Loading...

Loading...
کتب
۱۶۱ احادیث
ابومریم ازدی (اسدی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، انہوں نے کہا: اے ابوفلاں! بڑے اچھے آئے، میں نے کہا: میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بتا رہا ہوں، میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: جسے اللہ مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام کا ذمہ دار بنائے پھر وہ ان کی ضروریات اور ان کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان رکاوٹ بن جائے ۱؎ تو اللہ اس کی ضروریات اور اس کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے ۲؎ ۔ یہ سنا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا جو لوگوں کی ضروریات کو سنے اور اسے پورا کرے۔
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثني ابن ابي مريم، ان القاسم بن مخيمرة، اخبره ان ابا مريم الازدي اخبره قال دخلت على معاوية فقال ما انعمنا بك ابا فلان . وهي كلمة تقولها العرب فقلت حديثا سمعته اخبرك به سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من ولاه الله عز وجل شييا من امر المسلمين فاحتجب دون حاجتهم وخلتهم وفقرهم احتجب الله عنه دون حاجته وخلته وفقره " . قال فجعل رجلا على حوايج الناس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو کوئی چیز نہ اپنی طرف سے دیتا ہوں اور نہ ہی اسے دینے سے روکتا ہوں میں تو صرف خازن ہوں میں تو بس وہیں خرچ کرتا ہوں جہاں مجھے حکم ہوتا ہے ۔
حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، قال هذا ما حدثنا به ابو هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اوتيكم من شىء وما امنعكموه ان انا الا خازن اضع حيث امرت
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن فیٔ ( بغیر جنگ کے ملا ہوا مال ) کا ذکر کیا اور کہا کہ میں اس فیٔ کا تم سے زیادہ حقدار نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی دوسرا ہم میں سے اس کا دوسرے سے زیادہ حقدار ہے، لیکن ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم کے اعتبار سے اپنے اپنے مراتب پر ہیں، جو شخص اسلام لانے میں مقدم ہو گا یا جس نے ( اسلام کے لیے ) زیادہ مصائب برداشت کئے ہونگے یا عیال دار ہو گا یا حاجت مند ہو گا تو اسی اعتبار سے اس میں مال تقسیم ہو گا، ہر شخص کو اس کے مقام و مرتبہ اور اس کی ضرورت کے اعتبار سے مال فیٔ تقسیم کیا جائے گا۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن مالك بن اوس بن الحدثان، قال ذكر عمر بن الخطاب يوما الفىء فقال ما انا باحق، بهذا الفىء منكم وما احد منا باحق به من احد الا انا على منازلنا من كتاب الله عز وجل وقسم رسول الله صلى الله عليه وسلم فالرجل وقدمه والرجل وبلاوه والرجل وعياله والرجل وحاجته
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! کس ضرورت سے آنا ہوا؟ کہا: آزاد کئے ہوئے غلاموں کا حصہ لینے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ جب آپ کے پاس فیٔ کا مال آتا تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آزاد غلاموں کا حصہ دینا شروع کرتے ۱؎۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، ان عبد الله بن عمر، دخل على معاوية فقال حاجتك يا ابا عبد الرحمن فقال عطاء المحررين فاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اول ما جاءه شىء بدا بالمحررين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلا لایا گیا جس میں خونگے ( قیمتی پتھر ) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد عورتوں اور لونڈیوں میں تقسیم کر دیا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میرے والد ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) آزاد مردوں اور غلاموں میں تقسیم کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، حدثنا ابن ابي ذيب، عن القاسم بن عباس، عن عبد الله بن نيار، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي بظبية فيها خرز فقسمها للحرة والامة . قالت عايشة كان ابي رضى الله عنه يقسم للحر والعبد
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس دن مال فیٔ آتا آپ اسی دن اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے، تو ہم بلائے گئے، اور میں عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دئیے گئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا، اور میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بلائے گئے تو انہیں صرف ایک حصہ دیا گیا ( کیونکہ وہ کنوارے تھے ) ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الله بن المبارك، ح وحدثنا ابن المصفى، قال حدثنا ابو المغيرة، جميعا عن صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، عن عوف بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اتاه الفىء قسمه في يومه فاعطى الاهل حظين واعطى العزب حظا . زاد ابن المصفى فدعينا وكنت ادعى قبل عمار فدعيت فاعطاني حظين وكان لي اهل ثم دعي بعدي عمار بن ياسر فاعطى له حظا واحدا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں مسلمانوں سے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ( بس ) جو مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ مال اس کے گھر والوں کا حق ہے اور جو قرض چھوڑ جائے یا عیال، تو وہ ( قرض کی ادائیگی اور عیال کی پرورش ) میرے ذمہ ہے ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن جعفر، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انا اولى بالمومنين من انفسهم من ترك مالا فلاهله ومن ترك دينا او ضياعا فالى وعلى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو عیال چھوڑ کر مر جائے تو ان کی پرورش ہمارے ذمہ ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ترك مالا فلورثته ومن ترك كلا فالينا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں ہر مسلمان سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، تو جو مر جائے اور قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ مال اس کے وارثوں کا ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول " انا اولى بكل مومن من نفسه فايما رجل مات وترك دينا فالى ومن ترك مالا فلورثته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے اس وقت ان کی عمر ( ۱۴ ) سال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی، پھر وہ غزوہ خندق کے موقع پر پیش کئے گئے اس وقت وہ پندرہ سال کے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، اخبرني نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم عرضه يوم احد وهو ابن اربع عشرة فلم يجزه وعرضه يوم الخندق وهو ابن خمس عشرة سنة فاجازه
سلیم بن مطیر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حج کرنے کے ارادے سے نکلے، جب مقام سویدا پر پہنچے تو انہیں ایک ( بوڑھا ) شخص ملا، لگتا تھا کہ وہ دوا اور رسوت ۱؎ کی تلاش میں نکلا ہے، وہ کہنے لگا: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں اس حال میں سنا کہ آپ لوگوں کو نصیحت کر رہے تھے، انہیں نیکی کا حکم دے رہے تھے اور بری باتوں سے روک رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! ( امام و حاکم کے ) عطیہ کو لے لو جب تک کہ وہ عطیہ رہے ۲؎، اور پھر جب قریش ملک و اقتدار کے لیے لڑنے لگیں، اور عطیہ ( بخشش ) دین کے بدلے ۳؎ میں ملنے لگے تو اسے چھوڑ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ابن مبارک نے محمد بن یسار سے انہوں نے سلیم بن مطیر سے روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن ابي الحواري، حدثنا سليم بن مطير، - شيخ من اهل وادي القرى - قال حدثني ابي مطير انه خرج حاجا حتى اذا كان بالسويداء اذا انا برجل قد جاء كانه يطلب دواء وحضضا فقال اخبرني من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع وهو يعظ الناس ويامرهم وينهاهم فقال " يا ايها الناس خذوا العطاء ما كان عطاء فاذا تجاحفت قريش على الملك وكان عن دين احدكم فدعوه " . قال ابو داود ورواه ابن المبارك عن محمد بن يسار عن سليم بن مطير
وادی القری کے باشندہ سلیم بن مطیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا آپ نے ( لوگوں کو اچھی باتوں کا ) حکم دیا ( اور انہیں بری باتوں سے ) منع کیا پھر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے ( تیرا پیغام ) انہیں پہنچا دیا ، لوگوں نے کہا: ہاں، پہنچا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قریش کے لوگ حکومت اور ملک و اقتدار کے لیے لڑنے لگیں اور عطیہ کی حیثیت رشوت کی بن جائے ( یعنی مستحق کے بجائے غیر مستحق کو ملنے لگے ) تو اسے چھوڑ دو ۔ پوچھا گیا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ذوالزوائد ۱؎ ہیں۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سليم بن مطير، - من اهل وادي القرى - عن ابيه، انه حدثه قال سمعت رجلا، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع فامر الناس ونهاهم ثم قال " اللهم هل بلغت " . قالوا اللهم نعم . ثم قال " اذا تجاحفت قريش على الملك فيما بينها وعاد العطاء او كان رشا فدعوه " . فقيل من هذا قالوا هذا ذو الزوايد صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ انصار کا ایک لشکر اپنے امیر کے ساتھ سر زمین فارس میں تھا اور عمر رضی اللہ عنہ ہر سال لشکر تبدیل کر دیا کرتے تھے، لیکن عمر رضی اللہ عنہ کو ( خیال نہیں رہا ) دوسرے کام میں مشغول ہو گئے جب میعاد پوری ہو گئی تو اس لشکر کے لوگ لوٹ آئے تو وہ ان پر برہم ہوئے اور ان کو دھمکایا جب کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تھے، تو وہ کہنے لگے: عمر! آپ ہم سے غافل ہو گئے، اور آپ نے وہ قاعدہ چھوڑ دیا جس پر عمل کرنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ ایک کے بعد ایک لشکر بھیجنا تاکہ پہلا لشکر لوٹ آئے اور اس کی جگہ وہاں دوسرا لشکر رہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم، - يعني ابن سعد - حدثنا ابن شهاب، عن عبد الله بن كعب بن مالك الانصاري، ان جيشا، من الانصار كانوا بارض فارس مع اميرهم وكان عمر يعقب الجيوش في كل عام فشغل عنهم عمر فلما مر الاجل قفل اهل ذلك الثغر فاشتد عليهم وتواعدهم وهم اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا عمر انك غفلت عنا وتركت فينا الذي امر به رسول الله صلى الله عليه وسلم من اعقاب بعض الغزية بعضا
عدی بن عدی کندی کے ایک لڑکے کا بیان ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھا کہ جو کوئی شخص پوچھے کہ مال فیٔ کہاں کہاں صرف کرنا چاہیئے تو اسے بتایا جائے کہ جہاں جہاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے وہیں خرچ کیا جائے گا، عمر رضی اللہ عنہ کے حکم کو مسلمانوں نے انصاف کے موافق اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «جعل الله الحق على لسان عمر وقلبه» ( اللہ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کر دیا ہے ) کا مصداق جانا، انہوں نے مسلمانوں کے لیے عطیے مقرر کئے اور دیگر ادیان والوں سے جزیہ لینے کے عوض ان کے امان اور حفاظت کی ذمہ داری لی، اور جزیہ میں نہ خمس ( پانچواں حصہ ) مقرر کیا اور نہ ہی اسے مال غنیمت سمجھا۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا محمد بن عايذ، حدثنا الوليد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثني فيما، حدثه ابن لعدي بن عدي الكندي، ان عمر بن عبد العزيز، كتب ان من سال عن مواضع الفىء، فهو ما حكم فيه عمر بن الخطاب رضى الله عنه فراه المومنون عدلا موافقا لقول النبي صلى الله عليه وسلم " جعل الله الحق على لسان عمر وقلبه " . فرض الاعطية وعقد لاهل الاديان ذمة بما فرض عليهم من الجزية لم يضرب فيها بخمس ولا مغنم
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے وہ ( جب بولتے ہیں ) حق ہی بولتے ہیں ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا محمد بن اسحاق، عن مكحول، عن غضيف بن الحارث، عن ابي ذر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله وضع الحق على لسان عمر يقول به
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے دن چڑھے بلوا بھیجا، چنانچہ میں آیا تو انہیں ایک تخت پر جس پر کوئی چیز بچھی ہوئی نہیں تھی بیٹھا ہوا پایا، جب میں ان کے پاس پہنچا تو مجھے دیکھ کر کہنے لگے: مالک! تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے ہیں اور میں نے انہیں کچھ دینے کے لیے حکم دیا ہے تو تم ان میں تقسیم کر دو، میں نے کہا: اگر اس کام کے لیے آپ کسی اور کو کہتے ( تو اچھا رہتا ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں تم ( جو میں دے رہا ہوں ) لے لو ( اور ان میں تقسیم کر دو ) اسی دوران یرفاء ۱؎ آ گیا، اس نے کہا: امیر المؤمنین! عثمان بن عفان، عبدالرحمٰن بن عوف، زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم آئے ہوئے ہیں اور ملنے کی اجازت چاہتے ہیں، کیا انہیں بلا لوں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ( بلا لو ) اس نے انہیں اجازت دی، وہ لوگ اندر آ گئے، جب وہ اندر آ گئے، تو یرفا پھر آیا، اور آ کر کہنے لگا: امیر المؤمنین! ابن عباس اور علی رضی اللہ عنہما آنا چاہتے ہیں؛ اگر حکم ہو تو آنے دوں؟ کہا: ہاں ( آنے دو ) اس نے انہیں بھی اجازت دے دی، چنانچہ وہ بھی اندر آ گئے، عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! میرے اور ان کے ( یعنی علی رضی اللہ عنہ کے ) درمیان ( معاملے کا ) فیصلہ کر دیجئیے، ( تاکہ جھگڑا ختم ہو ) ۲؎ اس پر ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں امیر المؤمنین! ان دونوں کا فیصلہ کر دیجئیے اور انہیں راحت پہنچائیے۔ مالک بن اوس کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ ان دونوں ہی نے ان لوگوں ( عثمان، عبدالرحمٰن، زبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم ) کو اپنے سے پہلے اسی مقصد سے بھیجا تھا ( کہ وہ لوگ اس قضیہ کا فیصلہ کرانے میں مدد دیں ) ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ان پر رحم کرے! تم دونوں صبر و سکون سے بیٹھو ( میں ابھی فیصلہ کئے دیتا ہوں ) پھر ان موجود صحابہ کی جماعت کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ کر مرتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے؟ ، سبھوں نے کہا: ہاں ہم جانتے ہیں۔ پھر وہ علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور ان دونوں سے کہا: میں تم دونوں سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے زمین، و آسمان قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ہمارا ( گروہ انبیاء کا ) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے؟ ، ان دونوں نے کہا: ہاں ہمیں معلوم ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی خصوصیت سے سرفراز فرمایا تھا جس سے دنیا کے کسی انسان کو بھی سرفراز نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب ولكن الله يسلط رسله على من يشاء والله على كل شىء قدير» اور ان کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ( سورۃ الحشر: ۶ ) چنانچہ اللہ نے اپنے رسول کو بنو نضیر کا مال دلایا، لیکن قسم اللہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمہیں محروم کر کے صرف اپنے لیے نہیں رکھ لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مال سے صرف اپنے اور اپنے اہل و عیال کا سال بھر کا خرچہ نکال لیتے تھے، اور جو باقی بچتا وہ دوسرے مالوں کی طرح رہتا ( یعنی مستحقین اور ضرورت مندوں میں خرچ ہوتا ) ۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ صحابہ کی جماعت کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم اس بات کو جانتے ہو ( یعنی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے ) انہوں نے کہا: ہاں ہم جانتے ہیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ عباس اور علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: میں اس اللہ کی ذات کو گواہ بنا کر تم سے پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم اس کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں ہم جانتے ہیں ( یعنی ایسا ہی ہے ) پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں، پھر تم اور یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تم اپنے بھتیجے ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ترکہ میں سے اپنا حصہ مانگ رہے تھے اور یہ اپنی بیوی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کی میراث مانگ رہے ہیں جو انہیں ان کے باپ کے ترکہ سے ملنے والا تھا، پھر ابوبکر ( اللہ ان پر رحم کرے ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ، اور اللہ جانتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سچے نیک اور حق کی پیروی کرنے والے تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ اس مال پر قابض رہے، جب انہوں نے وفات پائی تو میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا خلیفہ ہوں، اور اس وقت تک والی ہوں جب تک اللہ چاہے۔ پھر تم اور یہ ( علی ) آئے تم دونوں ایک ہی تھے، تمہارا معاملہ بھی ایک ہی تھا تم دونوں نے اسے مجھ سے طلب کیا تو میں نے کہا تھا: اگر تم چاہتے ہو کہ میں اسے تم دونوں کو اس شرط پر دے دوں کہ اللہ کا عہد کر کے کہو اس مال میں اسی طرح کام کرو گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متولی رہتے ہوئے کرتے تھے، چنانچہ اسی شرط پر وہ مال تم نے مجھ سے لے لیا۔ اب پھر تم دونوں میرے پاس آئے ہو کہ اس کے سوا دوسرے طریقہ پر میں تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں ۳؎ تو قسم اللہ کی! میں قیامت تک تمہارے درمیان اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہ کروں گا، اگر تم دونوں ان مالوں کا ( معاہدہ کے مطابق ) اہتمام نہیں کر سکتے تو پھر اسے مجھے لوٹا دو ( میں اپنی تولیت میں لے کر پہلے کی طرح اہتمام کروں گا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان دونوں حضرات نے اس بات کی درخواست کی تھی کہ یہ ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا کر دیا جائے، ایسا نہیں کہ انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:«لا نورث ما تركنا صدقة» ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے معلوم نہیں تھا بلکہ وہ بھی حق ہی کا مطالبہ کر رہے تھے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس پر تقسیم کا نام نہ آنے دوں گا ( کیونکہ ممکن ہے بعد والے میراث سمجھ لیں ) بلکہ میں اسے پہلی ہی حالت پر باقی رہنے دوں گا۔
اس سند سے بھی مالک بن اوس سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے: اور وہ دونوں ( یعنی علی اور عباس رضی اللہ عنہما ) اس مال کے سلسلہ میں جھگڑا کر رہے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو نضیر کے مالوں میں سے عنایت فرمایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ( عمر رضی اللہ عنہ ) چاہتے تھے کہ اس میں حصہ و تقسیم کا نام نہ آئے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا محمد بن ثور، عن معمر، عن الزهري، عن مالك بن اوس، بهذه القصة قال وهما - يعني عليا والعباس رضي الله عنهما - يختصمان فيما افاء الله على رسوله من اموال بني النضير . قال ابو داود اراد ان لا يوقع عليه اسم قسم
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں بنو نضیر کا مال اس قسم کا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عطا کیا تھا اور مسلمانوں نے اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے ( یعنی جنگ لڑ کر حاصل نہیں کیا تھا ) اس مال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے تھے۔ ابن عبدہ کہتے ہیں: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے گھر والوں کا ایک سال کا خرچہ لے لیا کرتے تھے اور جو بچ رہتا تھا اسے گھوڑے اور جہاد کی تیاری میں صرف کرتے تھے، ابن عبدہ کی روایت میں: «في الكراع والسلاح» کے الفاظ ہیں، ( یعنی مجاہدین کے لیے گھوڑے اور ہتھیار کی فراہمی میں خرچ کرتے تھے ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، واحمد بن عبدة، - المعنى - ان سفيان بن عيينة، اخبرهم عن عمرو بن دينار، عن الزهري، عن مالك بن اوس بن الحدثان، عن عمر، قال كانت اموال بني النضير مما افاء الله على رسوله مما لم يوجف المسلمون عليه بخيل ولا ركاب كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم خالصا ينفق على اهل بيته - قال ابن عبدة ينفق على اهله قوت سنة - فما بقي جعل في الكراع وعدة في سبيل الله عز وجل قال ابن عبدة في الكراع والسلاح
ابن شہاب زہری کہتے ہیں (عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا اللہ نے فرمایا: «وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» جو مال اللہ نے اپنے رسول کو عنایت فرمایا، اور تم نے اس پر اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے ( سورۃ الحشر: ۶ ) زہری کہتے ہیں: عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عرینہ کے چند گاؤں جیسے فدک وغیرہ خاص ہوئے، اور دوسری آیتیں «ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل» گاؤں والوں کا جو ( مال ) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں، مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے ( سورۃ الحشر: ۷ ) ، اور «للفقراء الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم» ( فئی کا مال ) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دئیے گئے ہیں ( سورۃ الحشر: ۸ ) «والذين تبوءوا الدار والإيمان من قبلهم» اور ( ان کے لیے ) جنہوں نے اس گھر میں ( یعنی مدینہ ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی ہے ( سورۃ الحشر: ۹ ) «والذين جاءوا من بعدهم» اور ( ان کے لیے ) جو ان کے بعد آئیں ( سورۃ الحشر: ۱۰ ) تو اس آیت نے تمام لوگوں کو سمیٹ لیا کوئی ایسا مسلمان باقی نہیں رہا جس کا مال فیٔ میں حق نہ ہو۔ ایوب کہتے ہیں: یا «فيها حق» کے بجائے،، «فيها حظ» کہا، سوائے بعض ان چیزوں کے جن کے تم مالک ہو ( یعنی اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، اخبرنا ايوب، عن الزهري، قال قال عمر { وما افاء الله على رسوله منهم فما اوجفتم عليه من خيل ولا ركاب } . قال الزهري قال عمر هذه لرسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة قرى عرينة فدك وكذا وكذا { ما افاء الله على رسوله من اهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل } و للفقراء الذين اخرجوا من ديارهم واموالهم والذين تبوءوا الدار والايمان من قبلهم . والذين جاءوا من بعدهم فاستوعبت هذه الاية الناس فلم يبق احد من المسلمين الا له فيها حق . قال ايوب او قال حظ الا بعض من تملكون من ارقايكم
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جس بات سے دلیل قائم کی وہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین «صفایا» ۱؎ ( منتخب مال ) تھے: بنو نضیر، خیبر، اور فدک، رہا بنو نضیر کی زمین سے ہونے والا مال، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ( ہنگامی ) ضروریات کے کام میں استعمال کے لیے محفوظ ہوتا تھا ۲؎، اور جو مال فدک سے حاصل ہوتا تھا وہ محتاج مسافروں کے استعمال کے کام میں آتا تھا، اور خیبر کے مال کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حصے کئے تھے، دو حصے عام مسلمانوں کے لیے تھے، اور ایک اپنے اہل و عیال کے خرچ کے لیے، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال کے خرچہ سے بچتا اسے مہاجرین کے فقراء پہ خرچ کر دیتے۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا حاتم بن اسماعيل، ح وحدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني عبد العزيز بن محمد، ح وحدثنا نصر بن علي، حدثنا صفوان بن عيسى، - وهذا لفظ حديثه - كلهم عن اسامة بن زيد، عن الزهري، عن مالك بن اوس بن الحدثان، قال كان فيما احتج به عمر رضى الله عنه انه قال كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث صفايا بنو النضير وخيبر وفدك فاما بنو النضير فكانت حبسا لنوايبه واما فدك فكانت حبسا لابناء السبيل واما خيبر فجزاها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة اجزاء جزءين بين المسلمين وجزءا نفقة لاهله فما فضل عن نفقة اهله جعله بين فقراء المهاجرين
حدثنا الحسن بن علي، ومحمد بن يحيى بن فارس المعنى، قالا حدثنا بشر بن عمر الزهراني، حدثني مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن مالك بن اوس بن الحدثان، قال ارسل الى عمر حين تعالى النهار فجيته فوجدته جالسا على سرير مفضيا الى رماله فقال حين دخلت عليه يا مال انه قد دف اهل ابيات من قومك واني قد امرت فيهم بشىء فاقسم فيهم . قلت لو امرت غيري بذلك . فقال خذه . فجاءه يرفا فقال يا امير المومنين هل لك في عثمان بن عفان وعبد الرحمن بن عوف والزبير بن العوام وسعد بن ابي وقاص قال نعم . فاذن لهم فدخلوا ثم جاءه يرفا فقال يا امير المومنين هل لك في العباس وعلي قال نعم . فاذن لهم فدخلوا فقال العباس يا امير المومنين اقض بيني وبين هذا - يعني عليا - فقال بعضهم اجل يا امير المومنين اقض بينهما وارحمهما . قال مالك بن اوس خيل الى انهما قدما اوليك النفر لذلك . فقال عمر رحمه الله اتيدا . ثم اقبل على اوليك الرهط فقال انشدكم بالله الذي باذنه تقوم السماء والارض هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث ما تركنا صدقة " . قالوا نعم . ثم اقبل على علي والعباس رضى الله عنهما فقال انشدكما بالله الذي باذنه تقوم السماء والارض هل تعلمان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث ما تركنا صدقة " . فقالا نعم . قال فان الله خص رسوله صلى الله عليه وسلم بخاصة لم يخص بها احدا من الناس فقال الله تعالى { وما افاء الله على رسوله منهم فما اوجفتم عليه من خيل ولا ركاب ولكن الله يسلط رسله على من يشاء والله على كل شىء قدير } وكان الله افاء على رسوله بني النضير فوالله ما استاثر بها عليكم ولا اخذها دونكم فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم ياخذ منها نفقة سنة او نفقته ونفقة اهله سنة ويجعل ما بقي اسوة المال . ثم اقبل على اوليك الرهط فقال انشدكم بالله الذي باذنه تقوم السماء والارض هل تعلمون ذلك قالوا نعم . ثم اقبل على العباس وعلي رضى الله عنهما فقال انشدكما بالله الذي باذنه تقوم السماء والارض هل تعلمان ذلك قالا نعم . فلما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ابو بكر انا ولي رسول الله صلى الله عليه وسلم فجيت انت وهذا الى ابي بكر تطلب انت ميراثك من ابن اخيك ويطلب هذا ميراث امراته من ابيها فقال ابو بكر رحمه الله قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا نورث ما تركنا صدقة " . والله يعلم انه لصادق بار راشد تابع للحق فوليها ابو بكر فلما توفي ابو بكر قلت انا ولي رسول الله صلى الله عليه وسلم وولي ابي بكر فوليتها ما شاء الله ان اليها فجيت انت وهذا وانتما جميع وامركما واحد فسالتمانيها فقلت ان شيتما ان ادفعها اليكما على ان عليكما عهد الله ان تلياها بالذي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يليها فاخذتماها مني على ذلك ثم جيتماني لاقضي بينكما بغير ذلك والله لا اقضي بينكما بغير ذلك حتى تقوم الساعة فان عجزتما عنها فرداها الى . قال ابو داود انما سالاه ان يكون يصيره بينهما نصفين لا انهما جهلا ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث ما تركنا صدقة " . فانهما كانا لا يطلبان الا الصواب . فقال عمر لا اوقع عليه اسم القسم ادعه على ما هو عليه