احادیث
#2971
سنن ابی داؤد - Tribute, Spoils, and Rulership
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ اللہ نے جو فرمایا ہے: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی تم نے ان مالوں کے واسطے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے یعنی بغیر جنگ کے حاصل ہوئے ( سورۃ الحشر: ۶ ) تو ان کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل فدک اور کچھ دوسرے گاؤں والوں سے جن کے نام زہری نے تو لیے لیکن راوی کو یاد نہیں رہا صلح کی، اس وقت آپ ایک اور قوم کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، اور ان لوگوں نے آپ کے پاس بطور صلح مال بھیجا تھا، اس مال کے تعلق سے اللہ نے فرمایا: «فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» یعنی بغیر لڑائی کے یہ مال ہاتھ آیا ( اور اللہ نے اپنے رسول کو دیا ) ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں بنو نضیر کے مال بھی خالص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے، لوگوں نے اسے زور و زبردستی سے ( یعنی لڑائی کر کے ) فتح نہیں کیا تھا۔ صلح کے ذریعہ فتح کیا تھا، تو آپ نے اسے مہاجرین میں تقسیم کر دیا، اس میں سے انصار کو کچھ نہ دیا، سوائے دو آدمیوں کے جو ضرورت مند تھے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا ابن ثور، عن معمر، عن الزهري، في قوله { فما اوجفتم عليه من خيل ولا ركاب } قال صالح النبي صلى الله عليه وسلم اهل فدك وقرى قد سماها لا احفظها وهو محاصر قوما اخرين فارسلوا اليه بالصلح قال { فما اوجفتم عليه من خيل ولا ركاب } يقول بغير قتال قال الزهري وكانت بنو النضير للنبي صلى الله عليه وسلم خالصا لم يفتحوها عنوة افتتحوها على صلح فقسمها النبي صلى الله عليه وسلم بين المهاجرين لم يعط الانصار منها شييا الا رجلين كانت بهما حاجة
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Tribute, Spoils, and Rulership
- Hadith Index
- #2971
- Book Index
- 44
Grades
- Al-AlbaniDaif Isnaad
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidDaif Isnaad
- Zubair Ali ZaiDaif
