Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہمارا رب ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جائے جاتے ہیں ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، - يعني ابن سلمة - اخبرنا محمد بن زياد، قال سمعت ابا هريرة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لقد عجب ربنا عز وجل من قوم يقادون الى الجنة في السلاسل
جندب بن مکیث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن غالب لیثی رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ میں بھیجا، میں بھی انہیں میں تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ بنو الملوح پر کدید میں کئی طرف سے حملہ کریں، چنانچہ ہم لوگ نکلے جب کدید میں پہنچے تو ہم حارث بن برصاء لیثی سے ملے، ہم نے اسے پکڑ لیا، وہ کہنے لگا: میں تو مسلمان ہونے کے لیے آیا ہوں، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف جا رہا تھا، ہم نے کہا: اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن ایک رات کا ہمارا باندھنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر تم مسلمان نہیں ہو تو ہم تمہیں مضبوطی سے باندھیں گے، پھر ہم نے اس کو مضبوطی سے باندھ دیا۔
حدثنا عبد الله بن عمرو بن ابي الحجاج ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا محمد بن اسحاق، عن يعقوب بن عتبة، عن مسلم بن عبد الله، عن جندب بن مكيث، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الله بن غالب الليثي في سرية وكنت فيهم وامرهم ان يشنوا الغارة على بني الملوح بالكديد فخرجنا حتى اذا كنا بالكديد لقينا الحارث بن البرصاء الليثي فاخذناه فقال انما جيت اريد الاسلام وانما خرجت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا ان تكن مسلما لم يضرك رباطنا يوما وليلة وان تكن غير ذلك نستوثق منك فشددناه وثاقا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سواروں کو نجد کی جانب بھیجا وہ قبیلہ بنی حنیفہ کے ثمامہ بن اثال نامی آدمی کو گرفتار کر کے لائے، وہ اہل یمامہ کے سردار تھے، ان کو مسجد کے ایک کھمبے سے باندھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے اور پوچھا: ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟ کہا: اے محمد! میرے پاس خیر ہے، اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک مستحق شخص کو قتل کریں گے، اور اگر احسان کریں گے، تو ایک قدرداں پر احسان کریں گے، اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو کہئے جتنا چاہیں گے دیا جائے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ کر واپس آ گئے، یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے؟ تو انہوں نے پھر اپنی وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں یوں ہی چھوڑ دیا، پھر جب تیسرا دن ہوا تو پھر وہی بات ہوئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ثمامہ کو آزاد کر دو، چنانچہ وہ مسجد کے قریب ایک باغ میں گئے، غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله» پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کیا۔ عیسیٰ کہتے ہیں: مجھ سے لیث نے «ذَاْ دَمٍ» کے بجائے «ذَا ذِمٍّ» ( یعنی ایک عزت دار کو قتل کرو گے ) روایت کی ہے۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، وقتيبة، قال قتيبة حدثنا الليث بن سعد، عن سعيد بن ابي سعيد، انه سمع ابا هريرة، يقول بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم خيلا قبل نجد فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له ثمامة بن اثال سيد اهل اليمامة فربطوه بسارية من سواري المسجد فخرج اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ماذا عندك يا ثمامة " . قال عندي يا محمد خير ان تقتل تقتل ذا دم وان تنعم تنعم على شاكر وان كنت تريد المال فسل تعط منه ما شيت . فتركه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا كان الغد ثم قال له " ما عندك يا ثمامة " . فاعاد مثل هذا الكلام فتركه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى كان بعد الغد فذكر مثل هذا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطلقوا ثمامة " . فانطلق الى نخل قريب من المسجد فاغتسل فيه ثم دخل المسجد فقال اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله . وساق الحديث . قال عيسى اخبرنا الليث وقال ذا ذم
یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قیدیوں کو لایا گیا جس وقت انہیں لایا گیا، اور سودہ بنت زمعہ ( ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ) آل عفراء یعنی عوف بن عفراء اور معوذ بن عفراء کے پاس اس جگہ تھیں جہاں ان کے اونٹ بٹھائے جاتے تھے، اور یہ معاملہ پردہ کا حکم اترنے سے پہلے کا ہے، سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: قسم اللہ کی! میں انہیں کے پاس تھی، یکایک آئی تو کہا گیا یہ قیدی ہیں پکڑ کر لائے گئے ہیں، تو میں اپنے گھر واپس آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تھے اور ابویزید سہیل بن عمرو حجرے کے ایک کونے میں تھا، اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن سے ایک رسی سے بندھے ہوئے تھے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: انہیں دونوں ( عوف و معوذ ) نے ابوجہل بن ہشام کو قتل کیا، اور یہی دونوں اس کے آگے آئے حالانکہ اسے پہچانتے نہ تھے، یہ دونوں بدر کے دن مارے گئے۔
حدثنا محمد بن عمرو الرازي، قال حدثنا سلمة، - يعني ابن الفضل - عن ابن اسحاق، قال حدثني عبد الله بن ابي بكر، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة، قال قدم بالاسارى حين قدم بهم وسودة بنت زمعة عند ال عفراء في مناخهم على عوف ومعوذ ابنى عفراء قال وذلك قبل ان يضرب عليهن الحجاب قال تقول سودة والله اني لعندهم اذ اتيت فقيل هولاء الاسارى قد اتي بهم . فرجعت الى بيتي ورسول الله صلى الله عليه وسلم فيه واذا ابو يزيد سهيل بن عمرو في ناحية الحجرة مجموعة يداه الى عنقه بحبل . ثم ذكر الحديث . قال ابو داود وهما قتلا ابا جهل بن هشام وكانا انتدبا له ولم يعرفاه وقتلا يوم بدر
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بلایا، وہ سب بدر کی طرف چلے، اچانک قریش کے پانی والے اونٹ ملے ان میں بنی حجاج کا ایک کالا کلوٹا غلام تھا، صحابہ کرام نے اسے پکڑ لیا اور اس سے پوچھنے لگے کہ بتاؤ ابوسفیان کہاں ہے؟ وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! مجھے ابوسفیان کے سلسلہ میں کوئی علم نہیں، البتہ قریش کے لوگ آئے ہیں ان میں ابوجہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف بھی آئے ہوئے ہیں، جب اس نے یہ کہا تو صحابہ کرام اسے مارنے لگے، وہ بولا: مجھے چھوڑ دو، مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں بتاتا ہوں، جب اس کو چھوڑا تو پھر وہ یہی بات کہنے لگا: اللہ کی قسم مجھے ابوسفیان کے سلسلہ میں کوئی علم نہیں البتہ قریش آئے ہیں ان میں ابوجہل، ربیعہ کے دونوں بیٹے عتبہ و شیبہ اور امیہ بن خلف بھی آئے ہوئے ہیں، ( اس وقت ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور اسے سن رہے تھے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب وہ تم سے سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب جھوٹ بولتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو، ( ابوسفیان تو شام کے قافلہ کے ساتھ مال لیے ہوئے آ رہا ہے ) اور یہ قریش کے لوگ ہیں اس کو بچانے کے لیے آئے ہیں ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل یہاں فلاں کی لاش گرے گی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا، کل یہ فلاں کا مقتل ہو گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا، اور کل یہ فلاں کا مقتل ہو گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا۱؎۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی جگہ سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلسلہ میں حکم دیا تو ان کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے انہیں بدر کے کنوئیں میں ڈال دیا گیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ندب اصحابه فانطلقوا الى بدر فاذا هم بروايا قريش فيها عبد اسود لبني الحجاج فاخذه اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعلوا يسالونه اين ابو سفيان فيقول والله ما لي بشىء من امره علم ولكن هذه قريش قد جاءت فيهم ابو جهل وعتبة وشيبة ابنا ربيعة وامية بن خلف . فاذا قال لهم ذلك ضربوه فيقول دعوني دعوني اخبركم . فاذا تركوه قال والله ما لي بابي سفيان من علم ولكن هذه قريش قد اقبلت فيهم ابو جهل وعتبة وشيبة ابنا ربيعة وامية بن خلف قد اقبلوا . والنبي صلى الله عليه وسلم يصلي وهو يسمع ذلك فلما انصرف قال " والذي نفسي بيده انكم لتضربونه اذا صدقكم وتدعونه اذا كذبكم هذه قريش قد اقبلت لتمنع ابا سفيان " . قال انس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا مصرع فلان غدا " . ووضع يده على الارض " وهذا مصرع فلان غدا " . ووضع يده على الارض " وهذا مصرع فلان غدا " . ووضع يده على الارض فقال والذي نفسي بيده ما جاوز احد منهم عن موضع يد رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخذ بارجلهم فسحبوا فالقوا في قليب بدر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ( کفر کے زمانہ میں ) کوئی عورت ایسی ہوتی جس کا بچہ نہ جیتا ( زندہ نہ رہتا ) تو وہ نذر مانتی کہ اگر اس کا بچہ جئیے ( زندہ رہے گا ) گا تو وہ اس کو یہودی بنائے گی، جب بنی نضیر کو جلا وطن کرنے کا حکم ہوا تو ان میں چند لڑکے انصار کے بھی تھے، انصار نے کہا: ہم اپنے لڑکوں کو نہ چھوڑیں گے تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى» ( سورۃ البقرہ: ۲۵۶ ) دین میں زبردستی نہیں ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «مقلات» : اس عورت کو کہتے ہیں جس کا کوئی بچہ نہ جیتا ہو۔
حدثنا محمد بن عمر بن علي المقدمي، قال حدثنا اشعث بن عبد الله، - يعني السجستاني ح وحدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابن ابي عدي، وهذا، لفظه ح وحدثنا الحسن بن علي، قال حدثنا وهب بن جرير، عن شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كانت المراة تكون مقلاتا فتجعل على نفسها ان عاش لها ولد ان تهوده فلما اجليت بنو النضير كان فيهم من ابناء الانصار فقالوا لا ندع ابناءنا فانزل الله عز وجل { لا اكراه في الدين قد تبين الرشد من الغى } قال ابو داود المقلات التي لا يعيش لها ولد
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب کو امان دے دی، انہوں نے ان کا اور ابن ابی السرح کا نام لیا، رہا ابن ابی سرح تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو عثمان نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کھڑا کیا، اور کہا: اللہ کے نبی! عبداللہ سے بیعت لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی جانب دیکھا، تین بار ایسا ہی کیا، ہر بار آپ انکار کرتے رہے، تین بار کے بعد پھر اس سے بیعت لے لی، پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں کوئی بھی عقلمند آدمی نہیں تھا کہ جس وقت میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے روک رکھا تھا، اٹھتا اور اسے قتل کر دیتا؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ کے دل کا حال نہیں معلوم تھا، آپ نے ہمیں آنکھ سے اشارہ کیوں نہیں کر دیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کنکھیوں سے اشارے کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ عثمان کا رضاعی بھائی تھا اور ولید بن عقبہ عثمان کا اخیافی بھائی تھا، اس نے شراب پی تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر حد لگائی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، قال حدثنا احمد بن المفضل، قال حدثنا اسباط بن نصر، قال زعم السدي عن مصعب بن سعد، عن سعد، قال لما كان يوم فتح مكة امن رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس الا اربعة نفر وامراتين وسماهم وابن ابي سرح . فذكر الحديث قال واما ابن ابي سرح فانه اختبا عند عثمان بن عفان فلما دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس الى البيعة جاء به حتى اوقفه على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا نبي الله بايع عبد الله فرفع راسه فنظر اليه ثلاثا كل ذلك يابى فبايعه بعد ثلاث ثم اقبل على اصحابه فقال " اما كان فيكم رجل رشيد يقوم الى هذا حيث راني كففت يدي عن بيعته فيقتله " . فقالوا ما ندري يا رسول الله ما في نفسك الا اومات الينا بعينك قال " انه لا ينبغي لنبي ان تكون له خاينة الاعين " . قال ابو داود كان عبد الله اخا عثمان من الرضاعة وكان الوليد بن عقبة اخا عثمان لامه وضربه عثمان الحد اذ شرب الخمر
سعید بن یربوع مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: چار آدمیوں کو میں حرم اور حرم سے باہر کہیں بھی امان نہیں دیتا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام لیے، اور مقیس کی دو لونڈیوں کو، ایک ان میں سے قتل کی گئی، دوسری بھاگ گئی پھر وہ مسلمان ہو گئی۔
حدثنا محمد بن العلاء، قال حدثنا زيد بن حباب، قال اخبرنا عمرو بن عثمان بن عبد الرحمن بن سعيد بن يربوع المخزومي، قال حدثني جدي، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم فتح مكة " اربعة لا اومنهم في حل ولا حرم " . فسماهم . قال وقينتين كانتا لمقيس فقتلت احداهما وافلتت الاخرى فاسلمت . قال ابو داود لم افهم اسناده من ابن العلاء كما احب
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فتح مکہ کے سال داخل ہوئے، آپ کے سر پر خود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اتارا تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ابن خطل کعبہ کے غلاف سے چمٹا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو قتل کر دو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن خطل کا نام عبداللہ تھا اور اسے ابوبرزہ اسلمی نے قتل کیا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل مكة عام الفتح وعلى راسه المغفر فلما نزعه جاءه رجل فقال ابن خطل متعلق باستار الكعبة فقال " اقتلوه " . قال ابو داود ابن خطل اسمه عبد الله وكان ابو برزة الاسلمي قتله
ابراہیم کہتے ہیں کہ ضحاک بن قیس نے مسروق کو عامل بنانا چاہا تو عمارہ بن عقبہ نے ان سے کہا: کیا آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے ایک شخص کو عامل بنا رہے ہیں؟ تو مسروق نے ان سے کہا: مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور وہ ہم میں حدیث ( بیان کرنے ) میں قابل اعتماد تھے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے باپ ( عقبہ ۱؎ ) کے قتل کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگا: میرے لڑکوں کی خبرگیری کون کرے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ ۲؎ پس میں تیرے لیے اسی چیز سے راضی ہوں جس چیز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہوئے ۔
حدثنا علي بن الحسين الرقي، قال حدثنا عبد الله بن جعفر الرقي، قال اخبرني عبيد الله بن عمرو، عن زيد بن ابي انيسة، عن عمرو بن مرة، عن ابراهيم، قال اراد الضحاك بن قيس ان يستعمل، مسروقا فقال له عمارة بن عقبة اتستعمل رجلا من بقايا قتلة عثمان فقال له مسروق حدثنا عبد الله بن مسعود - وكان في انفسنا موثوق الحديث - ان النبي صلى الله عليه وسلم لما اراد قتل ابيك قال من للصبية قال " النار " . فقد رضيت لك ما رضي لك رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابن تعلی کہتے ہیں کہ ہم نے عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کے ساتھ جہاد کیا تو ان کے سامنے عجمی کافروں میں سے چار طاقتور اور ہٹے کٹے کافر لائے گئے انہوں نے ان کے متعلق حکم دیا تو وہ باندھ کر قتل کر دیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے سعید بن منصور کے سوا اور لوگوں نے ابن وہب سے یہی حدیث یوں روایت کی ہے کہ پکڑ کر نشانہ بنا کر تیروں سے مار ڈالے گئے، تو یہ خبر ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مرغی بھی ہو تو میں اس کو اس طرح روک کر نہ ماروں، یہ خبر عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید کو پہنچی تو انہوں نے ( اپنی اس غلطی کی تلافی کے لیے ) چار غلام آزاد کئے۔
حدثنا سعيد بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن ابن تعلى، قال غزونا مع عبد الرحمن بن خالد بن الوليد فاتي باربعة اعلاج من العدو فامر بهم فقتلوا صبرا . قال ابو داود قال لنا غير سعيد عن ابن وهب في هذا الحديث قال بالنبل صبرا فبلغ ذلك ابا ايوب الانصاري فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن قتل الصبر فوالذي نفسي بيده لو كانت دجاجة ما صبرتها . فبلغ ذلك عبد الرحمن بن خالد بن الوليد فاعتق اربع رقاب
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں میں سے اسی آدمی جبل تنعیم سے نماز فجر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو قتل کرنے کے لیے اترے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی مزاحمت کے بغیر گرفتار کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة» إلى آخر الآية ( سورۃ الفتح: ۲۴ ) اللہ ہی نے ان کا ہاتھ تم سے اور تمہارا ہاتھ ان سے وادی مکہ میں روک دیا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا حماد، قال اخبرنا ثابت، عن انس، ان ثمانين، رجلا من اهل مكة هبطوا على النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه من جبال التنعيم عند صلاة الفجر ليقتلوهم فاخذهم رسول الله صلى الله عليه وسلم سلما فاعتقهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فانزل الله عز وجل { وهو الذي كف ايديهم عنكم وايديكم عنهم ببطن مكة } الى اخر الاية
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں سے فرمایا: اگر مطعم بن عدی ۱؎ زندہ ہوتے اور ان ناپاک قیدیوں کے سلسلے میں مجھ سے سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، قال حدثنا عبد الرزاق، قال اخبرنا معمر، عن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لاسارى بدر " لو كان مطعم بن عدي حيا ثم كلمني في هولاء النتنى لاطلقتهم له
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب غزوہ بدر ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں سے فدیہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض» سے «مسكم فيما أخذتم» تک نبی کے لیے مناسب نہیں کہ ان کے قیدی باقی اور زندہ رہیں جب تک کہ زمین میں ان ( کافروں کا ) اچھی طرح خون نہ بہا لیں، تم دنیا کے مال و اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے، اللہ بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے سبب سے تمہیں بڑی سزا پہنچتی ( سورۃ الأنفال: ۶۷-۶۸ ) پھر اللہ نے ان کے لیے غنائم کو حلال کر دیا۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، قال حدثنا ابو نوح، قال اخبرنا عكرمة بن عمار، قال حدثنا سماك الحنفي، قال حدثنا ابن عباس، قال حدثني عمر بن الخطاب، قال لما كان يوم بدر فاخذ - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - الفداء انزل الله عز وجل { ما كان لنبي ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض } الى قوله { لمسكم فيما اخذتم } من الفداء ثم احل لهم الله الغنايم . قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل يسال عن اسم ابي نوح فقال ايش تصنع باسمه اسمه اسم شنيع . قال ابو داود اسم ابي نوح قراد والصحيح عبد الرحمن بن غزوان
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن جاہلیت کے لوگوں کا فدیہ فی آدمی چار سو مقرر کیا۔
حدثنا عبد الرحمن بن المبارك العيشي، قال حدثنا سفيان بن حبيب، قال حدثنا شعبة، عن ابي العنبس، عن ابي الشعثاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم جعل فداء اهل الجاهلية يوم بدر اربعماية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو اس وقت زینب رضی اللہ عنہا نے ابوالعاص رضی اللہ عنہ ۱؎ کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا اور اس مال میں اپنا ایک ہار بھیجا جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا، انہوں نے یہ ہار زینب کو ابوالعاص سے نکاح کے موقع پر رخصتی کے وقت دیا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر سخت رقت طاری ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو ان کی خاطر و دلداری میں ان کا قیدی چھوڑ دو، اور ان کا مال انہیں لوٹا دو ، لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑتے وقت یہ عہد لے لیا کہ وہ زینب رضی اللہ عنہا کو میرے پاس آنے سے نہ روکیں گے، پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور انصار میں سے ایک شخص کو بھیجا، اور فرمایا: تم دونوں بطن یأجج میں رہنا یہاں تک کہ زینب تم دونوں کے پاس سے گزریں تو ان کو ساتھ لے کر آنا ۲؎ ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن يحيى بن عباد، عن ابيه، عباد بن عبد الله بن الزبير عن عايشة، قالت لما بعث اهل مكة في فداء اسراهم بعثت زينب في فداء ابي العاص بمال وبعثت فيه بقلادة لها كانت عند خديجة ادخلتها بها على ابي العاص . قالت فلما راها رسول الله صلى الله عليه وسلم رق لها رقة شديدة وقال " ان رايتم ان تطلقوا لها اسيرها وتردوا عليها الذي لها " . فقالوا نعم . وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ عليه او وعده ان يخلي سبيل زينب اليه وبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم زيد بن حارثة ورجلا من الانصار فقال " كونا ببطن ياجج حتى تمر بكما زينب فتصحباها حتى تاتيا بها
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے ذکر کیا کہ انہیں مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد ہوازن مسلمان ہو کر آیا اور اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کے مال انہیں واپس لوٹا دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: میرے ساتھ جو ہیں انہیں تم دیکھ رہے ہو، اور میرے نزدیک سب سے عمدہ بات سچی بات ہے تم یا تو قیدیوں ( کی واپسی ) اختیار کر لو یا مال ، انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کریں گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اس کے بعد فرمایا: تمہارے یہ بھائی ( شرک سے ) توبہ کر کے آئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ان کے قیدیوں کو واپس لوٹا دوں، لہٰذا تم میں سے جو شخص اپنی خوشی سے واپس لوٹا سکتا ہو تو وہ واپس لوٹا دے، اور جو شخص اپنا حصہ لینے پر مصر ہے تو پہلا مال غنیمت جو اللہ ہم کو دے ہم اس میں سے اس کا عوض دیں تو وہ ایسا ہی کر لے ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے انہیں بخوشی واپس لوٹا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی، اور کس نے نہیں دی؟ لہٰذا تم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار معاملہ کی تفصیل ہمارے پاس لے کر آئیں ، لوگ لوٹ گئے، اور ان سے ان کے سرداروں نے بات کی تو انہوں نے اپنے سرداروں کو بتایا کہ انہوں نے خوشی خوشی اجازت دی ہے۔
حدثنا احمد بن ابي مريم، حدثنا عمي، - يعني سعيد بن الحكم - قال اخبرنا الليث بن سعد، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال وذكر عروة بن الزبير ان مروان، والمسور بن مخرمة، اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين جاءه وفد هوازن مسلمين فسالوه ان يرد اليهم اموالهم فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " معي من ترون واحب الحديث الى اصدقه فاختاروا اما السبى واما المال " . فقالوا نختار سبينا فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فاثنى على الله ثم قال " اما بعد فان اخوانكم هولاء جاءوا تايبين واني قد رايت ان ارد اليهم سبيهم فمن احب منكم ان يطيب ذلك فليفعل ومن احب منكم ان يكون على حظه حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا فليفعل " . فقال الناس قد طيبنا ذلك لهم يا رسول الله . فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا لا ندري من اذن منكم ممن لم ياذن فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم " . فرجع الناس فكلمهم عرفاوهم فاخبروهم انهم قد طيبوا واذنوا
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اسی قصہ کی روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس لوٹا دو، اور جو کوئی اس مال غنیمت سے اپنا حصہ باقی رکھنا چاہے تو ہم اس کو اس پہلے مال غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا چھ اونٹ دیں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب آئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لیا پھر فرمایا: لوگو! میرے لیے اس مال غنیمت سے کچھ بھی حلال نہیں ہے ، اور اپنی دونوں انگلیاں اٹھا کر کہا: یہاں تک کہ یہ ( بال ) بھی حلال نہیں سوائے خمس ( پانچواں حصہ ) کے، اور خمس بھی تمہارے ہی اوپر لوٹا دیا جاتا ہے، لہٰذا تم سوئی اور دھاگا بھی ادا کر دو ( یعنی بیت المال میں جمع کر دو ) ، ایک شخص کھڑا ہو اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا، اس نے کہا: میں نے اس کو پالان کے نیچے کی کملی درست کرنے کے لیے لیا تھا؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ تو وہ تمہارے لیے ہے ، تو اس نے کہا: جب معاملہ اتنا اہم ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور اس نے اسے ( غنیمت کے مال میں ) پھینک دیا ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا حماد، عن محمد بن اسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، في هذه القصة قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ردوا عليهم نساءهم وابناءهم فمن مسك بشىء من هذا الفىء فان له به علينا ست فرايض من اول شىء يفييه الله علينا " . ثم دنا - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - من بعير فاخذ وبرة من سنامه ثم قال " يا ايها الناس انه ليس لي من الفىء شىء ولا هذا " . ورفع اصبعيه " الا الخمس والخمس مردود عليكم فادوا الخياط والمخيط " . فقام رجل في يده كبة من شعر فقال اخذت هذه لاصلح بها برذعة لي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما ما كان لي ولبني عبد المطلب فهو لك " . فقال اما اذ بلغت ما ارى فلا ارب لي فيها . ونبذها
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں تین رات قیام کرتے۔ ابن مثنیٰ کا بیان ہے: جب کسی قوم پر غالب آتے تو میدان جنگ میں جو ان کی سر زمین میں پڑتا تین رات قیام کرنا پسند فرماتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ یحییٰ بن سعید اس حدیث میں طعن کرتے تھے کیونکہ یہ سعید ( سعید ابن ابی عروبہ ) کی پہلے کی حدیثوں میں سے نہیں ہے، اس لیے کہ ۱۴۵ ہجری میں ان کے حافظہ میں تغیر پیدا ہو گیا تھا، اور یہ حدیث بھی آخری عمر کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ وکیع نے ان سے ان کے زمانہ تغیر میں ہی حدیث حاصل کی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا معاذ بن معاذ، ح وحدثنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا روح، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس، عن ابي طلحة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا غلب على قوم اقام بالعرصة ثلاثا . قال ابن المثنى اذا غلب قوما احب ان يقيم بعرصتهم ثلاثا . قال ابو داود كان يحيى بن سعيد يطعن في هذا الحديث لانه ليس من قديم حديث سعيد لانه تغير سنة خمس واربعين ولم يخرج هذا الحديث الا باخرة . قال ابو داود يقال ان وكيعا حمل عنه في تغيره
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کے درمیان جدائی کرا دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، اور بیع کو رد کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میمون نے علی رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے، میمون جنگ جماجم میں قتل کئے گئے، اور جماجم ۸۳ ہجری میں ہوئی ہے، نیز واقعہ حرہ ( ۶۳ ہجری ) میں پیش آیا، اور ابن زبیر ( ۷۳ ہجری ) میں قتل ہوئے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، قال حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن يزيد بن عبد الرحمن، عن الحكم، عن ميمون بن ابي شبيب، عن علي، انه فرق بين جارية وولدها فنهاه النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك ورد البيع . قال ابو داود وميمون لم يدرك عليا قتل بالجماجم والجماجم سنة ثلاث وثمانين . قال ابو داود والحرة سنة ثلاث وستين وقتل ابن الزبير سنة ثلاث وسبعين