احادیث
#3067
سنن ابی داؤد - Tribute, Spoils, and Rulership
صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف سے جہاد کیا ( یعنی قلعہ طائف پر حملہ آور ہوئے ) چنانچہ جب صخر رضی اللہ عنہ نے اسے سنا تو وہ چند سوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے نکلے تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو چکے ہیں اور قلعہ فتح نہیں ہوا ہے، تو صخر رضی اللہ عنہ نے اس وقت اللہ سے عہد کیا کہ وہ قلعہ کو چھوڑ کر نہ جائیں گے جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ جائیں اور قلعہ خالی نہ کر دیں ( پھر ایسا ہی ہوا ) انہوں نے قلعہ کا محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں کیا جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ گئے۔ صخر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا: امّا بعد، اللہ کے رسول! ثقیف آپ کا حکم مان گئے ہیں اور وہ اپنے گھوڑ سواروں کے ساتھ ہیں میں ان کے پاس جا رہا ہوں ( تاکہ آگے کی بات چیت کروں ) ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے باجماعت نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور نماز میں احمس ۱؎ کے لیے دس ( باتوں کی ) دعائیں مانگیں اور ( ان دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی ) : «اللهم بارك لأحمس في خيلها ورجالها» اے اللہ! احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت دے ، پھر سب لوگ ( یعنی ضحر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی اور کہا: اللہ کے نبی! صخر نے میری پھوپھی کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ وہ اس ( دین ) میں داخل ہو چکی ہیں جس میں سبھی مسلمان داخل ہو چکے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور فرمایا: صخر! جب کوئی قوم اسلام قبول کر لیتی ہے تو وہ اپنی جانوں اور مالوں کو بچا اور محفوظ کر لیتی ہے، اس لیے مغیرہ کی پھوپھی کو انہیں لوٹا دو ، تو صخر رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دی، پھر صخر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمیوں کے پانی کے چشمے کو مانگا جسے وہ لوگ اسلام کے خوف سے چھوڑ کر بھاگ لیے تھے، صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے نبی! آپ مجھے اور میری قوم کو اس پانی کے چشمے پہ رہنے اور اس میں تصرف کرنے کا حق و اختیار دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ہاں ہاں ( لے لو اور ) رہو ، تو وہ لوگ رہنے لگے ( اور کچھ دنوں بعد ) بنو سلیم مسلمان ہو گئے اور صخر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور صخر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ وہ انہیں پانی ( کا چشمہ ) واپس دے دیں، صخر رضی اللہ عنہ ( اور ان کی قوم ) نے دینے سے انکار کیا ( اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چشمہ انہیں اور ان کی قوم کو دے دیا ہے ) تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم مسلمان ہو چکے ہیں، ہم صخر کے پاس پہنچے ( اور ان سے درخواست کی ) کہ ہمارا پانی کا چشمہ ہمیں واپس دے دیں تو انہوں نے ہمیں لوٹانے سے انکار کر دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا: صخر! جب کوئی قوم اسلام قبول کر لیتی ہے تو اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیتی ہے ( نہ اسے ناحق قتل کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کا مال لیا جا سکتا ہے ) تو تم ان کو ان کا چشمہ دے دو صخر رضی اللہ عنہ نے کہا: بہت اچھا اللہ کے نبی! ( صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک کو دیکھا کہ وہ شرم و ندامت سے بدل گیا اور سرخ ہو گیا ( یہ سوچ کر ) کہ میں نے اس سے لونڈی بھی لے لی اور پانی بھی ۲؎۔
حدثنا عمر بن الخطاب ابو حفص، حدثنا الفريابي، حدثنا ابان، قال عمر - وهو ابن عبد الله بن ابي حازم - قال حدثني عثمان بن ابي حازم، عن ابيه، عن جده، صخر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غزا ثقيفا فلما ان سمع ذلك صخر ركب في خيل يمد النبي صلى الله عليه وسلم فوجد نبي الله صلى الله عليه وسلم قد انصرف ولم يفتح فجعل صخر يوميذ عهد الله وذمته ان لا يفارق هذا القصر حتى ينزلوا على حكم رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يفارقهم حتى نزلوا على حكم رسول الله صلى الله عليه وسلم فكتب اليه صخر اما بعد فان ثقيفا قد نزلت على حكمك يا رسول الله وانا مقبل اليهم وهم في خيل . فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصلاة جامعة فدعا لاحمس عشر دعوات " اللهم بارك لاحمس في خيلها ورجالها " . واتاه القوم فتكلم المغيرة بن شعبة فقال يا نبي الله ان صخرا اخذ عمتي ودخلت فيما دخل فيه المسلمون . فدعاه فقال " يا صخر ان القوم اذا اسلموا احرزوا دماءهم واموالهم فادفع الى المغيرة عمته " . فدفعها اليه وسال نبي الله صلى الله عليه وسلم ماء لبني سليم قد هربوا عن الاسلام وتركوا ذلك الماء . فقال يا نبي الله انزلنيه انا وقومي . قال " نعم " . فانزله واسلم - يعني السلميين - فاتوا صخرا فسالوه ان يدفع اليهم الماء فابى فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا نبي الله اسلمنا واتينا صخرا ليدفع الينا ماءنا فابى علينا . فاتاه فقال " يا صخر ان القوم اذا اسلموا احرزوا اموالهم ودماءهم فادفع الى القوم ماءهم " . قال نعم يا نبي الله . فرايت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم يتغير عند ذلك حمرة حياء من اخذه الجارية واخذه الماء
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Tribute, Spoils, and Rulership
- Hadith Index
- #3067
- Book Index
- 140
Grades
- Al-AlbaniDaif Isnaad
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidDaif Isnaad
- Zubair Ali ZaiDaif
