Loading...

Loading...
کتب
۱۶۱ احادیث
ربیع جہنی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ جہاں اب مسجد ہے ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کیا، وہاں تین دن قیام کیا، پھر تبوک ۱؎ کے لیے نکلے، اور جہینہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک وسیع میدان میں جا کر ملے ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: مروہ والوں میں سے یہاں کون رہتا ہے؟ ، لوگوں نے کہا: بنو رفاعہ کے لوگ رہتے ہیں جو قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:،، میں یہ زمین ( علاقہ ) بنو رفاعہ کو بطور جاگیر دیتا ہوں تو انہوں نے اس زمین کو آپس میں بانٹ لیا، پھر کسی نے اپنا حصہ بیچ ڈالا اور کسی نے اپنے لیے روک لیا، اور اس میں محنت و مشقت ( یعنی زراعت ) کی۔ ابن وہب کہتے ہیں: میں نے پھر اس حدیث کے متعلق سبرہ کے والد عبدالعزیز سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اس کا کچھ حصہ بیان کیا پورا بیان نہیں کیا۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، حدثني سبرة بن عبد العزيز بن الربيع الجهني، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم نزل في موضع المسجد تحت دومة فاقام ثلاثا ثم خرج الى تبوك وان جهينة لحقوه بالرحبة فقال لهم " من اهل ذي المروة " . فقالوا بنو رفاعة من جهينة . فقال " قد اقطعتها لبني رفاعة " . فاقتسموها فمنهم من باع ومنهم من امسك فعمل ثم سالت اباه عبد العزيز عن هذا الحديث فحدثني ببعضه ولم يحدثني به كله
اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ ( اسماء رضی اللہ عنہا کے خاوند ہیں ) کو کھجور کے کچھ درخت بطور جاگیر عنایت فرمائی۔
حدثنا حسين بن علي، حدثنا يحيى، - يعني ابن ادم - حدثنا ابو بكر بن عياش، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن اسماء بنت ابي بكر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقطع الزبير نخلا
عبداللہ بن حسان عنبری کا بیان ہے کہ مجھ سے میری دادی اور نانی صفیہ اور دحیبہ نے حدیث بیان کی یہ دونوں علیبہ کی بیٹیاں تھیں اور قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا کی پروردہ تھیں اور قیلہ ان دونوں کے والد کی دادی تھیں، قیلہ نے ان سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارا ساتھی حریث بن حسان جو بکر بن وائل کی طرف پیامبر بن کر آیا تھا ہم سے آگے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، اور آپ سے اسلام پر اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے بیعت کی پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان دہناء ۱؎ کو سرحد بنا دیجئیے، مسافر اور پڑوسی کے سوا اور کوئی ان میں سے آگے بڑھ کر ہماری طرف نہ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے غلام! دہناء کو انہیں لکھ کر دے دو ، قیلہ کہتی ہیں: جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہناء انہیں دے دیا تو مجھے اس کا ملال ہوا کیونکہ وہ میرا وطن تھا اور وہیں میرا گھر تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے اس زمین کا آپ سے مطالبہ کر کے مبنی پر انصاف مطالبہ نہیں کیا ہے، دہناء اونٹوں کے باندھنے کی جگہ اور بکریوں کی چراگاہ ہے اور بنی تمیم کی عورتیں اور بچے اس کے پیچھے رہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے غلام رک جاؤ! ( مت لکھو ) بڑی بی صحیح کہہ رہی ہیں، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ایک دوسرے کے درختوں اور پانی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور مصیبتوں و فتنوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے اور کام آ سکتے ہیں ۔
حدثنا حفص بن عمر، وموسى بن اسماعيل، - المعنى واحد - قالا حدثنا عبد الله بن حسان العنبري، حدثتني جدتاى، صفية ودحيبة ابنتا عليبة وكانتا ربيبتى قيلة بنت مخرمة وكانت جدة ابيهما انها اخبرتهما قالت، قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت تقدم صاحبي - تعني حريث بن حسان وافد بكر بن وايل - فبايعه على الاسلام عليه وعلى قومه ثم قال يا رسول الله اكتب بيننا وبين بني تميم بالدهناء ان لا يجاوزها الينا منهم احد الا مسافر او مجاور . فقال " اكتب له يا غلام بالدهناء " . فلما رايته قد امر له بها شخص بي وهي وطني وداري فقلت يا رسول الله انه لم يسالك السوية من الارض اذ سالك انما هي هذه الدهناء عندك مقيد الجمل ومرعى الغنم ونساء بني تميم وابناوها وراء ذلك فقال " امسك يا غلام صدقت المسكينة المسلم اخو المسلم يسعهما الماء والشجر ويتعاونان على الفتان
اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے بیعت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے پانی ( چشمے یا تالاب ) پر پہنچ جائے ( یعنی اس کا کھوج لگا لے ) جہاں اس سے پہلے کوئی اور مسلمان نہ پہنچا ہو تو وہ اس کا ہے ، ( یعنی وہ اس کا مالک و مختار ہو گا ) ( یہ سن کر ) لوگ دوڑتے اور نشان لگاتے ہوئے چلے ( تاکہ نشانی رہے کہ ہم یہاں تک آئے تھے ) ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثني عبد الحميد بن عبد الواحد، حدثتني ام جنوب بنت نميلة، عن امها، سويدة بنت جابر عن امها، عقيلة بنت اسمر بن مضرس عن ابيها، اسمر بن مضرس قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فبايعته فقال " من سبق الى ماء لم يسبقه اليه مسلم فهو له " . قال فخرج الناس يتعادون يتخاطون
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اتنی زمین جاگیر میں دی جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا گھوڑا دوڑایا اور جہاں گھوڑا رکا اس سے آگے انہوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دے دو زبیر کو جہاں تک ان کا کوڑا پہنچا ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا حماد بن خالد، عن عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم اقطع الزبير حضر فرسه فاجرى فرسه حتى قام ثم رمى بسوطه فقال " اعطوه من حيث بلغ السوط
سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کا ہے ( وہی اس کا مالک ہو گا ) کسی اور ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں ہے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من احيا ارضا ميتة فهي له وليس لعرق ظالم حق
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ زمین اسی کی ہے ۔ پھر راوی نے اس کے مثل ذکر کیا، راوی کہتے ہیں: جس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی اسی نے یہ بھی ذکر کیا کہ دو شخص اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجور کے درخت لگا رکھے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو اس کی زمین دلا دی، اور درخت والے کو حکم دیا کہ تم اپنے درخت اکھاڑ لے جاؤ میں نے دیکھا کہ ان درختوں کی جڑیں کلہاڑیوں سے کاٹی گئیں اور وہ زمین سے نکالی گئیں، حالانکہ وہ لمبے اور گنجان پورے پورے درخت ہو گئے تھے۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا عبدة، عن محمد، - يعني ابن اسحاق - عن يحيى بن عروة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من احيا ارضا ميتة فهي له " . وذكر مثله قال فلقد خبرني الذي حدثني هذا الحديث ان رجلين اختصما الى رسول الله صلى الله عليه وسلم غرس احدهما نخلا في ارض الاخر فقضى لصاحب الارض بارضه وامر صاحب النخل ان يخرج نخله منها . قال فلقد رايتها وانها لتضرب اصولها بالفيوس وانها لنخل عم حتى اخرجت منها
ابن اسحاق اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں «الذي حدثني هذا» کی جگہ یوں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا: میرا گمان غالب یہ ہے کہ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رہے ہوں گے کہ میں نے اس آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے درختوں کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔
حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا وهب، عن ابيه، عن ابن اسحاق، باسناده ومعناه الا انه قال عند قوله مكان الذي حدثني هذا فقال رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم واكثر ظني انه ابو سعيد الخدري فانا رايت الرجل يضرب في اصول النخل
عروہ کہتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فیصلہ ) فرمایا ہے کہ زمین اللہ کی ہے اور بندے بھی سب اللہ کے بندے ہیں اور جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اس زمین کا زیادہ حقدار ہے، یہ حدیث ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ان لوگوں نے بیان کی ہے جنہوں نے آپ سے نماز کی روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الاملي، حدثنا عبد الله بن عثمان، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا نافع بن عمر، عن ابن ابي مليكة، عن عروة، قال اشهد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى ان الارض ارض الله والعباد عباد الله ومن احيا مواتا فهو احق به جاءنا بهذا عن النبي صلى الله عليه وسلم الذين جاءوا بالصلوات عنه
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بنجر زمین پر دیوار کھڑی کرے تو وہی اس زمین کا حقدار ہے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من احاط حايطا على ارض فهي له
مالک نے خبر دی کہ ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ ظالم رگ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص کسی غیر کی زمین میں درخت لگائے اور پھر اس زمین پر اپنا حق جتائے۔ امام مالک کہتے ہیں: ظالم رگ ہر وہ زمین ہے جو ناحق لے لی جائے یا اس میں گڈھا کھود لیا جائے یا درخت لگا لیا جائے۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني مالك، قال هشام العرق الظالم ان يغرس الرجل في ارض غيره فيستحقها بذلك . قال مالك والعرق الظالم كل ما اخذ واحتفر وغرس بغير حق
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک ( جہاد کے لیے ) چلا، جب آپ وادی قری میں پہنچے تو وہاں ایک عورت کو اس کے باغ میں دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: تخمینہ لگاؤ ( کہ باغ میں کتنے پھل ہوں گے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ۱؎ کا تخمینہ لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے کہا: آپ اس سے جو پھل نکلے اس کو ناپ لینا ، پھر ہم تبوک آئے تو ایلہ ۲؎ کے بادشاہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید رنگ کا ایک خچر تحفہ میں بھیجا آپ نے اسے ایک چادر تحفہ میں دی اور اسے ( جزیہ کی شرط پر ) اپنے ملک میں رہنے کی سند ( دستاویز ) لکھ دی، پھر جب ہم لوٹ کر وادی قری میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے پوچھا: تیرے باغ میں کتنا پھل ہوا؟ اس نے کہا: دس وسق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق ہی کا تخمینہ لگایا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جلد ہی مدینہ کے لیے نکلنے والا ہوں تو تم میں سے جو جلد چلنا چاہے میرے ساتھ چلے ۳؎۔
حدثنا سهل بن بكار، حدثنا وهيب بن خالد، عن عمرو بن يحيى، عن العباس الساعدي، - يعني ابن سهل بن سعد - عن ابي حميد الساعدي، قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم تبوك فلما اتى وادي القرى اذا امراة في حديقة لها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه " اخرصوا " . فخرص رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة اوسق فقال للمراة " احصي ما يخرج منها " . فاتينا تبوك فاهدى ملك ايلة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بغلة بيضاء وكساه بردة وكتب له - يعني - ببحره . قال فلما اتينا وادي القرى قال للمراة " كم كان في حديقتك " . قالت عشرة اوسق خرص رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني متعجل الى المدينة فمن اراد منكم ان يتعجل معي فليتعجل
زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکال رہی تھیں، اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیوی اور کچھ دوسرے مہاجرین کی عورتیں آپ کے پاس بیٹھیں تھیں اور اپنے گھروں کی شکایت کر رہی تھیں کہ ان کے گھر ان پر تنگ ہو جاتے ہیں، وہ گھروں سے نکال دی جاتی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مہاجرین کی عورتیں ان کے مرنے پر ان کے گھروں کی وارث بنا دی جائیں، تو جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عورت مدینہ میں ایک گھر کی وارث ہوئی ( شاید یہ حکم مہاجرین کے ساتھ خاص ہو ) ۱؎۔
حدثنا عبد الواحد بن غياث، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الاعمش، عن جامع بن شداد، عن كلثوم، عن زينب، انها كانت تفلي راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده امراة عثمان بن عفان ونساء من المهاجرات وهن يشتكين منازلهن انها تضيق عليهن ويخرجن منها فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تورث دور المهاجرين النساء فمات عبد الله بن مسعود فورثته امراته دارا بالمدينة
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جس نے اپنی گردن میں جزیہ کا قلادہ ڈالا ( یعنی اپنے اوپر جزیہ مقرر کرایا ) تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے بری ہو گیا ( یعنی اس نے اچھا نہ کیا ) ۔
حدثنا هارون بن محمد بن بكار بن بلال، اخبرنا محمد بن عيسى، - يعني ابن سميع - حدثنا زيد بن واقد، حدثني ابو عبد الله، عن معاذ، انه قال من عقد الجزية في عنقه فقد بري مما عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جزیہ والی زمین خرید لی تو اس نے ( گویا ) اپنی ہجرت فسخ کر دی اور جس نے کسی کافر کی ذلت ( یعنی جزیہ کو ) اس کے گلے سے اتار کر اپنے گلے میں ڈال لیا ( یعنی جزیے کی زمین خرید لے کر زراعت کرنے لگا اور جزیہ دینا قبول کر لیا ) تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈل دیا ۔ ( اس حدیث کے راوی سنان ) کہتے ہیں: خالد بن معدان نے یہ حدیث مجھ سے سنی تو انہوں نے کہا: کیا شبیب نے تم سے یہ حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب تم شبیب کے پاس جاؤ تو ان سے کہو کہ وہ یہ حدیث مجھ کو لکھ بھیجیں۔ سنان کہتے ہیں: ( میں نے ان سے کہا ) تو شبیب نے یہ حدیث خالد کے لیے لکھ کر ( مجھ کو ) دی، پھر جب میں خالد بن معدان کے پاس آیا تو انہوں نے قرطاس ( کاغذ ) مانگا میں نے ان کو دے دیا، جب انہوں نے اسے پڑھا، تو ان کے پاس جتنی خراج کی زمینیں تھیں سب چھوڑ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید بن خمیر یزنی ہیں، شعبہ کے شاگرد نہیں ۱؎۔
حدثنا حيوة بن شريح الحضرمي، حدثنا بقية، حدثني عمارة بن ابي الشعثاء، حدثني سنان بن قيس، حدثني شبيب بن نعيم، حدثني يزيد بن خمير، حدثني ابو الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اخذ ارضا بجزيتها فقد استقال هجرته ومن نزع صغار كافر من عنقه فجعله في عنقه فقد ولى الاسلام ظهره " . قال فسمع مني خالد بن معدان هذا الحديث فقال لي اشبيب حدثك قلت نعم . قال فاذا قدمت فسله فليكتب الى بالحديث . قال فكتبه له فلما قدمت سالني خالد بن معدان القرطاس فاعطيته فلما قراه ترك ما في يديه من الارضين حين سمع ذلك . قال ابو داود هذا يزيد بن خمير اليزني ليس هو صاحب شعبة
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع ( ایک جگہ کا نام ہے ) کو«حمی» ( چراگاہ ) بنایا۔
حدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن الصعب بن جثامة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا حمى الا لله ولرسوله " . قال ابن شهاب وبلغني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حمى النقيع
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کو چراگاہ بنایا، اور فرمایا: اللہ کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ۱؎ ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبد الرحمن بن الحارث، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عبد الله بن عباس، عن الصعب بن جثامة، ان النبي صلى الله عليه وسلم حمى النقيع وقال " لا حمى الا لله عز وجل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دفینہ میں خمس ( پانچواں حصہ ) ہے ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة سمعا ابا هريرة، يحدث ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " في الركاز الخمس
حسن بصری کہتے ہیں کہ رکاز سے مراد جاہلی دور کا مدفون خزانہ ہے ۲؎۔
حدثنا يحيى بن ايوب، حدثنا عباد بن العوام، عن هشام، عن الحسن، قال الركاز الكنز العادي
ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں مقداد اپنی ضرورت سے بقیع خبخبہ ۱؎ گئے وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چوہا سوراخ سے ایک دینار نکال رہا ہے ( وہ دیکھتے رہے ) وہ ایک کے بعد ایک دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ اس نے ( ۱۷ ) دینار نکالے، پھر اس نے ایک لال تھیلی نکالی جس میں ایک دینار اور تھا، یہ کل ( ۱۸ ) دینار ہوئے، مقداد ان دیناروں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو پورا واقعہ بتایا اور عرض کیا: اس کی زکاۃ لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے سوراخ کا قصد کیا تھا ، انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہیں اس مال میں برکت عطا فرمائے ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا ابن ابي فديك، حدثنا الزمعي، عن عمته، قريبة بنت عبد الله بن وهب عن امها، كريمة بنت المقداد عن ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب بن هاشم، انها اخبرتها قالت، ذهب المقداد لحاجته ببقيع الخبخبة فاذا جرذ يخرج من جحر دينارا ثم لم يزل يخرج دينارا دينارا حتى اخرج سبعة عشر دينارا ثم اخرج خرقة حمراء - يعني فيها دينار - فكانت ثمانية عشر دينارا فذهب بها الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره وقال له خذ صدقتها . فقال له صلى الله عليه وسلم " هل هويت الى الجحر " . قال لا . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " بارك الله لك فيها