Loading...

Loading...
کتب
۱۶۱ احادیث
ابن اعبد کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی جو آپ کو اپنے تمام کنبے والوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پیاری تھیں کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، آپ نے کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے، اور پانی بھربھر کر مشک لاتیں جس سے ان کے سینے میں درد ہونے لگا اور گھر میں جھاڑو دیتیں جس سے ان کے کپڑے خاک آلود ہو جاتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام اور لونڈیاں آئیں تو میں نے ان سے کہا: اچھا ہوتا کہ تم اپنے ابا جان کے پاس جاتی، اور ان سے اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیتی، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ آپ سے گفتگو کر رہے ہیں تو لوٹ آئیں، دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم کس ضرورت سے آئی تھیں؟ ، وہ چپ رہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان ( گٹھا ) پڑ گیا، مشک ڈھوتے ڈھوتے سینے میں درد رہنے لگا اب آپ کے پاس خادم آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جائیں، اور آپ سے ایک خادم مانگ کر لائیں، جس کے ذریعہ اس شدت و تکلیف سے انہیں نجات ملے جس سے وہ دو چار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ! اللہ سے ڈرو اور اپنے رب کے فرائض ادا کرتی رہو، اور اپنے گھر کے کام کیا کرو، اور جب سونے چلو تو ( ۳۳ ) بار سبحان اللہ، ( ۳۳ ) بار الحمدللہ، اور ( ۳۴ ) بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، یہ کل سو ہوئے یہ تمہارے لیے خادمہ سے بہتر ہیں ۱؎ ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش ہوں۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، - يعني الجريري - عن ابي الورد، عن ابن اعبد، قال قال لي علي رضى الله عنه الا احدثك عني وعن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت من احب اهله اليه قلت بلى . قال انها جرت بالرحى حتى اثر في يدها واستقت بالقربة حتى اثر في نحرها وكنست البيت حتى اغبرت ثيابها فاتى النبي صلى الله عليه وسلم خدم فقلت لو اتيت اباك فسالتيه خادما فاتته فوجدت عنده حداثا فرجعت فاتاها من الغد فقال " ما كان حاجتك " . فسكتت فقلت انا احدثك يا رسول الله جرت بالرحى حتى اثرت في يدها وحملت بالقربة حتى اثرت في نحرها فلما ان جاءك الخدم امرتها ان تاتيك فتستخدمك خادما يقيها حر ما هي فيه . قال " اتقي الله يا فاطمة وادي فريضة ربك واعملي عمل اهلك فاذا اخذت مضجعك فسبحي ثلاثا وثلاثين واحمدي ثلاثا وثلاثين وكبري اربعا وثلاثين فتلك ماية فهي خير لك من خادم " . قالت رضيت عن الله عز وجل وعن رسوله صلى الله عليه وسلم
علی بن حسین سے بھی یہی واقعہ مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خادم نہیں دیا ۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن علي بن حسين، بهذه القصة قال ولم يخدمها
مجاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بھائی کی دیت مانگنے آئے جسے بنو ذہل میں سے بنی سدوس نے قتل کر ڈالا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی مشرک کی دیت دلاتا تو تمہارے بھائی کی دیت دلاتا، لیکن میں اس کا بدلہ تمہیں دلائے دیتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ذہل کے مشرکین سے پہلے پہل حاصل ہونے والے خمس میں سے سو اونٹ اسے دینے کے لیے لکھ دیا۔ مجاعہ رضی اللہ عنہ کو ان اونٹوں میں سے کچھ اونٹ بنو ذہل کے مسلمان ہو جانے کے بعد ملے، اور مجاعہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باقی اونٹوں کو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ان کے خلیفہ ہونے کے بعد طلب کئے اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب ( تحریر ) دکھائی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجاعہ رضی اللہ عنہ کے یمامہ کے صدقے میں سے بارہ ہزار صاع دینے کے لیے لکھ دیا، چار ہزار صاع گیہوں کے، چار ہزار صاع جو کے اور چار ہزار صاع کھجور کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاعہ کو جو کتاب ( تحریر ) لکھ کر دی تھی اس کا مضمون یہ تھا: شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے، یہ کتاب محمد نبی کی جانب سے مجاعہ بن مرارہ کے لیے ہے جو بنو سلمی میں سے ہیں، میں نے اسے بنی ذہل کے مشرکوں سے حاصل ہونے والے پہلے خمس میں سے سو اونٹ اس کے مقتول بھائی کے عوض میں دیا ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا عنبسة بن عبد الواحد القرشي، قال ابو جعفر - يعني ابن عيسى - كنا نقول انه من الابدال قبل ان نسمع ان الابدال من الموالي قال حدثني الدخيل بن اياس بن نوح بن مجاعة عن هلال بن سراج بن مجاعة عن ابيه عن جده مجاعة انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم يطلب دية اخيه قتلته بنو سدوس من بني ذهل . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو كنت جاعلا لمشرك دية جعلت لاخيك ولكن ساعطيك منه عقبى " . فكتب له النبي صلى الله عليه وسلم بماية من الابل من اول خمس يخرج من مشركي بني ذهل فاخذ طايفة منها واسلمت بنو ذهل فطلبها بعد مجاعة الى ابي بكر واتاه بكتاب النبي صلى الله عليه وسلم فكتب له ابو بكر باثنى عشر الف صاع من صدقة اليمامة اربعة الاف برا واربعة الاف شعيرا واربعة الاف تمرا وكان في كتاب النبي صلى الله عليه وسلم لمجاعة " بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من محمد النبي لمجاعة بن مرارة من بني سلمى اني اعطيته ماية من الابل من اول خمس يخرج من مشركي بني ذهل عقبة من اخيه
عامر شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حصہ تھا، جس کو «صفي» کہا جاتا تھا آپ اگر کوئی غلام، لونڈی یا کوئی گھوڑا لینا چاہتے تو مال غنیمت میں سے خمس سے پہلے لے لیتے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن مطرف، عن عامر الشعبي، قال كان للنبي صلى الله عليه وسلم سهم يدعى الصفي ان شاء عبدا وان شاء امة وان شاء فرسا يختاره قبل الخمس
ابن عون کہتے ہیں میں نے محمد ( محمد ابن سیرین ) سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے اور «صفي» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی حصہ لگایا جاتا تھا اگرچہ آپ لڑائی میں شریک نہ ہوتے اور سب سے پہلے خمس میں سے ۱؎ صفی آپ کے لیے لیا جاتا تھا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، وازهر، قالا حدثنا ابن عون، قال سالت محمدا عن سهم النبي، صلى الله عليه وسلم والصفي قال كان يضرب له بسهم مع المسلمين وان لم يشهد والصفي يوخذ له راس من الخمس قبل كل شىء
قتادہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خود لڑائی میں شریک ہوتے تو ایک حصہ چھانٹ کر جہاں سے چاہتے لے لیتے، ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا ( جو جنگ خیبر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملیں ) اسی حصے میں سے آئیں اور جب آپ لڑائی میں شریک نہ ہوتے تو ایک حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لگایا جاتا اور اس میں آپ کو انتخاب کا اختیار نہ ہوتا کہ جو چاہیں چھانٹ کر لے لیں۔
حدثنا محمود بن خالد السلمي، حدثنا عمر، - يعني ابن عبد الواحد - عن سعيد، - يعني ابن بشير - عن قتادة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا غزا كان له سهم صاف ياخذه من حيث شاءه فكانت صفية من ذلك السهم وكان اذا لم يغز بنفسه ضرب له بسهمه ولم يخير
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں صفیہ رضی اللہ عنہا «صفي» میں سے تھیں۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابو احمد، اخبرنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كانت صفية من الصفي
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم خیبر آئے ( یعنی غزوہ کے موقع پر ) تو جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے حسن و جمال کا ذکر کیا گیا، ان کا شوہر مارا گیا تھا، وہ دلہن تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم سد صہباء ۱؎ پہنچے، وہاں وہ حلال ہوئیں ( یعنی حیض سے فارغ ہوئیں اور ان کی عدت پوری ہو گئی ) تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شب زفاف منائی۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن الزهري، عن عمرو بن ابي عمرو، عن انس بن مالك، قال قدمنا خيبر فلما فتح الله تعالى الحصن ذكر له جمال صفية بنت حيى وقد قتل زوجها وكانت عروسا فاصطفاها رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه فخرج بها حتى بلغنا سد الصهباء حلت فبنى بها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا پہلے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آ گئی تھیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك، قال صارت صفية لدحية الكلبي ثم صارت لرسول الله صلى الله عليه وسلم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک خوبصورت لونڈی آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سات غلام دے کر خرید لیا اور انہیں ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا کہ انہیں بنا سنوار دیں۔ حماد کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا کہ وہ وہاں عدت گزار کر پاک و صاف ہو لیں۔
حدثنا محمد بن خلاد الباهلي، حدثنا بهز بن اسد، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت، عن انس، قال وقع في سهم دحية جارية جميلة فاشتراها رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبعة اروس ثم دفعها الى ام سليم تصنعها وتهييها قال حماد واحسبه قال وتعتد في بيتها صفية بنت حيى
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں خیبر میں سب قیدی جمع کئے گئے تو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قیدیوں میں سے مجھے ایک لونڈی عنایت فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو ، دحیہ نے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو لے لیا، تو ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! آپ نے ( صفیہ بنت حیی کو ) دحیہ کو دے دیا، صفیہ بنت حیی قریظہ اور نضیر ( کے یہودیوں ) کی سیدہ ( شہزادی ) ہے، وہ تو صرف آپ کے لیے موزوں و مناسب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دحیہ کو صفیہ سمیت بلا لاؤ ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو آپ نے دحیہ رضی اللہ عنہ سے کہا تم کوئی اور لونڈی لے لو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کر دیا اور ان سے نکاح کر لیا۔
حدثنا داود بن معاذ، حدثنا عبد الوارث، ح وحدثنا يعقوب بن ابراهيم، - المعنى - قال حدثنا ابن علية، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس، قال جمع السبى - يعني بخيبر - فجاء دحية فقال يا رسول الله اعطني جارية من السبى . قال " اذهب فخذ جارية " . فاخذ صفية بنت حيى فجاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا نبي الله اعطيت دحية - قال يعقوب - صفية بنت حيى سيدة قريظة والنضير - ثم اتفقا - ما تصلح الا لك . قال " ادعوه بها " . فلما نظر اليها النبي صلى الله عليه وسلم قال له " خذ جارية من السبى غيرها " . وان النبي صلى الله عليه وسلم اعتقها وتزوجها
یزید بن عبداللہ کہتے ہیں ہم مربد ( ایک گاؤں کا نام ہے ) میں تھے اتنے میں ایک شخص آیا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ میں سرخ چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ہم نے کہا: تم گویا کہ صحراء کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: ہاں ہم نے کہا: چمڑے کا یہ ٹکڑا جو تمہارے ہاتھ میں ہے تم ہمیں دے دو، اس نے اس کو ہمیں دے دیا، ہم نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زہیر بن اقیش کے لیے ہے ( انہیں معلوم ہو کہ ) اگر تم اس بات کی گواہی دینے لگ جاؤ گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے لگو گے اور مال غنیمت میں سے ( خمس جو اللہ و رسول کا حق ہے ) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ «صفی» کو ادا کرو گے تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی امان حاصل ہو گی ، تو ہم نے پوچھا: یہ تحریر تمہیں کس نے لکھ کر دی ہے؟ تو اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا قرة، قال سمعت يزيد بن عبد الله، قال كنا بالمربد فجاء رجل اشعث الراس بيده قطعة اديم احمر فقلنا كانك من اهل البادية . فقال اجل . قلنا ناولنا هذه القطعة الاديم التي في يدك فناولناها فقراناها فاذا فيها " من محمد رسول الله الى بني زهير بن اقيش انكم ان شهدتم ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله واقمتم الصلاة واتيتم الزكاة واديتم الخمس من المغنم وسهم النبي صلى الله عليه وسلم وسهم الصفي انتم امنون بامان الله ورسوله " . فقلنا من كتب لك هذا الكتاب قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور آپ ان تین لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی غزوہ تبوک کے موقع پر توبہ قبول ہوئی۱؎) کعب بن اشرف ( یہودی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف اکسایا کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے اس وقت وہاں سب قسم کے لوگ ملے جلے تھے ان میں مسلمان بھی تھے، اور مشرکین بھی جو بتوں کو پوجتے تھے، اور یہود بھی، وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے صحابہ کو بہت ستاتے تھے تو اللہ عزوجل نے اپنے نبی کو صبر اور عفوو درگزر کا حکم دیا، انہیں کی شان میں یہ آیت «ولتسمعن من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم» تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جو شرک کرتے ہیں سنو گے بہت سی مصیبت یعنی تم کو برا کہیں گے، تم کو ایذا پہنچائیں گے، اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو بڑا کام ہے ( سورۃ آل عمران: ۱۸۶ ) اتری تو کعب بن اشرف جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذارسانی سے باز نہیں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ چند آدمیوں کو بھیج کر اس کو قتل کرا دیں تو آپ نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، پھر راوی نے اس کے قتل کا قصہ بیان کیا، جب ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا تو یہودی اور مشرکین سب خوف زدہ ہو گئے، اور دوسرے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: رات میں ہمارا سردار مارا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ باتیں ذکر کیں جو وہ کہا کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک بات کی دعوت دی کہ آپ کے اور ان کے درمیان ایک معاہدہ لکھا جائے جس کی سبھی لوگ پابندی کریں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور ان کے درمیان ایک عمومی صحیفہ ( تحریری معاہدہ ) لکھا۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، ان الحكم بن نافع، حدثهم قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، عن ابيه، - وكان احد الثلاثة الذين تيب عليهم - وكان كعب بن الاشرف يهجو النبي صلى الله عليه وسلم ويحرض عليه كفار قريش وكان النبي صلى الله عليه وسلم حين قدم المدينة واهلها اخلاط منهم المسلمون والمشركون يعبدون الاوثان واليهود وكانوا يوذون النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه فامر الله عز وجل نبيه بالصبر والعفو ففيهم انزل الله { ولتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم } الاية فلما ابى كعب بن الاشرف ان ينزع عن اذى النبي صلى الله عليه وسلم امر النبي صلى الله عليه وسلم سعد بن معاذ ان يبعث رهطا يقتلونه فبعث محمد بن مسلمة وذكر قصة قتله فلما قتلوه فزعت اليهود والمشركون فغدوا على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا طرق صاحبنا فقتل . فذكر لهم النبي صلى الله عليه وسلم الذي كان يقول ودعاهم النبي صلى الله عليه وسلم الى ان يكتب بينه وبينهم كتابا ينتهون الى ما فيه فكتب النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبينهم وبين المسلمين عامة صحيفة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں قریش پر فتح حاصل کی اور مدینہ لوٹ کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں اکٹھا کیا، اور ان سے کہا: اے یہود کی جماعت! تم مسلمان ہو جاؤ قبل اس کے کہ تمہارا حال بھی وہی ہو جو قریش کا ہوا ، انہوں نے کہا: محمد! تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے قریش کے کچھ نا تجربہ کار لوگوں کو جو جنگ سے واقف نہیں تھے قتل کر دیا ہے، اگر تم ہم سے لڑتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ مرد میدان ہم ہیں ابھی تمہاری ہم جیسے جنگجو بہادر لوگوں سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «قل للذين كفروا ستغلبون» کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے ( سورۃ آل عمران: ۱۲ ) حدیث کے راوی مصرف نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «فئة تقاتل في سبيل الله» ، «وأخرى كافرة» تک تلاوت کی۔
حدثنا مصرف بن عمرو الايامي، حدثنا يونس، - يعني ابن بكير - قال حدثنا محمد بن اسحاق، حدثني محمد بن ابي محمد، مولى زيد بن ثابت عن سعيد بن جبير، وعكرمة، عن ابن عباس، قال لما اصاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قريشا يوم بدر وقدم المدينة جمع اليهود في سوق بني قينقاع فقال " يا معشر يهود اسلموا قبل ان يصيبكم مثل ما اصاب قريشا " . قالوا يا محمد لا يغرنك من نفسك انك قتلت نفرا من قريش كانوا اغمارا لا يعرفون القتال انك لو قاتلتنا لعرفت انا نحن الناس وانك لم تلق مثلنا . فانزل الله عز وجل في ذلك { قل للذين كفروا ستغلبون } قرا مصرف الى قوله { فية تقاتل في سبيل الله } ببدر { واخرى كافرة}
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہودیوں میں سے جس کسی مرد پر بھی تم قابو پاؤ اسے قتل کر دو ، تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہود کے سوداگروں میں سے ایک سوداگر کو جس کا نام شبیبہ تھا حملہ کر کے قتل کر دیا، اور اس وقت تک حویصہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور وہ محیصہ رضی اللہ عنہ سے بڑے تھے، تو جب محیصہ رضی اللہ عنہ نے یہودی تاجر کو قتل کر دیا تو حویصہ محیصہ کو مارنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! قسم اللہ کی تیرے پیٹ میں اس کے مال کی بڑی چربی ہے۔
حدثنا مصرف بن عمرو، حدثنا يونس، قال ابن اسحاق حدثني مولى، لزيد بن ثابت حدثتني ابنة محيصة، عن ابيها، محيصة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ظفرتم به من رجال يهود فاقتلوه " . فوثب محيصة على شبيبة رجل من تجار يهود كان يلابسهم فقتله وكان حويصة اذ ذاك لم يسلم وكان اسن من محيصة فلما قتله جعل حويصة يضربه ويقول يا عدو الله اما والله لرب شحم في بطنك من ماله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم مسجد میں تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لے آئے اور فرمانے لگے: یہود کی طرف چلو ، تو ہم سب آپ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ یہود کے پاس پہنچ گئے، پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پکار کر کہا: اے یہود کی جماعت! اسلام لے آؤ تو ( دنیا و آخرت کی بلاؤں و مصیبتوں سے ) محفوظ ہو جاؤ گے ، تو انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پھر یہی فرمایا: «أسلموا تسلموا» انہوں نے پھر کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہی مقصد تھا ، پھر تیسری بار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور مزید یہ بھی کہا کہ: جان لو! زمین اللہ کی، اور اس کے رسول کی ہے ( اگر تم ایمان نہ لائے ) تو میں تمہیں اس سر زمین سے جلا وطن کر دینے کا ارادہ کرتا ہوں، تو جو شخص اپنے مال کے لے جانے میں کچھ ( دقت و دشواری ) پائے ( اور بیچنا چاہے ) تو بیچ لے، ورنہ جان لو کہ ( سب بحق سرکار ضبط ہو جائے گا کیونکہ ) زمین اللہ کی اور اس کے رسول کی ہے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، اخبرنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، انه قال بينا نحن في المسجد اذ خرج الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انطلقوا الى يهود " . فخرجنا معه حتى جيناهم فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فناداهم فقال يا معشر يهود اسلموا تسلموا " . فقالوا قد بلغت يا ابا القاسم . فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسلموا تسلموا " . فقالوا قد بلغت يا ابا القاسم . فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " ذلك اريد " . ثم قالها الثالثة " اعلموا انما الارض لله ورسوله واني اريد ان اجليكم من هذه الارض فمن وجد منكم بماله شييا فليبعه والا فاعلموا انما الارض لله ورسوله صلى الله عليه وسلم
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ کفار قریش نے اس وقت جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آ گئے تھے اور جنگ بدر پیش نہ آئی تھی عبداللہ بن ابی اور اس کے اوس و خزرج کے بت پرست ساتھیوں کو لکھا کہ تم نے ہمارے ساتھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اپنے یہاں پناہ دی ہے، ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم اس سے لڑ بھڑ ( کر اسے قتل کر دو ) یا اسے وہاں سے نکال دو، نہیں تو ہم سب مل کر تمہارے اوپر حملہ کر دیں گے، تمہارے لڑنے کے قابل لوگوں کو قتل کر دیں گے اور تمہاری عورتوں کو اپنے لیے مباح کر لیں گے۔ جب یہ خط عبداللہ بن ابی اور اس کے بت پرست ساتھیوں کو پہنچا تو وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے، جب یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ جا کر ان سے ملے اور انہیں سمجھایا کہ قریش کی دھمکی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی دھمکی ہے، قریش تمہیں اتنا ضرر نہیں پہنچا سکتے جتنا تم خود اپنے تئیں ضرر پہنچا سکتے ہو، کیونکہ تم اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں سے لڑنا چاہتے ہو، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تو وہ آپس میں ایک رائے نہیں رہے، بٹ گئے، ( جنگ کا ارادہ سب کا نہیں رہا ) تو یہ بات کفار قریش کو پہنچی تو انہوں نے واقعہ بدر کے بعد پھر اہل یہود کو خط لکھا کہ تم لوگ ہتھیار اور قلعہ والے ہو تم ہمارے ساتھی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے لڑو نہیں تو ہم تمہاری ایسی تیسی کر دیں گے ( یعنی قتل کریں گے ) اور ہمارے درمیان اور تمہاری عورتوں کی پنڈلیوں و پازیبوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو گی، جب ان کا خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ لگا، تو بنو نضیر نے فریب دہی و عہدشکنی کا پلان بنا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا کہ آپ اپنے اصحاب میں سے تیس آدمی لے کر ہماری طرف نکلئے، اور ہمارے بھی تیس عالم نکل کر آپ سے ایک درمیانی مقام میں رہیں گے، وہ آپ کی گفتگو سنیں گے اگر آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ پر ایمان لائیں گے تو ہم سب آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے ان کی یہ سب باتیں بیان کر دیں، دوسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا لشکر لے کر ان کی طرف گئے اور ان کا محاصرہ کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اللہ کی قسم ہمیں تم پر اس وقت تک اطمینان نہ ہو گا جب تک کہ تم ہم سے معاہدہ نہ کر لو گے ، تو انہوں نے عہد دینے سے انکار کیا ( کیونکہ ان کا ارادہ دھوکہ دینے کا تھا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس دن جنگ کی، پھر دوسرے دن آپ نے اپنے لشکر کو لے کر قریظہ کے یہودیوں پر چڑھائی کر دی اور بنو نضیر کو چھوڑ دیا اور ان سے کہا: تم ہم سے معاہدہ کر لو ، انہوں نے معاہدہ کر لیا کہ ( ہم آپ سے نہ لڑیں گے اور نہ آپ کے دشمن کی مدد کریں گے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ سے معاہدہ کر کے واپس آ گئے، دوسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوجی دستے لے کر بنو نضیر کی طرف بڑھے اور ان سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ جلا وطن ہو جانے پر راضی ہو گئے تو وہ جلا وطن کر دئیے گئے، اور ان کے اونٹ ان کا جتنا مال و اسباب گھروں کے دروازے اور کاٹ کباڑ لاد کر لے جا سکے وہ سب لاد کر لے گئے، ان کے کھجوروں کے باغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہو گئے، اللہ نے انہیں آپ کو عطا کر دیا، اور آپ کے لیے خاص کر دیا، اور ارشاد فرمایا: «وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو کافروں کے مال میں سے جو کچھ عطا کیا ہے وہ تمہارے اونٹ اور گھوڑے دوڑانے یعنی جنگ کرنے کے نتیجہ میں نہیں دیا ہے ( سورۃ الحشر: ۶ ) ۔ راوی کہتے ہیں: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» کے معنی ہیں جو آپ کو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا زیادہ تر حصہ مہاجرین کو دیا اور انہیں کے درمیان تقسیم فرمایا اور اس میں سے آپ نے دو ضرورت مند انصاریوں کو بھی دیا، ان دو کے علاوہ کسی دوسرے انصاری کو نہیں دیا، اور جس قدر باقی رہا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ تھا جو فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد کے ہاتھ میں رہا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی آپ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا، اور بنو قریظہ کو رہنے دیا اور ان پر احسان فرمایا ( اس لیے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کر لیا تھا ) یہاں تک کہ قریظہ اس کے بعد لڑے ۱؎ تو ان کے مرد مارے گئے، ان کی عورتیں، ان کی اولاد، اور ان کے مال مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے، ان میں کچھ ہی لوگ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امان دی، وہ مسلمان ہو گئے، باقی مدینہ کے سارے یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے نکال بھگایا، بنو قینقاع کے یہودیوں کو بھی جو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم سے تھے اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو بھی اور جو کوئی بھی یہودی تھا سب کو مدینہ سے نکال باہر کیا۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، ان يهود بني النضير، وقريظة، حاربوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بني النضير واقر قريظة ومن عليهم حتى حاربت قريظة بعد ذلك فقتل رجالهم وقسم نساءهم واولادهم واموالهم بين المسلمين الا بعضهم لحقوا برسول الله صلى الله عليه وسلم فامنهم واسلموا واجلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يهود المدينة كلهم بني قينقاع وهم قوم عبد الله بن سلام ويهود بني حارثة وكل يهودي كان بالمدينة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے جنگ کی، ان کی زمین، اور ان کے کھجور کے باغات قابض ہو گئے اور انہیں اپنے قلعہ میں محصور ہو جانے پر مجبور کر دیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر صلح کر لی کہ سونا چاندی اور ہتھیار جو کچھ بھی ہیں وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوں گے اور ان کے لیے صرف وہی کچھ ( مال و اسباب ) ہے جنہیں ان کے اونٹ اپنے ساتھ اٹھا کر لے جا سکیں، انہیں اس کا حق و اختیار نہ ہو گا کہ وہ کوئی چیز چھپائیں یا غائب کریں، اگر انہوں نے ایسا کیا تو مسلمانوں پر ان کی حفاظت اور معاہدے کی پاس داری کی کوئی ذمہ داری نہ رہے گی تو انہوں نے حیی بن اخطب کے چمڑے کی ایک تھیلی غائب کر دی، حیی بن اخطب خیبر سے پہلے قتل کیا گیا تھا، اور وہ جس دن بنو نضیر جلا وطن کئے گئے تھے اسے اپنے ساتھ اٹھا لایا تھا اس میں ان کے زیورات تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعیہ ( یہودی ) سے پوچھا: حیی بن اخطب کی تھیلی کہاں ہے؟ ، اس نے کہا: لڑائیوں میں کام آ گئی اور مصارف میں خرچ ہو گئی پھر صحابہ کو وہ تھیلی مل گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حقیق کو قتل کر دیا، ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا، اور ان کی اولاد کو غلام بنا لیا، ان کو جلا وطن کر دینے کا ارادہ کر لیا، تو وہ کہنے لگے: محمد! ہمیں یہیں رہنے دیجئیے، ہم اس زمین میں کام کریں گے ( جوتیں بوئیں گے ) اور جو پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا آپ کو دیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس پیداوار سے ) اپنی ہر ہر بیوی کو ( سال بھر میں ) ( ۸۰، ۸۰ ) وسق کھجور کے اور ( ۲۰، ۲۰ ) وسق جو کے دیتے تھے۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا حماد بن سلمة، عن عبيد الله بن عمر، قال - احسبه - عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قاتل اهل خيبر فغلب على النخل والارض والجاهم الى قصرهم فصالحوه على ان لرسول الله صلى الله عليه وسلم الصفراء والبيضاء والحلقة ولهم ما حملت ركابهم على ان لا يكتموا ولا يغيبوا شييا فان فعلوا فلا ذمة لهم ولا عهد فغيبوا مسكا لحيى بن اخطب وقد كان قتل قبل خيبر كان احتمله معه يوم بني النضير حين اجليت النضير فيه حليهم قال فقال النبي صلى الله عليه وسلم لسعية " اين مسك حيى بن اخطب " . قال اذهبته الحروب والنفقات . فوجدوا المسك فقتل ابن ابي الحقيق وسبى نساءهم وذراريهم واراد ان يجليهم فقالوا يا محمد دعنا نعمل في هذه الارض ولنا الشطر ما بدا لك ولكم الشطر . وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي كل امراة من نسايه ثمانين وسقا من تمر وعشرين وسقا من شعير
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے یہ معاملہ کیا تھا کہ ہم جب چاہیں گے انہیں یہاں سے جلا وطن کر دیں گے، تو جس کا کوئی مال ان یہودیوں کے پاس ہو وہ اسے لے لے، کیونکہ میں یہودیوں کو ( اس سر زمین سے ) نکال دینے والا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نکال دیا ۱؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، حدثني نافع، مولى عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر، ان عمر، قال ايها الناس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عامل يهود خيبر على انا نخرجهم اذا شينا فمن كان له مال فليلحق به فاني مخرج يهود . فاخرجهم
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان كفار قريش كتبوا الى ابن ابى ومن كان يعبد معه الاوثان من الاوس والخزرج ورسول الله صلى الله عليه وسلم يوميذ بالمدينة قبل وقعة بدر انكم اويتم صاحبنا وانا نقسم بالله لتقاتلنه او لتخرجنه او لنسيرن اليكم باجمعنا حتى نقتل مقاتلتكم ونستبيح نساءكم . فلما بلغ ذلك عبد الله بن ابى ومن كان معه من عبدة الاوثان اجتمعوا لقتال النبي صلى الله عليه وسلم فلما بلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم لقيهم فقال " لقد بلغ وعيد قريش منكم المبالغ ما كانت تكيدكم باكثر مما تريدون ان تكيدوا به انفسكم تريدون ان تقاتلوا ابناءكم واخوانكم " . فلما سمعوا ذلك من النبي صلى الله عليه وسلم تفرقوا فبلغ ذلك كفار قريش فكتبت كفار قريش بعد وقعة بدر الى اليهود انكم اهل الحلقة والحصون وانكم لتقاتلن صاحبنا او لنفعلن كذا وكذا ولا يحول بيننا وبين خدم نسايكم شىء - وهي الخلاخيل - فلما بلغ كتابهم النبي صلى الله عليه وسلم اجمعت بنو النضير بالغدر فارسلوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم اخرج الينا في ثلاثين رجلا من اصحابك وليخرج منا ثلاثون حبرا حتى نلتقي بمكان المنصف فيسمعوا منك . فان صدقوك وامنوا بك امنا بك فقص خبرهم فلما كان الغد غدا عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالكتايب فحصرهم فقال لهم " انكم والله لا تامنون عندي الا بعهد تعاهدوني عليه " . فابوا ان يعطوه عهدا فقاتلهم يومهم ذلك ثم غدا الغد على بني قريظة بالكتايب وترك بني النضير ودعاهم الى ان يعاهدوه فعاهدوه فانصرف عنهم وغدا على بني النضير بالكتايب فقاتلهم حتى نزلوا على الجلاء فجلت بنو النضير واحتملوا ما اقلت الابل من امتعتهم وابواب بيوتهم وخشبها فكان نخل بني النضير لرسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة اعطاه الله اياها وخصه بها فقال { وما افاء الله على رسوله منهم فما اوجفتم عليه من خيل ولا ركاب } يقول بغير قتال فاعطى النبي صلى الله عليه وسلم اكثرها للمهاجرين وقسمها بينهم وقسم منها لرجلين من الانصار وكانا ذوي حاجة لم يقسم لاحد من الانصار غيرهما وبقي منها صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في ايدي بني فاطمة رضي الله عنها