Loading...

Loading...
کتب
۱۶۱ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار سن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور ( قیامت کے دن ) اس سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہو گی ۱؎ لہٰذا امیر جو لوگوں کا حاکم ہو وہ ان کا نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق بازپرس ہو گی اور آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا ۲؎ اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے اولاد کی نگہبان ہے اس سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا غلام اپنے آقا و مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا، تو ( سمجھ لو ) تم میں سے ہر ایک راعی ( نگہبان ) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا كلكم راع وكلكم مسيول عن رعيته فالامير الذي على الناس راع عليهم وهو مسيول عنهم والرجل راع على اهل بيته وهو مسيول عنهم والمراة راعية على بيت بعلها وولده وهي مسيولة عنهم والعبد راع على مال سيده وهو مسيول عنه فكلكم راع وكلكم مسيول عن رعيته
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! امارت و اقتدار کی طلب مت کرنا کیونکہ اگر تم نے اسے مانگ کر حاصل کیا تو تم اس معاملے میں اپنے نفس کے سپرد کر دئیے جاؤ گے ۱؎ اور اگر وہ تمہیں بن مانگے ملی تو اللہ کی توفیق و مدد تمہارے شامل حال ہو گی ۲؎ ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا هشيم، اخبرنا يونس، ومنصور، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " يا عبد الرحمن بن سمرة لا تسال الامارة فانك اذا اعطيتها عن مسالة وكلت فيها الى نفسك وان اعطيتها عن غير مسالة اعنت عليها
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں دو آدمیوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ( اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی ) گواہی دی پھر کہا کہ ہم آپ کے پاس اس غرض سے آئے ہیں کہ آپ ہم سے اپنی حکومت کے کام میں مدد لیجئے ۱؎ دوسرے نے بھی اپنے ساتھی ہی جیسی بات کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے نزدیک تم میں وہ شخص سب سے بڑا خائن ہے جو حکومت طلب کرے ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت پیش کی، اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ دونوں آدمی اس غرض سے آئے ہیں پھر انہوں نے ان سے زندگی بھر کسی کام میں مدد نہیں لی۔
حدثنا وهب بن بقية، حدثنا خالد، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن اخيه، عن بشر بن قرة الكلبي، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال انطلقت مع رجلين الى النبي صلى الله عليه وسلم فتشهد احدهما ثم قال جينا لتستعين بنا على عملك . وقال الاخر مثل قول صاحبه . فقال " ان اخونكم عندنا من طلبه " . فاعتذر ابو موسى الى النبي صلى الله عليه وسلم وقال لم اعلم لما جاءا له . فلم يستعن بهما على شىء حتى مات
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں دو مرتبہ ( جب جہاد کو جانے لگے ) اپنا قائم مقام ( خلیفہ ) بنایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الله المخرمي، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا عمران القطان، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم استخلف ابن ام مكتوم على المدينة مرتين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جب کسی حاکم کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے سچا وزیر عنایت فرماتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے، اور اگر اسے یاد رہتا ہے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جب اللہ کسی حاکم کی بھلائی نہیں چاہتا ہے تو اس کو برا وزیر دے دیتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ یاد نہیں دلاتا، اور اگر یاد رکھتا ہے تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا ۔
حدثنا موسى بن عامر المري، حدثنا الوليد، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اراد الله بالامير خيرا جعل له وزير صدق ان نسي ذكره وان ذكر اعانه واذا اراد الله به غير ذلك جعل له وزير سوء ان نسي لم يذكره وان ذكر لم يعنه
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر مارا پھر ان سے فرمایا: قدیم! ( مقدام کی تصغیر ہے ) اگر تم امیر، منشی اور عریف ہوئے بغیر مر گئے تو تم نے نجات پا لی ۲؎
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا محمد بن حرب، عن ابي سلمة، سليمان بن سليم عن يحيى بن جابر، عن صالح بن يحيى بن المقدام، عن جده المقدام بن معديكرب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ضرب على منكبه ثم قال له " افلحت يا قديم ان مت ولم تكن اميرا ولا كاتبا ولا عريفا
غالب قطان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ عرب کے ایک چشمے پر رہتے تھے جب ان کے پاس اسلام پہنچا تو چشمے والے نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو وہ انہیں سو اونٹ دے گا، چنانچہ وہ سب مسلمان ہو گئے تو اس نے اونٹوں کو ان میں تقسیم کر دیا، اس کے بعد اس نے اپنے اونٹوں کو ان سے واپس لے لینا چاہا تو اپنے بیٹے کو بلا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور اس سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ میرے والد نے آپ کو سلام پیش کیا ہے، اور میرے والد نے اپنی قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو وہ انہیں سو اونٹ دے گا چنانچہ وہ اسلام لے آئے اور والد نے ان میں اونٹ تقسیم بھی کر دیئے، اب وہ چاہتے ہیں کہ ان سے اپنے اونٹ واپس لے لیں تو کیا وہ واپس لے سکتے ہیں یا نہیں؟ اب اگر آپ ہاں فرمائیں یا نہیں فرمائیں تو فرما دیجئیے میرے والد بہت بوڑھے ہیں، اس چشمے کے وہ عریف ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ مجھے وہاں کا عریف بنا دیں، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا کہ میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر اور تمہارے والد پر سلام ہو ۔ پھر انہوں نے کہا: میرے والد نے اپنی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسلام لے آئیں، تو وہ انہیں سو اونٹ دیں گے چنانچہ وہ سب اسلام لے آئے اور اچھے مسلمان ہو گئے، اب میرے والد چاہتے ہیں کہ ان اونٹوں کو ان سے واپس لے لیں تو کیا میرے والد ان اونٹوں کا حق رکھتے ہیں یا وہی لوگ حقدار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے والد چاہیں کہ ان اونٹوں کو ان لوگوں کو دے دیں تو دے دیں اور اگر چاہیں کہ واپس لے لیں تو وہ ان کے ان سے زیادہ حقدار ہیں اور جو مسلمان ہوئے تو اپنے اسلام کا فائدہ آپ اٹھائیں گے اور اگر مسلمان نہ ہوں گے تو مسلمان نہ ہونے کے سبب قتل کئے جائیں گے ( یعنی اسلام سے پھر جانے کے باعث ) ۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، اور اس چشمے کے عریف ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آپ ان کے بعد عرافت کا عہدہ مجھے دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرافت تو ضروری ( حق ) ہے، اور لوگوں کو عرفاء کے بغیر چارہ نہیں لیکن ( یہ جان لو ) کہ عرفاء جہنم میں جائیں گے ( کیونکہ ڈر ہے کہ اسے انصاف سے انجام نہیں دیں گے اور لوگوں کی حق تلفی کریں گے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا غالب القطان، عن رجل، عن ابيه، عن جده، انهم كانوا على منهل من المناهل فلما بلغهم الاسلام جعل صاحب الماء لقومه ماية من الابل على ان يسلموا فاسلموا وقسم الابل بينهم وبدا له ان يرتجعها منهم فارسل ابنه الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له ايت النبي صلى الله عليه وسلم فقل له ان ابي يقريك السلام وانه جعل لقومه ماية من الابل على ان يسلموا فاسلموا وقسم الابل بينهم وبدا له ان يرتجعها منهم افهو احق بها ام هم فان قال لك نعم او لا فقل له ان ابي شيخ كبير وهو عريف الماء وانه يسالك ان تجعل لي العرافة بعده . فاتاه فقال ان ابي يقريك السلام . فقال " وعليك وعلى ابيك السلام " . فقال ان ابي جعل لقومه ماية من الابل على ان يسلموا فاسلموا وحسن اسلامهم ثم بدا له ان يرتجعها منهم افهو احق بها ام هم فقال " ان بدا له ان يسلمها لهم فليسلمها وان بدا له ان يرتجعها فهو احق بها منهم فان هم اسلموا فلهم اسلامهم وان لم يسلموا قوتلوا على الاسلام " . فقال ان ابي شيخ كبير وهو عريف الماء وانه يسالك ان تجعل لي العرافة بعده . فقال " ان العرافة حق ولا بد للناس من العرفاء ولكن العرفاء في النار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سجل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب ( منشی یا محرر ) تھے ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا نوح بن قيس، عن يزيد بن كعب، عن عمرو بن مالك، عن ابي الجوزاء، عن ابن عباس، قال السجل كاتب كان للنبي صلى الله عليه وسلم
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ایمانداری سے زکاۃ کی وصولی وغیرہ کا کام کرنے والا شخص جہاد فی سبیل اللہ کرنے والے کی طرح ہے، یہاں تک کہ لوٹ کر اپنے گھر آئے ۔
حدثنا محمد بن ابراهيم الاسباطي، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن محمد بن اسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن رافع بن خديج، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " العامل على الصدقة بالحق كالغازي في سبيل الله حتى يرجع الى بيته
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: صاحب مکس ( قدر واجب سے زیادہ زکاۃ وصول کرنے والا ) جنت میں نہ جائے گا ( کیونکہ یہ ظلم ہے ) ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عبد الرحمن بن شماسة، عن عقبة بن عامر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يدخل الجنة صاحب مكس
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ صاحب مکس وہ ہے جو لوگوں سے عشر لیتا ہے ( بشرطیکہ وہ ظلم و تعدی سے کام لے رہا ہو ) ۔
حدثنا محمد بن عبد الله القطان، عن ابن مغراء، عن ابن اسحاق، قال الذي يعشر الناس يعني صاحب المكس
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں کسی کو خلیفہ نامزد نہ کروں ( تو کوئی حرج نہیں ) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا تھا ۱؎ اور اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کر دوں ( تو بھی کوئی حرج نہیں ) کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر کیا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! انہوں نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو میں نے سمجھ لیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کسی کو درجہ نہیں دے سکتے اور یہ کہ وہ کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کریں گے۔
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، وسلمة، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال قال عمر اني ان لا استخلف فان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يستخلف وان استخلف فان ابا بكر قد استخلف . قال فوالله ما هو الا ان ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم وابا بكر فعلمت انه لا يعدل برسول الله صلى الله عليه وسلم احدا وانه غير مستخلف
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تھے اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلقین کرتے تھے کہ ہم یہ بھی کہیں: جہاں تک ہمیں طاقت ہے ( یعنی ہم اپنی پوری طاقت بھر آپ کی سمع و طاعت کرتے رہیں گے ) ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال كنا نبايع النبي صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة ويلقننا فيما استطعت
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے کس طرح بیعت لیا کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی اجنبی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، البتہ عورت سے عہد لیتے جب وہ عہد دے دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: جاؤ میں تم سے بیعت لے چکا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة، رضى الله عنها اخبرته عن بيعة، رسول الله صلى الله عليه وسلم النساء قالت ما مس رسول الله صلى الله عليه وسلم يد امراة قط الا ان ياخذ عليها فاذا اخذ عليها فاعطته قال " اذهبي فقد بايعتك
عبداللہ بن ہشام (انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد پایا تھا) فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ زینب بنت حمید رضی اللہ عنہا ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! اس سے بیعت کر لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کم سن ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، حدثني ابو عقيل، زهرة بن معبد عن جده عبد الله بن هشام، قال وكان قد ادرك النبي صلى الله عليه وسلم وذهبت به امه زينب بنت حميد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله بايعه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو صغير " . فمسح راسه
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم جس کو کسی کام کا عامل بنائیں اور ہم اس کی کچھ روزی ( تنخواہ ) مقرر کر دیں پھر وہ اپنے مقررہ حصے سے جو زیادہ لے گا تو وہ ( مال غنیمت میں ) خیانت ہے ۔
حدثنا زيد بن اخزم ابو طالب، حدثنا ابو عاصم، عن عبد الوارث بن سعيد، عن حسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من استعملناه على عمل فرزقناه رزقا فما اخذ بعد ذلك فهو غلول
ابن الساعدی (عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ ( وصولی ) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( زکاۃ کی وصولی کا ) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا ليث، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن بسر بن سعيد، عن ابن الساعدي، قال استعملني عمر على الصدقة فلما فرغت امر لي بعمالة فقلت انما عملت لله . قال خذ ما اعطيت فاني قد عملت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فعملني
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے آپ کہہ رہے تھے: جو شخص ہمارا عامل ہو وہ ایک بیوی کا خرچ بیت المال سے لے سکتا ہے، اگر اس کے پاس کوئی خدمت گار نہ ہو تو ایک خدمت گار رکھ لے اور اگر رہنے کے لیے گھر نہ ہو تو رہنے کے لیے مکان لے لے ۔ مستورد کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان چیزوں کے سوا اس میں سے لے تو وہ خائن یا چور ہے ۔
حدثنا موسى بن مروان الرقي، حدثنا المعافى، حدثنا الاوزاعي، عن الحارث بن يزيد، عن جبير بن نفير، عن المستورد بن شداد، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من كان لنا عاملا فليكتسب زوجة فان لم يكن له خادم فليكتسب خادما فان لم يكن له مسكن فليكتسب مسكنا " . قال قال ابو بكر اخبرت ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اتخذ غير ذلك فهو غال او سارق
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ ازد کے ایک شخص کو جسے ابن لتبیہ کہا جاتا تھا زکاۃ کی وصولی کے لیے عامل مقرر کیا ( ابن سرح کی روایت میں ابن اتبیہ ہے ) جب وہ ( وصول کر کے ) آیا تو کہنے لگا: یہ مال تو تمہارے لیے ہے ( یعنی مسلمانوں کا ) اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: عامل کا کیا معاملہ ہے؟ کہ ہم اسے ( وصولی کے لیے ) بھیجیں اور وہ ( زکاۃ کا مال لے کر ) آئے اور پھر یہ کہے: یہ مال تمہارے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے، کیوں نہیں وہ اپنی ماں یا باپ کے گھر بیٹھا رہا پھر دیکھتا کہ اسے ہدیہ ملتا ہے کہ نہیں ۱؎، تم میں سے جو شخص کوئی چیز لے گا وہ اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا، اگر اونٹ ہو گا تو وہ بلبلا رہا ہو گا، اگر بیل ہو گا تو ڈکار رہا ہو گا، اگر بکری ہو گی تو ممیا رہی ہو گی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اس قدر اٹھائے کہ ہم نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی پھر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ ( یعنی تو گواہ رہ جیسا تو نے فرمایا ہو بہو ویسے ہی میں نے اسے پہنچا دیا ) ۔
حدثنا ابن السرح، وابن ابي خلف، - لفظه - قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن ابي حميد الساعدي، ان النبي صلى الله عليه وسلم استعمل رجلا من الازد يقال له ابن اللتبية - قال ابن السرح ابن الاتبية - على الصدقة فجاء فقال هذا لكم وهذا اهدي لي . فقام النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر فحمد الله واثنى عليه وقال " ما بال العامل نبعثه فيجيء فيقول هذا لكم وهذا اهدي لي . الا جلس في بيت امه او ابيه فينظر ايهدى له ام لا لا ياتي احد منكم بشىء من ذلك الا جاء به يوم القيامة ان كان بعيرا فله رغاء او بقرة فلها خوار او شاة تيعر " . ثم رفع يديه حتى راينا عفرة ابطيه ثم قال " اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عامل بنا کر بھیجا اور فرمایا: ابومسعود! جاؤ ( مگر دیکھو ) ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں قیامت میں اپنی پیٹھ پر زکاۃ کا اونٹ جسے تم نے چرایا ہو لادے ہوئے آتا دیکھوں اور وہ بلبلا رہا ہو ، ابومسعود رضی اللہ عنہ بولے: اگر ایسا ہے تو میں نہیں جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں تجھ پر جبر نہیں کرتا ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن مطرف، عن ابي الجهم، عن ابي مسعود الانصاري، قال بعثني النبي صلى الله عليه وسلم ساعيا ثم قال " انطلق ابا مسعود ولا الفينك يوم القيامة تجيء على ظهرك بعير من ابل الصدقة له رغاء قد غللته " . قال اذا لا انطلق . قال " اذا لا اكرهك