Loading...

Loading...
کتب
۱۶۱ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طائف کی طرف نکلے تو راستے میں ہمارا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: یہ ابورغال ۱؎ کی قبر ہے عذاب سے بچے رہنے کے خیال سے حرم میں رہتا تھا ۲؎ لیکن جب ( ایک مدت کے بعد ) وہ ( حدود حرم سے ) باہر نکلا تو وہ بھی اسی عذاب سے دوچار ہوا جس سے اس کی قوم اسی جگہ دوچار ہو چکی تھی ( یعنی زلزلہ کا شکار ہوا ) وہ اسی جگہ دفن کیا گیا، اور اس کی نشانی یہ تھی کہ اس کے ساتھ سونے کی ایک ٹہنی گاڑ دی گئی تھی، اگر تم قبر کو کھودو تو اس کو پا لو گے ، یہ سن کر لوگ دوڑ کر قبر پر گئے اور کھود کر ٹہنی ( سونے کی سلاخ ) نکال لی۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي، سمعت محمد بن اسحاق، يحدث عن اسماعيل بن امية، عن بجير بن ابي بجير، قال سمعت عبد الله بن عمرو، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول حين خرجنا معه الى الطايف فمررنا بقبر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا قبر ابي رغال وكان بهذا الحرم يدفع عنه فلما خرج اصابته النقمة التي اصابت قومه بهذا المكان فدفن فيه واية ذلك انه دفن معه غصن من ذهب ان انتم نبشتم عنه اصبتموه معه " . فابتدره الناس فاستخرجوا الغصن