Loading...

Loading...
کتب
۱۶۱ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ( کسی کو ) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، وہ ان سے اپنی میراث مانگ رہی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ترکہ میں سے جسے اللہ نے آپ کو مدینہ اور فدک میں اور خیبر کے خمس کے باقی ماندہ میں سے عطا کیا تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل اولاد اس مال سے صرف کھا سکتی ہے ( یعنی کھانے کے بمقدار لے سکتی ہے ) ، اور میں قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ کی جو صورت حال تھی اس میں ذرا بھی تبدیلی نہ کروں گا، میں اس مال میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، حاصل یہ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس مال میں سے ( بطور وراثت ) کچھ دینے سے انکار کر دیا۔
حدثنا يزيد بن خالد بن عبد الله بن موهب الهمداني، حدثنا الليث بن سعد، عن عقيل بن خالد، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها اخبرته ان فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ارسلت الى ابي بكر الصديق رضى الله عنه تساله ميراثها من رسول الله صلى الله عليه وسلم مما افاء الله عليه بالمدينة وفدك وما بقي من خمس خيبر . فقال ابو بكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث ما تركنا صدقة انما ياكل ال محمد من هذا المال " . واني والله لا اغير شييا من صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن حالها التي كانت عليه في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فلاعملن فيها بما عمل به رسول الله صلى الله عليه وسلم فابى ابو بكر رضى الله عنه ان يدفع الى فاطمة عليها السلام منها شييا
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس وقت ( اپنے والد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس صدقے کی طلب گار تھیں جو مدینہ اور فدک میں تھا اور جو خیبر کے خمس میں سے بچ رہا تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد اس مال میں سے ( یعنی اللہ کے مال میں سے ) صرف اپنے کھانے کی مقدار لے گی اس مال میں خوراکی کے سوا ان کا کوئی حق نہیں ہے۔
حدثنا عمرو بن عثمان الحمصي، حدثنا ابي، حدثنا شعيب بن ابي حمزة، عن الزهري، حدثني عروة بن الزبير، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته بهذا الحديث قال وفاطمة عليها السلام حينيذ تطلب صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي بالمدينة وفدك وما بقي من خمس خيبر . قالت عايشة رضى الله عنها فقال ابو بكر رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث ما تركنا صدقة وانما ياكل ال محمد في هذا المال " . يعني مال الله ليس لهم ان يزيدوا على الماكل
(اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے دینے سے انکار کیا اور کہا: میں کوئی ایسی چیز چھوڑ نہیں سکتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے رہے ہوں، میں بھی وہی کروں گا، میں ڈرتا ہوں کہ آپ کے کسی حکم کو چھوڑ کر گمراہ نہ ہو جاؤں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے مدینہ کے صدقے کو علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی تحویل میں دے دیا، علی رضی اللہ عنہ اس پر غالب اور قابض رہے، رہا خیبر اور فدک تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو روکے رکھا اور کہا کہ یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صدقے ہیں جو آپ کی پیش آمدہ ضروریات اور مشکلات و حوادث، مجاہدین کی تیاری، اسلحہ کی خریداری اور مسافروں کی خبرگیری وغیرہ امور ) میں کام آتے تھے ان کا اختیار اس کو رہے گا جو والی ( یعنی خلیفہ ) ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ دونوں آج تک ایسے ہی رہے۔
حدثنا حجاج بن ابي يعقوب، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة، ان عايشة، رضى الله عنها اخبرته بهذا الحديث، قال فيه فابى ابو بكر رضى الله عنه عليها ذلك وقال لست تاركا شييا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعمل به الا عملت به اني اخشى ان تركت شييا من امره ان ازيغ فاما صدقته بالمدينة فدفعها عمر الى علي وعباس رضى الله عنهم فغلبه علي عليها واما خيبر وفدك فامسكهما عمر وقال هما صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم كانتا لحقوقه التي تعروه ونوايبه وامرهما الى من ولي الامر . قال فهما على ذلك الى اليوم
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ اللہ نے جو فرمایا ہے: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی تم نے ان مالوں کے واسطے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے یعنی بغیر جنگ کے حاصل ہوئے ( سورۃ الحشر: ۶ ) تو ان کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فدک اور کچھ دوسرے گاؤں والوں سے جن کے نام زہری نے تو لیے لیکن راوی کو یاد نہیں رہا صلح کی، اس وقت آپ ایک اور قوم کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، اور ان لوگوں نے آپ کے پاس بطور صلح مال بھیجا تھا، اس مال کے تعلق سے اللہ نے فرمایا: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی بغیر لڑائی کے یہ مال ہاتھ آیا ( اور اللہ نے اپنے رسول کو دیا ) ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں بنو نضیر کے مال بھی خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے، لوگوں نے اسے زور و زبردستی سے ( یعنی لڑائی کر کے ) فتح نہیں کیا تھا۔ صلح کے ذریعہ فتح کیا تھا، تو آپ نے اسے مہاجرین میں تقسیم کر دیا، اس میں سے انصار کو کچھ نہ دیا، سوائے دو آدمیوں کے جو ضرورت مند تھے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا ابن ثور، عن معمر، عن الزهري، في قوله { فما اوجفتم عليه من خيل ولا ركاب } قال صالح النبي صلى الله عليه وسلم اهل فدك وقرى قد سماها لا احفظها وهو محاصر قوما اخرين فارسلوا اليه بالصلح قال { فما اوجفتم عليه من خيل ولا ركاب } يقول بغير قتال قال الزهري وكانت بنو النضير للنبي صلى الله عليه وسلم خالصا لم يفتحوها عنوة افتتحوها على صلح فقسمها النبي صلى الله عليه وسلم بين المهاجرين لم يعط الانصار منها شييا الا رجلين كانت بهما حاجة
مغیرہ کہتے ہیں عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مروان بن حکم کے بیٹوں کو اکٹھا کیا پھر ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فدک تھا، آپ اس کی آمدنی سے ( اہل و عیال، فقراء و مساکین پر ) خرچ کرتے تھے، اس سے بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں پر احسان فرماتے تھے، ان کی بیوہ عورتوں کے نکاح پر خرچ کرتے تھے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فدک مانگا تو آپ نے انہیں دینے سے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک ایسا ہی رہا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ویسے ہی عمل کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی انتقال فرما گئے، پھر مروان نے اسے اپنی جاگیر بنا لیا، پھر وہ عمر بن عبدالعزیز کے قبضہ و تصرف میں آیا، عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: تو میں نے اس معاملے پر غور و فکر کیا، میں نے اسے ایک ایسا معاملہ جانا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فاطمہ علیہا السلام کو دینے سے منع کر دیا تو پھر ہمیں کہاں سے یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم اسے اپنی ملکیت میں رکھیں؟ تو سن لو، میں تم سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اسے میں نے پھر اس کی اپنی اسی حالت پر لوٹا دیا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا ( یعنی میں نے پھر وقف کر دیا ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیزخلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی، اور انتقال کیا تو ( گھٹ کر ) چار سو دینار ہو گئی تھی، اور اگر وہ اور زندہ رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، حدثنا جرير، عن المغيرة، قال جمع عمر بن عبد العزيز بني مروان حين استخلف فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت له فدك فكان ينفق منها ويعود منها على صغير بني هاشم ويزوج منها ايمهم وان فاطمة سالته ان يجعلها لها فابى فكانت كذلك في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى مضى لسبيله فلما ان ولي ابو بكر رضى الله عنه عمل فيها بما عمل النبي صلى الله عليه وسلم في حياته حتى مضى لسبيله فلما ان ولي عمر عمل فيها بمثل ما عملا حتى مضى لسبيله ثم اقطعها مروان ثم صارت لعمر بن عبد العزيز قال - يعني عمر بن عبد العزيز - فرايت امرا منعه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة عليها السلام ليس لي بحق وانا اشهدكم اني قد رددتها على ما كانت يعني على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود ولي عمر بن عبد العزيز الخلافة وغلته اربعون الف دينار وتوفي وغلته اربعماية دينار ولو بقي لكان اقل
ابوطفیل کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ سے اپنی میراث مانگنے آئیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اللہ عزوجل جب کسی نبی کو کوئی معاش دیتا ہے تو وہ اس کے بعد اس کے قائم مقام ( خلیفہ ) کو ملتا ہے ، ( یعنی اس کے وارثوں کو نہیں ملتا ) ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن الفضيل، عن الوليد بن جميع، عن ابي الطفيل، قال جاءت فاطمة رضى الله عنها الى ابي بكر رضى الله عنه تطلب ميراثها من النبي صلى الله عليه وسلم قال فقال ابو بكر عليه السلام سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله عز وجل اذا اطعم نبيا طعمة فهي للذي يقوم من بعده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ورثاء میری میراث سے جو میں چھوڑ کر مروں ایک دینار بھی تقسیم نہ کریں گے، اپنی بیویوں کے نفقے اور اپنے عامل کے خرچے کے بعد جو کچھ میں چھوڑوں وہ صدقہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مؤنة عاملي» میں «عاملي» سے مراد کاشتکار، زمین جوتنے، بونے والے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقتسم ورثتي دينارا ما تركت بعد نفقة نسايي ومونة عاملي فهو صدقة " . قال ابو داود " مونة عاملي " . يعني اكرة الارض
ابوالبختری کہتے ہیں میں نے ایک شخص سے ایک حدیث سنی وہ مجھے انوکھی سی لگی، میں نے اس سے کہا: ذرا اسے مجھے لکھ کر دو، تو وہ صاف صاف لکھ کر لایا: علی اور عباس رضی اللہ عنہما عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور ان کے پاس طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم ( پہلے سے ) بیٹھے تھے، یہ دونوں ( یعنی عباس اور علی رضی اللہ عنہما ) جھگڑنے لگے، عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: نبی کا سارا مال صدقہ ہے سوائے اس کے جسے انہوں نے اپنے اہل کو کھلا دیا یا پہنا دیا ہو، ہم لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ، لوگوں نے کہا: کیوں نہیں ( ہم یہ بات جانتے ہیں آپ نے ایسا ہی فرمایا ہے ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مال میں سے اپنے اہل پر صرف کرتے تھے اور جو کچھ بچ رہتا وہ صدقہ کر دیتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے آپ کے بعد اس مال کے متولی ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال تک رہے، وہ ویسے ہی کرتے رہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، پھر راوی نے مالک بن اوس کی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابي البختري، قال سمعت حديثا، من رجل فاعجبني فقلت اكتبه لي فاتى به مكتوبا مذبرا دخل العباس وعلي على عمر وعنده طلحة والزبير وعبد الرحمن وسعد وهما يختصمان فقال عمر لطلحة والزبير وعبد الرحمن وسعد الم تعلموا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كل مال النبي صلى الله عليه وسلم صدقة الا ما اطعمه اهله وكساهم انا لا نورث " . قالوا بلى . قال فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينفق من ماله على اهله ويتصدق بفضله ثم توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم فوليها ابو بكر سنتين فكان يصنع الذي كان يصنع رسول الله صلى الله عليه وسلم . ثم ذكر شييا من حديث مالك بن اوس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو امہات المؤمنین نے ارادہ کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا آٹھواں حصہ طلب کریں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سب سے کہا ( کیا تمہیں یاد نہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، انها قالت ان ازواج النبي صلى الله عليه وسلم حين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم اردن ان يبعثن عثمان بن عفان الى ابي بكر الصديق فيسالنه ثمنهن من النبي صلى الله عليه وسلم فقالت لهن عايشة اليس قد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نورث ما تركنا فهو صدقة
اس سند سے بھی ابن شہاب زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے، اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( دیگر امہات المؤمنین سے ) کہا: تم اللہ سے ڈرتی نہیں، کیا تم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، اور یہ مال آل محمد کی ضروریات اور ان کے مہمانوں کے لیے ہے، اور جب میرا انتقال ہو جائے گا تو یہ مال اس شخص کی نگرانی و تحویل میں رہے گا جو میرے بعد معاملہ کا والی ہو گا ( مسلمانوں کا خلیفہ ہو گا ) ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا ابراهيم بن حمزة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن اسامة بن زيد، عن ابن شهاب، باسناده نحوه قلت الا تتقين الله الم تسمعن رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا نورث ما تركنا فهو صدقة وانما هذا المال لال محمد لنايبتهم ولضيفهم فاذا مت فهو الى من ولي الامر من بعدي
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ اور عثمان بن عفان دونوں اس خمس کی تقسیم کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۱؎ جو آپ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے درمیان تقسیم فرمایا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنو مطلب کو حصہ دلایا اور ہم کو کچھ نہ دلایا جب کہ ہمارا اور ان کا آپ سے تعلق و رشتہ یکساں ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو ہاشم اور بنو مطلب دونوں ایک ہی ہیں ۲؎ جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد شمس اور بنی نوفل کو اس خمس میں سے کچھ نہیں دیا جیسے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو دیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ ۳؎ بھی اپنی خلافت میں خمس کو اسی طرح تقسیم کرتے تھے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرماتے تھے مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیزوں کو نہ دیتے تھے جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیتے تھے، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس میں سے ان کو دیتے تھے اور ان کے بعد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی ان کو دیتے تھے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن عبد الله بن المبارك، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، اخبرني سعيد بن المسيب، اخبرني جبير بن مطعم، انه جاء هو وعثمان بن عفان يكلمان رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما قسم من الخمس بين بني هاشم وبني المطلب فقلت يا رسول الله قسمت لاخواننا بني المطلب ولم تعطنا شييا وقرابتنا وقرابتهم منك واحدة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انما بنو هاشم وبنو المطلب شىء واحد " . قال جبير ولم يقسم لبني عبد شمس ولا لبني نوفل من ذلك الخمس كما قسم لبني هاشم وبني المطلب . قال وكان ابو بكر يقسم الخمس نحو قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم غير انه لم يكن يعطي قربى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يعطيهم . قال وكان عمر بن الخطاب يعطيهم منه وعثمان بعده
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو خمس میں سے کچھ نہیں دیا، جب کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی خمس اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم کیا کرتے تھے، مگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کو نہ دیتے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دیا کرتے تھے، البتہ عمر رضی اللہ عنہ انہیں دیا کرتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ کے بعد جو خلیفہ ہوئے وہ بھی دیا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا عثمان بن عمر، اخبرني يونس، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، حدثنا جبير بن مطعم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يقسم لبني عبد شمس ولا لبني نوفل من الخمس شييا كما قسم لبني هاشم وبني المطلب . قال وكان ابو بكر يقسم الخمس نحو قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم غير انه لم يكن يعطي قربى رسول الله صلى الله عليه وسلم كما كان يعطيهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان عمر يعطيهم ومن كان بعده منهم
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب خیبر کی جنگ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں سے قرابت داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا، اور بنو نوفل اور بنو عبد شمس کو چھوڑ دیا، تو میں اور عثمان رضی اللہ عنہ دونوں چل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ بنو ہاشم ہیں، ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انہیں میں سے کیا ہے، لیکن ہمارے بھائی بنو مطلب کا کیا معاملہ ہے؟ کہ آپ نے ان کو دیا اور ہم کو نہیں دیا، جب کہ آپ سے ہماری اور ان کی قرابت داری یکساں ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم اور بنو مطلب دونوں جدا نہیں ہوئے نہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں، ہم اور وہ ایک چیز ہیں ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا ( گویا دکھایا کہ اس طرح ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا هشيم، عن محمد بن اسحاق، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، اخبرني جبير بن مطعم، قال لما كان يوم خيبر وضع رسول الله صلى الله عليه وسلم سهم ذي القربى في بني هاشم وبني المطلب وترك بني نوفل وبني عبد شمس فانطلقت انا وعثمان بن عفان حتى اتينا النبي صلى الله عليه وسلم فقلنا يا رسول الله هولاء بنو هاشم لا ننكر فضلهم للموضع الذي وضعك الله به منهم فما بال اخواننا بني المطلب اعطيتهم وتركتنا وقرابتنا واحدة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا وبنو المطلب لا نفترق في جاهلية ولا اسلام وانما نحن وهم شىء واحد " . وشبك بين اصابعه
سدی کہتے ہیں کہ کلام اللہ میں «ذي القربى» کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد عبدالمطلب کی اولاد ہے۔
حدثنا حسين بن علي العجلي، حدثنا وكيع، عن الحسن بن صالح، عن السدي، في ذي القربى قال هم بنو عبد المطلب
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یزید بن ہرمز نے خبر دی کہ نجدہ حروری ( خارجیوں کے رئیس ) نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے بحران کے زمانہ میں ۱؎ جس وقت حج کیا تو اس نے ایک شخص کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس «ذي القربى» کا حصہ پوچھنے کے لیے بھیجا اور یہ بھی پوچھا کہ آپ کے نزدیک اس سے کون مراد ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز و اقارب مراد ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان سب میں تقسیم فرمایا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ہمیں اس میں سے دیا تھا لیکن ہم نے اسے اپنے حق سے کم پایا تو لوٹا دیا اور لینے سے انکار کر دیا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، اخبرني يزيد بن هرمز، ان نجدة الحروري، حين حج في فتنة ابن الزبير ارسل الى ابن عباس يساله عن سهم ذي القربى ويقول لمن تراه قال ابن عباس لقربى رسول الله صلى الله عليه وسلم قسمه لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد كان عمر عرض علينا من ذلك عرضا رايناه دون حقنا فرددناه عليه وابينا ان نقبله
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس کا خمس ( پانچویں حصہ کا پانچواں حصہ ) دیا، تو میں اسے اس کے خرچ کے مد میں صرف کرتا رہا، جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما زندہ رہے پھر ( عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ) ان کے پاس مال آیا تو انہوں نے مجھے بلایا اور کہا: اس کو لے لو، میں نے کہا: میں نہیں لینا چاہتا، انہوں نے کہا: لے لو تم اس کے زیادہ حقدار ہو، میں نے کہا: اب ہمیں اس مال کی حاجت نہیں رہی ( ہمیں اللہ نے اس سے بے نیاز کر دیا ہے ) تو انہوں نے اسے بیت المال میں داخل کر دیا۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا ابو جعفر الرازي، عن مطرف، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال سمعت عليا، يقول ولاني رسول الله صلى الله عليه وسلم خمس الخمس فوضعته مواضعه حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم وحياة ابي بكر وحياة عمر فاتي بمال فدعاني فقال خذه . فقلت لا اريده . قال خذه فانتم احق به . قلت قد استغنينا عنه فجعله في بيت المال
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں، عباس، فاطمہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم چاروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہمارا جو حق خمس میں کتاب اللہ کے موافق ہے وہ ہمارے اختیار میں دے دیجئیے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ رہنے کے بعد مجھ سے کوئی جھگڑا نہ کرے، تو آپ نے ایسا ہی کیا، پھر میں جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہے اسے تقسیم کرتا رہا پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کا اختیار سونپا، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری سال میں آپ کے پاس بہت سا مال آیا، آپ نے اس میں سے ہمارا حق الگ کیا، پھر مجھے بلا بھیجا، میں نے کہا: اس سال ہم کو مال کی ضرورت نہیں جب کہ دوسرے مسلمان اس کے حاجت مند ہیں، آپ ان کو دے دیجئیے، عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو دے دیا، عمر رضی اللہ عنہ کے بعد پھر کسی نے مجھے اس مال ( یعنی خمس الخمس ) کے لینے کے لیے نہیں بلایا، عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلنے کے بعد میں عباس رضی اللہ عنہ سے ملا، تو وہ کہنے لگے: علی! تم نے ہم کو آج ایسی چیز سے محروم کر دیا جو پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے گی ( یعنی اب کبھی یہ حصہ ہم کو نہ ملے گا ) اور وہ ایک سمجھدار آدمی تھے ( انہوں نے جو کہا تھا وہی ہوا ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن نمير، حدثنا هاشم بن البريد، حدثنا حسين بن ميمون، عن عبد الله بن عبد الله، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال سمعت عليا، عليه السلام يقول اجتمعت انا والعباس، وفاطمة، وزيد بن حارثة، عند النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ان رايت ان توليني حقنا من هذا الخمس في كتاب الله فاقسمه حياتك كى لا ينازعني احد بعدك فافعل . قال ففعل ذلك - قال - فقسمته حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ولانيه ابو بكر رضى الله عنه حتى اذا كانت اخر سنة من سني عمر رضى الله عنه فانه اتاه مال كثير فعزل حقنا ثم ارسل الى فقلت بنا عنه العام غنى وبالمسلمين اليه حاجة فاردده عليهم فرده عليهم ثم لم يدعني اليه احد بعد عمر فلقيت العباس بعد ما خرجت من عند عمر فقال يا علي حرمتنا الغداة شييا لا يرد علينا ابدا وكان رجلا داهيا
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے خبر دی کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما نے ان سے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے عرض کرو کہ اللہ کے رسول! ہم جس عمر کو پہنچ گئے ہیں وہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں، اور ہم شادی کرنے کے خواہاں ہیں، اللہ کے رسول! آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ رشتہ و ناتے کا خیال رکھنے والے ہیں، ہمارے والدین کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اللہ کے رسول! ہمیں صدقہ وصولی کے کام پر لگا دیجئیے جو دوسرے عمال وصول کر کے دیتے ہیں وہ ہم بھی وصول کر کے دیں گے اور جو فائدہ ( یعنی حق محنت ) ہو گا وہ ہم پائیں گے۔ عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم اسی حال میں تھے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ گئے اور انہوں نے ہم سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قسم اللہ کی! ہم تم میں سے کسی کو بھی صدقہ کی وصولی کا عامل نہیں بنائیں گے ۱؎ ۔ اس پر ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تم اپنی طرف سے کہہ رہے ہو، تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف حاصل کیا تو ہم نے تم سے کوئی حسد نہیں کیا، یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ اپنی چادر بچھا کر اس پر لیٹ گئے اور کہنے لگے: میں ابوالحسن سردار ہوں ( جیسے اونٹوں میں بڑا اونٹ ہوتا ہے ) قسم اللہ کی! میں یہاں سے نہیں ٹلوں گا جب تک کہ تمہارے دونوں بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اس بات کا جواب لے کر نہ آ جائیں جس کے لیے تم نے انہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے۔ عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہ دونوں گئے، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس پہنچے ہی تھے کہ ظہر کھڑی ہو گئی ہم نے سب کے ساتھ نماز جماعت سے پڑھی، نماز پڑھ کر میں اور فضل دونوں جلدی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے کی طرف لپکے، آپ اس دن ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، اور ہم دروازے پر کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے اور ( پیار سے ) میرے اور فضل کے کان پکڑے، اور کہا: بولو بولو، جو دل میں لیے ہو ، یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں چلے گئے اور مجھے اور فضل کو گھر میں آنے کی اجازت دی، تو ہم اندر چلے گئے، اور ہم نے تھوڑی دیر ایک دوسرے کو بات چھیڑنے کے لیے اشارہ کیا ( تم کہو تم کہو ) پھر میں نے یا فضل نے ( یہ شک حدیث کے راوی عبداللہ کو ہوا ) آپ سے وہی بات کہی جس کا ہمارے والدین نے ہمیں حکم دیا تھا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھڑی تک چپ رہے، پھر نگاہیں اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیر تک تکتے رہے، ہم نے سمجھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی جواب نہ دیں، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ پردے کی آڑ سے ( ام المؤمنین ) زینب رضی اللہ عنہا اشارہ کر رہی ہیں کہ تم جلدی نہ کرو ( گھبراؤ نہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہی مطلب کی فکر میں ہیں، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو نیچا کیا، اور فرمایا: یہ صدقہ تو لوگوں ( کے مال ) کا میل ( کچیل ) ہے، اور یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل ( و اولاد ) کے لیے حلال نہیں ہے، ( یعنی بنو ہاشم کے لیے صدقہ لینا درست نہیں ہے ) نوفل بن حارث کو میرے پاس بلاؤ چنانچہ نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کو آپ کے پاس بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نوفل! اپنی بیٹی کا نکاح عبدالمطلب سے کر دو ، تو نوفل نے اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محمیہ بن جزء کو میرے پاس بلاؤ ، محمیۃ بن جزء رضی اللہ عنہ بنو زبید کے ایک فرد تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خمس کی وصولی کا عامل بنا رکھا تھا ( وہ آئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم فضل کا ( اپنی بیٹی سے ) نکاح کر دو ، تو انہوں نے ان کا نکاح کر دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان سے ) کہا: جاؤ مال خمس میں سے ان دونوں کا مہر اتنا اتنا ادا کر دو ۔ ( ابن شہاب کہتے ہیں ) عبداللہ بن حارث نے مجھ سے مہر کی مقدار بیان نہیں کی۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک زیادہ عمر والی اونٹنی تھی جو مجھے بدر کے دن مال غنیمت کی تقسیم میں ملی تھی اور اسی دن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بہت عمر والی اونٹنی مال خمس میں سے عنایت فرمائی تھی تو جب میں نے ارادہ کیا کہ میں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لاؤں، تو میں نے بنو قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ لے لیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں جا کر اذخر ( ایک خوشبودار گھاس ہے ) لائیں میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اسے سناروں سے بیچ کر اپنے ولیمہ کی تیاری میں اس سے مدد لوں، اسی دوران کہ میں اپنی اونٹنیوں کے لیے پالان، گھاس کے ٹوکرے اور رسیاں ( وغیرہ ) اکٹھا کر رہا تھا اور میری دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کے حجرے کے بغل میں بیٹھی ہوئی تھیں، جو ضروری سامان میں مہیا کر سکتا تھا کر کے لوٹ کر آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ دئیے گئے ہیں اور پیٹ چاک کر دئیے گئے ہیں، اور ان کے کلیجے نکال لیے گئے ہیں، جب میں نے یہ منظر دیکھا تو میں اپنی آنکھوں پر قابو نہ پا سکا میں نے کہا: یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ سب حمزہ بن عبدالمطلب نے کیا ہے، وہ اس گھر میں چند انصاریوں کے ساتھ شراب پی رہے ہیں، ایک مغنیہ نے ان کے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے یوں گا یا: «ألا يا حمز للشرف النواء» ۱؎ ( اے حمزہ ان موٹی موٹی اونٹنیوں کے لیے جو میدان میں بندھی ہوئی ہیں اٹھ کھڑے ہو ) یہ سن کر وہ تلوار کی طرف جھپٹے اور جا کر ان کے کوہان کاٹ ڈالے، ان کے پیٹ چاک کر ڈالے، اور ان کے کلیجے نکال لیے، میں وہاں سے چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ کے پاس زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے چہرے کو دیکھ کر ) جو ( صدمہ ) مجھے لاحق ہوا تھا اسے بھانپ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آج کے دن کے جیسا کبھی نہیں دیکھا، حمزہ نے میری اونٹنیوں پر ظلم کیا ہے، ان کے کوہان کاٹ ڈالے، ان کے پیٹ پھاڑ ڈالے اور وہ یہاں ایک گھر میں شراب پینے والوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اس کو اوڑھ کر چلے، میں بھی اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھر میں پہنچے جہاں حمزہ تھے، آپ نے اندر جانے کی اجازت مانگی تو اجازت دے دی گئی، جب اندر گئے تو دیکھا کہ سب شراب پئے ہوئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمزہ کو ان کے کئے پر ملامت کرنے لگے، دیکھا تو حمزہ نشے میں تھے، آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں، حمزہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا، پھر تھوڑی نظر بلند کی تو آپ کے گھٹنوں کو دیکھا، پھر تھوڑی نظر اور بلند کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف کی طرف دیکھا، پھر تھوڑی نظر اور بلند کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کو دیکھا، پھر بولے: تم سب میرے باپ کے غلام ہی تو ہو، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان لیا کہ حمزہ نشے میں دھت ہیں ( یہ دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں وہاں سے پلٹے اور نکل آئے اور آپ کے ساتھ ہم بھی نکل آئے ( اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی ) ۔
فضل بن حسن ضمری کہتے ہیں کہ ام الحکم یا ضباعہ رضی اللہ عنہما ( زبیر بن عبدالمطلب کی دونوں بیٹیوں ) میں سے کسی ایک نے دوسرے کے واسطے سے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں اور میری بہن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا تینوں آپ کے پاس گئیں، اور ہم نے اپنی تکالیف ۱؎ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا اور درخواست کی کہ کوئی قیدی آپ ہمیں دلوا دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدر کی یتیم لڑکیاں تم سے سبقت لے گئیں ( یعنی تم سے پہلے آ کر انہوں نے قیدیوں کی درخواست کی اور انہیں لے گئیں ) ، لیکن ( دل گرفتہ ہونے کی بات نہیں ) میں تمہیں ایسی بات بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے بہتر ہے، ہر نماز کے بعد ( ۳۳ ) مرتبہ اللہ اکبر، ( ۳۳ ) مرتبہ سبحان اللہ، ( ۳۳ ) مرتبہ الحمداللہ، اور ایک بار«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہہ لیا کرو ۔ عیاش کہتے ہیں کہ یہ ( ضباعہ اور ام الحکم رضی اللہ عنہما ) دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد بہنیں تھیں ۲؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني عياش بن عقبة الحضرمي، عن الفضل بن الحسن الضمري، ان ام الحكم، او ضباعة ابنتى الزبير بن عبد المطلب حدثته عن احداهما انها قالت اصاب رسول الله صلى الله عليه وسلم سبيا فذهبت انا واختي وفاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فشكونا اليه ما نحن فيه وسالناه ان يامر لنا بشىء من السبى . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سبقكن يتامى بدر لكن سادلكن على ما هو خير لكن من ذلك تكبرن الله على اثر كل صلاة ثلاثا وثلاثين تكبيرة وثلاثا وثلاثين تسبيحة وثلاثا وثلاثين تحميدة ولا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير " . قال عياش وهما ابنتا عم النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عبد الله بن الحارث بن نوفل الهاشمي، ان عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب، اخبره ان اباه ربيعة بن الحارث وعباس بن عبد المطلب قالا لعبد المطلب بن ربيعة وللفضل بن عباس ايتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقولا له يا رسول الله قد بلغنا من السن ما ترى واحببنا ان نتزوج وانت يا رسول الله ابر الناس واوصلهم وليس عند ابوينا ما يصدقان عنا فاستعملنا يا رسول الله على الصدقات فلنود اليك ما يودي العمال ولنصب ما كان فيها من مرفق . قال فاتى الينا علي بن ابي طالب ونحن على تلك الحال فقال لنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا والله لا نستعمل منكم احدا على الصدقة " . فقال له ربيعة هذا من امرك قد نلت صهر رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم نحسدك عليه . فالقى علي رداءه ثم اضطجع عليه فقال انا ابو حسن القرم والله لا اريم حتى يرجع اليكما ابناكما بجواب ما بعثتما به الى النبي صلى الله عليه وسلم . قال عبد المطلب فانطلقت انا والفضل الى باب حجرة النبي صلى الله عليه وسلم حتى نوافق صلاة الظهر قد قامت فصلينا مع الناس ثم اسرعت انا والفضل الى باب حجرة النبي صلى الله عليه وسلم وهو يوميذ عند زينب بنت جحش فقمنا بالباب حتى اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخذ باذني واذن الفضل ثم قال اخرجا ما تصرران ثم دخل فاذن لي وللفضل فدخلنا فتواكلنا الكلام قليلا ثم كلمته او كلمه الفضل - قد شك في ذلك عبد الله - قال كلمه بالامر الذي امرنا به ابوانا فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم ساعة ورفع بصره قبل سقف البيت حتى طال علينا انه لا يرجع الينا شييا حتى راينا زينب تلمع من وراء الحجاب بيدها تريد ان لا تعجلا وان رسول الله صلى الله عليه وسلم في امرنا ثم خفض رسول الله صلى الله عليه وسلم راسه فقال لنا " ان هذه الصدقة انما هي اوساخ الناس وانها لا تحل لمحمد ولا لال محمد ادعوا لي نوفل بن الحارث " . فدعي له نوفل بن الحارث فقال " يا نوفل انكح عبد المطلب " . فانكحني نوفل ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " ادعوا لي محمية بن جزء " . وهو رجل من بني زبيد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمله على الاخماس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمحمية " انكح الفضل " . فانكحه ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قم فاصدق عنهما من الخمس كذا وكذا " . لم يسمه لي عبد الله بن الحارث
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة بن خالد، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، اخبرني علي بن حسين، ان حسين بن علي، اخبره ان علي بن ابي طالب قال كانت لي شارف من نصيبي من المغنم يوم بدر وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطاني شارفا من الخمس يوميذ فلما اردت ان ابني بفاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم واعدت رجلا صواغا من بني قينقاع ان يرتحل معي فناتي باذخر اردت ان ابيعه من الصواغين فاستعين به في وليمة عرسي فبينا انا اجمع لشارفى متاعا من الاقتاب والغراير والحبال - وشارفاى مناخان الى جنب حجرة رجل من الانصار - اقبلت حين جمعت ما جمعت فاذا بشارفى قد اجتبت اسنمتهما وبقرت خواصرهما واخذ من اكبادهما فلم املك عينى حين رايت ذلك المنظر فقلت من فعل هذا قالوا فعله حمزة بن عبد المطلب وهو في هذا البيت في شرب من الانصار غنته قينة واصحابه فقالت في غنايها الا يا حمز للشرف النواء فوثب الى السيف فاجتب اسنمتهما وبقر خواصرهما واخذ من اكبادهما . قال علي فانطلقت حتى ادخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده زيد بن حارثة قال فعرف رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي لقيت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما لك " . قال قلت يا رسول الله ما رايت كاليوم عدا حمزة على ناقتى فاجتب اسنمتهما وبقر خواصرهما وها هو ذا في بيت معه شرب فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بردايه فارتداه ثم انطلق يمشي واتبعته انا وزيد بن حارثة حتى جاء البيت الذي فيه حمزة فاستاذن فاذن له فاذا هم شرب فطفق رسول الله صلى الله عليه وسلم يلوم حمزة فيما فعل فاذا حمزة ثمل محمرة عيناه فنظر حمزة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صعد النظر فنظر الى ركبتيه ثم صعد النظر فنظر الى سرته ثم صعد النظر فنظر الى وجهه ثم قال حمزة وهل انتم الا عبيد لابي فعرف رسول الله صلى الله عليه وسلم انه ثمل فنكص رسول الله صلى الله عليه وسلم على عقبيه القهقرى فخرج وخرجنا معه