے ذریعہ ہوا ہے؟ کہا: نہیں۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا سلام بن مسكين، حدثنا ثابت البناني، عن عبد الله بن رباح الانصاري، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما دخل مكة سرح الزبير بن العوام وابا عبيدة بن الجراح وخالد بن الوليد على الخيل وقال " يا ابا هريرة اهتف بالانصار " . قال اسلكوا هذا الطريق فلا يشرفن لكم احد الا انمتموه . فنادى مناد لا قريش بعد اليوم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من دخل دارا فهو امن ومن القى السلاح فهو امن " . وعمد صناديد قريش فدخلوا الكعبة فغص بهم وطاف النبي صلى الله عليه وسلم وصلى خلف المقام ثم اخذ بجنبتى الباب فخرجوا فبايعوا النبي صلى الله عليه وسلم على الاسلام . قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل ساله رجل قال مكة عنوة هي قال ايش يضرك ما كانت قال فصلح قال لا
وہب کہتے ہیں میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے بنو ثقیف کی بیعت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرط رکھی کہ نہ وہ زکاۃ دیں گے اور نہ وہ جہاد میں حصہ لیں گے۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب وہ مسلمان ہو جائیں گے تو وہ زکاۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے ۱؎ ۔
حدثنا الحسن بن الصباح، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن عبد الكريم - حدثني ابراهيم، - يعني ابن عقيل بن منبه - عن ابيه، عن وهب، قال سالت جابرا عن شان، ثقيف اذ بايعت قال اشترطت على النبي صلى الله عليه وسلم ان لا صدقة عليها ولا جهاد وانه سمع النبي صلى الله عليه وسلم بعد ذلك يقول " سيتصدقون ويجاهدون اذا اسلموا
عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ثقیف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اہل وفد کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں، انہوں نے شرط رکھی کہ وہ جہاد کے لیے نہ اکٹھے کئے جائیں نہ ان سے عشر ( زکاۃ ) لی جائے اور نہ ان سے نماز پڑھوائی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر تمہارے لیے اتنی گنجائش ہو سکتی ہے کہ تم جہاد کے لیے نہ نکالے جاؤ ( کیونکہ اور لوگ جہاد کے لیے موجود ہیں ) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم سے زکاۃ نہ لی جائے ( کیونکہ بالفعل سال بھر نہیں گزرا ) لیکن اس دین میں اچھائی نہیں جس میں رکوع ( نماز ) نہ ہو ۔
حدثنا احمد بن علي بن سويد، - يعني ابن منجوف - حدثنا ابو داود، عن حماد بن سلمة، عن حميد، عن الحسن، عن عثمان بن ابي العاص، ان وفد، ثقيف لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم انزلهم المسجد ليكون ارق لقلوبهم فاشترطوا عليه ان لا يحشروا ولا يعشروا ولا يجبوا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لكم ان لا تحشروا ولا تعشروا ولا خير في دين ليس فيه ركوع
عامر بن شہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ( بحیثیت نبی ) ظہور ہوا تو مجھ سے ( قبیلہ ) ہمدان کے لوگوں نے کہا: کیا تم اس آدمی کے پاس جاؤ گے اور ہماری طرف سے اس سے بات چیت کرو گے؟ اگر تمہیں کچھ بھی اطمینان ہوا تو ہم اسے قبول کر لیں گے، اگر تم نے اسے ناپسند کیا تو ہم بھی برا جانیں گے، میں نے کہا: ہاں ( ٹھیک ہے میں جاؤں گا ) پھر میں چلا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ کا معاملہ ہمیں پسند آ گیا ( تو میں اسلام لے آیا ) اور میری قوم بھی اسلام لے آئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر ذی مران کو یہ تحریر لکھ کر دی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن مرارہ رہاوی کو تمام یمن والوں کے پاس ( اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے ) بھیجا، تو عک ذوخیوان ( ایک شخص کا نام ہے ) اسلام لے آیا۔ عک ذوخیوان سے کہا گیا کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور آپ سے اپنی بستی اور اپنے مال کے لیے امان لے کر آ ( تاکہ آئندہ کوئی تجھ پر اور تیری بستی والوں پر زیادتی نہ کرے ) تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکھ کر دیا آپ نے لکھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ کے رسول ہیں عک ذوخیوان کے لیے اگر وہ سچا ہے تو اسے لکھ کر دیا جاتا ہے کہ اس کو امان ہے، اس کی زمین، اس کے مال اور اس کے غلاموں میں، اسے اللہ اور اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ذمہ اور امان و پناہ حاصل ہے ۔ ( راوی کہتے ہیں ) خالد بن سعید بن العاص نے یہ پروانہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ) اسے لکھ کر دیا۔
حدثنا هناد بن السري، عن ابي اسامة، عن مجالد، عن الشعبي، عن عامر بن شهر، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت لي همدان هل انت ات هذا الرجل ومرتاد لنا فان رضيت لنا شييا قبلناه وان كرهت شييا كرهناه قلت نعم . فجيت حتى قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرضيت امره واسلم قومي وكتب رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا الكتاب الى عمير ذي مران قال وبعث مالك بن مرارة الرهاوي الى اليمن جميعا فاسلم عك ذو خيوان . قال فقيل لعك انطلق الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فخذ منه الامان على قريتك ومالك فقدم وكتب له رسول الله صلى الله عليه وسلم " بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله لعك ذي خيوان ان كان صادقا في ارضه وماله ورقيقه فله الامان وذمة الله وذمة محمد رسول الله " . وكتب خالد بن سعيد بن العاص